میرپور ڈویژن انتخابات اورممکنہ پارٹی پوزیشن!
رپورٹ: #عبدالجبارناصر
آزاد ریاست جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 2026ء کے پہلے مرحلے کی پولنگ کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے، پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں کے لئے 27 جولائی 2026ء کو صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے پولنگ ہوگی اور مجموعی طور پر 14 لاکھ 1 ہزار 439 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، جن میں سے 7 لاکھ 25 ہزار 811 مرد اور 6 لاکھ 75 ہزار 628 خواتین ہیں۔
ضلع کوٹلی کی 6 نشستوں کے لئے 6 لاکھ 47 ہزار مرد و خواتین ووٹرز ، ضلع بھمبر کی 3 نشستوں پر 3لاکھ 42 ووٹرز جبکہ ضلع میرپور کی 4 نشستوں پر 4لاکھ 11 ہزار ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرینگے۔
میرپورڈویژن میں 13 نشستوں کے لئے پاکستان پیپلزپارٹی (#PPP)، پاکستان مسلم لیگ نواز (#PMLN)، استحکام پاکستان پارٹی(#IPP)، جماعت اسلامی (#JIP)، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس (#AJKMC)اور دیگر جماعتوں آزاد مجموعی طور پر 288امیدوار میدان میں ہیں اور پولنگ اسکیم کے مطابق ڈویژن بھر میں پولنگ کے لئے 2554 پولنگ اسٹیشن اور 3701 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں اور 12 ہزار کے قریب انتخابی عملہ پولنگ کی نگرانی کرے گا، جبکہ مجموعی طور 18ہزار سے زائد سیکیورٹی عملہ تعینات ہوگا ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کمشنر میرپور ڈویژن راجہ طاہر ممتاز خان الیکشن کمیشن کو بریفنگ میں بتایا کہ انتخابات 2026 کے لیے میرپور ڈویژن کے تینوں اضلاع میں تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ میرپور ڈویژن میں مجموعی طور پر 2316 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جن میں 1241 انتہائی حساس، 724 حساس اور 351 نارمل پولنگ اسٹیشنزہیں۔ کمشنر میرپور کے مطابق انتخابی انتظامات اور سکیورٹی کی نگرانی کے لیے پورے ڈویژن میں 13 زونز اور 205 سیکٹرز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر خصوصی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
ڈی آئی جی پولیس کامران علی کے مطابق انتخابات 2026 کے پرامن انعقاد کے لیے میرپور ڈویژن میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مجموعی طور پر 18 ہزار 560 اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں ضلع میرپور کے لیے 5536، ضلع بھمبر کے لیے 4504 اور ضلع کوٹلی کے لیے 8520 اہلکار شامل ہیں۔
انتخابات کے لیے سکیورٹی کا تین سطحی نظام تشکیل دیا گیا ہے، جس کے تحت پولیس فرسٹ ٹئیر، سول آرمڈ فورسز سیکنڈ ٹئیر جبکہ پاک فوج تھرڈ ٹئیر کے طور پر خدمات انجام دے گی۔ سیکنڈ ٹئیر میں پاکستان رینجرز (پنجاب)، پاکستان رینجرز (سندھ) اور فیڈرل کانسٹیبلری کے اہلکار شامل ہوں گے، جبکہ پاک فوج کے 2100 جوان بھی انتخابی سکیورٹی کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔ سکیورٹی کے تمام انتظامات مکمل ہیں اور پولنگ اسٹیشنز، حساس مقامات اور عمومی علاقوں میں مربوط سکیورٹی پلان کے تحت فرائض انجام دیے جائیں گے تاکہ انتخابات 2026 کا انعقاد ہر لحاظ سے پرامن، شفاف اور منظم انداز میں یقینی بنایا جا سکے۔
نوٹ: رپورٹ کے ساتھ منسلک چارٹ دیکھتے وقت کیفیت اور آخری نوٹ کے دونوں نکات پر ضرور غور فرمائیں، یہ چارٹ 24 جولائی 2026ء تک کا تحقیقی سروے ہے، جس میں غلطی کا امکان ہوسکتا ہے، تاہم ہر ممکن حد تک شفاف بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
#آزاد_ریاست_جموں_و_کـــشمیـــر_انتخابات2026ء
#AJK_ELECTION_2026
@majidsnizami@BilalDarPK@bilalgilani@_FAFEN@AzazSyed@AhmedMansorReal@Pildat@xadeejourno@Rohshan_Din@KlasraRauf@UmarCheema1@TheFarhanAKhan@MurtazaViews@BBhuttoZardari@MaryamNSharif@NawazSharifMNS
@majidsnizami ماجد بھائی یہ بتائیں کہ سید عامر رضا سے جو سینئر ہیں کیا وہ سپر سیڈ ہوں گے؟ پہلے ہم دیکھتے رہے ہیں کسی بھی تھری اسٹار کو فور اسٹار بناتے تھے تو ان سے اوپر والے از خود فوج سے ریٹائرمنٹ لے لیتے تھے
نومبر 2025 میں نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے لیے جنرل نعمان ذکریا، جنرل سید عامر رضا، جنرل ایمن بلال صفدر، جنرل فیاض حسین شاہ، جنرل راجہ احسن گلریز، جنرل شاہد امتیاز کے نام سرفہرست ہوں گے۔۔۔
بی بی سی اردو کے لیے میری تحریر
https://t.co/slpApyqo7f
کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں سپریم کورٹ میں ہوگا۔
پاکستان کی 78 سالہ عدالتی تاریخ میں پہلی بار دیر جیسے نسبتاً پسماندہ اور دور دراز علاقے سے تعلق رکھنے والے سینئر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شارخ ارجمند کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج مقرر ہونے کا قوی امکان ہے۔ اگر ان کی تعیناتی ہوتی ہے تو وہ دیر سے تعلق رکھنے والے پہلے شخص ہوں گے جو کسی ہائی کورٹ کے جج بنیں گے۔ اس سے نہ صرف اس خطے کی نمائندگی میں اضافہ ہوگا بلکہ یہ مثبت پیغام بھی جائے گا کہ ملک کے دور افتادہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت افراد بھی اپنی محنت قابلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر اعلیٰ عدالتی مناصب تک پہنچ سکتے ہیں۔
شارخ ارجمند کا شمار اسلام آباد ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے نہایت قابل محنتی اور باصلاحیت ججز میں ہوتا ہے۔ بالخصوص قتل جیسے سنگین فوجداری مقدمات کے ٹرائل میں ان کا ڈسپوزل ریٹ اسلام آباد ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے دیگر ججز کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر رہا ہے جو ان کی پیشہ ورانہ مہارت قانون پر مضبوط گرفت اور بروقت فیصلے کرنے کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔
اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کو ایک ایسے تجربہ کار اور مضبوط کریمنل جج کی ضرورت ہے جو زیرِ التواء فوجداری مقدمات کو تیز رفتاری اور میرٹ کے مطابق نمٹا سکے۔ شارخ ارجمند کی تعیناتی نہ صرف مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اس کے علاوہ بیرسٹر عمیر مجید ملک کے بھی ایڈیشنل جج مقرر ہونے کے امکانات موجود ہیں جبکہ تیسری نشست کے لیے ایاز شوکت اور واجد گیلانی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے بظاہر ایاز شوکت کے نام پر فیصلہ ہونے کے امکانات زیادہ دکھائی دیتے ہیں
اگر تینوں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی ہو جاتی ہے تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد 10 ہو جائے گی۔ تاہم ان 10 ججز میں کوئی بھی خاتون جج شامل نہیں ہے۔ اس تناظر میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں لاہور ہائی کورٹ سے جسٹس ابہر گل کا اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلہ کیا جا سکتا ہے، جس سے ایک جانب خاتون جج کی کمی پوری ہوگی اور دوسری جانب ٹرانسفر ججز کے بدلے ٹرانسفر جج لانے والی بات بھی پوری ہوگی
@AzamNazeerTarar@QayyumReports@HassanAyub82@HasnaatMalik@saqibbashir156
خوش قسمت ہیں۔
2002 میں میری گاڑی Daihatsu Charade دی نیوز لاہور کے دفتر کے باہر ڈیوس روڈ سے چوری ہوگئی۔ پولیس رپورٹ کروا دی۔ آئی جی پولیس تک رابطہ کیا۔ بتایا گیا کہ شہر بھر میں پولیس ناکے لگا دیئے ہیں جلد کار مل جائے گی۔
اگلے روز صدر بازار میں ایک پولیس ناکہ دیکھا تو بہت خوشی ہوئی کہ آئی جی صاحب نے بڑا ایکشن لیا ہے۔ جب ناکے پر کھڑے پولیس والوں سے پوچھا کہ گاڑیوں کی لسٹ میں میری گاڑی کا نمبر بھی شامل ہے؟ تو پولیس اہلکار نے پوری لسٹ دیکھ کر بتایا کہ آپ کی گاڑی کا نمبر نہیں ہے۔ بہت غصہ آیا۔
گاڑی چوری کی بڑھتی وارداتوں پر رپورٹس چھاپیں۔ ایک کار چور کا انٹرویو بھی کیا۔ آئی جی صاحب کے دفتر سے بندہ دی نیوز کے دفتر پہنچ گیا۔ اور پیشکش کی آپ کی گاڑی نہیں ملی آپ کو سپرداری پر ایک گاڑی دے دیتے ہیں۔ انکار کردیا کہ مجھے میری گاڑی چاہیئے۔
پانچ سال بعد ایک فون کال موصول ہوئی کے آپ کی کار مل گئی ہے۔ بہت خوشی ہوئی۔ تعریف تو بنتی تھی۔
مگر جب پوچھا کہ کہاں سے؟
جواب: وہاڑی سے۔
پھر دریافت کیا کہ کار کب ملی تھی؟
جواب: پانچ سال پہلے۔
سوال: اتنے سال کار کہاں کھڑی رہی؟
جواب: پولیس سٹیشن میں۔ ہم لاہور سے تھانہ انسپیکشن کے لیے وہاڑی گئے۔ برآمد شدہ گاڑی کی تفصیل نوٹ کی۔ لاہور واپس آکر کمپیوٹر سے تفصیل ملی کہ گاڑی آپ کی ہے جس کی رپورٹ تھانہ سول لائنز درج تھی۔
پھر کسی کو بھیج کر کار کی حالت کا پتا چلا کہ پہیے زمین میں گھسے ہیں۔ اندر گھاس اگی ہے۔ انجن بالکل بند۔ ایسا لگتا تھا کہ پولیس والے گاڑی استعمال کرتے رہیے اور جب بالکل بند ہوگئی تو تھانے میں کھڑی کردی۔ بالکل کوشش نہیں کی کہ گاڑی کے مالک کی تلاش کی جائے۔ انسپیکشن ٹیم اگلے پانچ سال بھی وہاڑی نہ جاتی تو گاڑی ملنے کی کوئی اطلاع نہ ملتی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر کو روس میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی
لاہور ہائیکورٹ نے نجیب اللہ خان نیازی کو ایک مرتبہ روس جانے کی عبوری اجازت دے دی
محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور دیگر وکلاء کی مؤثر پیروی پر درخواست منظور
ایف آئی اے سب انسپکٹر اور ان کی کمسن بیٹی میرٹ پر انٹرنیشنل ہارس بیک آرچری مقابلے کے لیے منتخب
عدالت نے قرار دیا کہ والد کے خلاف محکمانہ کارروائی بچی کے بنیادی حقوق میں رکاوٹ نہیں بن سکتی
جسٹس خالد اسحاق نے کمسن بچی کے پاکستان کی نمائندگی کے حق کو اولین اہمیت دی
عدالت نے کہا کہ بچی کو بین الاقوامی مقابلے میں شرکت سے محروم نہیں کیا جا سکتا
درخواست گزار نے وطن واپسی اور محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنے کا تحریری عہد نامہ عدالت میں جمع کرا دیا
عدالت نے عہد نامہ، واپسی کے ٹکٹ اور ویزا کی بنیاد پر عبوری ریلیف منظور کر لیا
لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو آج ہی این او سی جاری کرنے کا حکم دے دیا
این او سی جاری نہ ہونے کی صورت میں امیگریشن حکام عدالتی حکم پر بیرون ملک جانے کی اجازت دیں گے
روس میں 16 سے 30 جولائی تک ہونے والے انٹرنیشنل ہارس بیک آرچری مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی یقینی
محکمانہ کارروائیاں قانون کے مطابق اپنی جگہ جاری رہیں گی، عدالت
کیس گرمیوں کی تعطیلات کے بعد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا
گلگت بلتستان: فوری بلدیاتی انتخابی اصلاحات!
از : #عبدالجبارناصر
جاری بیان کے مطابق گلگت بلتستان میں بلدیاتی 2026ء کے حوالے سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ Amjad Hussain Azar کی سربراہی میں اہم اجلاس ہوا، جس میں چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان اور دیگر حکام نے شرکت اور بلدیاتی انتخابات 2026ء کے حوالے سے بریفننگ دی۔
اس ضمن میں ہماری رائے ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ کو بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے چند اصلاحاتی اقدام فوری کرنے کی ضرورت ہے۔
1۔ یہ یقینی بنانا ہے کہ بلدیاتی انتخابات ضرور ہوں۔
2۔ بلدیاتی ایکٹ سیکشن18میں ترمیم کرکے آزاد امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے۔
3۔ گلگت بلتستان میں اقلیتوں کی مجموعی تعداد غالباً چند درجن بھی نہیں ہے، جبکہ بلدیاتی ایکٹ میں ہر یونین کونسل، ضلع کونسل، ٹائون کمیٹی، میونسپل کارپوریشن اور میونسپل کمیٹی میں کم سے کم بھی ایک نشست مخصوص کی گئی ہے اور مجموعی طور پر یہ تعداد 200 کے قریب بنتی ہے، یہ نشستیں ہر مختص کرنے سے بیشتر نشستیں خالی رہیں گی۔ اس لیے دو اقدام کی فوری ضرورت ہے۔
اول : اقلیتی نشستوں کو ضلع کونسل، میونسپل کارپوریشن، میونسپل کمیٹی اور ٹائون کمیٹی تک محدود کردیا جائے۔
دوم: تمام بلدیاتی اداروں میں ایک ایک نوجوان اور معذور نشست مختص کی جائے۔
4۔ موجودہ بلدیاتی نظام میں ہر بلدیاتی ادارہ خود مختار ہے، یہ متعلقہ بالا اور ذیلی بلدیاتی ادارے سے ایک دوسرے سے منسلک نہیں ہیں، بلدیاتی اداروں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کے لیے قانون سازی کریں۔
5۔ مخصوص نشستوں کا انتخاب متناسب نمائندگی کے تحت کیا جائے۔
6۔ ان تمام دیگر ضروری امور پر فوری قانون سازی کی جائے تاکہ بر وقت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن ہوسکے۔
7۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بلدیاتی ایکٹ پر بغور جائزہ سے مزید ترامیم بھی تجویز ہوں، ایکٹ اور رولز کو اردو زبان میں عام کیا جائے۔
مزید یہ کہ
ووٹرز فہرست میں بے انتہا اغلاط کی درستی کے لیے الیکشن کمیشن نے 25 جولائی 2026ء تک ٹائم دیا ہے، اس کو 31 جولائی تک توسیع دیکر بھرپور تشہیری مہم چلائی جائے۔
اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر حافظ حفیظ الرحمن @CMGBPK اور دیگر اپوزیشن قائدین کو بھی تعاون کرنا چاہیے تاکہ ایک بہتر اور بامقصد بلدیاتی نظام قائم ہو۔
#گلگت_بلتستان_انتخابات2026ء
دوبارہ پولنگ کے بعد 13 جولائی 2026ء تک 22 حلقوں کے فارم 49 کے جاری نتائج کے مطابق پارٹی ووٹ تعداد اور فیصد اور 33 رکنی گلگت بلتستان اسمبلی میں نشستوں کی تعداد اور فیصد اس چارٹ میں ظاہر کی گئی ہے۔
معلومات سرکاری نتائج کے مطابق ہیں۔
خیبر پختونخوا کے بہترین بیوروکریٹس میں شمار کئے جانےوالے عادل سعید صافی کو ایک اور ذمہ داری سونپ دی گئی
سپیشل سیکرٹری وزیر اعلی سیکرٹریٹ اور منیجنگ ڈائریکٹر ایٹا کی ذمہ داریوں کیساتھ اب وہ خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں کمپیوٹر بیسڈ اسیسمنٹ ٹیسٹ متعارف کرانے کی کمیٹی کی سربراہی بھی کرینگے
کمیٹی کا بنیادی مقصد ایک ایسا جامع فریم ورک اور طریقہ کار تیار کرنا ہے جس کے تحت صوبے کی تمام سرکاری جامعات میں چوتھے سمسٹر کے بعد مڈ ڈگری اسیسمنٹ اور آٹھویں سمسٹر کے بعدایگزٹ اسیسمنٹ کے طور پر یکساں کمپیوٹر بیسڈ امتحان لیا جا سکے۔
سابق جج سپریم کورٹ اور سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس ریٹائرڈ اطہر من اللہ نے بعد از ریٹائرمنٹ ڈان اخبار کے لیئے اپنی نئی تحریر میں سیاستدانوں، وکلا، ججوں اور میڈیا کو متحد ہو کر ایک نئی ملک گیر تحریک شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ کیمطابق یہ افسوس کا امر ہے کہ جن سیاستدانوں نے آئین کا دفاع اور اسکی حفاظت کرنے کا حلف اُٹھایا تھا وہی سیاستدان آج کھلے عام ایک ہائبرڈ طرزِ حکمرانی کے موجودہ نظام پر فخر کر رہے ہیں، سیاستدانوں پر آئین کے دفاع کی ذمے داری سب سے زیادہ آتی ہے کیونکہ انہوں نے خود کو رضاکارانہ طور پر قوم کی قیادت کے لئیے پیش کیا ہے۔
ڈان اخبار نے اس تجزیے کا خلاصہ شائع کرتے ہوئے اسکی تفصیلی تحریر ڈان ڈاٹ کام پر پرزم میگیزین میں شائع کرنے کا اعلان کیا مگر متعلقہ لنک پر اس تفصیلی تحریر کو بظاہر ہٹا دیا گیا ہے۔
بھائی کو کرکٹ ٹیم میں سلیکٹ نہ کرنے کی سزا
سابق سی پی او راولپنڈی کو چند روز قبل عہدے سے ہٹایا گیا ہے اور انکے میرٹ کی کہانیاں اب زبان زد عام ہیں۔ عبداللہ ہمدانی انکے بھائی اور کرکٹ کے شوقین ہیں وہ ٹیم میں سلیکٹ ہونا چاہتے تھے انکو بہاولپور میں لگے کیمپ میں ناقص کارکردگی پر سلیکٹ نہ کیا گیا۔ ایک بھائی سی پی او پنڈی ہو اور دوسرا بھائی بہاولپور کی ٹیم میں بھی سلیکٹ نہ ہو تو یہ ظلم ہے۔ اس ظلم کا بدلہ چکانے کے لئے پھر پولیس متحرک ہوئی اور پولیس نے وہ کیا جو پولیس کرتی ہے۔
بھائی سلیکٹ نہیں ہو رہا تھا تو سوچا گیا ریجنل ایسوسی ایشن ہی اپنی لائی جائے تاکہ نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری، مخالف پینل پر دباؤ ڈلنا شروع ہوا مگر وہ عمران خان نکلے اور ڈٹ گئے۔ اب سسٹم کو ناں کی عادت نہیں ہے۔ جونہی یہ پینل اپنے کاغذ جمع کروانے لاہور قذافی اسٹیڈیم پہنچا تو لاہور پولیس کے ایس ایچ او کی ڈیوٹی لگے کہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ وہی کریں جو تحریک انصاف کے رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی سے کیا گیا تھا پولیس اس گیم کی اب پکی کھلاڑی ہے مگر مسئلہ وہی کہ امیدوار عمران خان بنے ہوئے تھے بات ہی نہیں سن رہے تھے جب کچھ نہ ہوسکا تو کاغذات جمع کروانے والے لوگوں پر جعلی نمبر پلیٹ کے استعمال کا پرچہ دیدیا گیا۔
اب مسئلہ یہ ہوا کہ ان پانچ میں ایک ایف آئی اے کا افسر شامل تھا افسر بھی وہ جس کو پنجاب کا ٹیکنالوجی سے جڑا ہر بچہ جانتا ہے۔ مقدمہ اتنا کچا تھا کہ جج نے اگلے روز پولیس کی خود درگت بنائی، پولیس مقدمے کے حوالے سے سیف سی، سی سی ٹی وی سمیت کوئی ریکارڈ تک پیش نہ کرسکی اور پولیس نے تمام ملزمان کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور نے انصاف ڈاکٹرز فورم کے سابق نائب صدر اور میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نذیف وزیر کو ماہانہ 3 لاکھ روپے پر صحت سہولت پروگرام کا فوکل پرسن مقرر کردیا گیا ہے
ڈاکٹر نذیف وزیر کو ایک ماہ قبل پراجیکٹ ڈائریکٹر ’’نیو ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ‘‘ بھی تعینات کردیا گیا تھا
انکی ہسپتال میں تعیناتی پر بھی شدید تنقید کی گئی تاہم اب وہ دو اہم عہدوں پر بھی تعینات کردئے گئے ہیں
@TahirNaeemMalik بالکل درست فرمایا، یہ سسٹم کسی بھی مرکزی سسٹم سے لنک نہیں ہے، اگر لنک ہوتا تو اسلام آباد ٹال کے بعد کلر کہار، اور سکھر پہنچنے تک تین چار مرتبہ مسافروں کی وڈیوز نہ بنائی جاتیں، موٹروے پولیس مانسہرہ سے سکھر تک 4 بار وڈیوز بناتی ہے، دو بار فارم فل کیا جاتا ہے مسافروں کی جانب سے
گروپ کیپٹن عاصم کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں کیسے گرفتار ہوا اہم تفصیلات سامنے آگئیں مارگلہ تھانے کی حدود نائنتھ ایوینیو سٹی زون میں واقعہ پیش آیا تھا
گروپ کیپٹن عاصم کو نائن ایم ایم سے گولی مارنے کے بعد ملزم سعدعباسی فرار ہواسی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے پولیس ٹیم سب سے پہلے غوری ٹاون پہنچی ملزم سعد عباسی نے گلی میں دوست کے گھر پرموٹرسائیکل کھڑی کی اورکپڑا ڈال دیاسعد عباسی نے گلی سے نکل کر بائیکا رائیڈ لی اور قریبی مارکیٹ کے اندر چلا گیا، فوٹیج اور شواہد کے مطابق دوست کی فارمیسی پر ملزم نے اپنا بیگ رکھا اور ایک دکان سے نئی شرٹ خریدی، ملزم سعد عباسی کی اصل شرٹ کا کلر ہرا تھا اور ٹی رٹ نیلے کلر کی لے کر دھوکہ دینے کی کوشش کی ،سعد عباسی پھر اسی بائیکیا رائیڈ کے ذریعے بیٹھ کر فیض آباد کی جانب چلا گیا،جدید کیمروں کی مدد سے بائیکیارائیڈر کو تلاش کیا اور فوری بیان لیا گیابائیکیا رائیڈ نے بتایا فیض آباد انٹرچینج پر اسکائی ویز کے پاس ڈراپ کیا تھاپولیس کی ایک ٹیم موٹرسائیکل دوسری فارمیسی تیسری فیض آباد روانہ کی گئی اسکائی ویز سے پتہ چلا ملزم سعد عباسی لاہور کی ٹکٹ لے کر روانہ ہوچکا ہےلاہور پولیس کو آگاہ کرنے کے بعد مختلف ٹیمیں ملزم کی گرفتاری کے لیے تیار تھی کہ اچانک شام ساڑھے چھ بجے موٹرسائیکل والے دوست کو نامعلوم نمبر سے سعدکا فون آتا ہےملزم سعد عباسی کہتا ہے میں اپنی موٹرسائیکل لینے کے لیے گھر پر آرہا ہوں پانچ منٹ کے بعد ملزم فارمیسی والے دوست کو بھی فون کرکے آنے کا کہتا ہےفارمیسی میں موجود بیگ میں ملزم کے کپڑے اور پستول موجود تھاملزم پہلے ایک چھوٹے بچے کو بھیج کر کہتا ہے سعد عباسی اپنا بیگ منگوارہا ہے
بچہ بیگ لے کر جیسے ہی آگے جاتا ہے پولیس ملزم سعد عباسی کو دبوچ لیتی ہے اس طرح سے اس کیس کا ڈراپ سین ہوا اور پاک فضائیہ کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم کو شہید کرنے والا ملزم پکڑا گیا
#islamabad #groupcaptin @ICT_Police
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر سپریم کورٹ کی سماعت کا احوال
سپریم کورٹ میں آج صبح جب ساڈھے نو بجے پہنچے تو سب سے پہلے کمرہ عدالت نمبر 3 میں یہ دیکھنے سننے کو ملا کے ائیر کنڈیشن کام نہیں رہے آج گرمی میں ہی گزارا کرنا پڑے گا ایمان مزاری کیس کی وجہ سے سول سوسائٹی وکلا اور فیملی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھی میڈم ڈاکٹر شیریں مزاری تو پنکھے کے سامنے جگہ بنانے میں کامیاب رہیں باقیوں کو ڈیڑھ گھنٹہ گرمی میں ہی گزارا کرنا پڑا
بہرحال ایک گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد کیس کال ہوا تو فیصل صدیقی روسٹرم پر آگئے جسٹس محمد علی مظہر ، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال کیس کی سماعت کر رہے تھے یاد رہے یہ بنچ اس بنچ سے مختلف تھا جس نے 12 مئی کو آرڈر کیا تھا اور اس آرڈر پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابھی تک عمل نہیں کیا اس پرانے بنچ میں جسٹس شاہد وحید ، جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل تھے
فیصل صدیقی نے اپنے دلائل کا آغاز 12 مئی کے سپریم کورٹ کے آرڈر پڑھنے سے کیا جس میں عدالت عظمی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو دو ہفتے میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا (کو دورانیہ 4 جون کو ختم ہو چکا) فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد 20 مئی کو ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی جہاں ہم نے سپریم کورٹ کے آرڈر کی مصدقہ کاپی پیش کی پھر یکم جون کے لیے کیس رکھا گیا تو یکم جون پراسیکوشن نے وقت مانگ لیا چار جون تک کیس ملتوی ہوا تو چار جون کی کاز لسٹ ہی کینسل ہو گئی پھر 15 جون کو ہم نے جلد سماعت کی درخواست دائر کی تو رجسٹرار آفس نے جلد سماعت کی درخواست لینے سے انکار کرتے ہوئے اعتراض کیا کہ آپ کی جلد سماعت کی پہلی درخواست پر پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے پھر آج تک ہمارا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے نہیں لگا جو کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کی کھلی خلاف ورزی ہوئی ہے یہاں پر جسٹس محمد علی مظہر بولے اسلام آباد ہائیکورٹ نے تو 19 فروری کے آرڈر میں آپ کی اپیلوں پر نوٹس جاری کیا آپ کی سزا معطلی درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کیا اس پر ابھی تک کوئی بحث بھی نہیں ہوئی اس دوران فیصل صدیقی بول پڑے یہ shameful ٹرائل تھا حق دفاع ختم کیا گیا تھا بغیر سنے فیصلہ دے دیا گیا تھا جسٹس محمد علی مظہر نے کہا آپ کہہ رہے ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے آپ کی اپیلوں پر جو آرڈر کیا وہ آرڈر ٹھیک ہے آدھا آرڈر ٹھیک نہیں جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا سزا کتنی ہے ؟ فیصل صدیقی نے کہا سزا 17 سال ہے لیکن کیونکہ یہ اکٹھی چلے گی اس لئے دس سال ہے اور 36 ملین روپے ایک ٹویٹ پر جرمانہ ہے جسٹس محمد علی مظہر نے کہا بغیر نوٹس تو کیس آگے نہیں بڑھا سکتے اسی طرح کا لاہور ہائیکورٹ کا ایک کیس سپریم کورٹ میں آیا تھا تو سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا فیصل صدیقی بولے 19 فروری ہماری سزا معطلی درخواستوں پر نوٹس ہوتا ہے 27 فروری دوبارہ ہماری جلد سماعت کی درخواست پر کیس لگتا ہے تو بنچ ٹوٹ گیا فائل چیف جسٹس کو بھیجوا دی جاتی ہے پھر سپریم کورٹ آنے تک ہمارا کیس مقرر کی نہیں ہوا تھا میرے پاس اب کوئی remedy باقی نہیں رہی میری زندگی میں کبھی نہیں ہوا کسی نے ارجنٹ سماعت کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر کی ہو اور سنی نا گئی ہو اب یہ ہو رہا ہے ہائی کورٹ ایجنٹ سماعت کی درخواست ہی نہیں لے رہی جسٹس محمد علی مظہر نے کہا آپ ارجنٹ کی درخواست (ہائی کورٹ) دے دیں آرڈر تو ہم نے کر دیا تھا فیصل صدیقی بولے وہ ارجنٹ سماعت کی درخواست لے ہی نہیں رہے میں کیا کروں میری درخواست کو بے شک مسترد کر دیں لیکن مجھے سنیں تو سہی جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عام طور پر سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے عبوری حکم پر بھی مداخلت نہیں کرتی ابھی تو ہائیکورٹ نے استغاثہ کو نوٹس بھی جاری نہیں کیا فیصل صدیقی نے کہا یہ غیر معمولی صورتحال ہے ہماری یہ گزارش ہے ہمارا کیس فکس کرکے فیصلہ کریں ہمیں اذیت نہ دیں فیصلہ خلاف کرنا ہے کردیں مگر کیس تو لگائیں چاہے پھانسی دیدیں جو اس کیس میں ہمارے ساتھ ہو رہا ہے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوتے دیکھا اس دوران جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا پراسیکوشن کی طرف سے کوئی ہے ؟ پراسیکوشن کی طرف سے سپریم کورٹ کے اس بنچ کے سامنے کوئی موجود نہیں تھا فیصل صدیقی قدرے جذباتی انداز میں بولے ان (پراسیکوشن) کا وہاں بھی یہی رویہ رہا ہے جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کیس کی سماعت اگلے ہفتے کیلئے مقرر کر رہے ہیں، فیصل صدیقی نے کہا سماعت اگلے ہفتے کے بجائے اس سے اگلے ہفتے مقرر کریں عدالت نے کیس کی سماعت 21 جولائی کے لئے ملتوی کرتے ہوئے پراسیکوشن کو نوٹس کرکے جواب طلب کر لیا
سپریم کورٹ کے 12 مئی کے آرڈر پر عمل درآمد نا کرنے کے حوالے سے بنچ میں شامل تین ججز میں سے کسی نے کچھ نہیں کہا بظاہر اس سے عدالت عظمی کی کمزوری بھی سامنے آئی ہے
If you haven't heard about this, here's the official statement by the Dutch woman who has accused #Pakistan Deputy PM @MIshaqDar50's grandson of rape and kidnapping.
Stephanie Adriana Mau Asam and her Venezuelan friend were lured for "business" by #RazaDar - then kidnapped, gangraped, tortured, beaten and held for $2 million ransom 👇