< ہم کس محمد کو مانتے ہیں ؟ >
لوئس بونیل (Luis Buñuel) فرانس کا مشہور فلم پروڈیوسر تھا۔ وہ س�� 1900 میں پیدا ہوا اور 1983 میں وفات پائی۔ شروع میں اس کو مسیحیت کی تعلیم دی گئی تھی بعد میں وہ فلم انڈسٹری میں داخل ہو گیا۔
گارجین 7 اگست 1983 میں اس کے کچھ خیالات شائع کئے گئے، اس نے کہا کہ آج بےشمار لوگ مسیحی ہیں۔ مگر وہ اضافی طور پر مسیحی ہیں نہ کہ حقیقی طور پر۔ حضرت مسیح اگر آج دنیا میں واپس آئیں تو ان کو ماننے والے دوبارہ ان کو سولی پر چڑھا دیں گے۔
If Christ came back, they'd crucify him all over again.
لوئس بونیل کی یہ بات صد فیصد درست ہے، یہ بات حقیقت ہے کہ مروجہ مسیحیت حضرت مسیح کے لاۓ ہوۓ مذہب سے اتنی مختلف ہے کہ آج اگر حضرت مسیح زندہ ہوں تو خود ان کے ماننے والے انہیں برداشت نہ کریں۔
تاہم مسلمانوں کا حال بھی اس معاملہ میں ان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ آج دنیا بھر میں تقریباً ایک ارب مسلمان ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معتقد ہیں ا��ر ان کے نام پر لڑنے مرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ مگر ان مسلمانوں کا سارا جوش محمد ص کی تاریخ سے ہے نہ کہ خود محمد ص سے۔ وہ "محمد" جس کے ساتھ تاریخ شامل نہ ہو وہ موجودہ مسلمانوں کیلئے بھی اتنا ہی اجنبی ہے جتنا وہ اپنے ہم زمانہ لوگوں کیلئے تھا۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پچھلے 1400 سال میں عظمت کی جو روایات جمع ہو چکی ہیں اگر آپ کی ذات سے ان کو ہٹا دیا جاۓ اور آپ دوبارہ اسی ابتدائی حالت میں ظاہر ہوں جیسا کہ آپ قدیم مکہ میں ظاہر ہوۓ تھے تو مجھے اپنے علم وتجربہ کی حد تک یقین ہے کہ مسلمانوں میں آپ کو پہچاننے والے اتنے بھی نہ نکلیں گے جتنی ایک آدمی کے ہاتھ میں انگلیوں کی تعداد ہوتی ہے۔
مسلم اداروں میں جس محمد کی دھوم ہے وہ تاریخی محمد ہیں نہ کہ وہ محمد جو تاریخ بنن�� سے پہلے تھے۔ تاریخ بننے سے پہلے والے محمد اگر آج ان اداروں میں آ جائیں تو ان کو نہ کوئی ادارہ شیخ التفسیر بناۓ اور نہ شیخ الحدیث۔ ان کو نہ کسی جلسہ کی صدارت ملے اور نہ کسی جماعت کی امارت۔ مسلمانوں کی بستی سے وہ اسی طرح بےرحمی کے ساتھ نکال دیے جائیں جس طرح مکہ والوں نے اپنے زمانہ میں محمد ص کو نکال دیا تھا۔ قدیم مکہ والے محمد ص کو پانے کیلئے جوہر کی بنیاد پر قدردانی درکار ہے اور مسلمان آج اس صفت سے محروم ہیں۔
(مولانا وحیدالدین خاں رحمہ اللہ)
ایسا دروازہ بنیں جس سے خیر آئے۔
اگر دروازہ نہ بن سکیں، تو ایسی کھڑکی بنیں جس سے روشنی اندر اترے۔
اور اگر وہ بھی ممکن نہ ہو، تو ایسی دیوار بن جائیں جو تھکے ہوئے وجود کو سہارا ��ے۔
منقول
ہمارے اکثر دوست جب مغربی ممالک میں تعلیم یا روزگار کے حصول کیلئے جاتے ہیں تو پاکستان میں اپنے دوست رشتہ داروں کو کہتے ہیں "یار صرف ایمان کی کمی ہے ان میں ورنہ اسلام پر عمل تو یہ لوگ کرتے ہیں". اس سے مجھے Gabriel García Márquez کے ناول One Hundred Years of Solitude کا پادری Father Nicanor Reyna یاد آ جاتا ہے جو Macondo قصبہ کو پھلتا پھولتا دیکھ کر کہتا ہے کہ یہاں تو سب کچھ بالکل ٹھیک چل رہا ہے بس ایک چرچ کی کمی ہے.
چلیں مغرب میں تو ایمان کی کمی ہے، اللہ تعالیٰ انہیں ایمان نصیب کرے. جو مغرب کے مقابلے میں ہمارے یہاں کمی ہے وہ ہم نے طارق جمیل اور ساحل عدیم جیسے موٹیویشنل سپیکرز سے پوری کروانی ہے یا بلاسفیمی کی آڑ میں بلیک میلنگ گینگ بنانے والے راؤ عبدالرحیم جیسے قاتلوں سے؟ یا پھر جیسے مغرب نے وہ کمی پوری کی تھی ان سے سیکھنا ہے؟
محمد طارق
بہت سال پہلے لکھا کہ کسی غریب یا اسکے بچے کو اپنے گھر کام پر رکھتے وقت قریب اتنی تنخواہ دینے کی کوشش ضرور کریں جتنی خدانخواستہ مجبوری کے عالم میں آپ ایسے ہی کام کے ذریعے خود یا بذریعہ اولاد کمانا چاہیں گے۔ باقی، کام والی کی موجودگی میں AC بند یا کھلا رکھنا آپ کا اپنا فیصلہ ہے۔
پاکستان میں قیام کے دو��ان ایک گھر میں چوری کے واقعے کا سیاق و سباق سمجھنے کے بعد چند سال قبل ایک تھریڈ لکھا، جو اب مکمل شئیر کر رہا ہوں:
کچھ عرصہ قبل جاننے والوں کے گھر 16 سالہ لڑکی (جو 15 ہزار ماہوار پر 24 گھنٹے ملازم تھی) نے گھر سے کچھ کپڑے و جوتیاں چوری کیں۔ مجھے خاتون خانہ نے شکایت و غصے بھرے لہجے میں بتایا کہ کیسے دن رات انکے گھر رہنے والی نے اپنی اصلیت دکھائی اور احسان فراموشی کی تو میں بھینچ کر رہ گیا۔
صرف اتنے الفاظ ادا ہوئے کہ ایک متمول خاندان کی ہم عمر لڑکیوں کو دن رات قیمتی ملبوسات میں دیکھ کر پتہ نہیں اس کے اندر کیا بیتتی ہو گی، لیکن ان خاتون کے دل و د��اغ پر ایک دھیلے کا اثر نہ ہوا۔ چند دن بعد کوئی اور اس گھر میں انکی بیٹیوں و بیٹوں کی خدمت پر معمور ہوا۔
بچپن میں پورے محلے و خاندان میں ہمارا واحد گھر تھا جہاں کبھی کوئی کام کرنے والی نہیں آئی۔ کچن، کپڑے والدہ، جبکہ اپنا کمرہ، باتھ روم صاف کرنے کی ذمہ داری ہر ایک کی اپنی تھی۔ برآمدہ کوئی ایک دھو لیتا۔ میں دوستوں کے گھر صفائی کرنے والی دیکھتا تو اپنی قسمت کو کوستا۔
اس زمانے میں روز گھر آ کر صفائی کرنے والی کی تنخواہ بمشکل سو دو سو تھی جو ہم افورڈ کر سکتے تھے۔ ایک دفعہ شکایت کی تو جواب ملا کہ اتنی کم تنخواہ ظلم ہے اور جتنی ان کا حق ہے اتنی ہماری مالی حیثیت نہیں۔ یہ با�� ساری زندگی کا سبق بن کر رہ گئی اور اپنا کام خود کرنے کی عادت ہو گئی۔
کام کے عوض پرانے کپڑے یا سالن نہیں بلکہ پوری اجرت دیں۔ ورنہ کسی ملازم کے چوری کرنے پر غصہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ اس سے پہلے آپ خود چوری کے ساتھ ظلم کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔ کوئی نماز کوئی صدقہ کسی م��لس کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کے ظلم کا حساب نہیں چکا سکتا۔
سادہ سا اصول ہے۔ اتنا سوچیے کہ اپنے والدین یا اولاد کو کتنی تنخواہ کے عوض کسی کے گھر کام پر رکھوا سکتے ہیں، جتنی رقم ذہن میں آتی ہے اتنی ہی ملازمین کو دیں۔ دوسری صورت میں تمیز سیکھنے کے ساتھ، اپنے کام خود کریں اور اولاد کو بھی سکھائیں۔ کسی کی مدد مقصود ہے تو صرف اتنا کام کروائیں۔
��ب اس نے ایک بزرگ کے مزار کی چوکھٹ پر سجدہ کیا تو ایک سالے نے لکھا کہ اس نے آج بیوی کے حکم پر سجدہ کرکے اپنے جد کو بہت شرمندہ کیا جس نے اللہ کے حکم کے باوجود ایک سجدہ کرنے سے کھلا انکار کر دیا تھا۔۔
یوں تو دنیا میں غیبت سے زیادہ زود ہضم کوئی چیز نہیں لیکن یہ کباب بھی حلق سے اترتے ہی جزو بدن ہو جاتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ گولے کے کباب میں ایک حصہ قیمہ، ایک حصہ مرچیں اور ایک حصہ دھاگے پڑتے ہیں۔ سیخ سے اتار کے کڑاکڑاتے گھی کا بگھار دیتے ہیں۔
"سیخ کباب میں بھگار؟ یہ کس خوشی میں؟" ہم نے پوچھا۔
"اس سے مرچوں کا دف مرجاتا ہے۔ ساتھ بھرت کی سبک سی کوڑی میں گرم مصالحہ رکھ دیتے ہیں۔ پھر کبابوں میں بکری کا بھیجا اور الھڑ بچھڑے کی نلیوں کا گودا علیحدہ سے ڈالتے ہیں۔"
_ یہ کیوں؟
"اس سے گرم مصالحہ اور جائفل جاوتری کا دف مرجاتا ہے۔ پھر بڑی پیاز کے لچھے اور ادرک کی ہوائیاں۔ ا��ر ان پر ہری مرچیں کترکے ڈالتے ہیں۔ یہ میسر نہ ہوں تو محض سی سی کرنے سے بھی لذت بڑھتی ہے۔ خمیری نان کے ساتھ کھاتے وقت برف کا پانی خوب پینا چاہئے۔"
_کیوں؟
"برف سے خمیری روٹی اور ہری مرچوں کا دف مرتا ہے۔ مصلح ہے۔ بعض نفاست پسند تو کبابوں پر تتیّا مرچ کی چٹنی چھڑک کر کھاتے ہیں۔ پھر حسب حیثیت دہی بڑے یا قلفی فالودے کی ڈاٹ لگاتے ہیں۔"
_کیوں؟
"اس سے چٹنی کا دف مرتا ہے۔"
_اگر یہ سارے چونچلے فقط کسی نہ کسی کا دف مارنے کے لئے ہیں تو چٹوروں کی سمجھ میں اتنی بات کیوں نہیں آتی کہ یکے بعد دیگرے دف مارنے کے بجائے، شروع میں ہی کم مرچیں ڈالیں یا پھر زبان پر ربر کا دستانہ چڑھا کر کھائیں۔
(بعد از آں اسی نکتہ راز کو انہوں نے اپنے بقراطی انداز میں یوں ذہن نشین کرایا کہ)
جوانی دیوانی کا دف بیوی سے مارا جاتا ہے
بیوی کا دف اولاد سے مارا جاتا ہے
اور اولاد کا سائنسی تعلیم سے
سائنسی تعلیم کا دف اپنے ہاں دینیات سے مارا جاتا ہے۔
_ارے صاحب! دف کا مرنا کھیل نہیں مرتے مرتے مرتا ہے۔"
مشتاق احمد ��وسفی
مزاہب عالم میں جانوروں کی قربانی کی کہانی تقریبن ایک جیسی ہی ہے
حضرت عیسی کی پیدائیش سے بھی چار ہزار سال پہلےیونانی مائیتھالوجی کی ایک کہانی میں بھی اسکا ذکر موجود ہے اس پر فلم بھی فلمائی جاچکی ہے جسکو کئی ایوارڈ مل چکے ہیں
ٹروجن وار کے دوران یونانیوں کے لیڈر Agememnon فوجوں سمیت کشتیوں میں سوار جنگ کے لیے جارہے تھے کہ راستے میں اس نے ارتمس Artemis دیوی (جو شکار, اجاڑ, جانوروں, قدرت, تولید اور پاکیزگی کی دیوی تھی) کے مقدس ہرن کو مار دیا. اس پر ارتمس دیوی غصہ ہوگئی اور ہوا کے دباؤ سے یوانانی کشتیوں کو راستے میں اس وقت تک روکے رکھا کہ جب تک اگاممنون ہرن کے بدلے ارتمس کے رضامندی کے خاطر اپنی بیٹی iphigenia کو قربان نہ کردیں.
بیٹی کو اس لالچ پر لایا گیا کہ اس کے عظیم جانباز Achilles سے شادی ہونی والی ہے. اگاممنون کی بیوی بھی بیٹی کے شادی دیکھنے کے لئے اس مقام پر پہنچ گئی. قربان گاہ تک پہنچنے سے پہلے دونوں کو پتہ نہ تھا کہ بیٹی کو قربانی کے لیے لایا گیا ہے, یہاں تک کہ اکیلیس بھی بےخبر تھے. پتہ چلنے پر پہلے تو ماں نے مزاحمت کی اور اکیلیس سے التجا کی کہ اس کے بیٹی کو زبح ہونے سے بچائے. اکیلیس نے کہا کہ اب سب کو پتہ چل چکا ہے کہ دیوی کو راضی کرنے اور ہمارے اگے جانے کے لیے iphigenia کی قربانی لازم ہے اگر اپ رضامندی سے نہیں مانتے تو ہمیں مجبوراً اپ سب کو قتل کرنا پڑے گا.
اگاممنون کی بیٹی سمجھ جاتی ہے کہ اب کوئی دوسرا راستہ نہیں, وہ قربان گاہ کے جانب بڑنے لگتی ہے اگاممنون سے یہ برداشت نہیں ہوتا اور وہ روتے ہوئے بیٹی سے منہ موڑ لیتا ہے. بیٹی پیچھے سے کہنے لگتی ہے کہ "ابا میں اپنا وجود رضامندی سے اپنے وطن اور یونان کے سرزمین کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار ہوں. جب اس میں خدا کی مرضی ہے, تو مجھے قربان کردیا جائے, اور دعاگو ہوں کہ میری قربانی اپ کو کامیابی اور فتح عطا فرمائے"
جب اس کے بعد iphigenia پر چھری پھیر دی جاتی ہے تو لوگ کیا دیکھتے ہیں کہ اپجینیا کے بجائے ایک ہرن ذبح ہوچکا تھا. کہا جاتا ہے کہ زبح ہوتے وقت ارتمس دیوی اپیجنیا کو اٹھا لیتی ہے اور اسے tauris نامی مقام پر منتقل کردیتی ہے, ایک اور روایت میں اتا ہے کہ اسے ارتمس کے جانب سے hecate نامی دیوی بنا دیا جاتا ہے, یا ایک اور جگہ اتا ہے اسے leuke نامی جزیرے پر منتقل کردیا جاتا ہے جہاں اس کی شادی ابدی اکیلیس سے کردی جاتی ہے. ہرن کے نمودار ہونے کے بعد انہیں اندازہ ہوجاتا ہے کہ دیوی راضی ہوچکی ہے, وہ لوگ اگے بڑھے اور پھر اس جنگ میں کامیابی بھی حاصل کی.
اس کہانی کا قدیم حوالہ Euripides کی تصانیف ہیں.
....
ایشیائی ڈرامے کا اصل ولن ماضی ہے۔ جو قوم جتنی پسماندہ، درماندہ، اور پست حوصلہ ہو، اُس کو اپنا ماضی، معکوس اقلیدسی تناسب
(inverse geometrical ratio)
میں�� اُتنا ہی زیادہ درخشاں اور دہرائے جانے کے لائق نظر آتا ہے۔ ہر آزمائش اور ادبار اور ابتلا کی گھڑی میں وہ اپنے ماضی کی جانب راجع ہوتی ہے۔ اور ماضی بھی وہ نہیں کہ جو واقعتاً تھا، بلکہ وہ جو اُس نے اپنی خواہش اور پسند کے مطابق از سرِ نو گھڑ کر آراستہ پیراستہ کیا ہے۔۔ماضی تمنّائی۔
مشتاق یوسفی
اگر کافر سازش کرکے کیمرہ ایجاد نہ کرتے تو 2078 میں ہماری کتابوں میں یہ لکھا ہوتا کہ۔۔ الیاس قادری مُردے زندہ کیا کرتے تھے
اور بابا خادم رضوی وہیل چیئر سمیت ہوا میں اڑتے پھرا کرتے تھے۔ سالے والے۔
مرحوم خصوصی
برصغیر کے بعض پسماندہ علاقوں میں اب تک یہ دستور چلا آرہا ہے کہ برادری کی تمام بوڑھیاں کسی کے ہاں غمی میں شریک ہوتی ہیں تو لمبا سے گھونگھٹ کاڑھ کے بیٹھ جاتی ہیں اور اپنے اپنے پیاروں کے نام لے کر بین کرتی دھاڑتی ہیں۔ سب اپنے اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرکے خشک آنسوؤں سے روتی ہیں۔ اگر کوئی ناواقف حال پہنچ جائے تو وہ ایک گھنٹے بین سن کر بھی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اس مجلس ِآہ و بکاہ میں دو ڈھائی سو مردوں میں آج کا مرحومِ خصوصی کون ہے۔
آبِ گم سے اقتباس۔۔یوسفیات
دیکھنے اپن نے تو جب کالج میں داخلہ لیا تو ایک تحریک کے کارکنان مل گئے جنہوں نے بتایا کہ اسلام خطرے میں ہے ۔۔پھر علم ہوا کہ یہ جملہ تو پاکستان بننے کے فوراً بعد اپنی جگہ بنا چکا تھا، اسلام کو خطرے سے بچانے کے لئے مولانا ٹائپ لوگوں نے 1949میں ہی قرارداد مقاصد بنا کے منظور بھی کرا لی تھی�� پھر بھی خطرے سے باہر نہیں نکل سکا تو پنجاب میں ایسے فسادات ہوئے کہ محدود مارشل لاء 1953 میں لگانا پڑا ۔پھر اسکے بچانے کو دو قومی نظریہ آیا جسکا پرچار 1970 کے پہلے عام انتخابات میں بہت ہی ہوا ۔تفصیل سے سب آگاہ ہیں کہ اسکے بعد سے آج تک کیا ہوتا رہا ۔۔ایک دن ایک دوست سے اسی گفتگو میں اس نے کہا کہ اگر تم یہ کہتے ہو پاکستان بنتے ہی اسلام خطرے میں آیا اور اب تک ایسا ہی ہے تو دوسرے لفظوں تم یہ کہتے ہو کہ اگر پاکستان نہ بنتا تو کم ازکم اسلام بیچارہ تو خطرے میں نہ آتا ۔۔۔ میں نے کہا سالے خود تو مرے گا اپن کو کیوں خالی پیلی مصیبت میں ڈال رہا ہے ۔۔۔۔ہیں۔ ؟؟؟
رنجیت سنگھ کیساتھ آپ کا مذہب نہیں ملتا ، جارج ، ایڈورڈ کے ساتھ آپ کی پھوپھی بیاہی ہوئی تھی؟ وکٹوریہ نانی لگتی تھی؟ الزبتھ آپ کی امی تھی ؟ ابھی اگلے روز پاک فوج کے جوان ولایتی فوجی کپڑے پہنے سکاٹش دھنوں کے سائے میں ملکہ کی فوٹو کے سامنے ڈنر کررہے تھے وہاں تو کسی نے اس قدر کراہت کا اظہار نہیں کیا۔ کیوں نہیں ؟ امریکی سفارتخانے کی کوئی تقریب ہو، برطانوی سفارتخانے کی کوئی تقریب ہو ٹائی کوٹ اور ہاتھ باندھ کر جو وہاں کھڑے ہوتے ہیں وہ کیا تمہارے ہم مذہب ہیں؟ ہیں جی؟ نہیں جی۔ مسئلہ اس قدر سادہ نہیں ہے۔ مسئلہ ہے سارا خوئے غلامی کا۔ غلام فطرت کا اور غلام ذہنیت کا۔
ہم جیسے لوگ کم از کم تین چار ہزار سال سے اس خطے کے باسی ہیں۔ اسلام چودہ سو سال پرانا ہے۔ میرے علاقے میں اسلام ایک ہزار سال پہلے آیا۔ یقیننا ہمارے کوئی اجداد ہندو وغیرہ تھے۔ ممکن ہیں ہزار سال پہلے اسلام قبول نہ کیا ہو ، تین سو سال پہلے کیا ہو ، پھر ممکن ہے گورونانک سے متاثر بھی ہوتے ہوں۔ اب کیا اس کو جھٹلانا شروع کردیں؟ نئی نئی روایتیں گھڑ لیں؟ پٹھان دوستوں سے معذرت ایک روایت انہوں نے اپنے ہاں بنا رکھی ہے کہ ان کا کوئی سربراہ نبی کریم کے وقت میں اسلام قبول کرآیا، ایسی کوئی روایت کسی حدیث کسی تاریخ میں موجود نہیں۔ مسلمان لشکروں کی آمد کیساتھ یہ لوگ رفتہ رفتہ پارسی اور بدھ مت سے مسلمان ہوئے ،اگرچہ برصغیر کی دیگر کئی اقوام سے پہلے۔
زمانہ طالبعلمی میں ایک جگہ پارٹ ٹائم نوکری کی۔ وہاں ہم تین لوگ کام کرتے تھے۔ ہندو پنجابی ، سکھ پنجابی اور ادارہ یعنی ادارہ ہذا۔ کتنا ہی عرصہ ہم حیرت کا اظہار کرتے رہتے کہ ہمارا بچپن دو مختلف ملکوں میں بلکہ دشمن ملکوں میں گزرا لیکن ہمارے کھلونے تک ایک جیسے تھے۔ ہمارے شادی بیاہ کے رسم رواج ایک سے ، اوزار ایک سے ، کتنے ہی تہوار ایک جیسے ، ہماری طرف کوئی محفل میلاد ختم ہوتا تو ادھر وہ بھی کوئی پاٹھ کروا رہے ہوتے۔ کتنی ہی دفعہ حیرت سے کہتے اچھا تہاڈے پاسے وی؟ بس مجھے دو تین مہینے مجھے یہ سمجھ نا آئی کہ یہ مجھے چپکے چپکے سے جو کٹوا کہتے ہیں اس کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ پھر ایک دن وہ بھی پتہ چل گیا۔
اب آتے ہیں کہ مسئلہ کہاں ہے۔ مسئلہ ہے غلامانہ فطرت کا۔ اسکی وجوہات کوئی دانشور بیان فرما لے �� ادارے کے پاس وجوہات کی بجائے مثالیں ہیں۔ انگریزوں سے ان کا کچھ نہیں ملتا۔ نا مذہب ، نا رواج ، نا زبان ، نا رنگت ، نا زمین کی وٹ سانجھی۔ لیکن کے پہناوے بھی پہنتے ہیں ، انکے زبان بھی بولتے ہیں اور ہرگز ان سے کراہت کا اظہار نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ غالب ہیں ، طاقتور ہیں اور بس۔ کچھ بعید نہیں کہ اگر سکھ چیلیانوالہ میں انگریز سے نہ ہارتے اور پنجاب پر قبضہ برقرار رکھتے تو آج پاک فوج ملکہ کی فوٹو کی بجائے رنجیت سنگھ کی فوٹو کے نیچے بیٹھ کر ڈنر کرتی اور سکاٹش دھنوں کی بیٹ کی بجائے ڈھول بج رہا ہوتا۔ آخری مثال بھی پکڑ لیں ، آپ لوگ بھی فوج سے متاثر اس لیے ہیں کہ آپ کی بھی فطرت وہی ہے۔ طاقتور اور غالب سے دبنے والی۔ ورنہ آپ انکی حرکتوں سے اس وقت نفرت کررہے ہوتے۔
کچھ چیزیں جھٹلائی نہیں جاسکتیں۔ رنجیت سنگھ کی حکومت یہاں کی تاریخ ہے۔ رنجیت سنگھ اچھا جنگجو اور اچھا ایڈمنسٹریٹر تھا۔ انگریز نے رنجیت سنگھ سے کہیں زیادہ مسلمان مارے تھے ، جی ہاں پاک فوج نے انگریز اور رنجیت سنگھ دونوں سے کہیں ��یادہ مسلمان مارے ہیں۔ لوٹ کا مقابلہ بھی انگریز اور پاک فوج کا ہوسکتا ہے۔ رنجیت سنگھ تو انکے سامنے بونا ہے۔ آپ کی غلامانہ فطرت ، غلام ذہنیت پر اگر گراں نہ گزرے تو جتنی گنجائش آپ اپنی نانی وکٹوریہ کے لیے پھوپھی الزبتھ کے لیے نکالتے ہیں اس سے تھوڑی سی کم ہمارے ہم زبانوں کے لیے نکال لیجیے۔
نفرت کرنی ئے تو پھر بھی میرٹ پر کیجیے۔ کسی اصول کی بنیاد پر کیجیے۔ ہر قابض ، ہر ظالم سے کیجیے۔ پھر رنجیت سنگھ سے بھی کیجیے انگریز سے بھی کیجیے اور پاک فوج سے بھی کیجیے۔
ایک دفعہ روسی مصنف انتون چیخوف سے پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک ناکام معاشرے سے کیا مراد ہے؟
انتون چیخوف نے جواب دیا:
ناکام معاشروں میں ہر دانشمند ذہن کے خلاف ہزار احمق ذہن اکٹھے ہوجاتے ہیں، اور ہر باشعور لفظ کے مقابلے میں ہزار جاہل الفاظ گھڑ لیے جاتے ہیں، اکثریت ہمیشہ بیوقوف لو��وں پر مشتمل ہوگی جو دماغ کی طاقت کی بجائے جسمانی طاقت کے ساتھ عقلمندوں پر ہمیشہ غالب رہے گی۔ ہر ��گہ معمولی مسائل کو شعوری باتوں سے اوپر اٹھا کر بحث و تمحیص کا موضوع بنا لیا جاتا ہوگا، غیر معمولی اور قابل لوگوں کو متنازعہ بناکر انتہائی معمولی اور نااہل لوگ مرکز میں براجمان ہوں گے، تو پھر جان لیں کہ آپ ایک نہایت ہی ناکام معاشرے کی بات کر رہے ہیں۔
منقول
عید قربان پر قربانی کے بدلے کسی غریب لڑکی کی شادی کروانے کا مشورہ دینے والا ��یک دوست فٹبال ورلڈ کپ کے میچ دیکھنے امریکا جا رہا ہے۔ اسے مشورہ دیا جتنا خرچہ کر کے جا رہے ہو اتنے پیسوں سے کم سے کم دس غریب لڑکیوں کی شادی بھی ہو سکتی ہے اور ان کے جہز کا انتظام بھی۔ میچ تو ٹی وی پہ بھی دیکھ سکتے ہیں۔
#ٹوٹ_بٹوٹ
کل رات کافی دیر اس ادھیڑ بن میں نیند نا آ سکی کہ آخر ایک سو تیس فٹ قد کی حوریں بنانے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے، آخرحکمت کیا ہے اسکے پیچھے-
بالآخر یہ سوچ کر سو گیا کہ بس جی اللہ کی مرضی۔۔۔پھر یہ بھی خیال ایا کہ سالے تیرا کیا لینا دینا حوروں سے، تجھے کیا فرق پڑتا ہے لمبی ہو، ناٹی ہو، موٹی ہو دبلی ہو۔۔کانی ہو یا بھینگی ہو۔۔تجھے کونسا جنت میں داخل ہونا ہے ۔۔بس پھر سکون آ گیا
جو شعر کسی کی سمجھ میں نہ آئے ، اُسے معرفت کا شعر کہتے ہیں۔
جس غزل کا کوئی سر پَیر نہ ہو ، وہ جدید غزل کہلاتی ہے۔
جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہوتے ، اُن کا سب سے لمبا تعارف کرایا جاتا ہے۔
اگر بڑے شاعر شعر چوری کریں تو ا��سے سرقہ نہیں توارد کہا جاتا ہے۔
کسی شاعر کے کلام پر سامعین جتنی زیادہ تالیاں بجاتے ہیں ، صاحبِ صدر دل میں اتنی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔
ادریسی نکات