Here's how Imran Khan's Tosha khana case is different from others:
* Imran Khan made a business out of Tosha khana.
* He retained ALL the gifts and sold them for profit.
* The gifts were under-valued on his instructions.
* He sold the gifts first and deposited the money later.
🚨بریکنگ نیوز: دہشت گردانہ کاروائیوں کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم لیڈران ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کرنے لگے، ایکشن کمیٹی کے اہم ممبرراجہ صہیب جاوید نے عوامی ایکشن کمیٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا
حکومتی مذاکراتی وفود کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کہتے رہے مہاجرین کی سیٹیں مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں انہیں 12 سے 8 کر دیتے ہیں لیکن کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی مکمل سیٹیں ختم کرنے پر بضد رہی۔
مکمل سیٹیں ختم نہ کرنے کی صورت میں کبھی تتری نوٹ (آزاد کشمیر و مقبوضہ کشمیر کے درمیان LoC بارڈر) کو کھولنے، آزاد کشمیر ریاست میں پہیہ جام ہڑتال کرنے، دکانداروں، تاجروں سے زبردستی دکانیں کاروبار بند کروانے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
اب بتانے والی بات یہ ہے کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی یاد رکھے کہ پہلے تو شاید 12 سے 8 سیٹیں ہو جاتیں لیکن اب 12 سے ساڑھے گیارہ بھی نہیں ہوں گی۔
صرف اتنا ہی نہیں ان کے پچھلے لانگ مارچ پر کی گئیں 177 ایف آئی آرز جو ان کے کہنے پر ختم کر دی گئیں تھیں اب ان ایف آئی آرز کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔
ایک کور کمانڈر اور ایک سابق کورکمانڈر سمیت لگ بھگ دس حاضر سروس جرنیلوں کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے ،ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس آزاد کشمیر سے ہیں۔ ان حاضر سروس فوجی افسروں میں سے لیفٹیننٹ جنرل شاہد امتیاز ،لیفٹیننٹ جنرل امداد حسین شاہ ،میجر جنرل واجد عزیز،میجر جنرل کاشف آزاد،میجر جنرل امجد عزیز،میجر جنرل امتیاز گیلانی،میجر جنرل سردار طارق اور میجر جنرل آصف عزیز نمایاں ہیں۔ریٹائرڈ افسروں کی بات کریں تو چند برس قبل ریٹائر ہونے والے کورکمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن کا تعلق میر پور سے ہے اور فرزند پلندری جنرل عزیز خان کو کون بھول سکتا ہے جو سی جی ایس اور کور کمانڈر ہے،بعد ازاں بطور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ریٹائر ہوئے۔لیفٹیننٹ جنرل سردار امحمد انور خان ریٹائر منٹ کے بعد آزاد کشمیر کے صدر بنے ۔اس کے باوجود کشمیروں کو محرومیوں کا منجن بیچا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ آپ کو حقوق نہیں مل رہے