"دشمن کے بچوں سے پہلے اپنے بچوں کو پڑھانا ھے۔"
ویلڈن @NaeemRehmanEngr اور @KarachiJamaat ۔
یہ ھوتا vision وژن ۔ اور یہ ھوتی executions اس پر عمل ۔
صرف کھوکھلے نعروں سے قوموں کی تقدیر نہی بدلتی ۔۔۔۔ امید جگانی پڑتی ھے۔۔عمل کرنا پڑتا ۔
#RiseWithBanoQabil#حل_صرف_جماعت_اسلامی
حافظ @NaeemRehmanEngr کے برین چائلڈ آئی ٹی اسکلز ٹریننگ پروگرام "بنو قابل" کے دوسرے سیشن کے لئے آج باغ جناح میں اپٹیٹیوٹ ٹیسٹ تھا۔ حیران کن مناظر دیکھنے کو ملے۔ ایسا معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ آج پاک بھارت کرکٹ میچ بھی ہے۔ ایک لاکھ کے قریب طلبہ اور طلبات موجود تھے۔ 50 ہزار سے زائد کرسیاں بھر چکی تھیں۔ جسکے بعد اضافی کرسیاں لگائیں گی مگر پھر بھی ہزاروں طلبہ نے دری پر بیٹھ کر ٹیسٹ دئے۔
سب سے شاندار بات یہ تھی کہ بڑی تعداد میں کارپوریٹ سیکٹرز کے سی ای او ایز، آئی ٹی انٹرپیونر اور میڈیا کی سرکردہ شخصیات بھی موجود تھیں۔
اس موقع پر پہلے سیشن کے کامیاب گریجویٹس کو اسناد کی تقسیم بھی کی گئی۔ اسٹیج کے پشت پر پہلے سیشن کے طلبہ کے مختلف اسٹارٹ اپ پراجیکٹس کی نمائش بھی ہوئی۔ حافظ صاحب کی تقریر کے بعد پہلے سیشن کی کامیابی کی خوشی میں شاندار آتش بازی بھی کی گئی۔
@smkashif علمیت صرف صرف و نحو اور فقہا کی فقہی تصریحات پر چان ماری کرنا نہی ہوتا بلکہ اصل علمیت یہ ہے کے آپ عصرِ حاضر کے چیلنجز کا علمی اور تجرباتی جواب دیں تقی صاحب دیوبندیوں کے شیخ الاسلام ہیں باقی مسالک کے لیے صرف ایک مخالف کی حیثیت رکھتے ہیں
مولانا کی تصنیف "خلافت و ملوکیت" کا موضوع ریاست اور سیاست ہے۔ صرف اس ایک کتاب پر اسکی حمایت اور مخالفت میں درجنوں مزید کتابیں اور سیکڑوں مقالے لکھے گئے ہیں۔ اسی طرح اسلامی ریاست، اسلامی تہذیب اور اسکے اصول و مبادی، تحریکِ آزادی ہند اور مسلمان، اسلام اور جدید معاشی نظریات، اور الجہاد فی الاسلام ایسی کتابیں عالمی سطح پر اپنا مقام رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ سیکڑوں کتابچے جیسے ہیگل، مارکس اور اسلامی نظام، اسلام کا نظریہ سیاسی، تحریکِ جمہوریت کے اسباب اور اس کا مقصد، اور تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل اور
مسئلہ قومیت، مراکش سے انڈونیشیا تک کی اسلامی تحریکوں اور سیاسی اسلام سے وابستہ قوتوں کا اثاثہ ہیں۔
#فراڈ_سے_آیا_ہوا_قبضہ_مئر گٹر کے ڈھکن تک فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوگیا مگر شاباش ہے جماعت اسلامی کے منتخب لوگوں کو,یوسی3 نارتھ کراچی میں جماعت اسلامی کی بلدیاتی منتخب ٹیم اپنی موجودگی میں اپنے ہاتھوں سے عوامی خدمت میں مصروف ہیں
یوسی 1، @TMCNewKarachi پر مسلط پیپلزپارٹی کے قابض چئیرمین راو نوید یوسی 1 کے سرکاری دفتر سے سرکاری سامان اور عملہ زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ انہوں اجمیر نگری کے قریب کچی آبادی میں ایک خودساختہ یوسی آفس کھول رکھا ہے، جہاں مبینہ طور پر عوام کی مشکلات کا حل تلاش کرنے کے بجائے، کچی آبادی میں خالی پلاٹوں پر قبضوں کی منصوبہ بندی اور پانی کے ناجائز کنیکشش کی خرید وفروخت کی جاتی ہے۔
حلف اٹھائے ہوئے دو ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے مگر قابض چئیرمین نے اب تک یوسی کا کوئی اجلاس نہیں بلایا اور نہ ہی جماعت اسلامی کے منتخب کونسلرز سے کوئی ملاقات کی ہے۔ جماعت اسلامی کے کونسلرز صفائی اور سیوریج کے کاموں کے حوالے سے قابض چئیرمین کے سپوک پرسن امین بلوچ سے رابطہ کرتے ہیں مگر وہ مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔ یاد رہے کہ بقرعید کے موقع پر بھی قابض چئیرمین و وائس چئیرمین دس گاڑیوں اور متعلقہ عملے سمیت غائب تھے جبکہ جماعت اسلامی کے کونسلرز کو آلائشوں کو اٹھانے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا تھا۔ جسکے بعد چئیرمین نیوکراچی ٹاون @M_YousufJI بھائی نے خصوصی نوٹس لیا اور سیکٹر 2 اور 3 میں ایک ایک گاڑی فراہم کی گئی تھیں۔
دوسری طرف سیکٹر 2 اور 3 سے تمام کنڈی مین ہٹاکر انہیں من پسند جگہوں پر استعمال کیا جارہا ہے۔ دونوں سیکٹرز میں کئی مقامات پر گٹر بند ہیں اور سیوریج کا گندا پانی گلیوں اور سڑکوں پر بہ رہا ہے جسکی وجہ سے اہل محلہ سخت اذیت کا شکار ہیں۔ سیکٹر 2 اور 3 میں جماعت اسلامی کے منتخب کونسلرز سید محمد اسماعیل اور ڈاکٹر خالد مشتاق کو بھی کنڈی مین دستیاب نہیں ہیں۔
جماعت اسلامی @JI_NorthKarachi اپنے لوگوں کو ان حالات میں تنہا اور بے بس نہیں چھوڑ سکتی ہے. اگر پیپلزپارٹی کے قابض ٹولے نے اپنی روش نہیں بدلی تو جماعت اسلامی حلقہ الحمید کے کارکنان اہل محلہ (سیکٹر2 اور سیکٹر 3) کے شانہ بشانہ سیوریج اور دوسرے بلدیاتی مسائل کو حل کروانے کے لئے ناصرف خودساختہ یوسی آفس کے سامنے احتجاج کریں گے بلکہ دوسرے قانوی راستے بھی اختیار کریں گے۔
لیکن اس سے پہلے کے بات احتجاج اور راست اقدام کی طرف جائیں، ہم پیپلزپارٹی کراچی کے صدر @SaeedGhani1 صاحب اور مئیر @murtazawahab1 صاحب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر ان میں زرا سی بھی سیاسی بصیرت ہے تو معاملے کا نوٹس لیں۔
اگر حالیہ #متنازع مردم شماری (جس میں کراچی کی آبادی کو کم از کم ایک کروڑ کم گنا گیا ہے) کے مطابق حلقہ بندیاں ہوئیں تو #کراچی کی قومی اسمبلی کی نشستیں 21 سے بڑھ 22 اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں 43 سے بڑھ 47 ہوجائیں گی۔
ضلع #وسطی، #شرقی، #غربی اور #جنوبی میں صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست کا اضافہ ہوگا جبکہ قومی اسمبلی کی اضافی نشست ضلع جنوبی کے حصے میں آئے گی۔ اگر گزشتہ 15 سالوں میں #پیپلزپارٹی کے کنڈیکٹ کو دیکھا جائے تو انکی پوری کوشش ہوگی کہ ضلع وسطی، شرقی اور غربی میں نئی حلقہ بندی اس طرح کی جائیں کہ نیا بننے والا حلقہ انکے لئے سازگار ہو۔
کراچی کی تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو اس پورے عمل پر نظر رکھنے اور پہرہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ سعید غنی حلقہ بندیوں کی انجنیرنگ کے ماہر ہیں۔ وہ کچی آبادیوں کیساتھ شہری آبادی کا کچھ حصہ ملاکر پیپلزپارٹی کو کھیلنے کے لئے نئے میدان فراہم کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔
ڈپٹی میئر @SalmanAMurad سے ان کے گھر میں ملاقات کی اور ان کے دادا کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔ مرحوم کے لیے مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔اس موقع پر سومار برفت (ممبر سٹی کونسل)، @HanzalaAnwJI (وائس چئیرمین یوسی 9) و دیگر ہمراہ موجود ہیں
UC 12 chairman, Azeem Anwar (https://t.co/gvYKEMqzJk), is one of the most active, educated, and dynamic UC chairmen in Karachi.
Although the drainage of rainy water falls under KMC's mandate, not UC & Town, UC-12 team, along with young & proactive councilor @MuhammadAteeb95, is actively on the field to assist their people.
Let's maintain our political differences but avoid undermining the interests of Karachi and facilitating #PPP.