Sindhodesh worker are #terrorists, they don't know that #Muhajirs fought British & created Pakistan, so what is a province?And you,the people of Sindhis, were slaves of https://t.co/WGKvA1Ph1e should satisfy your desire & see.
Then,don't blame me for what happens
@OfficialDGISPR
دبئی: صوبوں کی تشکیل پر اتفاقِ رائے ضروری، مضبوط بلدیاتی نظام کے بغیر تبدیلیاں مؤثر نہیں ہوں گی،دبئی میں منعقدہ دعوتِ حلیم۔کے موقع ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہاکے پر پاکستان میں صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر اتفاقِ رائے کومقدم قرا دیتے ہوئے مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت ضرورت ہے
#mpp
مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں باغ کے مقام پر ہونے والے دھماکے میں کم از کم چھ افراد کے شہید اور تین کے زخمی ہونے کی خبر انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
معصوم انسانی جانوں کا ضیاع ایک قومی سانحہ ہے۔ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے دعاگو ہوں، جبکہ شہید ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔
دہشت گردی اور تشدد کے ہر واقعے کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھماکے کی مکمل اور جامع تحقیقات کرتے ہوئے اس کی نوعیت اور حالات کا تعین کرنا ہوگا، ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کرکے انہیں بلا تاخیر قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحتِ کاملہ نصیب فرمائے۔ آمین۔
I am deeply saddened by the news of at least six people losing their lives and three others being injured in an explosion at an orchard in Khad Kocha, Mastung.
The loss of innocent lives is a national tragedy. I pray for the speedy and complete recovery of the injured and extend my heartfelt condolences and sympathies to the bereaved families.
The entire nation stands united against terrorism and violence in all forms. The law enforcement agencies must thoroughly investigate the blast, establish its nature and circumstances, identify those responsible, and ensure that they are brought to justice without delay.
May Allah Almighty elevate the ranks of the martyrs, grant patience and strength to their bereaved families, and bless the injured with a swift and complete recovery. Ameen.
میں سمجھتا ہوں کل مجھ سے الفاظ کا غلط چناؤ ہو گیا، میں قوم پرست نہیں کہنا چاہ رہا تھا میرا مطلب علیحدگی پسند تھا۔۔(بلاول پھٹو)
یہ الفاظ سوچ سمجھ کر بولتا ہے۔۔جب گ میں ڈنڈا آتا ہے تو پھر صفائیاں دینے لگتا ہے۔
یہ بہت گھٹیا شخص ہے
یہ دوسرا عمران نیازی ہے
اقتدار کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
بلیک میلر کہیں کا۔۔
On this Independence Day, I pay tribute to all those whose courage, struggle and sacrifices, guided by unwavering faith, made the dream of Pakistan a reality.
Pakistan is more than a country on a map. It is the fulfilment of a great dream, a long struggle and countless sacrifices. It represents the determination and faith of those who dreamed of a homeland where they could live with freedom, dignity and honour. Protecting the values of that hard earned legacy and building a brighter future for Pakistan is now our shared responsibility.
The true strength of Pakistan has always been its people. When we stand united, respect our differences and place the national interest above personal interests, there is no limit to what we can achieve.
I believe our future will be stronger when our young people have the opportunity to move forward and lead, when women have their rightful place in national development and leadership, and when every citizen has equal access to justice, dignity, security and prosperity.
May Pakistan continue to move forward with confidence, unity and purpose, and may every citizen have the opportunity to contribute to its progress. May Allah Almighty bless our homeland with peace, stability, prosperity and lasting unity.
Pakistan Zindabad!
Pakistan Paindabad! 🇵🇰
آج یومِ آزادی کے موقع پر میں اُن تمام عظیم ہستیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جن کی جدوجہد، قربانی اور غیر متزلزل یقین نے پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا۔
پاکستان محض نقشے پر ایک ملک کا نام نہیں، بلکہ ایک عظیم خواب، طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کی تعبیر ہے۔ یہ اُن عظیم ہستیوں کے عزم اور یقین کی علامت ہے جنہوں نے آزادی، عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے ایک آزاد وطن کا خواب دیکھا۔ اُن کی قربانیوں سے حاصل ہونے والے اس وطن کی اقدار کی حفاظت اور اس کے روشن مستقبل کی تعمیر اب ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
پاکستان کی اصل طاقت ہمیشہ اُس کے عوام رہے ہیں۔ جب ہم متحد ہو کر اپنے اختلافات کا احترام کرتے ہیں اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں تو ہمارے لیے ترقی کی کوئی حد نہیں رہتی۔
میرا یقین ہے کہ ہمارا مستقبل اسی وقت مضبوط ہوگا جب ہمارے نوجوانوں کو آگے بڑھنے اور قیادت کرنے کے مواقع ملیں گے، ہماری خواتین کو قومی ترقی اور قیادت میں اُن کا جائز مقام حاصل ہوگا، اور ہر شہری کو انصاف، عزت، تحفظ اور خوشحالی کے یکساں مواقع میسر ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام، خوشحالی اور اتحاد عطا فرمائے، اسے ترقی کی راہ پر گامزن رکھے اور ہر پاکستانی کے لیے ایک روشن اور باوقار مستقبل نصیب فرمائے۔ آمین۔
پاکستان زندہ باد! 🇵🇰
پاکستان پائندہ باد! 🇵🇰
یومِ نوجوانان
پاکستان کی اصل طاقت اس کی نوجوان نسل ہے؛ ایک ایسی نسل جس میں ملک کو نئی سمت، نئی توانائی اور نئی کامیابیوں کی طرف لے جانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا پاکستان کے روشن اور مضبوط مستقبل کی بنیاد ہے۔
آج کا باشعور، باصلاحیت اور پُرعزم نوجوان ہی کل کے پاکستان کی قیادت کرے گا۔
نوجوان مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہوگا۔
International Youth Day
Pakistan’s greatest strength lies in its young generation, a generation with the talent, energy and ambition to shape a stronger future for the country.
Providing young people with quality education, modern skills and meaningful opportunities is essential to building a progressive and prosperous Pakistan.
The aware, capable and determined youth of today will shape and lead Pakistan tomorrow.
When our youth grow stronger, Pakistan grows stronger.
Speaking to members of Meri Pehchan Pakistan today, I acknowledged Pakistan’s increasingly constructive global role under PM Shehbaz Sharif, and CDF Field Marshal Syed Asim Munir. Pakistan’s voice for dialogue, peace and regional stability deserves recognition.
But international relevance cannot compensate for administrative failure at home. Progress abroad must be matched by reform, justice and delivery within Pakistan.
Those resisting new administrative units and structural reforms should leave their political drawing rooms and listen to ordinary citizens. Across Karachi, southern Punjab, interior Sindh, Balochistan, Khyber Pakhtunkhwa and other neglected regions, the verdict is unmistakable: Pakistan’s outdated, over-centralized administrative structure is no longer capable of serving its growing population.
Good governance demands smaller and more efficient administrative units, constitutionally empowered local governments, equitable distribution of resources, institutional reform and ruthless accountability. This is neither an ethnic slogan nor a partisan agenda. It is a national imperative.
Karachi stands as the most painful evidence of systemic failure. The city drives Pakistan’s economy, yet its people are denied clean water, functioning sewerage, safe roads, reliable transport and basic municipal dignity. Karachi cannot continue financing the country while being governed through neglect, fragmentation and excuses.
I am deeply saddened by the condition of MQM-P. It was given years of political space, public mandates and repeated opportunities to deliver. Many of us supported its right to represent Karachi and urged it to use its influence for better governance. Yet the people are still waiting for results.
Yesterday’s violence was disgraceful and unacceptable. Political militancy, intimidation and street power must never again be allowed to hold Karachi hostage. No party can claim to represent citizens while failing to deliver services and tolerating a culture of confrontation.
Karachi does not need recycled slogans, internal power struggles or manufactured crises. It needs water, roads, sanitation, jobs, security and accountable leadership.
Pakistan must reform. Karachi must be empowered. Politics must serve the people—not control, divide or terrorize them.
Karachi needs governance, not guns; results, not rhetoric; leadership, not excuses.
میری پہچان پاکستان کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے میں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ امن، مذاکرات اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کا متوازن اور ذمہ دارانہ مؤقف عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابیاں اس وقت حقیقی معنوں میں مؤثر ثابت ہوتی ہیں جب ان کے ثمرات ملک کے اندر بھی مؤثر حکمرانی، انصاف اور بنیادی اصلاحات کی صورت میں عوام تک پہنچیں۔ پاکستان کی خارجہ کامیابیوں کے ساتھ داخلی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔
جو عناصر نئے انتظامی یونٹس اور بنیادی اصلاحات کی مخالفت کر رہے ہیں، انہیں سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر عوامی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے۔ کراچی، جنوبی پنجاب، اندرونِ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا غرض یہ ہے کہ پورے پاکستان کے دیہی اور شہری نظرانداز کیے گئے علاقوں کے عوام واضح طور پر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان کا موجودہ، حد سے زیادہ مرکزیت پر مبنی انتظامی نظام اپنی افادیت بڑی حد تک کھو چکا ہے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے
اگر پاکستان کو مضبوط، منصفانہ اور مؤثر ریاست بنانا ہے تو چھوٹے اور مؤثر انتظامی یونٹس، آئینی طور پر بااختیار بلدیاتی نظام، وسائل کی منصفانہ تقسیم، جامع ادارہ جاتی اصلاحات اور بلاامتیاز و شفاف احتساب ناگزیر ہیں۔ یہ کسی قومیت یا سیاسی جماعت کا بیانیہ نہیں، بلکہ قومی مفاد کا تقاضا ہے۔
کراچی پاکستان کی معیشت کا محرک ہے، مگر بدقسمتی سے یہی شہر بنیادی شہری سہولیات سے مسلسل محروم چلا آ رہا ہے۔ صاف پانی، مؤثر نکاسیٔ آب، محفوظ سڑکیں، قابلِ اعتماد عوامی ٹرانسپورٹ اور باوقار شہری زندگی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ یہ صورتحال مزید برقرار نہیں رہنی چاہیے کہ ملک کی معاشی شہ رگ ہونے کے باوجود کراچی کو غفلت، انتظامی کمزوری اور غیرمتوازن وسائل کی تقسیم کا سامنا کرنا پڑے۔
مجھے ایم کیو ایم پاکستان کی موجودہ سیاسی کیفیت پر بھی افسوس ہے۔ اسے کئی برس تک عوامی اعتماد، سیاسی مواقع اور کراچی کی خدمت کا بھرپور موقع ملا۔ ہم نے ہمیشہ کراچی کے عوام کے جمہوری حقِ نمائندگی کا احترام کیا اور یہ توقع رکھی کہ اس اعتماد اور سیاسی اثرورسوخ کو بہتر حکمرانی اور عوامی خدمت کے لیے بروئے کار لایا جائے گا، مگر بدقسمتی سے کراچی کے عوام آج بھی ان نتائج کے منتظر ہیں جن کی انہیں امید دلائی گئی تھی۔
گزشتہ روز پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ تشدد، دھونس اور طاقت کی سیاست کا جمہوری معاشرے میں کوئی مقام نہیں۔ کراچی کو خوف، تصادم اور محاذ آرائی کی نہیں، بلکہ امن، قانون کی حکمرانی اور عوامی خدمت پر مبنی سیاست کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی جماعت صرف نعروں سے نہیں، بلکہ اپنی کارکردگی، عوامی خدمت اور جمہوری طرزِ عمل سے عوامی اعتماد حاصل کرتی ہے۔
کراچی کو فرسودہ نعروں، اقتدار کی اندرونی کشمکش اور مصنوعی بحرانوں کی نہیں، بلکہ صاف پانی، معیاری انفراسٹرکچر، مؤثر بلدیاتی خدمات، روزگار کے مواقع، امن اور جوابدہ قیادت کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی ترقی کا راستہ جامع اصلاحات، مؤثر حکمرانی اور مضبوط اداروں سے ہو کر گزرتا ہے۔ کراچی کو اس کا آئینی، انتظامی اور مالی حق دینا ہوگا تاکہ وہ اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق قومی ترقی میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکے۔ سیاست کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت، ان کے مسائل کا حل اور قومی یکجہتی کا فروغ ہونا چاہیے، نہ کہ تقسیم، محاذ آرائی یا عوام کو یرغمال بنانا۔
کراچی کو بندوق نہیں، مؤثر حکمرانی چاہیے؛ نعرے نہیں، نتائج چاہیے؛ بہانے نہیں، جوابدہ اور باکردار قیادت چاہیے۔
#میری_پہچان_پاکستان #گڈ_گورننس #انتظامی_اصلاحات #کراچی
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
قطر کے سابق امیر، عزت مآب شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہوں۔ میں امیرِ قطر، عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، معزز شاہی خاندان، حکومتِ قطر اور برادر عوامِ قطر سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ مرحوم کی دوراندیش قیادت اور غیر معمولی خدمات نے قطر کی ترقی، استحکام اور عالمی وقار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا، جسے ہمیشہ عزت و احترام سے یاد رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم پر اپنی بے پایاں رحمت نازل فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور سوگوار خاندان اور برادر عوامِ قطر کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
I am deeply saddened by the passing of His Highness Sheikh Hamad bin Khalifa Al Thani, the former Emir of the State of Qatar. I extend my heartfelt condolences to His Highness Sheikh Tamim bin Hamad Al Thani, Emir of the State of Qatar, the Royal Family, the Government, and the brotherly people of Qatar. His enduring legacy of visionary leadership and distinguished service played a defining role in Qatar's remarkable progress, stability, and growing stature on the global stage, and will be remembered with great respect. May Almighty Allah grant the departed soul His infinite mercy and the highest place in Jannat-ul-Firdous, and bless the bereaved family and the brotherly people of Qatar with patience and strength. Aameen.
مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی 59ویں برسی کے موقع پر، میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ قیامِ پاکستان، قومی یکجہتی اور عوامی خدمت کے لیے ان کی بے مثال جدوجہد، ایثار اور لازوال خدمات ہمیشہ قوم کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
On the 59th death anniversary of Madar-e-Millat Mohtarma Fatima Jinnah, I pay my heartfelt tribute to her enduring legacy. Her unwavering dedication to the Pakistan Movement, national unity, and selfless service to the people will continue to inspire generations. May Allah grant her the highest place in His mercy. Aameen.