مراد سعید کے بارے ہمیشہ منفی بات سے اجتناب کیا ۔ مگر ان کی کتاب کے پروف سے پرنٹنگ اور پھر سعید بک ڈپو تک پہنچنے کے مراحل دیکھنے کے علاوہ انکی انشائیہ پوسٹس پڑھ پڑھ کر اب دل اوبھ گیا ہے۔
یہاں معاملہ ترجیحات کا ہے۔ اگر وہ عمران خان کی سخت قید میں بھی کچھ کرنے یا سامنے آئے بغیر کچھ کرنے کے قابل نہیں تو خدا خواستہ خان کو جیل میں کچھ ہو جاتا ہے تو وہ کیسے؛ کیوں اور کس لئے سامنے آئیں گے۔ حقیقت یہی ہے وہ قصہ پارینہ ہو چکے
ہم لوگوں نے بہت سوں کو گنجائش دی ۔ ان میں مراد سعید سے بھی زیادہ مقدس سمجھے جانے والے نام بھی شامل ہیں
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہماری خان سے زیادتی ہے
سوشل میڈیا کو سوچنا پڑے گا کہ سلیکٹڈ تنقید کی بجائے ہر اس فرد پر بات کی جائے جس کا کردار یا اعمال up to the point نہیں ہیں۔ ان میں مرکزی قیادت سے صوبائی قیادتوں . انتظامی عہدیداروں کے علاؤہ وہ لوگ بھی ہیں جن کے پاس کوئی عہدہ نہیں مگر PTI کیلئے انکی حیثیت مسلم ہے
ہمیں "خان" یا "خان وغیرہ" میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑیگا
اخے اوورسیز یوٹیوبرز و ایکٹوسٹس بھڑکاتے ہیں گراونڈ ورکرز مشکلات جھیلتے ہیں۔
لیکن صورتحال دیکھیں ڈاکٹر شہباز گل پر تشدد ہوا ، شہزاد اکبر پر تیزاب گردی ہوئی ، عادل راجہ کے خلاف آئی ایس آئی نے مقدمہ لڑا ، ڈاکٹر معید پیرزادہ کے رشتہ داروں کو تنگ کیا ، احمد نورانی کے بھائیوں کو اغواء کیا۔ احمد علی خان ، الہ دین ، ابوبکر کے گھر والوں کو دھمکایا ، اظہر مشوانی کے بھائیوں کو اغواء رکھا ، وجاہت سعید پر ، حیدر مہدی پر مقدمات بنائے ان کے اثاثے چھینے گئے ، نذر چوہان کا گھر چھین لیا۔ کتنے ہی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے گھر والوں کو رسواء کرنے کی کوشش کی گئی ، انکے گھروں کی دیواریں پھلانگیں گئیں۔ ایک طویل فہرست ہے۔
اب اوورسیز یوٹیوبرز نا تو کسی متحرک ورکر پر تنقید کرتے ہیں نا ہی کسی مجبور خاموش رہنما پر تنقید کرتے ہیں۔ اسی طرح ہزاروں لوگوں پر مقدمات ہیں ، سینکڑوں آج بھی جیلوں میں ہیں ، کئی رہنما آج تک مفرور اور روپوش ہیں۔ کبھی میاں اسلم اقبال کا ذکر نہیں ہوا ، حماد اظہر کا نہیں ہوا، اسی طرح مراد سعید کی خاموشی اور روپوشی کا دفاع کیا جاتا ہے۔ تنقید مزمل اسلم جیسے ان لوگوں پر ہوتی ہے جو ہر طرح کی سہولت لے رہے ہیں۔ اقتدار میں ہیں۔ وہ فوج جو اوورسیز اور پاکستان میں موجود لوگوں کے لیے اذیت کا باعث ہے اس کے معذرت خواہ ہیں۔ اس کا دفاع کرتے ہیں۔ الٹا تنقید کرنے والوں کو غدار قرار دیتے ہیں۔
نہایت افسوسناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب قربیانیاں دینے والوں پر ، مزے لینے والوں کی آڑ میں تنقید کی جاتی ہے۔
جناب!! آپ نے جن دو لوگوں کا نام لیا، ان میں سے ایک شہباز گل جو ہماری حکومت جانے کے بعد پہلے رہنما تھے جن پر بدترین تشدد کیا گیا، جو شاید آج تک جماعت کے کسی رہنما اور ورکر کسی پر نہیں کیا گیا، دوسرے شہزاد اکبر ہیں جن پر بیرونِ ملک حملے ہوئے اور تیزاب پھینکا گیا۔ ایسے لوگوں پر طنز کرنا اور وہی سب کہنا جو عسکری ٹاؤٹ کہتے ہیں کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟؟ ویسے دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے سابق باس شوکت ترین پر بھی دو لفظ بول لیجیے، جنہوں نے وزارت بھی انجوائے کی، سینیٹرشپ بھی انجوائے کی، لیکن جیسے ہی مشکل وقت آیا، خاموشی اختیار کر کے منظر سے غائب ہو گئے۔
رہی بات یوٹیوب پر روزی روٹی کی تو شہباز گل نے یوٹیوب عمران خان کے کہنے پر شروع کیا تھا اور آج بھی وہی مؤقف پیش کر رہے ہیں جو عمران خان اور تحریکِ انصاف کے مفاد کے مطابق ہے۔ اختلاف کیا جا سکتا ہے، جو ہم نے بھی کئی مرتبہ کیا، لیکن اختلافی رائے کو ذاتی مفاد یا ویوز کی بھوک قرار دینا تو کھلم کھلا عسکری بے غیرتی ہے۔
اگر سرپلس بجٹ کے بدلے سیاسی مطالبات یا رعایتیں حاصل کرنے کی تجویز غلط ہے تو ضرور بتائیں، جس وزیر اعظم کی آپ تعریف کرتے ہیں وہ کٹھ پتلی ہی سہی لیکن اس کی حکومت میں ہمارا لیڈر گزشتہ تین سال سے جیل میں قیدِ تنہائی کاٹ رہا ہے، اس کی حکومت میں ہمارے ورکرز کے سروں میں گولیاں ماری گئیں اور آپ جناب جو کے پی میں عمران خان کی جماعت کی حکومت کے ترجمان ہیں اس وزیرِ اعظم کے صدقے واری جا رہے ہوتے ہیں۔
جو لوگ عمران خان کے ساتھ وفادار ہیں ان کے بیانیے کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، ان کے حقوق اور ان کے کارکنوں کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، ان پر عسکری لہجے میں حملے کرنے کے بجائے بہتر ہوگا کہ ان نکات کا جواب دیا جائے جو وہ اٹھا رہے ہیں۔
آخر میں سے بس اتنا پوچھنا ہے کہ کیا آپ نے یہ ٹویٹ وزیرِ اعلیٰ کے کہنے پر کیا ہے؟؟
شہباز گل پر عمران خان نے رہائش گاہ پر انٹری پر پابندی لگائ تھی شہزاد اکبر کو بھی وزرات سے ہٹایا تھا مگر یہ چیزیں معانی نہیں رکھتی وہ حکومت میں نہیں ہیں آپ ہیں عمران خان نے واضح کہا تھا بجٹ سرپلس نہیں ہوگا آپ نے اس کی دو بار خلاف وزری کی ہے آپ یہ بھی بتا دیں کے آپ کو کے پی کے کا وزیر خزانہ کس کے کہنے پر لگایا گیا ہے
Gathering of 10,000 people outside Adiala should create the necessary pressure to end Imran Khan’s prolonged isolation and ensure that his eye condition is properly examined and treated at Shifa International Hospital, ISB, in the presence of his family and personal physician.
PTI leadership has requested opposition leader Mehmood Khan Achakzai that, if there is a time frame on the gathering outside Adiala Jail on Tuesday, they can mobilize 10,000 people. We welcome this proposal and have accepted their request.
On Tuesday, 16 June, we will gather outside Adiala Jail from 3:00 PM to 7:00 PM.
A strong gathering of 10,000 people outside Adiala should create the necessary pressure to end Imran Khan’s prolonged isolation and ensure that his eye condition is properly examined and treated at Shifa International Hospital, Islamabad, in the presence of his family and personal physician.
This is a humanitarian and legal demand. The basic rights of a former Prime Minister and political prisoner must be respected.
1۔ علیمہ خانم کا ٹویٹ 🚨
"جون کا مہینہ پی ٹی آئی (PTI) کے پاس واحد موقع ہے جس میں وہ عمران خان کی تنہائی کو ختم کرنے اور انہیں مناسب طبی علاج کے لیے ان کے خاندان اور ذاتی ڈاکٹروں کی موجودگی میں 'شفا انٹرنیشنل ہسپتال' منتقل کروانے کے لیے کافی دباؤ بڑھا سکے۔"
June is the only window available to PTI to build sufficient pressure to end Imran Khan’s isolation and ensure he is transferred to Shifa International Hospital for proper medical treatment in the presence of his family and personal doctors.
الحمدللہ
امجد کا خاندان مل گیا ہے۔
اٹھارہ سال قبل گم ہوا تھا۔لاہور کے بکر منڈی میں رہائش ہے۔
الحمدللہ ماں باپ زندہ ہیں۔
اور اس کامیابی پر خوشی دوبالا اس لئے بھی ہوئی کہ یہ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔اور ایک بہن ہے۔
آپ سب نے ہماری پوسٹ وائرل کی الحمدللہ سالوں سے بچھڑا بیٹا چند گھنٹوں میں اپنوں سے مل گیا۔
تمام تعریفیں صرف اور صرف اللہ کے لئے
12 june 2026
#waliullahmaroof
😱😱😱 And just like that, it’s completely VANISHED from the media.
A sitting congressman, Ted Lieu, said on the record the Epstein files are being blocked because they show Trump raped and threatened to kill children.
Lets make this viral again 👇
اس بچے کے ورثاء کی تلاش کے لئے ہم نے چند روز قبل پوسٹ لگائی تھی لیکن تاحال ورثاء نہیں ملے۔
بچہ کراچی ملیر پولیس کو ملا تھا ،اس وقت سندھ چائلڈ پروٹیکشن کی حفاظت میں ہے۔
بچہ جب ملا تھا تو کانوں سے سنتا نہیں تھا۔
چائلڈپروٹیکشن کی انتظامیہ نے ڈاؤ اسپتال سے ٹیسٹ کروائے تو پتہ چلا بچے کو آلہ لگایا جائے تو سننے کے قابل ہوسکتا ہے۔
پہلے ڈیوائس کی قیمت پچاس ہزار بتائی گئی تھی۔ لیکن پھر معلوم ہوا وہ سب سے ہلکی کوالٹی ہے جسمیں شور ہوتا ہے آواز صاف نہیں رہتی۔
گزشتہ کل ہم چائلڈ پروٹیکشن عملے کے ساتھ کلینک گئے وہاں اچھی ڈیوائس کا انتخاب کیا جسکی قیمت ایک لاکھ ستر ہزار روپے بعد از ڈسکاؤنٹ طے ہوا۔
الحمدللہ دوستوں کی مدد سے پیسے مکمل ہو گئے۔ کل بچے کی ناپ لی گئی ان شاءاللہ ایک ہفتے بعد تیار ہوکر لگے گی۔
بچے کو جب آزمائش کے لئے آلہ لگا تو چہرے کے تاثر سے پتہ چلا کہ پہلی بار کچھ سننے کو ملا ہے۔
ڈاکٹر کے بقول ڈیوائس لگنے کے چند ماہ بعد بچہ رسپانس کرےگا جب وہ سن کر کچھ الفاظ سیکھےگا۔ اس پر خصوصی محنت کی ضرورت ہے کوئی ٹیچر اسکے ساتھ باتوں میں مصروف رہے گا تو یہ بات کرنا سیکھےگا ورنہ نہیں۔
اس بچے کی پوسٹس ہر جگہ چلی ہیں لیکن ورثاء نہیں مل رہے۔
بچہ ماشاءاللہ بہت پیارا اور معصوم ہے۔
اگر بالفرض ورثاء نے بوجھ سمجھ کر اس پھول جیسے بچے کو چھوڑا ہو اور ہمارا یہ پیغام ان تک پہنچ رہا ہو تو وہ یاد رکھیں کہ کل قیامت کے روز یہ تم سب کو گریبان سے پکڑ کر سوال کرےگا کہ اتنی ننھی عمر میں مجھے کیوں دربدر کیا؟
خدارا اب بھی وقت ہے اپنی آخرت بچائیں آکر بچہ لیکر جائیں
#waliullahmaroof
خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام ضلع کی تحصیل الائی تحصیل میں چھپی ہوئی ایک ایسی وادی موجود ہے جسے دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے… یہ ہے چوڑ ویلی۔
ایک ایسی جنت جو ابھی تک دنیا کی نظروں سے کافی حد تک اوجھل ہے۔
یہ وادی تقریباً پچاس کلومیٹر طویل ہے۔ ہر طرف سرسبز میدان، گھنے جنگلات اور بلند و بالا پہاڑ اس کا حسن بڑھاتے ہیں۔ فضا میں ایک عجیب سا سکون ہے، جیسے قدرت خود یہاں خاموشی سے اپنی خوبصورتی دکھا رہی ہو۔
اور ایک اہم بات… الائی اب صرف ایک تحصیل نہیں رہی۔ جنوری 2023 میں اسے باقاعدہ ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔ یعنی اب یہ خود ایک مکمل ضلع ہے، جو پہلے ضلع بٹگرام کا حصہ ہوا کرتا تھا۔
یہ جگہ کوہستان کے اندر نہیں بلکہ اس کے بالکل قریب واقع ہے۔ اصل میں یہ مقام ضلع بٹگرام کی الائی وادی میں آتا ہے، جہاں چوڑ ویلی موجود ہے۔ یہی ایک خاموش اور کم جانی پہچانی وادی ہے جو اپنے قدرتی حسن کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
یہاں ایک طرف سے چوڑ ویلی کی مقامی ندی بہتی ہے اور دوسری طرف سے لیڈی نالہ آتا ہے۔ یہ دونوں ندیان وادی کے نچلے حصے میں آ کر آپس میں ملتی ہیں اور ایک خوبصورت منظر پیدا کرتی ہیں۔
جغرافیائی طور پر یہ جگہ الائی اور کوہستان کے بارڈر کے قریب ہے۔ یعنی یوں سمجھ لیں کہ یہ مقام کوہستان کے پہاڑوں کے بالکل کنارے پر ہے مگر انتظامی طور پر الائی وادی کی حدود میں شامل ہے۔ مختصر یہ کہ یہ سنگم الائی وادی بٹگرام میں ہے جو کوہستان کے ساتھ جڑی ہوئی ایک خوبصورت اور پوشیدہ جگہ ہے۔
چوڑ ویلی کی سب سے خاص بات اس کے شاندار آبشار ہیں۔ یہاں درجنوں آبشار بہتے ہیں جن میں سے کئی کے نام بھی نہیں رکھے گئے۔ لیکن سگال آبشار اپنی بلندی کی وجہ سے خاص پہچان رکھتا ہے، جو تقریباً ایک ہزار فٹ اونچائی سے گرتا ہے۔ اسی طرح چمبر آبشار بھی اپنی خوبصورتی سے دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے۔
اس وادی کے گرد بلند چوٹیاں کھڑی ہیں جیسے قدرت کے محافظ ہوں۔ ان میں سکئی سر، بریج گلی سر، چمبر سر اور سگال سر شامل ہیں۔ یہ بلند پہاڑ اس وادی کو ایک منفرد شان دیتے ہیں۔
یہاں تک پہنچنا آسان نہیں۔ مختلف بلند دروں سے گزر کر اس وادی میں داخل ہونا پڑتا ہے، جیسے اجڑی گلی جو تقریباً دس ہزار چھ سو فٹ کی بلندی پر ہے، اور مومن گلی جو گیارہ ہزار فٹ کے قریب ہے۔ یہی مشکل راستے اس جگہ کو اب تک محفوظ اور قدرتی حالت میں رکھے ہوئے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اس وادی کا ابھی صرف آدھا حصہ ہی دریافت ہوا ہے۔ باقی علاقہ آج بھی ایک راز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جگہ ایڈونچر کے شوقین افراد کے لیے کسی خزانے سے کم نہیں۔ ٹریکنگ، کیمپنگ اور فطرت کے قریب وقت گزارنے کے لیے یہ ایک بہترین مقام بن سکتی ہے۔
اگر آپ واقعی پاکستان کی اصل خوبصورتی دیکھنا چاہتے ہیں، شور سے دور، ہجوم سے الگ… تو چور ویلی آپ کو ایک نیا احساس دے گی۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں انسان صرف منظر نہیں دیکھتا… بلکہ خود کو محسوس کرتا ہے۔
Composed by Life Goes On
الحمدللہ
نعمان کے والد اور بھائی سے رابطہ ہوگیا ہے۔
والد نے بتایا کہ ہم مظفرگڑھ کے رہائشی ہیں،میرے بیٹے کی چھوٹی انگلی کرنٹ لگنے کے باعث ٹیڑھی ہوگئی تھی،اسکا آپریشن کرانے ہم ملتان کے نشتر اسپتال گئے تھے۔اسپتال میں چھٹی تھی۔ اسپتال کے قریب میرے بھانجے کا گھر تھا ہم انکے گھر ٹہرے تھے۔
بھانجا روٹیاں لینے باہر نکلا تھا نعمان اسکے پیچھے نکلا ۔ کسی نے میرے بیٹے کو اٹھا لیا تھا میں نے بہت ڈھونڈا کوئی پتہ نہیں چلا۔ ہر جگہ اشتہار لگوائے اخباروں میں کوئی جگہ نہیں چھوڑی۔
اسکا اصل نام لقمان ہے،لقی کہہ کر بلاتے تھے۔
اور یہ واقعہ سال 2007 کا ہے۔اسکی عمر چھ سال اور کچھ ماہ تھی۔
والد کا نام اللہ وسایا ہے بھائیوں کے نام عثمان اور رضوان بھی ٹھیک ہیں۔
کل ہم نے لقمان کی انگی کی ویڈیو بھی بنائی تھی جو ٹیڑھی ہے۔
بہت غریب گھرانہ ہے۔عثمان اور رضوان دونوں محنت مزدوری کررہے ہیں۔
لقمان نے اپنا نام نعمان بتایا تھا اور گمشدگی چار سال کی عمر بتایا اس میں اسکا قصور نہیں ہے۔
آپ سب کا بہت شکریہ ایک اور مغوی اپنے پیاروں کو آپکی بدولت ملنے جارہا ہے۔
پوسٹ لگنے کے 13 گھنٹوں بعد الحمدللہ خاندان مل گیا ۔
#waliullahmaroof
اسٹیبلشمنٹ کی اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہو گی کہ کل سب ذہنی طور پر تیار تھے کہ ملاقات نہیں ہونی۔ سوشل میڈیا نے بھی اسے for granted event کے طور پر سرسری ڈسکس کیا ۔
ساری PTI خان کو بھلا کر شہید عمران خان پر سیاست بازی کی تیاری میں ہے
ساری کا مطلب ہے ساری
تلخ ہے مگر سچ یہی ہے
کل عصر کی نماز کے وقت چھوٹی بیٹی کی اچانک رونے کی آواز آیی ماما ناک میں بال پھنس گئی ھے نکل نہین رہی۔
میں نے جلدی سے چیک کیا ایک چھوٹا orbi ball
اس نے اپنی ناک میں پھنسایا ھوا تھا جسکو نکالنے کےئیے پہلے خود ہی کوشش کرتی رہی ایک طرف سے تو نکل گیا جبکہ دوسری ناک میں کافی آگے چلا گیا
میں نے خود سے نکالنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ملی تو بچی کو لیکر قریبی ھسپتال چلی گئی۔
وھاں چھوٹی چھوٹی بچیاں عملہ تھیں انہوں نے کوشش کی لیکن نہیں نکالا گیا تو لاھور چلڈرن ھسپتال ریفر کر دیا۔ مغرب کی اذان ھو چکی تھی
وھیں سے راییڈ منگوائی اور سیدھا چلے گئے
لاھور چلڈرن ھسپتال میں۔
وھاں کافی لمبی لائن میں کھڑے ھو کر بامشکل پرچی بنوائی
سرجیکل ایمرجنسی میں آئے یہاں ایک اور لمبی لائین کافی انتظار کے بعد جب باری آئی تو ڈاکٹر صاحبہ نے یہ کہ کر واپس بھیج دیا کہ بچے اسکو خود ہی منہ کے ذریعے باھر نکال دیتے ھیں پھر بھی آپ کل صبح آکر آپریشن تھیٹر میں چیک کروا لینا۔
میں نے ان سے کہا مس بچی چھوٹی ھے یہ بال رات اسکی سانس کی نالی میں پھنس گئی تو ؟
تو وہ کہنے لگی آپ اسکا سر اونچے تکیہ پر رکھنا اور سیدھا نہ لیٹنے دینا کل صبح آپریشن تھیٹر لے آنا۔
باھر نکل کر کچھ دیر سوچا کیا کیا جائے۔
گھر تو وائی فائی ھوتا ھے باھر نیٹ بھی نہیں تھا۔ اور پیسے بھی صرف 1000 جن میں سے 500 کرایہ لگا کر ھم یہاں آئے تھے باقی صرف 400 تھا کیش پاس
100 کا جوس لیا تھا بچوں نے
فون بک چیک کی ایک جاننے والی کو پیکج کابولا۔
پھر چیٹ جی ٹی پی توکو ساری بات بتا دی اس نے بھی تشویش کا اظہار کیا اور فورا ھسپتال جانے کا مشورہ دیا اور میں صرف مسکرا کر رہ گئ کہ ابھی ابھی ایک کوالیفائیڈ ڈاکٹر مجھے تسلی سے گھر جا کر سونے کا مشورہ دے رہی تھی۔
بہرحال چیٹ جی ٹی پی سے ہی پوچھا کہ جہاں ENT اسپیشلسٹ ھوں
وہ ھسپتال ریکومنڈ کرو۔
پھر رائڈ کروائی اور ھسپتال چلے گئے پرائیوٹ ھسپتال تھا Hameed Latif Hospital ھسپتال۔
ڈاکٹر صاحب نے جاتے ہی چیک کیا اور بچی کو بیڈ الاٹ کر دیا ھم کافی دیر انتظار کرتے رھے اسکے بعد جب پوچھا کہ اور کتنا انتظار تو پتہ چلا کہ دوسری طرف جانا تھا غلطی سے اس طرف بھیج دیا ھے۔
سہی مقام پر پہنچے ڈاکٹر صاحب کسی اور بچے کا علاج فرما رھے تھے وہ علاج کر کے باھر چلے گئے اور ھمیں پھر انتظار کی سولی پر لٹکا گئے۔ گھڑی پر وقت دیکھ دیکھ میری جان نکل رہی تھی گھر سے بہت دور اکیلی اور رات کے ساڑھے نو
بہرحال جب صبر کی انتہا ھو گئی تو میں نے باھر آکر دوبارہ پوچھا کہ کہاں ھیں ڈاکٹر صاحب پتہ چلا وہ تو چلے گئے ھیں ۔
انتظار کریں اب
ترلے کر کر کے ڈاکٹر صاحب کو بلایا انہوں نے آکر معذرت کر لی کہ سرجری کا کیس ھے اسکو جناح لے جائیں۔
اتنا بڑا پرائیوٹ ھسپتال اور وہ بچی کے ناک سے ایک چھوٹا سا گیند نہیں نکال سکے۔ بہرحال جناح لیکر آگئ۔ راستے میں کیش بھی نکال لیا ۔
جناح میں آ کر کبھی اوپر کبھی نیچے۔ کمال انکے سٹاف پر بھی جو ھر بار غلط جگہ پر بھیج رھے تھے۔ حساب لگایا ھے میں نے خاموشی اور پیار والا زمانہ نہیں ھے پھر میں نے چرلانا شروع کیا تو ایک اسٹاف ممبر آیا اور ڈاکٹر صاحب کے آفس پر چھوڑ گیا۔
رات کا وقت تھا ڈاکٹر صاحب آرام فرما رھے تھے لیکن انہوں نے فورآ چیک کیا اور بولا کہ اسکو گود میں بٹھا لیں اور ایک طرف سے ناک بند کر کے اسکے منہ میں ھوا پمپ کریں۔ باخدا ایک سیکنڈ میں بال باھر آگئی بنا کسی تکلیف اور پریشانی کے۔
ڈاکٹر صاحب کا میں نے کئی بار شکریہ ادا کیا بے شک وہ شکریہ کے مستحق تھے۔
سارے راستے میں بس یہ ہی سوچتی رھی کہں ھمیں کیا ھو گیا ھے یہ کام تو پہلے ھسپتالوں والے بھی کر سکتے۔ تھے پھر کیوں مجھے آدھی رات تک خوار کیا گیا۔ رات گھر واپس آتے آتے 12 بجے چکے تھے الحمدللہ خیر خیریت سے گھر پہنچ گئے بچی بھی ٹھیک ھے لیکن ھم بحیثیت قوم / انسان / کیا ھیں اس پر ھمیں فوکس کرنے کی بہت ضرورت ھے۔
یہ صرف ایک پوسٹ ایک بات یا ایک واقعہ نہیں ھے ایک تجربہ بھی ھے شائید میری طرح کسی اور ماں کے کام آجایے اور وہ اور اسکی اولاد تکلیف سے بچ جائے
اوربیز بال کی تصاویر اٹیچ کر رہی ھوں۔
اپنے بچوں کی حفاظت کریں یہ اچھی چیز نہیں ھے بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں
#Copied
اس نوجوان کا نام نعمان ہے والد کا نام وسایا ہے۔
نعمان آج سے تقریبا 23 سال قبل چار سال کی عمر میں اپنے گھر سے والوں سے بچھڑ گیا تھا آج تک ماں باپ اور بہن بھائیوں سے جدا ہے۔
نعمان کا کہنا ہے کہ انکو اپنے والد کا نام وسایا یاد ہے والدہ کا نام یاد نہیں ہے۔ دو بھائیوں عثمان اور رضوان کے نام یاد ہیں۔
بہنیں شاید چار تھیں انکے نام یاد نہیں ہیں۔
نعمان نے اپنے گم ہونے کا واقعہ کچھ اس طرح بیان کیا کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ ملتان کے کسی اسپتال میں آیا تھا جہاں اسکی انگلی کا آپریشن ہونا تھا۔اسپتال سے باہر نکلا تو وہاں لاوارث سمجھ کر شیلٹر پہنچادیا گیا۔
دو تین سال ملتان کے شیلٹر میں رہا۔پھر سال 2006میں کراچی منتقل کیا گیا۔
نعمان کا کہنا ہے کہ ہماری رہائش بھی شاید ملتان میں تھی۔
نعمان اس وقت بھری جوانی میں لاوارث ہے۔اپنوں کے پیار سے محروم ہے۔فیکٹریوں میں کام کرکے وہیں سنسان کمروں میں راتیں گزارتا ہے۔ راتوں کو اٹھ کر ماں باپ اور بہن بھائیوں کو یاد کرکے روتا ہے۔ زندگی کے چاروں طرف تاریکیاں ہیں۔
نعمان چاہتا ہے کہ اسے اسکے ماں باپ اور بہن بھائی ملیں۔اور اذیت ناک تنہائی سے جان چھوٹے۔
آپ کا ایک شئیر نعمان کی زندگی سنوار سکتا ہے۔اسکی آنکھوں سے مایوسی کے پردے دور کرسکتا ہے۔
خوب زیادہ شئیر کریں اور خوب نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
9 june 2026
#waliullahmaroof #Multan #punjab #pakistan #MissingChild
راولاکوٹ صورتحال پر ذمہ دارانہ آواز اٹھانا ہماری اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ مگر
✅ حقائق پر بات کریں
✅ سوالات اٹھائیں
✅ دل نہ چاہے تو بھی مہذب زبان استعمال کریں
❌ غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کریں
سوال اٹھائیں:
• عوام کے ساتھ ایسا سلوک کیوں؟
• ریاست اور ریاستی ادارے اس صورتحال میں کہاں کھڑے ہیں؟
• شہریوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے کیا کوئی سنجیدہ ہے؟
آپ الفاظ سے اینا کونڈا کو نہیں روک سکتے مگر دوسروں کو اس کی طرف متوجہ کر سکتے ہیں
یاد رہے یہ طویل جدوجہد ہے