ہمارے ملک کی معشیت اور انتظام خوشحال گھرانوں کے اوسط بچے کیوں چلا رہے ہیں؟ ہمارے آئن سٹائن کہان گم ہو رہے ہیں ؟۔
ذہانت کی بے قدری https://t.co/JIjxUk3y2v
بیشک ہر عروج کو زوال بھی ہے
جیلا فوڈ پوائنٹ پر تالا لگ گیا
جیلے کہ مطابق یہ تالا اس کے دل پر لگا ہے
جیلا فوڈ پوائنٹ پر ایک دور تھا جب لمبی لمبی قطاریں لگا کرتی تھیں لوگ ایک پلیٹ کے لیے آدھا آدھا گھنٹہ قطار میں لگتے تھے ذائقہ تھا برکت تھی کیونکہ جیلے کی توجہ محنت اور ذائقہ پر تھی دوسرا کھانا نسبتاً سستا تھا
پھر ٹک ٹاک وارد ہوئی
جیلا بھی سوشل میڈیا کی چکاچوند سے متاثر ہوا
بہت نام کمایا عارضی رش بھی بہت بڑھا اور بس پھر ویوز اور مشہور ہونے کی گیم شروع ہوئی کھانے سے ذائقہ اور کام سے برکت اٹھی ۔
پھر جیلا برانڈ ہے جیلا ایک ہی ہے جیلے کا کوئی جوڑ نہیں کہنے والا جیلا ہاتھ جوڑتا نظر آیا کہ ایک بار واپس آئیں گلے شکوے دور کروں گا ۔
مگر قدرت جہاں سے برکت اٹھا لے وہاں اتنی آسانی سے لوٹایا نہیں کرتی بلاآخر پندرہ سے اٹھارہ سال کا یہ سفر تمام ہوا اور جیلے کو اپنا خواب جیلا فوڈ پوائنٹ بند کرنا پڑا ۔
کام پر فوکس کریں ورنہ جیلے سے سبق سیکھیں وہی ٹک ٹاکر جو ویوز کے لیے جیلا نہیں پھڑیا جا ریا جیسی وڈیوز ڈالتے تھے ویوز آنے بند ہوئے تو جیلے پر ہی بے ذائقہ ہونے اور ہارٹ اٹیک کا سامان ہونے جیسی وڈیوز ڈالنے لگے تھے جس سے عوام مزید متنفر ہوئی ۔۔۔
محنت کریں مگر یاد رکھیں محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں بڑے بول کوئی بھی راستہ نہیں ۔۔۔
جیلا کھانے کی دنیا کا ایک منفرد نام تھا جو تمام ہوا ۔۔۔
کوئ غریب آدمی شیعہ کے جنازے میں چلا جائے تو مولوی کہتے تمہارا نکاح ٹوٹ گیا تم کافر ہوگے دوبارہ کلمہ پڑھو اور نکاح کرو اب وزیراعظم جا اور حکومتی ارکان آیت اللہ العظمی خامنہ کے جنازے میں جا رہے کیا سرکاری مولوی اب بھی یہی فتویٰ دیں گے یا غریبوں کے لیے اور فتوی اور امیروں کے لیے اور ہے
ایک سردار جی دلّی کے کسی مقام پر ہمیشہ دو گلاس سامنے رکھ کر پیتے تھے ۔
ایک چسکی اس میں سے لی ایک اس میں سے ۔
پوچھا ، سردار جی دو گلاس کیوں ؟ بولے :
" گل اے پئی ساڈا اک یار سی اوتھے لہور دے وچ ، تے نال پیندے سن ۔ میں اتھے آ گیاں تےاو اتھے رہ گیا ، مام دین ۔
ہون میں اک گلاس اپنارکھناں تے اک اس دا ۔
او وی پیندا تے میں وی پیناں ۔ "
لوگ بڑے متاثر ہوئے کہ دوستی ہو تو ایسی ہو ۔ پھر ایک دن دیکھا کہ سردار جی ایک ہی گلاس رکھ کے پی رہے ہیں ۔
پوچھا سردار آج ایک کیوں ؟ بولے "" گل اے ، اسی تا چھڈ دتی ۔ ہون مام دین پیندا اے ۔ "
سہیل ظفر چٹھہ صاحب اور سی سی ڈی پولیس کا طاقتور کے آگے سجدہ
۔نائب وزیرِاعظم کے رشتہ دار پر الزام ہو تو CCD کی وردی بھی نرم پڑ جاتی ہے، قانون کو بھی بخار چڑھ جاتا ہے، اور انصاف فائلوں میں منہ چھپا لیتا ہے۔
لیکن اگر کوئی عام شہری ہو تو یہی نظام ٹریگر پر انگلی رکھ کر “قانون کی عملداری” یاد دلانے لگتا ہے۔
مریم نواز صاحبہ، ایک ہی پنجاب میں دو قانون کب تک چلائیں گی؟
ایک قانون طاقتوروں کے لیے، دوسرا کمزوروں کے لیے؟
اگر غیرت ہوتی تو CCD کمزوروں پر دھاڑنے کے بجائے بااثر لوگوں کے دروازے پر بھی اسی زور سے دستک دیتی۔
یہ انصاف نہیں، طاقت کے آگے سجدہ اور کمزور پر دھونس ہے۔
نائب وزیرِاعظم کے رشتہ دار پر بات آئے تو CCD کی بہادری کو بریک لگ جاتی ہے،
عام آدمی ہو تو یہی قانون بندوق تان کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
مریم نواز کا پنجاب نہیں،
یہ “VVIP انصاف” اور “عام آدمی انکاؤنٹر” والا پنجاب ہے۔
امام احمد بن حنبل سے خلیفہ نے مدرسوں کے بارے میں رائے مانگی تو انہوں نے فرمایا ہر طالبعلم کے لیئے لازم ہو کہ وہ مدرسے میں دینی تعلیم کے ساتھ کوئی ہنر بھی سیکھے ورنہ اسے داخلہ مت دیں، اس نے وجہ پوچھی تو فرمایا اگر ہنر سیکھا تو ہنر بیچیں گے نہیں تو یہ بدبخت دین کو بیچیں گے۔
Birthplace of Major World Religions:
🇵🇰 Sikhism - Pakistan
🇵🇰 Jainism - Pakistan
🇵🇰 Buddhism - Pakistan
🇬🇧 Hinduism - British India
🇸🇦 Islam - Saudi Arabia
🇵🇸 Christianity & Judaism - Palestine
🇨🇳 Confucianism - China
🇮🇷 Zoroastrianism - Iran
خلیفہ ہارون الرشید کا دل ایک لونڈی پر آگیا، لونڈی بے حد خوبصورت تھی مگر مصیبت یہ آن پڑی کہ وہ لونڈی ہارون الرشید کے باپ کے تصرف میں بھی رہ چکی تھی سو شریعت کی رو سے اب خلیفہ کے لئے وہ حرام تھی۔
ہارون الرشید اس بات پر بے حد تڑپا اور سوچا کچھ تدبیر کی جائے، اپنے فقیہہ سے اُس نے مشورہ لیا کہ کوئی حل نکالو، اُس نے کہا کہ یہ بات آپ کو کس نے بتائی کی وہ لونڈی آپ کے والد کی خدمت کر چکی ہے، ہارون الرشید نے کہا کہ خود اُس لونڈی نے یہ بتایا ہے، اس پر فقیہہ نے کہا کہ شریعت میں لونڈی کی گواہی قابل قبول نہیں ہوتی سو آپ بے فکر ہو کر اسے اپنے تصرف میں لائیں، جیسے جی چاہے!
تاریخ الخلفاء از علامہ جلال الدین سیوطی
یہ جناب سنیل منج کا گاڑیوں کا شوروم ہے
محترم کہتے ہیں کہ میری ورکشاپ سے 20 ہزار تک کی کار Maintenance کرواؤ اور بدلے میں میرا سائن کیا ہوا فٹبال ملے گا۔
ایڈا تو رونالڈو، میسی
تبلیغیں کر کرکے افریقہ کے کالوں کو مذہب تبدیل کروانے والوں کے بچوں کی جب شادیاں کا ٹائم آتا ہے تو پھر اپنی طرف کو بھاگتے ہیں۔۔
بھئی جنکا مذہب تبدیل کرواتے ہو انکا گھر بسانے سے کیوں بھاگتے ہو۔؟
@mohsin__zaid سارا گھر خوش تھا اور خاندان والوں کا حسد کے مارے برا حال تھا کیونکہ بیٹی پی ایچ ڈی کر کے امریکا سے ا رہی تھی اور وہیں ایڈمنڈ کو مسلمان کر کے شادی بھی کر لی تھی
گورے کا داماد ہونا تو اور بھی قابل عزت تھا
جب جہاز سے مسافر اترنا شروع ہوئے
بیٹی کے پیچھے کالا بھجنگ ایڈمنڈ 😁
ایک زمانے میں جب سنیما گھروں میں کسی فلم میں خواتین نہ آئ ہوں تو ٹوٹے چلایا کرتے تھے ۔۔اسی دور میں دیوبندی مسلک کی خوشی کیلئے امام کعبہ کو بلایا جاتا تھا اور آن سے عید گاہ اور کھلے میدانوں میں نماز جمعہ کی امامت کرائی جاتی تھی ۔۔ پھر بریلوی مسلک کی خوشی کیلئے مسجد نبوی کے امام اسی مقصد کے لیے بلوائے جاتے تھے ۔۔بعد میں کرکٹ میچ ہونے لگے ۔۔۔ بس دھیان مسائل سے ہٹانا ہوتا ہے
دور غلامی کی بات ہے پنجاب کے درجنوں پیروں نے اکٹھ کیا اور وقت کے ایک بڑے ولی اللہ کے پاس پہنچے اور کہا حضور یہ کیا؟ اب ہم پر فرنگی راج کریں گے؟
اس ولی اللہ نے روحانی دنیا میں پرویش کیا اور شہنشاہ جارج کے سر سے تاج اتار کر پھینک دیا غرض سات بار تاج اتار کر پھینکا اور سات بار جارج کے سرپر کوئی طاقت تاج دوبارہ رکھ دیتی
ولی اللہ بہت پریشان ہوئے اور دہل گئے روحانی دنیا سے واپس مادی دنیا میں پرکٹ ہوئے اور پیروں سے کہا
میں نے سات مرتبہ جارج کے سر سے تاج اتار کر پھینکا اور ساتوں مرتبہ بارگاہ رسالت کے حکم سے جارج کے سر پر دوبارہ کسی نے تاج رکھ دیا اس لیے انگریز راج پر تنقید سے بچو یہ راج بارگاہ رسالت کے حکم سے انکو ملا ہے
یہ واقعہ ڈیپ اسٹیٹ صوفی ازم کو جاننے والے بہت سے لوگ جانتے ہیں اور دور غلامی میں یہ واقعہ اکثر پیروں کی طرف سے مریدین کو سنا کر انگریز راج کو لیجیٹی مائز کیا جاتا تھا میں خود یہ واقعہ کئی بابوں کے منہ سے سن چکا ہوں اس سے ایک ملتا جُلتا واقعہ دیوبندی اکابرین نے بھی گھڑا کے انگریز کے خلاف کیسے لڑیں خضر علیہ السّلام تو انگریز کے لشکر کی طرف سے لڑتے ہیں
لیکن کیا آپ کو پتا ہے یہ واقعہ کیوں گھڑا گیا؟
کیونکہ بیشتر گدّیاں انگریز سرکار کے پے رول پر تھیں اور لاکھوں ایکڑ جاگیریں انگریز ان گدّیوں کو الاٹ کر چکا تھا اور انہیں اُس وقت لاکھوں روپوں میں وظیفے دیتا تھا اور یہ پیر انگریز کے لیے خشکیوں اور صحراؤں میں انگریز کے دشمنوں سے لڑتے تھے اور یہ جاگیریں وہ بنیادی وجہ تھیں جس وجہ سے پیروں نے یہ من گھڑت واقعہ گھڑا تاکہ مذہبی عقیدت کی پھکّی سے جاہل مریدوں کو خاموش کروا سکیں اور انگریز راج کو اللہ کا حکم ثابت کردیں تاکہ انگریز کے دشمنوں کو جب ہم ماریں تو جاہل مرید ہمیں ایجنٹ نہ کہیں بلکہ انگریز کے دشمنوں کو اللہ کا دشمن سمجھیں
آپ نے اوریا مقبول جان کا حضورﷺ کی بارگاہ سے باجوہ صاحب کی اپوانٹمنٹ والا خواب تو سنا ہوگا؟
آپ نے جناح صاحب کو حضورﷺ کی بارگاہ سے حکم پر پاکستان بنانے کے لیے انگلینڈ سے واپس آنے کا واقعہ بھی سنا ہوگا
آپ نے نواب آف قلات کے حضورﷺ کی بارگاہ سے حکم پر قلات کو پاکستان میں شامل کرنے کا واقعہ بھی سنا ہوگا؟
پھر آپ نے طارق جمیل کے منہ سے جنید جمشید کے حضورﷺ کی بارگاہ میں جانے اور حضورﷺ کی طرف سے طارق جمیل کے دوست کو یہ پیغام پہنچانے کا واقعہ بھی طارق جمیل سے سنا ہوگا کہ طارق جمیل سے کہنا تمہارا دوست ہمارے پاس پہنچ چکا ہے
پھر آپ نے داتا صاحب کا علامہ اقبال کے گھر جانے اور خواجہ معین الدین چشتی کی طرف سے لسی فروش بن کر علامہ اقبال اور داتا علی ہجویری کو لسّی گھوٹ کر پیش کرنے کا واقعہ بھی پڑھا ہوگا؟
حیران ہوئے؟ اب آپ سوچیں گے یہ ماڈرن پریکٹس ہے ؟ نہیں نہیں آپ نے یہ پچھلی ایک صدی میں ہوئی بشارتوں کے واقعے تو سنے ہیں لیکن کیا آپ نے یہ واقعات سنے ہیں؟
محمود غزنوی سے جب سومنات فتح نہیں ہورہا تھا تو ایک بزرگ نے اپنا کرتا انہیں دیا کہ اس کو مصلّیٰ بنا کر جو دعا کرو گے پوری ہوگی لہٰذا محمود نے گجرات میں جا کر کرتا بچھا کر سومنات فتح کرنے کی دعا کی اور وہ پوری ہوئی فتح کے بعد جب غزنوی نے بزرگ کو کُرتا واپس کیا تو بُزرگ نے پوچھا کیا دعا کی تھی؟ غزنوی نے کہا سومنات فتح کرنے کی۔ بُزرگ رو پڑے اور بولے تُو احمق صرف ایک مندر فتح کرنے کی دعا مانگ آیا خدا کی قسم اگر تُم اس کُرتے پر سجدہ کرکے خدا سے پورے ہند کے مسلمان ہونے کی دعا مانگتے تو وہ بھی پوری ہوجاتی 😂
شہاب الدین غوری کو پرتھوی راج چوہان نے کئی مرتبہ شکست دی تھی آخری شکست کے بعد حضرت معین الدین چشتی، شہاب الدین کے خواب میں آئے اور کہا ہم نے اجمیر تمہیں دیا شہاب نے فتح کے بعد جب اجمیر میں خواجہ اجمیری کو دیکھا تو حیران ہوگئے کہ یہ تو وہی بزرگ ہیں جنہوں نے مجھے فتح کی بشارت دی تھی 😂
اورنگزیب نے اپنے سگے بھائی اور شاہجہاں کے جانشین دارا شکوہ قادری کو دردناک موت دینے کے بعد دارا شکوہ کے مرشد سرمد کی گردن اڑائی تو سرمد کے کٹے دھڑ نے اپنی گردن اٹھائی اور بارگاہ رسالت میں جانے کا سوچا اتنے میں سرمد کے مرشد وہاں پہنچے اور کہا سرمد کہاں جا رہے ہو ؟ سرمد نے کہا اورنگزیب کی شکایت بارگاہ رسالت ص میں کرنے جا رہا ہوں مرشد نے کہا سرمد نہ جانا کیونکہ اورنگزیب پہلے ہی وہاں پہنچ چکا ہے چناچہ سرمد کا دھڑ ایک طرف سر ایک طرف گرا اور وہ وصال فرما گئے۔
یہاں ان تمام واقعات کا ذکر کروں تو دفتر بھر جائے گا
لبِّ لباب یہ کہ ہندوستانی/ مقامی مسلمانوں پر حکومت کرنے اور انکی زبانیں بند کرنے کا یہ آزمودہ نسخہ صدیوں سے استعمال ہورہا ہے اور آئندہ صدیوں تک استعمال ہوتا رہے گا اور موقع پرست ان بشارتوں کا سہارا لے کر عوام کے مونھ بند کرواتے رہیں گے۔۔۔۔۔
✍️ رانا علی