اس بہن کی پوسٹ ہم نے فروری 2025 کو لگائی تھی
دنیا بھر میں پوسٹ وائرل ہوئی تھی ہر پڑھنے والا پڑھ کر افسردہ ہوا تھا۔
چار فیملیز نے رابطے بھی کئے تھے جنکی بیٹیاں گم تھیں چہرے میچ ہورہے تھے۔ چاروں کے ساتھ ڈی این اے ٹیسٹ کئے کوئی میچ نہیں ہوا تھا۔
یہ کیس دل میں بہت بےچینی کا باعث تھا کہ آخر ایسے کیسے ہوسکتا ہے کہ بچی کی تصویر بھی گمشدگی کے روز والی موجود ہو اور خاندان نا ملے۔
ہم نے رواں ہفتے اللہ کا نام لیکر دوبارہ پوسٹ لگائی۔
اب جاکر الحمدللہ ایک فیملی نے رابطہ کیا ہے۔
ٹینکر چلانے والا بھائی،بجلی کا کام کرنے والا بھائی،گھر سے کچھ فاصلے پر سپیوں کی فیکٹری،گھر کے ساتھ قبرستان ، اور جس علاقے میں لوگوں کو لاوارث ملی تھی اسی علاقے میں اپنے چچا کے ہاں والدہ کے ساتھ آئی تھی۔ پولیس کو رپورٹ لکھی تھی وہ موجود ہے جسمیں مذکورہ علاقہ مینشن ہے۔
بہنوں کے ساتھ ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں میچ ہیں۔
اس کے گم ہونے کے بعد اس خاندان پر کیا کیا گزری وہ فی الحال بیان کرنے کے قابل نہیں ہے۔
ان شاءاللہ ہمارا دل بہت پرامید ہے کہ یہی انکا گھر ہے۔
گزشتہ سال بچی کا ڈی این اے ٹیسٹ ہوچکا تھا ابھی ان شاءاللہ صرف ماں کا ڈی این اے ٹیسٹ ہم کریں گے۔آج سیمپل وصولی کا عمل ہوگا ان شاءاللہ 14 کاروباری ایام کے بعد جرمنی سے رپورٹ موصول ہوجائےگی۔
آپ تمام دوستوں سے دعاؤں کی درخواست ہے ان شاءاللہ یہ کیس کامیاب ہوگا۔
جن جن چاہنے والوں نے دعائیں دیں،شئیر کیا،کمنٹس کئے،لوگوں تک پہنچایا،دور دراز شہروں اور ملکوں سے رابطے کرکے اس کیس کی اپڈیٹ وقتا فوقتا لیتے رہے ان سب کا بہت زیادہ شکریہ۔ ان شاءاللہ آپ سب کو یہ خوشخبری بہت جلد ملنے والی ہے۔
اللہ کبھی دعائیں رائیگاں نہیں کرتا
7 july 2026
#waliullahmaroof
The terrorists who attacked in Ziarat today must be pursued to their safe havens in Afghanistan. Their recruitment grounds, sanctuaries, training camps, rest and recuperation facilities, staging areas, facilitators, supporters, suppliers & financiers; should all be hit hard & now
Pakistan will respond in kind. Rest assured. Will wait for the same argument from your side “Afghanistan ending leveraged and growing challenges in Pakistan.…Apparently Afghanistan’s proxy campaign in Pakistan has failed…”
Pakistan ending leveraged and growing challenges in Afghanistan.
Apparently Pakistan’s bombing campaign in Afghanistan has failed to achieve its objectives. It has neither weakened the Taliban’s relations with India nor stopped TTP expansion and attacks .
Meanwhile, Taliban Minister for Livestock and Agriculture, Mawlawi Attaullah khan Omari got warm reception in Dehli .
At the same time, the Pakistan bombings have not halted attacks by the TTP. Instead, the TTP appears to be expanding its operations, reportedly opening a new front in Balochistan.
https://t.co/o885Z6UOgH
Many in the world will find it strange but health care is free in Pakistan!
In all Tehsils, Districts there are government hospitals offering free health care to people.
There maybe capacity limitations but with very small waiting times, these hospitals provide free healthcare.
سٹیٹ بینک آف پاکستان ریگولیٹر کے طور پر مکمل فیل ہو چُکا ہے۔ اسی لئے یے بنک پاکستانیوں کو لوٹ رہے ہیں۔ سٹیٹ بینک اور اُس کے ایگزیکٹوز اُس لُوٹ مار کے سہولت کار اور در اصل میں غریب دُشمن آئی ایم ایف کے نوکر ہیں۔
لیکن حکومت لسی پی کر سو رہی ہے۔
اپنا گھر اسکیم اور بینکوں کی کاہلی
ایک شریف آدمی نے بینک میں قرضے کی درخواست دی۔ بینک افسر نے کاغذات دیکھے اور بولا، “آپ کا کریڈٹ اسکور بہت کم ہے، ہم آپ کو قرضہ نہیں دے سکتے۔”
آدمی نے کہا، “خدارا، کوئی طریقہ نکالیے۔”
بینک افسر نے سرگوشی کی، “میری ایک آنکھ شیشے کی ہے، اگر تم بتا دو کہ کون سی ہے تو میں تمہارا قرضہ منظور کر دوں گا۔”
آدمی نے افسر کی آنکھوں میں دیکھا اور بولا، “آپ کی بائیں آنکھ اصلی ہے۔”
بینک والا دنگ رہ گیا۔ “کمال ہے! تمہیں کیسے پتا چلا؟”
آدمی نے اطمینان سے جواب دیا، “کیونکہ صرف اسی آنکھ میں انسانی ہمدردی کی کچھ چمک نظر آ رہی تھی۔”
بچپن میں جب ہم اس قسم کے لطیفے پڑھتے تھے تو انہیں مبالغہ آرائی پر محمول کرتے تھے، لیکن اب بینکوں کا چلن دیکھ کر ان پر یقین آ گیا ہے۔ بظاہر پاکستان کا بینکنگ نظام بہت عمدہ ہے، آج تک یہاں کوئی بینک نہیں ڈوبا، ڈیجیٹل بینکنگ میں بھی ہم دنیا سے پیچھے نہیں، لچھے دار گفتگو کوئی ہم سے سیکھے۔
پاکستانی بینک یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر اپنا اصل کام نہیں کرتے، یعنی صارفین کو قرض دینا۔ تازہ ترین ثبوت اس کا وزیرِ اعظم کی اپنا گھر اسکیم ہے۔ اگر آپ کی کوئی مستقل آمدنی ہے، اپنا کام ہے یا کہیں ملازمت کرتے ہیں، اور اس کا ثبوت پیش کر سکتے ہیں تو اپنا گھر بنانے کے لیے ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ آپ کو فقط پانچ فیصد مارک اپ پر مل سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں عوام کے لیے اس سے عمدہ اسکیم پیش کرنا ممکن نہیں تھا۔
اس وقت اسٹیٹ بینک کا اعلان کردہ پالیسی ریٹ ساڑھے گیارہ فیصد ہے، جس کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ اگر آپ بینک سے عام صارف کے طور پر قرضہ لیں گے تو آپ کو کم از کم ساڑھے سولہ فیصد سود پر قرض ملے گا، جبکہ وزیرِ اعظم کی اسکیم کے تحت آپ نے صرف پانچ فیصد دینا ہے۔ باقی کا مارک اپ حکومت اپنی جیب سے بینک کو ادا کرے گی، اور اس مد میں تین سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یعنی اگر متوسط طبقے کا کوئی شخص ساٹھ، ستر ہزار روپے ماہانہ کرائے پر رہ رہا ہے تو وہ تین یا پانچ مرلے کا گھر بنا کر باآسانی اتنی ہی رقم قرضے کی قسط کی صورت میں ادا کر سکتا ہے اور کرایہ دار سے مالکِ مکان بن سکتا ہے۔ اس اسکیم میں کوئی خرابی نہیں ہے، خرابی صرف بینکوں میں ہے، جنہوں نے اس اسکیم کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے۔
آپ کسی بھی بینک کی ویب سائٹ پر چلے جائیں، ہر بینک نے وزیرِ اعظم کی اپنا گھر اسکیم سے متعلق معلومات فراہم کر رکھی ہیں، جن میں لکھا ہے کہ کون یہ قرضہ لے سکتا ہے اور اس کی کیا شرائط ہیں۔ درخواست فارم، شناختی کارڈ، ایک تصویر، حلفیہ بیان کہ آپ کے نام کوئی گھر نہیں، اس پلاٹ کے کاغذات جس پر آپ گھر تعمیر کرنا چاہتے ہیں، ملازمت کا ثبوت، سیلری سلپ، ساٹھ دن کی بینک اسٹیٹمنٹ، اور بس۔
لیکن معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ جب آپ یہ کاغذات جمع کروانے بینک جاتے ہیں تو آپ کے ہاتھ میں ایک نئی فہرست تھما دی جاتی ہے کہ یہ دستاویزات بھی لے کر آئیں۔
اس میں تین حلفیہ بیانات ہیں، جن میں ایک ہی بات مختلف انداز میں لکھی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ہاؤسنگ سوسائٹی سے دو قسم کے این او سی، متعلقہ دفتر سے گھر کا منظور شدہ نقشہ، دو لوگوں کے حوالے جو آپ کو جانتے ہوں، ان کے شناختی کارڈ وغیرہ، پلاٹ کی رجسٹری مع ملکیتی خط۔
ساتھ یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ بینک اس قرضے کو منظور کرنے کی کوئی فیس نہیں لے گا، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جب آپ دو ماہ بعد تمام کاغذات پورے کر کے بینک جاتے ہیں تو آپ سے دستاویزات کے پلندوں پر دستخط کروائے جاتے ہیں، جن میں یہ تک پوچھا جاتا ہے کہ جہاں آپ رہتے ہیں، اس کے دائیں جانب کون قیام پذیر ہے، اوپر کون رہتا ہے، نیچے کون رہتا ہے، آپ کے مکان کا رنگ کیا ہے۔
جن دو لوگوں کا آپ نے حوالہ دیا تھا، ان کے علاوہ اپنے دفتر میں کام کرنے والوں کا حوالہ بھی دیں۔ اور سنیے، بینک نے کچھ کمپنیاں ہائر کر رکھی ہیں، جن کا کام آپ کے پلاٹ کی قیمت کا تخمینہ لگانا ہے۔ اس کے چوبیس ہزار روپے آپ نے ادا کرنے ہیں۔ اس کے بعد ایک شخص آپ کی آمدن کا حساب لگائے گا، اس کی فیس کے پندرہ ہزار روپے بھی آپ نے دینے ہیں۔ پھر ایک دن آپ نے اصل رجسٹری لے کر کچہری جانا ہے، جہاں آپ کا پلاٹ رہن رکھا جائے گا، وہ سارا خرچ بھی آپ نے کرنا ہے۔
https://t.co/pGXAvmYk1o
The #pakid app of @NadraPak is basically useless as it won’t let the citizen sign into it due to a flawed fingerprint recognition module. There is no workaround for it and the complaint menu asks you to look up the homepage of the website
"السلام علیکم محترم!
امید ہے آپ خیریت و عافیت سے ہونگے
آپکی مدد کی ضرورت ہے
میں بچپن میں کھو گئی تھی تقریبا 4 یا 5 سال کی ہونگی اپنے گھر والوں کے ساتھ کسی رشتے دار کے ہاں آئی تھی وہاں سے باہر چیز کے لئے باہر نکلی تو میں گھر بھول گئی ایسے چلتے چلتے پھر کسی روڈ پر رکی تو وہاں ہوٹل تھا ایک شخص تھا وہ مجھے گھر لے گیا وہ کچھ پوچھ بھی رہا تھا شاید میں اسکی زبان نہیں جانتی تھی اسلئے کچھ نہیں بولا مجھے اپنا نام گھر والوں کے نام کچھ بھی یاد نہیں ہے بس یہ واقعہ یاد ہے
خیر پھر کچھ دن اس شخص نے مجھے اپنے گھر رکھا اس دن کی پک بھی بنوائی تاکہ ماں باپ کو ڈھونڈا جاسکے لیکن نہیں ملے کراچی نارتھ ناظم آباد یونین کونسل کے ذریعے میں ایک فیملی کے زیر نگہداشت میں آئی اب 21 سال کی ہوں انہوں نے ہی تعلیم و تربیت کی ابھی تک میرے گھر والوں کا کچھ پتہ نہیں چلا آپکی وال دیکھی آپ نے کتنے لوگوں کو انکے گھر والوں سے ملوایا مجھے اللہ سے امید ہے آپ کے ذریعہ وسیلہ بنے ان شاء اللہ تعالٰی میں بھی حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح ایک دن اپنے گھر والوں سے ضرور ملوں گی بس آپکی مدد کی ضرورت ہے
میرے 3 بھائی تھے 2 بہت بڑے تھے ایک کی شادی ہوچکی تھی اور یہی انکو بجلی کا کام بھی آتا تھا اور ایک پانی کا ٹینکر چلاتے تھے اور ایک مجھ سے ایک سال بڑا ہوگا یا دو سال میری جیسی شکل کا تھا اور 3 ہی بہنیں تھی ایک شادی شدہ تھی اور دو ہم عمر تھی شاید جڑواں ایک کا رنگ کافی گورا تھا اور ایک سانولی گھر میں سب سے چھوٹی تھی
گھر سے تھوڑا دور شہر لگتا تھا جہاں سپیوں کی فیکٹری تھی ایک بار بہنوں کے ساتھ گئی تھی
اور گھر کے برابر میں قبرستان تھا اور اسی کے سامنے مسجد یا مدرسہ تھا قبرستان ایسا تھا کہ ہم دیوار سے جھانک لیا کرتے تھے گھر میں توری کی بیل تھی
یہ کنفیوژن ہے کہ جسکو میں بہن بھائی سمجھ رہی ہوں شاید رشتہ دار ہوں جوائنڈ فیملی سسٹم ہو ۔
امی کا چہرہ گول تھا جیسا میرا ہے والد کا لمبا قد تھا سفید داڑھی تھی ناک بھی لمبی تھی دبلے پتلے تھے ایک بار یاد ہے مجھے بخار ہوا تو والد صاحب ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تھے ڈاکٹر نے انجیکشن لگایا تھا تو روئی تھی والد صاحب نے کہا چیونٹی کاٹ کر چلی گئی وہ کندھوں پر بٹھا کر جھلاتے تھے جب شیو کرتے تھے تو ایک بار میں نے بھی انکی نقل کی تھی اور
گھر ہمارا فرش پکا مکان تھا گھر میں ٹینک بھی بنا تھا شاید باہر گھر کی دہلیز پر ہم نے سپیاں بھی لگائی تھی۔
جنکو بہن بھائی اور والد کہہ رہی ہوں شاید وہ کوئی اور ہوں
*کھونے کا دن*
اس دن ہم اپنے گھر سے اپنے ماموں کے گھر آئے تھے یا شاید کوئی رشتہ دار مجھے لگتا ہے کہ ماموں کی ٹانگ ٹوٹی تھی انکو دیکھنے آئے تھے ہم کسی بس میں سوار ہو کر آئے تھے جیسے کراچی میں w11 ہوتی ہے ویسی گھر پکا تھا گھر کے سامنے دوکان تھی پہلے ہم بچے ساتھ مل کر چیز لینے گئے اسکے بعد میں نے امی سے ضد کی کہ مجھے دوبارہ چیز لینی ہے انہوں نے منع بھی کیا لیکن میں نے ضد کی پھر انہوں نے سکہ دیا میں باہر گئی ننگے پیر کیونکہ سامنے دوکان تھی اور یہ ذہن میں رکھا تھا کہ گھر کے دو دروازے ہیں براؤن یا مہرون یہی کلر تھا پھر میں چیز لے کر مڑی تو مجھے ہر گھر کے دو دروازے دکھے اور وہ بھی ایک ہی کلر کے جو گھر دیکھتی دو دروازے اور ایک جیسے کلر پھر چلتے چلتے کافی دور ہوگئی اندھیرا ہونے لگ گیا تھا پہلے دن تھا اور ایک جگہ ڈھال سے جیسے پہاڑی سے نیچے اترے ایسی جگہ تھی اور شاید کوئی ندی کی طرف کوئی علاقہ تھا میں بس دیکھا لیکن وہاں گئی نہیں سیدھی سیدھی چلتے چلتے شہر کی طرف آگئی جہاں ہوٹل اور ٹریفک تھا وہاں سامنے ایک پٹھان لڑکا میرے پاس کچھ بولتا ہوا کچھ پوچھ رہا تھا میں نے شاید جواب دیا پھر وہ اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا انہوں نے ایک ہفتہ رکھا تصویر بنائی اور بہت ڈھونڈا ان کے گھر کبوتر تھے جو پٹھان لڑکا تھا ایک بار انکے گھر سے بھی نکلی تھی تو بیچ میں چورنگی تھی اور چار راستے تھے پھر وہ پٹھان انکل مجھے لینے اگئے کیونکہ زیادہ دور نہیں تھا اور انکا گھر میں روڈ پر تھا بڑے بڑے گھر تھے پھر کچھ دن بعد یا موجودہ والد مجھے لینے اگئے اور جب میں باہر کمرے سے نکلی تھی میرے پاس وہی فراک تھی جس دن کھوئی تھی وہ کپڑے پہنے تھے انہوں نے باندھ کر دی تھی ان کے گھر سے پیلے رنگ کا سوٹ پہن کر نکلی تھی (پٹھان کے گھر سے) باہر انکا لان بنا تھا وہاں میرے موجودہ والد کسی پیپر پر سائن کر رہے تھے پھر انکے ساتھ میں گھر آگئی
والسلام علیکم"
یہ تصویر گمشدگی کے روز کی ہے 2008 میں
اپنی بہن سمجھ کردنیا بھر میں اس پوسٹ کو عام کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
4 july 2026
#waliullahmaroof
Supermarket chaos erupted in France as shoppers rushed to buy Lidl’s discounted air conditioners and fans amid a heatwave, with long queues, heavy police presence in Paris and a store entrance forced open in Nanterre.
ہماری پختون بیٹیاں اور بہنیں آج پاکستان کے ہر اہم ادارے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ کوئی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) ہے، کوئی سپریم کورٹ میں جج کے منصب پر فائز ہے، کوئی پولیس اور پاک فوج میں بطور افسر خدمات انجام دے رہی ہے، جبکہ سول بیوروکریسی میں بھی پختون خواتین نمایاں مقام رکھتی ہیں۔
یہ سب اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان پختونوں کے لیے مساوی مواقع، عزت اور ترقی کی سرزمین ہے۔ اگر محنت، قابلیت اور لگن ہو تو یہاں ہر شخص کے لیے آگے بڑھنے کے دروازے کھلے ہیں۔ اسی لیے ہم فخر سے کہتے ہیں کہ پختونوں کے لیے پاکستان کسی جنت سے کم نہیں۔
ان صاحب کی مدد کریں۔۔!!
انکا نام اصغر ہے والد کا نام حنیف ہے۔
اصغر کا کہنا ہے کہ سال 1995میں پانچ سال کی عمر میں مجھے کوئی شخص فیصل آباد سے اٹھاکر ٹرین میں حیدرآباد لایا تھا۔ حیدرآباد میں وہ شخص چھوڑ کر گیا تھا،پولیس نے مجھے ریسکیو کرکے ایک شیلٹر میں جمع کرادیا تھا۔
سال 1995 سے آج تک میں نے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو نہیں دیکھا۔ جب بڑا ہوا شیلٹر سے نکلا تو دوہزار دس میں فیصل آباد جاکر بہت ڈھونڈا تھا لیکن مجھے گھر نہیں ملا۔
اب میری شادی ہوچکی ہے تین بچے ہیں۔میرے بچے مجھ سے پوچھتے ہیں کہ دادا دادی اور چاچو پھوپھی والے کہاں ہیں تو میں سوائے رونے کے انکو کوئی جواب دے نہیں سکتا۔
میرا نام گھر میں اصغر تھا پیار سے اصغری بلاتے تھے۔ والد کا نام حنیف تھا جو مستری کا کام کرتے تھے۔
والدہ کا نام رضیہ ہے۔ بڑے بھائی کا نام اکبر ہے چھوٹے بھائی کا نام اشرف ہے، اشرف معذور تھا۔
ایک ہی بہن تھی جسکا نام ثوبیہ تھا۔
مجھے بس اتنا یاد ہے ہم فیصل آباد سے تھے۔ شہر ہم سے فاصلے پر تھا ہم گاؤں میں رہتے تھے۔
خدارا مجھے اپنوں سے ملانے میں مدد کریں۔
آپکا ایک شئیر بہت سارے رشتوں کو جوڑ سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبرپر وٹس ایپ کریں
+923162529829
3 July 2026
#waliullahmaroof #Faisalabad #PakistanZindabad
جب سرکاری محکمے اور میڈیا عوام کو بنیادی معلومات کی فراہمی میں ناکام ہوجائیں تو اس طرح کے لطیفے جنم لیتے ہیں۔ بجلی کی فراہمی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی ذمہ داری ہے۔ جو ڈی آئی خان میں پیسکو ہے۔ واپڈا صرف ڈیم وغیرہ بنانے کا کام کرتا ہے۔ عوام کو بنیادی آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے
چیئرمین واپڈا کے حالیہ بیان پر ڈیرہ اسماعیل خان کے شہریوں نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بجلی کے بلوں، میٹرز، ٹرانسفارمرز اور جرمانوں سے متعلق ادارے کا کوئی کردار نہیں تو عوام کو مسائل کے حل کے لیے واضح متبادل راستہ بتایا جائے۔۔۔۔
Sat down with @javedmalik73 last year for a discussion on Pakistan’s Federation: How It Works, How It Can Work Better https://t.co/rgw3a4g6ob via @YouTube
@IKPeshawar@PakhtunDigital They want people of Peshawar and Mardan to pay for the doctors and teachers that serve in Mingora and Timargara. Misguiding the masses. Development demands organisation of resources and willingness to put one’s own share into it.
Every let up in retaliatory Pakistani strikes have resulted in emboldening Afghanistan based terrorists and increased attacks inside Pakistan. Experience shows that the only effective response so far has been retaliation and not appeasement. Ball is in TTA’s court.
Pakistan and Afghanistan—two Muslim nations—urgently need diplomacy, not escalation .
Pakistan’s cross-border bombing campaign, including “double-tap” strikes, raises serious concerns about civilian casualties.
To be honest, If Pakistan objective is to pressure the Taliban’s leadership into publicly declaring the TTP’s attacks inside Pakistan as un-Islamic and impermissible, experience suggests this strategy is unlikely to achieve that goal.
Have Since October, Pakistan military strikes delivered any outcomes Pakistan appears to have sought ?
A political strategy offers a more promising path. While airstrikes may provide a short-term military option, they have not stopped the TTP from carrying out attacks inside Pakistan, and there is little evidence that continued bombing alone will do so.
The alternative is a cycle of retaliation that leaves civilians on both sides paying the highest price.