اسلام آباد کی 60 فیصد واٹر پائپ لائنیں لیک کرتی ہیں اسلام آباد کو این ایف سی سے ایک روپیہ نہیں ملتا اسلام آباد اور کراچی کے مسائل میں کوئی زیادہ فرق نہیں اسلام آباد کو چلانے والوں کا اسلام آباد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس لئے اسلام آباد کی ایک منتخب اسمبلی ہونی چاہیئے جو اسے چلائے
سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کی کال ضرور دی تھی لیکن اب وہ عمران خان کے نالج میں آ چکی ہے اگر حکومت اس کال کو واپس کرانا چاہتی ہے تو اسے عمران خان سے بات کرنی ہو گی
عدالت نے واضح ہدایات دے دی ہیں۔ عمل درآمد ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔۔۔۔
اب سوال صرف یہ ہے: عدالتی احکامات پر عمل کب ہوگا؟
صرف فیصلہ دینا کافی نہیں، اس پر عملدرآمد یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔۔۔۔
اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ شہبازشریف حکومت سفارتی محاذ پر بہت کامیابیاں حاصل کر رہی ہے لیکن بطور وزیراعظم وہ پانچ بجٹ پیشُ کر چکے ہیں آج بھی ملک کے کئی علاقوں میں 18سے 24گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا مہنگائی بڑھ رہی ہے آئیے انہیں کچھ پرانے وعدے یاد کرائیں