سی پیک کے جب پیسے آ رہے تھے تب اِن کی بد دیانتی دیکھیں، کہ انہوں نے سی پیک کے پیسوں سے لاہور میں اورینج لائن ٹرین بنا دی، وہ پیسے اورینج لائن ٹرین کے لیے نہیں تھے، شبر زیدی
نصیر دین شاہ اپنے ملک کے نوجوانوں کے ساتھ ریاستی سلوک پر سیخ پا۔۔۔ کاش پاکستان کی فلم انڈسٹری کے بڑے بڑے ناموں میں سے کوئی ایک کشمیر بلوچستان میں ہونے والے ریاستی جبر پر ایک بار تو آواز اٹھائیں ۔
“ایک جاہل اس ملک کی رہنمائی کرے تو اسکا دل یہی چاہے گا کہ پورا ملک اسی کی طرح جاہل، نہ سمجھ، نہ ناقابل اور بے رحم بنے ۔”
اچھا بٹ اور اعظم بٹ کے بھتیجے . ببر بٹ کے بیٹا کی حکم ربی سے وفات ھوگی اس میں واسا واپڈا دونوں ھی مجرم ھیں اس کے بعد منتخب نمایندے مفت بجلی مفت پٹرول مفت رھائیش اور عوام کو سہولیات اللہ اکبر واپڈا والوں اللہ سے ڈر جاؤں اتنی سہولیات کے باوجود عوام کے ساتھ بدترین سلوک کسی کا بیٹا کسی کا بھائ کسی کا شوھر اس دُنیا سے چلا گیا
🚨🚨انڈین نوجوان نسل انٹرنیشل میڈیا کی لوگوں کو بتا رہے ہیں ۔
سٹوڈنٹ پوری تیاری سے دہلی ائے ہیں ۔اور رکاوٹیں توڑتے ہوئے پہنچ رہے ہیں ۔
ہمارے ہاں انٹر نیشنل لوگوں کو ملنے ہی نہیں دیا جاتا ۔اور پی ٹی آئی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہوتی ہے کوئی پریس کانفرنس کرے ۔
یہ 16 سال کی انڈین طالبہ برصغیر کے کروڑوں لوگوں سے زیادہ باشعور ہے ۔ اس کی باتیں سنیں ۔ یہ اچھی طرح آگاہ ہے کہ اس کے بنیادی حقوق کیا ہیں ۔ یہ پولیس والوں کو بھی کہہ رہی ہے کہ آپ کے بچے نہیں پڑھتے کیا ۔ آپ فیس نہیں دیتے کیا ۔
انڈین والی جین زی بہت خطرناک ہے ۔ اس لڑکی کی آنکھوں میں بالکل بھی خوف نہیں ہے ۔ پولیس اہلکار کو کہہ رہی ہے کہ تم نے مجھے ہاتھ کیسے لگایا ۔ مجھے دوبارہ ہاتھ لگانے کی ہمت بھی نہ کرنا ۔ مودی جی کے لئے حالات زیادہ اچھے نہیں لگ رہے
یہ ویڈیو دیکھیں اور افسر شاہی کا کمال پتا چلے گا !
جنوبی پنجاب میں گھر مٹی سے بنے یعنی لوگوں کی معاشی حالت کا اظہار مٹی کی دیواریں کررہی ہیں لیکن گھر کے سامنے ستھرا پنجاب کا ڈرم لگا ہوا ۔ کہنے کو صفائی کا پروجیکٹ ہے اب وہ غریب آدمی جو پکا گھر نہیں بنا پا رہا اسکی جیب سے " کوڑاکرکٹ " کا بِل نکالا جائے گا کہ دیکھو ہم صفائی کر رہے ہیں اور وہ کسی سیٹھ کی جیب میں جائے گا
The government should understand that if the protest has to be ended then the Education Minister will have to resign.Lathi charge, beating students, surrounding the Parliament House, releasing tear gas, this is just oppression.
#CJPProtest#संसद_मार्च
आज सच में लोकतंत्र कि हत्या हो गई और हत्यारे सिर्फ पुलिस वाले नहीं बल्कि पूरी मोदी सरकार है।
#CJPProtest | Modi | #संसद_मार्च | संसद भवन | दिल्ली पुलिस | #DharmendraPradhanResign | Parliament | धर्मेंद्र प्रधान | NEET | मोदी सरकार | #CockroachJantaParty | Narendra Modi
زیارت میں جو دہشتگردوں نے جوانوں کو شہید کیا تو دہشتگردوں نے اعلان کیا کہ آکر اپنی لاشیں لے جاو لیکن لاشیں لینے آنے والے صرف " سفید داڑھیوں " والے ہوں،
مقامی بزرگ لاشیں لینے گئے تو ان کی دہشتگردوں نے سخت چیکنگ کی اور وہ وہاں سے 21 لاشیں اکٹھی کر سکے،
واپسی پر جب وہ نکلے تو فورسز نے انھیں روکا کہ یہ لاشیں ہمارے حوالے کردی تو بزرگوں نے انکار کر دیا، جب وہ لاشیں ہسپتال پہنچیں تو آرمی اہلکاروں نے کہا کہ سیکیورٹی ہمارے کنٹرول میں ہے لاشیں ہم اپنے پاس رکھیں گے تو وہاں عوام ان سے لڑ پڑی کہ 3 دن تک لاشیں وہاں پڑی رہیں لیکن کوئی لینے نہیں گیا اور اب تم لاشوں پر جمع ہو رہے ہو، ایسی صورتحال میں لاشیں حاصل کی گئیں تھیں، بلوچستان کی صورتحال دن بدن ہاتھ سے نکل رہی ہے،
عمران ریاض خان
فوج کو باجوہ کے دور میں خیال آیا تھا کہ مارگلہ کی پہاڑیاں کتنی خوبصورت ہیں اور پرائم رئیل اسٹیٹ ہیں
فائلوں کو کھولا گیا تو کاغذوں کے مطابق 1910 میں ملکہ وکٹوریہ نے مارگلہ کی پہاڑیوں کا 8000 ایکڑ رقبہ گھوڑے پالنے کے لئے GHQ کو دیا ہوا تھا نور جہاں کے بچوں نے فیصلہ کیا ہم صرف نورجہاں کے نہیں ملکہ وکٹوریہ کے بھی بچے ہیں لہٰذا وہ کاغذ اٹھایا اور حکومت کو یہ کہا یہ مارگلہ کی پہاڑیاں تو ہماری ہیں
شہزاد اکبر
جلالپور نہر کا کھلنا صرف ایک منصوبے کا پورا ہونا نہیں ہے، بلکہ یہ اس مٹی کی پیاس بجھنے اور کسانوں کے خوابوں کے سچ ہونے کا دن ہے۔ وہ زمینیں جو برسوں سے بنجر پڑی تھیں اور جہاں پانی کا نام و نشان نہیں تھا، اب وہاں دریائے جہلم کا پانی پہنچ چکا ہے جو پورے خطے کے لیے ایک بڑی نعمت ہے۔
اس منصوبے کی بنیاد دسمبر 2019 میں عمران خان کے دورِ حکومت میں رکھی گئی تھی، اور ان کا یہ ویژن آج پنڈ دادنخان، جہلم اور خوشاب کے 80 سے زائد دیہات کے لیے زندگی کی نئی لہر لے کر آیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب نیت عوام کی خدمت کی ہو، تو ایسے منصوبے بنتے ہیں جو نسلوں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔
پانی کی ہر بوند کے ساتھ اب اس علاقے میں خوشحالی آئے گی، فصلیں لہلہائیں گی اور کسان کا گھر آباد ہوگا۔
بشری جی، "ستلج" کہانی ہے پنجاب کی۔ چڑھدے اور لہندے دونوں پنجاب کی۔ کہانی ہے بلوچستان کی۔ کہانی ہے کشمیر کی۔
دوسرا آپ نے پوچھا کہ "ستلج" کے ہیرو جیسے لوگ اب کہاں ہیں؟ عرض ہے کہ اس سے کہیں بڑا ہیرو اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہے۔
میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ جمہوریت، اور عوام کے حقوق کا ایسا چیمپین ہندوستان کے حالیہ اہتہاس میں نہيں ملتا۔
وفاقی وزیر مواصلات علیم خان لاہور پہنچے تو ان کی سوسائٹی کے سیکورٹی گارڈز انہیں پروٹوکول دینے کیلئے وائرلیس سٹ اٹھائے خود سڑکوں پر آ گئے اور اور روٹ لگا کر ٹریفک جام کر دی ، پنجاب حکومت کے مطابق صوبہ بھر سے ڈالہ اور سیکورٹی گارڈ کلچر کا خاتمہ کر دیا گیا ہے پھر یہ کیا ہے ؟ سیکورٹی گارڈز کا روٹ لگانا اور ٹریفک کو جام کرنا ایک جرم ہے دیکھتے ہیں کہ پنجاب حکومت اس غیر قانونی عمل پر مقدمہ درج کرتی ہے یا نہیں
قانون کے مطابق ،،کم ازکم مقدمہ کی دفعات 341٫ 186٫143٫ 149 اور 506 بنتی ہیں
اب پنجاب حکومت ثابت کرے کہ قانون سب کیلئے برابر ہے یا نہیں ؟
میجر جنرل افتخار منہاس جسے قائد اعظم اور لیاقت علی خان حکومت نے پاک فوج کا پہلا مسلمان کمانڈر انچیف مقرر کیا لیکن بدقسمتی سے دسمبر 1949 میں جنگ شاہی طیارہ حادثے میں بیوی اور بچی سمیت دار فانی سے رخصت ہوا ۔ ضلع چکوال کے رسالدار میجر فضل داد خان کا بیٹا جسکے سات بیٹوں نے فوج میں خدمات انجام دیں اور تین میجر جنرل بنے ۔ جنرل افتخار نے رائل ملٹری کالج سیندھرسٹ سے 1929 میں فوجی تربیت مکمل کی
جنرل افتخار سیاست سے دور ایک خالص فوجی تھا ۔ جنرل شیر علی پٹودی نے اسے اپنا دوست قرار دیا اور اسکے بارے میں لکھا کہ وہ فوجی افسروں کے سیاسی ہونے پر پریشان تھا ، اس نے ایک موقعہ پر پٹودی سے کہا کہ ہمیں فوج سے نکل جانا چاہئے اس سے پہلے کہ ہمارے ہاتھ اور وردی سیاست سے داغدار ہو جائے ۔ پٹودی اس روز افتخار کیساتھ تھا جب وزیراعظم لیاقت نے اسے چیف بننے کیلئے نامزد کیا ، پٹودی اپنے مشاہدے میں لکھتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ افتخار اس روز زیادہ تر خاموش تھا اور اسکے چہرے پر فکرمندی کے آثار تھے ۔ پٹودی لکھتا ہے کہ اگر افتخارکی طیارہ حادثے میں موت نہ ہوتی تو پاک فوج کبھی سیاست میں ملوث نہ ہو پاتی (ایوب ٹولہ نامراد ریٹائر کردیا جاتا)
حوالدار ایوب , جنرل افتخار اور پٹودی کی دوستی سے بخوبی واقف تھا ، اس نے سابقہ بے دماغ سپاہی موسی خان کو پٹودی پر ترجیح دیتے ہوئے 1958 میں موسیٰ کو ترقی دے دی ، اگر پٹودی چیف بن جاتا تو بھی شائد آج تاریخ مختلف ہوتی
جنرل افتخار کی بے وقت موت نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔ طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ میں اسے پائلٹ کی غلطی بتایا گیا جو خراب موسم کے باعث ڈکوٹا طیارے کو کراچی لینڈنگ سے بہت پہلے خطرناک حد تک نیچے لے آیا کہ وہ کارو جبل پہاڑی سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا اور یہ رپورٹ آج تک مشکوک قرار دی جاتی ہے۔
بائیں جنرل افتخار اور دائیں جنرل پٹودی
سات دن گزر چکے ہیں۔
مانگی ڈیم زیارت میں بے دردی سے شہید کیے گئے 30 لیویز اہلکاروں کی لاشیں آج بھی بطورِ احتجاج کوئٹہ میں اس جھلسا دینے والی گرمی کے نیچے پڑی ہیں۔ مگر قومی میڈیا پر خاموشی ہے، اقتدار کے ایوانوں میں خاموشی ہے، اور اسلام آباد کے ضمیر پر بھی خاموشی طاری ہے