@ImranKhanPTI
Sir
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
جہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینی جگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیدا ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدو ور پیدا
@ImranKhanPTI sir
یہیں ٹویٹر پر
ٹویٹر ٹریننگ اور سوشل میڈیا ہینڈلنگ پر 10 روزہ ٹریننگ اکیڈمی میں شرکت کیلئے صرف وہ احباب اپنا نام لکھیں جو 10 دن بلا ناغہ ایک گھنٹہ وقت دے سکتے ہوں
اکیڈمی میں ایڈ ہونے کیلئے اکیڈمی منیجمنٹ کو فالو کر لیں
@Flag_Waver1@MrRebel88
سلیبس یہ ہو گا
جس نے تم سے صبر کا ذائقہ چکھا یہاں تک کہ اسے ختم کر دیا اور تمہارے دل کو تھکن کا وارث بنایا یہاں تک کہ اسے ہلاک کر دیا تو اس نے تمہارے دنوں سے اپنا حصہ پورا لے لیا اور وہ اس بات کا مستحق نہیں کہ تم اسے اپنی باقی ماندہ عمر میں سے وہ حصہ دو جو اس نے تمہارے معاملے کے آغاز میں محفوظ نہیں رکھا تھا
تمہاری عمر اتنی زیادہ نہیں ہے کہ تم اسے ایک ہی غلطی پر دو بار ضائع کرو اور تمہارا دل اتنا وسیع نہیں ہے کہ وہ ہر بار ہوش میں آنے پر اسی زخم کو دوبارہ برداشت کرے اور جو تمہاری زندگی سے نکل گیا اسے اس میں واپس نہیں آنا چاہیے
معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم تکلیف دینے والے کو دوبارہ اسی مقام پر لے آؤ جہاں سے اس نے تمہیں نقصان پہنچایا تھا اور درگزر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم اس شخص کو دوبارہ بھروسہ دو جس نے اسے ایک بار ضائع کر دیا تھا بلکہ یہ تو سادگی اور غفلت ہے اور احسان میں حد سے بڑھنا ہے اور اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا
اللہ نے تمہیں ایک دل اس لیے نہیں دیا کہ تم اسے ہر بار اسی ہاتھ کے حوالے کر دو جس نے اسے توڑا تھا اور نہ ہی تمہیں تمہاری عمر اس لیے دی ہے کہ تم اسے ان لوگوں کو موقع دینے میں برباد کرو جنہوں نے کبھی اپنے تکلیف دہ مزاج کو بدلنا ہی نہیں چاہا اور اکثر وہ لوگ جو اپنے نفس کے تنگ ہونے پر تمہاری طرف لوٹتے ہیں وہ اپنی پہلی والی عادتوں پر ہی لوٹ جاتے ہیں اگر تم انہیں اپنے معاملے کا اختیار دے دو
پس اپنے دل کے باقی ماندہ حصے کو اس مسافر کی طرح محفوظ رکھو جس کے پاس اپنے آخری توشہ کے علاوہ کچھ نہ ہو کیونکہ کچھ نقصانات ایسے ہوتے ہیں جن کا بدل تمہیں کوئی چیز نہیں دے سکتی اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم اپنی پوری مرضی سے اس درد کی طرف لوٹ جاؤ جس سے اللہ نے تمہیں نکالا تھا اور اس تکلیف دینے والے کی طرف لوٹ جاؤ جس کے ظلم سے اللہ نے تمہیں نجات دی تھا
اپنا دروازہ بند کر لو اور اپنے باقی ماندہ وجود کے ساتھ نجات پا جاؤ اور اس شخص کو اجازت نہ دو جس نے تمہارے اندر کچھ توڑ دیا تھا کہ وہ تمہارے اس دل پر دوبارہ قابو پائے جس نے اس کی تکلیف سے نجات پانا سیکھ لیا ہے
یہی المیہ ہے. ہجوم ہے، مگر محبت نہیں. تعداد ہے، مگر خلوص نہیں. لوگ ہیں، مگر "لوگ" نہیں. جو سانس لیتے ہیں کھاتے ہیں. اور مگر اندر سے خالی ہیں. نہ کسی کے درد کا احساس، نہ کسی کی خوشی میں خوشی. دل پتھر کے، زبانیں تیز،اور نیت؟ صرف اپنی. ان کے پاس وقت ہے تنقید کرنے کے لیے، مگر ایک زخم پر مرہم رکھنے کے لیے نہیں. یہی "مردہ وجود" ہیں چلتے پھرتے جنازے
وہ لوگ بہت کم ہیں. جو آپ کو دیکھ کر پوچھیں: "سب خیریت ہے؟" وہ جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی عزت کریں. وہ جو آپ کی خاموشی سمجھ لیں. یہی "زندہ دل" ہیں. اور یہی نایاب ہیں. ہیرے کانوں میں نہیں ملتے. سمندر کی گہرائی میں ملتے ہیں. وہ تنہائی میں ملتے ہیں. وہ اسوقت ملتے ہیں جب آپ کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہو. درخت سے پھل مانگیں گے تو ملے گا. ریت سے پانی مانگیں گے تو ذلت ملے گی. جس دل میں اللہ نہیں، اس سے وفا کی امید مت رکھیں
.
اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی آپ کو سمجھے، تو پہلے آپ دوسروں کو سمجھیں. اگر آپ چاہتے ہیں کوئی آپ کے لیے روئے، تو پہلے آپ کسی کے لیے دعا کریں. اللہ خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا. جیسے آپ ہوں گے، ویسے ہی لوگ ملیں گے. بہتر ہے دس مردہ وجودوں کے ساتھ رہنے سے ایک زندہ دل کی تلاش میں اکیلے رہا جائے. کیونکہ اکیلا پن عارضی ہے، مگر غلط لوگوں کے ساتھ رہنا روح کو مار دیتا ہے. لوگوں کی کمی نہیں ہے. "لوگوں" کی کمی ہے. لوگ تو ہر موڑ پر مل جائیں گے. مگر لوگ؟ "لوگ" وہ ہیں جو آپ کے گرنے پر ہنسیں نہیں، ہاتھ بڑھاہیں. "لوگ" وہ ہیں جو آپ کی کامیابی پر جلے نہیں، سجدہ شکر کریں. "لوگ" وہ ہیں جن کے ساتھ بیٹھ کر دل کو سکون آ جائے. بات نہ بھی ہو تو بھی سکون آ جائے. کیونکہ "زندہ دل" کی نشانی یہی ہے. وہ لفظوں سے زیادہ کیفیت پڑھ لیتے ہیں.
خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا کمال یہ ہے
ہوا کی زد پہ دیا جلانا جلا کے رکھنا کمال یہ ہے
ذرا سی لغزش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلق زمانے والے
سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا کمال یہ ہے
#محبت_مافیا
#FreeIK804
تم نے ایک انسان کو چار دیواروں میں بند کیا، یکن باہر ایک پورا سمندر بپھر چکا ہے! قیدی 804 اب کوئی نمبر نہیں،وہ اس ملک کی غیرت،بقا اور حقیقی آزادی کی آخری جنگ کا نام ہے۔مٹ گئے مٹانے والے،عمران خان آج بھی کروڑوں دلوں کا بے تاج بادشاہ ہے!