تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبر پختونخواہ terrorism نہیں tourism کے لیے جانے جاتے تھے۔ رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخواہ پر مسلط کیا گیا۔ جب ۲۰۲۲ کی گرمیوں میں ہم نے آواز اٹھائ تو آپ نے ہمیں جھوٹا کہا لیکن آج اسی دہشتگردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جارہا ہے-
اس دو ٹکے کے بے غیرت کی کیا مجال کہ کروڑوں عوام کو تڑیاں دے، یہ GHQ کی زبان بول رہا ہے، صیہونی ایجنڈے پر لائے گئے عاصم منیر اور اس کے جرنیلوں نے اپنے آقاؤں کے حکم پر ملک توڑنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے اور سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان، تحریکِ انصاف اور پشتون ہیں۔
پاکستان کا کوئی اور وزیر اعلی ، وزیر اعظم ، صدر ، چیف سیکرٹری ، چیف جسٹس یا کوئی اور اہم شخص ، اس طرح بغیر سیکورٹی عوام میں گھل مل سکتا ہے اور وہ بھی اس صوبے میں جہاں دہشت گردی عروج پر ہے ، سوائے اس وزیر اعلی سہیل آفریدی کے
جو دلوں کو فتح کرلے وہئں فاتح زمانہ
اب عوام کے فیصلے ڈرائینگ روم میں نہیں سڑکوں پر ہوں گے۔
اب فیصلے چند اقتدار پہ بیٹھے حکمران نہیں، عوام خود کرے گی۔
یہ ہیں قوم کی بیداری کے مناظر۔
حقیقی آزادی، عمران خان کی رہائی کے لیے نکلنے والے قافلوں کے مناظر۔
#خان_کی_سالگرہ_مزاحمت_کے_نام
وزیراعلٰی سہیل آفریدی 🚨
اگر آپ چاہتے ہیں کہ عمران خان جیل سے باہر آئیں تو سڑکوں پر نکلیں، پورے پاکستان کی زمہ داری ہیں کہ وہ سڑکوں پر نکلیں
صوابی میں 20 لاکھ سے زیادہ لوگ ہوں گے
انصاف یوتھ ونگ بلوچستان کے قافلے کو ژوب کے مقام پر روک دیا گیا نوجوانوں کی مزاحمت کے بعد راستہ کھولوا دیا گیا۔۔تمام رکاوٹیں ہٹا کرمنزل پر پہنچ جائیں گے
#سر_بکف_میدان_میں#خان_کی_بہنیں_فوری_رہا_کرو