عادل راجہ کا بہت بڑا دعویٰ 🚨🚨
عمران خان کو اڈیالہ جیل سے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ پمز ہسپتال لانے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ پمز ہسپتال منتقلی کی خبر اس لیے چلائی گئی ہیں کہ لوگوں کی توجہ دوسری طرف مرکوز ہو۔ نامعلوم مقام پر خان صاحب سے ملاقات کیلئے اہم ترین بڑی شخصیت پہلے سے ہی موجود ہے۔ تین گھنٹے ہوچکے ہیں ملاقات جارہی ہے۔ اس ملاقات میں بیرسٹر گوہر بھی موجود ہیں۔
آپ بجٹ خان کے بغیر پاس کروا سکتے ہیں لیکن تحریک کا آغاز نہیں کر سکتے ہیں، آپ بجٹ خان کے بغیر پاس کروا سکتے ہیں لیکن تحریک کا آغاز نہیں کر سکتے ہیں
اس لڑکے نے بلکل سچ کہا تھا 🔥
اندر کی خبر یہ ہے کہ 🚨🚨
خان صاحب کی حالت تشویش ناک حد تک خراب ہے۔ جیل میں ان کی صحت بہت بگڑ چکی ہے جس کی وجہ سے انہیں فوری طور پر ہسپتال شفٹ کیا گیا ہے۔ میڈیا پر جو روٹین چیک اپ اور معائنہ والی خبریں چل رہی ہیں وہ سب جان بوجھ کر غلط دی جا رہی ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ خان صاحب کی حالت بہت سنگین ہے۔ سورس کا کہنا ہے کہ اگر اللّٰه نہ کرے کچھ ہو گیا تو اسے بڑے پیمانے پر کور اپ کرنے کے لیے یہ ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر ہسپتال بھیجنا ہی تھا تو پچھلے کئی مہینوں سے ان کی آنکھیں خراب تھیں بار بار چیک اپ کرانے کی بات کی گئی مگر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ اب اچانک کیوں اتنی عجلت؟ یہ سب کچھ بہت مشکوک ہے۔ قوم کو حقائق سے دور رکھا جا رہا ہے۔
پمز ہسپتال میں ابھی جاننے والے سے بات ہوئی تو ان کے مطابق آج سے قبل جب بھی عمران خان کو پمز لایا جاتا تھا تو پہلے انتظامات مکمل کیے جاتے تھے
ایجنسیوں کے لوگ ہسپتال کا کنٹرول سنبھال لیتے تھے، CCTV بند کر دیے جاتے تھے، جس پورشن میں لے کر جانا ہوتا تھا وہ خالی کروا لیا جاتا تھا، لیکن آج کوئی ایسے آثار ہی نہیں ہیں، کوئی تیاریاں ہی نہیں ہیں
یہ گیم کوئی اور ڈالی جا رہی ہے
سوشل میڈیا پر ہر طرف کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہوئی بربریت اور احتجاج کی ویڈیوز وائرل ہیں لمحہ بہ لمحہ اپڈیٹ ہو رہی ہیں اس پر سے توجہ ہٹانے کے لئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے متعلق میڈیا پر جھوٹی خبر چلوائی ہے ۔
ایسئ خبریں چلوا کر بجٹ پاس کروانا اور عوام کی کشمیر سے توجہ ہٹانا مقصود ہے۔ اسپتال تو بحرحال خان کو نہیں لیجایا گیا۔ باقی تفصیلات کچھ دیر میں پتہ چل جائیں گی کہ بریگیڈیئر فہیم رضا کس کے کہنے پر کیا گیم چلا رہا ہے۔
پہلی دفعہ قبل از وقت میڈیا پر عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کی خبر دی جا رہی ہے
بجٹ کیلئے ساری باتیں منوانے اور سہیل آفریدی کو راستہ دینے کیلئے یہ سب کیا جا رہا ہے
ملاقات ہوئی تو اصل بات باہر نہیں آئے گی۔ اور اگر نہیں ہوتی تو باہر ملاقات ہونے کا بتایا جائے گا
اس ملاقات کی ویڈیو جاری کی جائے
ورنہ کسی پر یقین مت کریں
اور ٹھوک کے رکھیں
بجٹ پاس نہ کروانے کی دھمکی دے کر بلاول اگر گلگت کی حکومت لے سکتا ہے, تو سہیل آفریدی اگر ڈٹ جائے بجٹ پاس نا کروانے کی دھمکی دے کر عمران خان کی رہائی کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہے !!!
کشمیریوں نے وحشت کا پہلا جھٹکا برداشت کرلیا اور ہر شہر سے ہزاروں کی تعداد میں نکل آئے ہیں۔ اب عاصم منیر کی پسپائی پتھر پر لکیر ہے۔ آمریت کی کُل وقعت بس اتنی ہی ہوتی ہے۔ ابھی آپ کچھ معجزے ہوتے دیکھیں گے۔ عسکری اکاونٹس کشمیریوں کو بھارتی ایجنٹ ٹھہرانے کا سلسلہ روک دیں گے۔ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی “خفیہ آڈیوز” کا سلسلہ رک جائے گا۔ خفیہ عسکری اثاثے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیں گے۔ کچھ عسکری کٹھ پتلی سیاستدان میڈیا پر بڑے مثبت بیانات شروع ہوجائیں گے۔ عین ممکن ہے ایک آدھ مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی جائے۔
لیکن عاصم منیر کے لیے ایک بری خبر ہے۔ اب کشمیری مذاکرات کا والا دانہ نہیں چگنے والے۔ انکے مطالبات کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد سے لاہور: الیکٹرک گاڑی کا سفر جو ایک ڈراؤنا خواب بن گیا
اتوار کی گرم صبح تھی۔ گھڑی نے 10:30 بجائے ہی تھے ۔ ہم پورے اعتماد کے ساتھ اپنی الیکٹرک گاڑی میں اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ جانا پہچانا تھا، گاڑی مکمل تیار تھی، اور منصوبہ بھی سادہ تھا: بھیرہ پہنچ کر بیٹری چارج کریں گے اور سفر آرام سے جاری رکھیں گے۔
مگر موٹروے پر دوڑتی گاڑی کے ساتھ ہمیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ اصل امتحان ابھی شروع ہونا باقی ہے۔
بھیرہ پہنچے تو دل کو ایک دھچکا لگا۔
ایک چارجنگ سٹیشن پر پہلا چارجنگ یونٹ دیکھا... بند۔
دوسرا دیکھا... وہ بھی خراب۔
تیسرا... وہ بھی کام نہیں کر رہا تھا۔
چوتھا... وہ بھی خاموش ۔۔ ۔
چار کے چار چارجر ناکارہ!
اب گاڑی کی بیٹری کم ہو رہی تھی اور پریشانی بڑھ رہی تھی۔ ہمارے پاس انتظار کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ امید کی آخری کرن لے کر ہم اگلے چارجنگ اسٹیشن، پنڈی بھٹیاں کی طرف روانہ ہوئے۔
راستے بھر ذہن میں ایک ہی سوال گردش کرتا رہا
"اگر وہاں بھی چارجنگ نہ ملی تو؟"
پنڈی بھٹیاں پہنچے تو صورتحال نے ایک اور جھٹکا دیا۔
چارجنگ اسٹیشن موجود تھا...
لیکن بجلی نہیں تھی۔
اب ہم ایک ایسی الیکٹرک گاڑی کے ساتھ کھڑے تھے جسے توانائی درکار تھی، مگر توانائی فراہم کرنے والا نظام خود اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔
گرمی شدت اختیار کرتی رہی۔
اور انتظار لمبا ہوتا گیا۔
11:40
بجے بھی صورتحال وہی تھی۔
ہم اب بھی پنڈی بھٹیاں میں کھڑے تھے۔
چارجر خاموش۔
بجلی غائب۔
اور اگلا چارجنگ اسٹیشن ابھی بہت دور۔
اس لمحے یہ صرف ایک مسافر کی پریشانی نہیں رہی تھی، بلکہ پاکستان کے لاکھوں لوگوں کی روزمرہ حقیقت بن چکی تھی؛
وہ حقیقت جس میں شدید گرمی کے باوجود گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے، منصوبے رک جاتے ہیں، سفر تھم جاتے ہیں، اور جدید ٹیکنالوجی بھی بنیادی سہولتوں کی محتاج بن جاتی ہے۔
یہ صرف اسلام آباد سے لاہور کا سفر نہیں تھا۔
یہ ایک ایسا سفر تھا جس نے یاد دلایا کہ مستقبل کی گاڑیاں خرید لینا کافی نہیں، مستقبل کا انفراسٹرکچر بھی درکار ہوتا ہے۔
اور اس دن موٹروے پر سب سے بڑی تشویش بیٹری کی کم ہوتی ہوئی طاقت نہیں تھی...
بلکہ یہ سوال تھا:
"کیا اگلے چارجنگ اسٹیشن تک پہنچنے سے پہلے بجلی واپس آ جائے گی؟"
اس لیے وہ تمام لوگ جو الیکٹرک گاڑی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس حقیقت کو بھی ذہن میں رکھیں۔ روزمرہ اور مقامی استعمال کے لیے الیکٹرک گاڑیاں ایک بہترین اور معاشی انتخاب ہو سکتی ہیں، لیکن طویل بین الاضلاعی سفر کے معاملے میں پاکستان کا چارجنگ انفراسٹرکچر ابھی مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں۔ جب چارجر خراب ہوں، بجلی دستیاب نہ ہو، یا اگلا چارجنگ اسٹیشن بہت دور ہو، تو ایک معمول کا سفر بھی غیر یقینی صورتحال میں بدل سکتا ہے۔ شاید مستقبل قریب میں حالات بہتر ہو جائیں، مگر فی الحال لمبے سفر کی منصوبہ بندی انتہائی احتیاط اور متبادل انتظامات کے ساتھ کرنا ضروری ہے
ایک سچی کہانی سینئر صحافی سجاد ترکزئی کی وال سے
#EVVehicleChargingIssue
@SajjadTarakzai@GoharMe@DrMusadikMalik@ClimateChangePK@CathayPak@Pak_MoIP
🚨🚨 اسٹیبلشمنٹ کا روز اول سے ایک فارمولا
"عمران خان کے بغیر سسٹم کو چلانا ہے"
یہ کام گوہر شیخ وقاص زرتاج عمر ایوب اسد قیصر شاندانہ گلزار پرویز الہی حماد اظہر نے اسٹیبلشمنٹ کو کندھا دے کر ممکن بنایا
اب فیصلہ علیمہ اپا نے کرنا ہے کہ مزید کتنی مہلت دینی ہے
اخے کشمیریوں کو آٹا 2000 روپے من ملتا ہے بجلی کا یونٹ 3 روپے کا ملتا ہے۔
مخے کشمیر کے نام پر تم نے سات لاکھ فوج بنا لی۔ کشمیر کے نام پر دو سو ارب ڈالرز کی ایمپائر کھڑی کرلی۔ کشمیر کے نام پر پانچ پانچ ارب روپے کا ریٹائرمنٹ پیکج لے لیا۔ کشمیر کے نام پر چار مارشل لاء لگا دیے۔ کشمیر کے نام پر گالف کلب ، ڈی ایچ اے ، پلازے ، کلب بنا لیے۔ کشمیر کے نام پر پاپا جونز کھول لیے جزیرے خرید لیے۔ اخے آٹا اور بجلی۔
ناراض اراکین کا ایک اور باؤنسر، سہیل آفریدی اگر چاہے جو اُسے سازش لگتی ہے اُسے ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا ہے
"سہیل آفریدی خان کی رہائی کیلئے آج ہی تاریخ کا اعلان کردے تو ہم کل وزیراعلی ہاوس جاکر سہیل آفریدی کو ہار پہنا دینگے اور ان کا ساتھ دینگے"
مشتاق غنی 🔥🔥
بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کی بہن فاطمہ جناحؒ کو غدار اور ہندوستان کی ایجنٹ ڈکلیئر کیا تھا شوکت میر کیا چیز ہے؟ شکر کریں اس کے گھر سے براہموس میزائل برآمد نہیں ہوا