مجھے کسی نے سمجھایا آپکو پتا ہے یہ ساری کمپین ایجنسیاں چلا رہی ہیں یہ عمران خان کی حالت دکھاتے ہیں بری ایک سوچی سمجھی سازش ہے ان کو تکلیف یہ ہے عمران خان تین سال سے زائد قید برداشت کریں گے
عمران خان اس سے زیادہ فٹ ہیں جیسے جیل میں جانے سے پہلے تھے
جب عمران خان کی اکتوبر تک کوئی بیماری نہیں تھی کوئی دوائی نہیں لے رہے تھے انہوں نے سوچے سمجھے طریقے سےپہلے ملاقاتیں بند کی پھر عمران خان کی آنکھ خراب کی کوئی رپورٹ نہیں ہے ہمارے پاس
علیمہ خان
عمران خان تک تو ہماری آواز نہیں پہنچے گی، لیکن ہم اپنی آواز بُلند کرکے کہتے ہیں، عمران خان زندہ باد! جس ہمت سے وہ لڑ رہا ہے اور جتنی قربانیاں دے رہا ہے، میں اُسے سیلوٹ کرنے آیا ہوں۔“
سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی
عمران خان اور بشری بی بی کی قید تنہائی کیسز میں فیصلہ آگیا
عدالت نے ملاقاتوں سمیت تمام سہولیات فراہم کرنے کا حکم دے دیا, کتابوں سے لے کر ہر سہولت دی جائے
بریکنگ نیوز 🚨اسد طور کا بڑا انکشاف۔ حکومت کی چھٹی ہونے والی ہے، فیصلہ ہوچکا 🔥🔥
عمران خان کی اپیلیں لگنے کی وجہ یہی ہے حکومت اور اسٹبلشمنٹ کا ہنی مون ختم ہو چکا ہے۔ اب اٹھائیسوی ترمیم کا آنا کہا جا رہا ہے، شہباز شریف کو مشورے دیے جا رہے ہیں، 16 ستمبر سے پہلے پہلے عمران خان کو شفاء ہسپتال منتقل کردیا جائے۔
یہ دنیا میں بتاتے ہیں کہ ہمارا عمران خان کے کیسز سے کوئی تعلق نہیں ہے اور کیسز عدالتوں میں ہیں، آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ عدالت عمران خان کے حق میں فیصلہ دیتی ہے اور یہ اس پر عملدرآمد ہی نہیں کرتے،
علیمہ خان
عدالت عالیہ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اہلِ خانہ سے ملاقات، بچوں سے ٹیلی فونک گفتگو، روزانہ ایک گھنٹے کی واک اور مطالعے کی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے جیل حکام کو 15 روز میں تعمیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
تاخیر کے شکار نظام میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان احکامات پر روح کے مطابق عملدرآمد ہو سکے گا؟ ماضی کا ریکارڈ مایوس کن ہے؛ 17 جون 2026 کو وکالت نامے کے معاملے اور اگست 2026 میں ہسپتال منتقلی کے حکم پر عدم عملدرآمد کے باعث توہینِ عدالت کی کارروائیاں اس رویے کی واضح مثالیں ہیں۔
عدالتی احکامات کو مسلسل پسِ پشت ڈالنا نہ صرف نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو شدید ٹھوکر پہنچاتا ہے، بلکہ معاشرے میں بے چینی اور انتشار کو بھی جنم دیتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ خود عدلیہ اپنے قرطاسِ ابیض پر درج احکامات کی پاسداری کو یقینی بنا کر اس روش کا سدِباب کرے۔۔
🚨🚨🚨 ہمیں انتہائی باوثوق ذرائع سے یہ خبریں مل رہی ہیں کہ راولاکوٹ میں ایک بہت بڑے آپریشن اور بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کی تیاری کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم کے حالیہ بیان سے بھی یہی تاثر مل رہا ہے کہ حکومت مذاکرات کی طرف جانے کے بجائے سابقہ حکومت کی پالیسی کے تسلسل کو جاری رکھنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ جس انداز میں فورسز کو لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور جس طرح حالات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اس سے خدشہ ہے کہ راولاکوٹ اور پونچھ میں بڑے پیمانے پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ جس طرح پہلے ہی تقریباً سو افراد کی جانیں جا چکی ہیں اس صورتحال میں یہ خدشہ مزید سنگین ہو جاتا ہے کہ حکمرانوں کو مزید سو دو سو یا پانچ سو لوگوں کی جانیں جانے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بہرحال دھرنے میں بیٹھے لوگ بھی حالات کی سنگینی کو سمجھ رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ پونچھ میں اب تک انٹرنیٹ بحال نہ ہونا بھی انتہائی تشویشناک ہے..ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پونچھ کو ہر طرح سے باقی دنیا سے کاٹ کر تنہا کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں ہونے والی کسی بھی کارروائی کی خبر باہر نہ پہنچ سکے۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں بلکہ حالات پر گہری نظر رکھنے اور ہر ممکن انسانی جان کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے کا ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی
#RightsMovementAJK
#FascismUnderAsimLaw
تصویریں وائرل کرکے ایک پوری مہم چلائی جارہی ہے کبھی عمران خان کو وہیل چئیر پر دکھایا جارہا ہے کبھی بستر پر، جیل میں جو جاتے رہے یا ٹرائل کے دوران ملتے رہے ان سے پوچھیں عمران خان ماشاءاللہ فٹ ہیں یہ جان بوجھ کر کمزور دکھا رہے، یہ کمزور دکھا کر اس کے ساتھ کچھ کردیں گے۔ عمران خان پر پہلے بھی قاتلانہ حملے ہو چکے آپ کیا سمجھتے ان کے ارادے اب بدل گئے ہونگے؟
عمران خان خود کہہ چکے کہ یہ مجھے محمد مُرسی کی طرح ماریں گے تو آپ جاکر مُرسی پر تحقیق کرلیں اس کو کیسے مارا گیا تھا۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے، عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی، اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا، عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ عمران خان (5 نومبر 2025)
27 تاریخ کا لانگ مارچ آ رہا ہے۔ ممبران صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کو اپنی حفاظت کرنی چائیے کہ وہ گرفتار نہ ہوں تا کہ وہ لانگ مارچ میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ براہ مہربانی اپنے آپکو آسان ٹارگٹ نہ بننے دیں۔
سوشل میڈیا کے جوانوں سے گزارش ہے کہ اس معاملے پر خصوصی توجہ دیں
حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟
یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔
یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔
وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔
اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔
18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔
جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔
انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔
لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔
اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔
سلمان اکرم راجہ
ذہنی مریض عاصم منیر نے چن چن کر ہارے ہوئے بدنام زمانہ بدمعاشوں اور کریمنلز کے ہاتھوں میں پاکستان دیا ہوا ہے، وفاقی وزیر صحت ایک ایسے بیشرم اور بدتمیز شخص مصطفیٰ کمال کو لگایا ہوا ہے کہ جس کے ہاتھوں عوام ماضی میں بھی ذلیل ہوتی رہی ہے، عاصم منیر نے پاگلوں کو وزیر بنایا ہوا ہے اور پاگل اب عوام کو پڑ رہے ہیں، مصطفی کمال بوٹ پالش کرکے وزیر بنا اور اب یہ پاگل غریبوں کو بھیڑ بکریاں سمجھتا ہے۔
#PIMS
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
آج اسلام آباد میں مرنے والے ننھے معصوموں میں سے کوئی ایک بھی کیا اشرافیہ کا بچہ تھا؟ نہیں۔۔۔
پاکستان کا دارالخلافہ، وہ اسپتال جسے ملک کا سب سے جدید اسپتال کہا جاتا ہے، وہاں درجنوں معصوم بچوں کا جھلس اور دم گھٹنے سے مرجانا، کیا اس بات کا ثبوت نہیں کہ پاکستان ایک فیل سٹیٹ ہے؟
فیلڈ مارشل کے قبضے میں فیلڈ سٹیٹ!
آسلام آباد کے کچھ غیرتی شہری PIMs پہنچ گئے!!
اسلام آباد کر شہریوں نے shame Shame کے نعرے لگائے, حکومت کو شرم آنی چاہیے!!
آج تو چاہیے تھا, پورا پاکستان سڑکوں پر نکل آتے, لیکن باقی پاکستانیوں نے اپنی باری کا انتظار اچھا سمجھا!!
یہ بچے پورے پاکستان کے بچے ہیں, خدا کے لیے نکل آؤ
🚨🚨 بریکینگ نیوز : ڈاکٹر شہباز گل عمران خان صاحب کی حالت بتاتے ہوئے, آبدیدہ ہوگئے ۔!!!!💔😭😭
عمران خان کی بہن, ڈاکٹر عظمیٰ خان نے کہا کہ : میں جب وہاں پہنچی ۔ تو اندھیرے میں ایک انسان بیٹھا ہوا تھا ۔ جب میں نے غور کیا, تو وہ عمران خان تھے ۔ جنہیں اندھیرے میں بٹھایا گیا تھا ۔💔💔😭