ایک لیڈی ڈاکٹر، جو روزانہ 12 سے 14 گھنٹے انسانوں کی جانیں بچانے کے لیے خدمات انجام دیتی ہے، بلوچستان کے سب سے بڑے اسپتال، سول ہسپتال کوئٹہ میں اپنی ہی جان سے تقریباً ہاتھ دھو بیٹھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں ان کے دفتر کے اندر تیزاب سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کا تقریباً 70 فیصد جسم جھلس گیا۔
مگر اس المناک واقعے کے بعد حقائق سامنے لانے اور عوام کے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے کہانی ایک اندھیرے میں چلی گئی کہ مبینہ ملزم کو پولیس مقابلے میں ہلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ اس کے قبضے سے ایک پستول اور چار زندہ کارتوس برآمد ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔ تاہم حقیقت تک پہنچنے سے پہلے ہی ملزم کی موت نے پورے معاملے کو مزید پراسرار اور مشکوک بنا دیا ہے۔
یہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی ہے جو مسلسل اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی شہریوں کے تحفظ، میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک بڑے سرکاری اسپتال کے اندر سکیورٹی کہاں تھی؟ بلوچستان جیسے خطے میں جہاں ہر چند قدم پر سکیورٹی اہلکار تعینات ہوتے ہیں، ایک شخص تیزاب اور اسلحہ لے کر اسپتال کے اندر کیسے داخل ہوا؟ اور اتنا ہولناک حملہ انجام دینے میں کامیاب کیسے ہو گیا؟
اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ انصاف کے عمل کو گولیوں کی آواز میں کیوں دفن کر دیا گیا؟ اگر واقعی مبینہ ملزم کے پاس سکیورٹی اداروں سے منسوب ہتھیار تھا، جیسا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے دعویٰ کر رہے ہیں، تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ تک پہنچا کیسے؟ اس سوال کا جواب کون دے گا؟
مزید افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس پورے سانحے کے دوران حکومت اپنی ائیر ایمبولینس سروس کی تشہیر اور میڈیا بیانیے کو بہتر بنانے میں زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں، ہیلی کاپٹر ایمبولینسز اور تشہیری مہمات کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر اسپتالوں میں برن سینٹرز جیسی بنیادی اور ناگزیر سہولتیں آج بھی موجود نہیں۔ تیزاب حملوں کے متاثرین کے لیے فوری اور خصوصی علاج زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے، مگر بلوچستان میں ایسے مریضوں کو علاج کے لیے کراچی منتقل کرنا پڑتا ہے کیونکہ مقامی سطح پر ضروری طبی سہولتیں ناکافی ہیں۔
یہ صرف ایک خاتون ڈاکٹر پر حملہ نہیں، بلکہ پورے نظام کی ناکامی کا ایک المناک ثبوت ہے، اس پر خاموشی جرم کے برابر ہے۔ اس واقعے کی مکمل، آزاد اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ کسی بھی طاقتور ہاتھ کی پشت پناہی چھپ نہ سکے اور اصل حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔
The world cannot stay silent.
@amnesty@hrw@UNHumanRights@FIDH — a student leader and MPhil scholar was taken from his home at 1:30 AM in Dera Ghazi Khan. His name is Zubair Baloch. He is missing. His family is waiting.
Investigate. Speak. Act.
#ReleaseZubairBaloch
BSC Punjab launches a campaign on X (Formerly Twitter) to demand for the safe and immediate release of Zubair Baloch S/O Ghulam Fareed resident of Bhutta colony Dera Ghazi Khan who was illegally abducted by MI on 15/06/2026 at 1:30AM from his hometown bhutta colony DG Khan.
My Cousin, Zubair Baloch son of Ghulam Fareed is still missing.We don't know about his whereabouts,
We want his immediate release.
#ReleaseZubairBaloch
Zubair Baloch, an MPhil graduate of The Islamia University of Bahawalpur, was forcibly disappeared by security forces last night from Bhutta Colony, Dera Ghazi Khan.
This is not just a disappearance,it is a blatant act of injustice. Every passing moment without information about his whereabouts is a continuation of that injustice. Silence is not neutral,it is complicity.
This pattern of enforced disappearances reflects a system where lives can be taken without accountability, where families are left in anguish and where justice is repeatedly denied.
We hold the concerned authorities fully responsible for Zubair Baloch’s safety and well-being. Any delay in his recovery is not a lapse,it is a failure of justice. We demand his immediate and safe release.
#ReleaseZubairBaloch
Enforced disappearance is a grave violation of human rights and must end. His whereabouts remain unknown. We demand the immediate and safe recovery of Zubair Baloch.
#ReleaseZubairBaloch#EndEnforcedDisappearances
نواب اکبر بگٹی کے بیٹے جمیل بگٹی کراچی میں انتقال کر گئے ان سے گزشتہ سال ملاقات ہوئی تھی ، شھر سے باہر ان کا آشیانہ تھا جو کبھی سیب کے باغات کے گھیرے میں ہوتا تھا اب اجڑ چکا تھا، وہ والد کے قتل کیس کے درخواست گذار بھی تھے، ڈیرہ بگٹی جانے پر ان پر پابندی عائد ہوچکی تھی
بلوچستان میں حالات انتہائی تشویشناک حد تک پہنچ چکے ہیں۔ آئے روز گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور گلیوں کوچوں سے نوجوانوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ رمضان کے اس بابرکت مہینے میں بھی لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ آج بلوچستان کا کوئی شہر، کوئی گلی، کوئی کوچہ اور کوئی گھر خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا۔
ہر روز کسی نہ کسی ماں کا بیٹا، کسی بہن کا بھائی اور کسی بچے کا باپ لاپتہ ہو رہا ہے۔ رمضان کے اس مقدس مہینے میں جہاں رحمت، برکت اور خوشیوں کا ماحول ہونا چاہیے وہاں بلوچستان کے گھروں میں غم اور بے یقینی کا سماں ہے۔ جہاں پاکستان کے دیگر علاقوں میں لوگ عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں وہیں بلوچستان کے لوگ اپنے پیاروں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ترس رہے ہیں اور اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔
دنیا کے مختلف حصوں میں جنگوں کی خبریں سنائی دیتی ہیں مگر بلوچستان میں ایک خاموش المیہ جاری ہے۔ جبری گمشدگیاں اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی جیسے واقعات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں بلکہ یہ انصاف اور قانون کی حکمرانی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔
داؤد بلوچ سمیت اُن کے بھائیوں، دانیال بلوچ اور دیگر بلوچ نوجوانوں اور تعلیم یافتہ افراد کی جبری گمشدگیاں بلوچ نسل کشی کے تسلسل کی ایک کڑی ہیں جو روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ جبری گمشدگیاں انسانیت کی دھجیاں اڑا رہی ہیں جبکہ عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی اُن کے دعووں پر ایک زور دار تمانچہ ہے۔
ہم تمام باشعور شہریوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی، میڈیا اور عالمی برادری سے ایک بار پھر اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں ہونے والی ان ناانصافیوں اور مظالم کے خلاف آواز بلند کریں اور عملی اقدام اٹھانے کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
#ReleaseDawoodBaloch
#ReleaseHakimMajeedBaloch
#ReleaseUsmanBaloch
#ReleaseDanialNasirBaloch
Dawood Baloch, son of Pir Muhammad, resident of DG Khan, a recent Civil Engineering graduate from UET Lahore, was forcibly disappeared from his home on 2 November 2025 at 3:30 AM. A young engineer with dreams and a future ahead. His family deserves answers. #ReleaseDawoodBaloch
Friends who once walked beside us are now missing, and the pain of not knowing their fate is unbearable.
But their memories keep us strong, and our hope for justice and truth will never disappear.
#ReleaseHakimMajeedBaloch#ReleaseUsmanBaloch#ReleaseDawoodBaloch