دہشت گردی کی رٹ لگا کر گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے والی اس جفا کار فوج کا مقصد اب سامنے آ چکا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ خیبر پختونخوا ریئر ارتھ منرلز کے ذخائر سے بھرا ہوا ہے۔ مائنز بھی ہیں۔ عاصم منیر نے ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس جا کر وہ ذخائر دکھائے تھے اور دنیا کے سامنے اپنا CV پیش کیا تھا۔ پوری دنیا نے دیکھا تھا۔
عمران خان نے اس کو اجازت نہیں دی تھی! اور اس لیے نہیں دی تھی کیونکہ اس کی تاب کاری ہزاروں سال تک پھیلے گی۔ ہزاروں سال تک پشتون کینسر جیسی موذی بیماریوں سے گزرے گا!
اب جب امریکی سفارت خانے کی ناظمُ الامور اپنے عزائم لے کر سامنے آ گئی ہیں اور 7 کھرب ڈالر کا تخمینہ بھی لگایا ہوا ہے، تو پیچھے کیا رہ گیا ہے؟ یہ چین ہے جو وہاں تمام SOPs کی پاسداری کرتے ہوئے کام کر رہا ہے۔ ان کو وہاں سے نکالنے اور امریکہ کو مسلط کرنے، گورنر راج لگانے اور پاکستان کی تاریخ کی سب سے پاپولر حکومت کو اقتدار سے نکالنے کا عمل اسی لیے کیا گیا ہے۔ یہ اپنے گھناؤنے عزائم پورے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
میرے پختونوں! اس فوج نے آپ کو امریکہ کو بیچنے کے لیے دنیا کے سامنے دہشت گرد بنا کر پیش کیا ہے۔ عمران خان واقعی ان کے اور آپ کے بیچ آخری دیوار ہے۔ ان کے اس عمل کا نقصان آپ کی نسلوں کو ہوگا۔
یہ ہر ایک کے تن سے کپڑے اتارنا چاہتی ہے۔ وہ سب کچھ بیچ دے گی۔ آپ مریں یا آپ کی نسلیں تباہ ہوں، ان کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ غرض ہے تو ڈالروں سے ہے۔
یہ جو کچھ ہو رہا ہے، اگلی باری پنجاب کی ہے اور اس کے بعد سندھ کی۔ یہ صوبے کے صوبے امریکہ کو پیش کر رہے ہیں۔ بلوچستان تو یہ پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔ آزاد کشمیر کے پاس بھی ریئر ارتھ منرلز ہیں، اسی لیے وہ بھی ان کی تاب کاری سے نہیں بچے گا۔ افغانستان میں بھی ان کے یہی عزائم تھے، مگر انہوں نے انہیں پورا نہیں ہونے دیا۔
Either you surrender or you fight for your freedom till death.
What will we do? My belief is La Ilaha Illallah there is no God but one, and we will fight!
پاکستان کے جتنے دشمن ہیں، خصوصاً یہ جرنیلی مافیا کان کھول کر سن لو!
میرے مرنے کی خبریں چلانے سے کام نہیں بنے گا! میں تمہیں مار کے مروں گا۔ یہ مہلت میں نے اللّٰہ تعالیٰ سے مانگی ہوئی ہے۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً پنجاب کے لوگوں، اگر ہم نہ نکلے تو سہیل آفریدی کی ساری محنت اور یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔
میں کل ملتان سے لاہور جاؤں گا اور وہاں سے اسلام آباد۔
میں اپنے بوڑھے جسم کے ساتھ جتنی وفا جمہوریت اور اس ملک کے ساتھ کر سکتا ہوں، میں کروں گا۔ اگر میرا بازو کمزور ہے تو مجھے یقین ہے کہ میرے نوجوان میرا بازو بنیں گے۔
یہ افضل جہاد ہے۔ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ اپنی آخری سانس تک لڑوں گا۔
تسلی رکھیں! یہ فوجی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔
تسلی رکھیں! عمران خان جلد ہمارے بیچ ہوگا۔
عاصم منیر، بات سیدھی ہے، سرنڈر کرنا پڑے گا، ہر حال میں۔
سرنڈر کیسا؟ جیسے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں کیا تھا۔
تم کہتے ہو 9 مئی سے زیادہ خطرناک انجام ہوگا۔ عاصم منیر، تمہارے پلے کیا ہے؟ جو فیصلہ ایک گھنٹے میں ہو سکتا ہے، تمہاری کور کمانڈرز کی میٹنگ پندرہ گھنٹے سے چل رہی ہے۔
یہ عمران خان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں گے۔
مذاکرات رات بھی ڈیڈلاک پر پہنچ گئے، یہ اپنی جان نہیں بچا سکے۔
میرا ستر سال کا تجربہ ہے؛ جو کچھ کہہ رہا ہوں، ایسے ہی ہوگا اور عنقریب ہوگا!
قوم خود اگر نہیں دیکھ سکتی، میں قوم کی آنکھوں سے سب دیکھ سکتا ہوں۔
عاصم منیر، نوکری چھوڑنی پڑے گی؛ سرنڈر کرنا پڑے گا۔
دوبارہ الیکشن ہوگا، جس میں فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔
پاکستان کے ہر مسئلے کی وجہ تم ہو، اور اب!
تمہارا وقت قریب ہے، اس سے پہلے سنبھل جاؤ۔
اس سے پہلے کہ تمہارے پیروں کے نیچے زمین گرم تانبہ ہو جائے، توبہ کر لو۔
ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، قوم کے سامنے سرنڈر کر دو۔
گورنر راج لگانے کی تمہاری اوقات نہیں، نہ تم ووٹ آف نو کانفیڈنس لا سکتے ہو۔ قوم تمہیں پہچانتی ہے، تمہاری حیثیت جانتی ہے۔ ڈر کے مارے جتنا مرضی زور لگا لو، پاکستان کا ایک ہی کانفیڈنس ہے، اور اُس کا نام عمران خان ہے!
عاصم منیر، تمہارے پاس ایک ہی راستہ ہے۔ براہِ راست مارشل لاء لگاؤ، اور وہ بھی تم 10 دن سے زیادہ نہیں چلا سکو گے۔ تمہارے اپنے تمہارے ساتھ وہ کرے گی جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہوگا۔
عاصم منیر کی گردن پھنس چکی ہے۔ دھرنے کو مؤخر کرنے کی اسٹریٹجی نے عاصم منیر کی گردن کو پھنسا لیا ہے۔ اس کے اپنے تیار کردہ ہاتھیوں نے اس کے لشکر کو کچل دیا ہے۔
جو ہتھیار منگوائے گئے ہیں، نیٹ کیچر وغیرہ، وہ اسے پہلے صرف اسرائیل نے فلسطینیوں پر استعمال کرتے ہوئے دیکھے ہیں۔ تم خود کو CDF کہتے ہو اور خواہش تمہاری IDF بننے کی ہے۔
روزانہ فورسز میرے گھر کو گرانے اور چھاپہ مارنے آ جاتی ہیں، بزدلو! مجھے گرفتار کرنا ہے تو کرو، میری نیند کیوں خراب کرتے ہو!
آپ کا انجام ابراہا اور ٹیرکوٹا فوج کا ہوگا۔ پورا ملک، پختون، سندھی، بلوچ اور پنجابی، تمہارے خلاف کھڑا ہے۔
پھر مشورہ ہے اڈیالہ جاؤ! عمران خان کے آگے سرینڈر کرو!
عاصم منیر کے پاس دو راستے ہیں یا سرنڈر کرے یا مارشل لا لگائے۔
اگر مارشل لا بھی لگا تو یہ ایک کمزور ترین مارشل لا ہوگا۔
عاصم منیر صاحب! میلہ لُٹنے والا ہے۔ یہی کنٹینر آپ کے گلے پڑیں گے۔
میری ساری عمر تحریکوں میں گزری ہے۔ یہ تحریک تو آپ نہیں روک سکتے۔ مشورہ ہے بندوقیں پھینکیں، اور مشورہ اس لیے دے رہا ہوں کیونکہ عاصم منیر کے دیرینہ ماموں بابر شاہ میرے ورکر تھے۔ اب تو وہ اور وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔
ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف کے والد بشیر الدین محمود ہمیشہ اسلام آباد میں میرے گھر آ جایا کرتے تھے۔ اگر میں گھر پر موجود نہ ہوتا تو میرے نوکر گھر پر ہوتے اور وہ آ کر ان کے پاس بیٹھے رہتے۔
اس لیے میرا مشورہ خلوصِ دل سے ہے۔
کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی
مضبوط کشتیوں کو کنارہ نہیں ملا ):
علیمہ خانم، عظمیٰ خانم اور نورین نیازی، تینوں نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ آپ کی ہمت اور جرات کو سلام۔
تحریکِ انصاف کے کارکنوں، سہیل آفریدی، آپ بھی آپ کو یہ جنگ جیتنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اتنا ڈرا ہوا کسی ڈکٹیٹر کو نہیں دیکھا۔ یہ بیچارے کنٹینر جمع کرتے رہیں گے اور احتجاج میں یہی کنٹینر ان کی شکست کا باعث ہونگے۔
میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
The relations between the United Arab Emirates and Pakistan continue to grow stronger every day, built on solid foundations of mutual trust, respect, and sincere cooperation.
The economic partnership is advancing steadily, with joint investments exceeding $10 billion across energy, infrastructure, and logistics sectors. Dubai World Ports is also expanding its operations in Karachi, enhancing Pakistan’s role as a key regional trade hub.
A long-term strategic partnership full of shared opportunities and aspirations for a more prosperous future. 🇦🇪🤝🇵🇰
Proud of the UAE…
Guided by the leadership’s vision,
We move forward—overcoming every challenge along the way.
Proud of the UAE…
Of forces that do not rest,
standing guard, protecting the nation and its skies.
Proud of the UAE…
Of people bound by loyalty,
where devotion is reflected in every act.
We raise our flag high,
Long live our security… and long live our flag. 🇦🇪
#ProudOfUAE
نرفع علم الإمارات شامخاً فوق بيوتنا ومؤسساتنا، رمزاً للوحدة والقوة والتلاحم.
لقد أثبتت دولتنا في كل الظروف أنها أكثر اتحاداً والتفافاً بقيادتها الرشيدة، مواطنين ومقيمين، صفاً واحداً تحت راية واحدة.
علمنا عنوان فخرنا واعتزازنا، وراية عزنا التي نجدد لها العهد بالوفاء.
ندعو الجميع إلى رفع العلم عالياً، تعبيراً عن محبتنا لوطننا وولائنا لقيادتنا، وتجسيداً لوحدة شعب الإمارات.
حفظ الله الإمارات وشعبها، وأدام عزها ورايتها خفاقة
Spreading Love and Unity: Interview with GEO News & Dunya News 🎤🇦🇪🇵🇰
I was honored to share my thoughts with Pakistan’s top NEWS channels @geonews_urdu, @DunyaNews and many others emphasizing the strong bond between Pakistan and the UAE 🇵🇰🇦🇪. As I said, "Pakistan is with UAE, and UAE is with Pakistan" - a testament to the unwavering friendship and cooperation between our nations.
I highlighted the importance of unity and collaboration, quoting the wise words of His Highness Sheikh Mohammed bin Rashid Al Maktoum, "The UAE and Pakistan are like two brothers, standing together in prosperity and adversity."
My message is clear: let's continue to nurture the spirit of love, respect, and cooperation between our communities. The Pakistani community in the UAE is a shining example of this, and I'm proud to be a part of it.
#UAE #Pakistan #Unity #Leadership #GEONews #DunyaNews #Love #Respect #Cooperation