وادی تیراہ: سروں پر قرآن پاک اٹھائے ہوئے 8 ہزار افراد پر مشتمل برقمبرخیل قومی جرگہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں جانب روانہ، دھرنے میں قبیلہ برقمبرخیل کے مشران ،دینی مدرسوں اور اسکولوں کےطلباء کی بڑی تعداد بھی شریک۔۔جرگہ عسکریت پسندوں کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے امن کی بھیک مانگیں گے۔
اس کے بعد بھی اگر آمن نہیں دیا گیا پر میرے خیال میں پشتون سرکشی پر اترے گے۔۔
ہمارے گھر میں لگی آگ پر ہاتھ مت سینکیں ۔۔۔۔
ہم سمجھتے تھے کہ پختونخوا میں چلتے حالات کے ک�� نہ اٹک پار کے لوگوں کو ادراک ہے نہ سمجھ نہ فکر
لیکن یہاں تو دوسرے ملکوں میں بیٹھے کچھ لوگ جنھوں پتہ نہیں کھبی اٹک بھی پار کیا ہو گا یا نہیں گوگل تصویریں نکال نکال کر کہانیاں گھڑ رہے ہیں ۔۔ان سے صرف اتنی گزارش ہے کہ اپنی حب الوطنی اپنے پلوں سے باندھ کر رکھیں ۔۔پختونخوا کے عوام سے ذیادہ محب وطن کوئی نہیں جو کولیٹرل ڈیمج کے نام پر چالیس سال سے اپنے بچوں کے خون سے اس ملک کی آبیاری کر رہے ہیں ۔شکر کریں کہ آپکی بیٹی کی لاش اس گاڑی پر نہیں تھی پھر میں آپ سے پوچھتی کہ اب کرو گوگل اور مانگو جواب۔۔۔ اس سے پہلے بھی کئی لوگوں نے حب الوطنی کے منجن کے چکر میں کھبی خڑ کمر والوں پر غداری کے بھاشن دئیے تو کھبی اپنی قوم کے بہادر سپوت کی لاش پر کھیل کھیل کر اپنی زندگی حرام کر دی اور اب بلوں سے نہیں نکل سکتے اس لئے کسی کی بربادی پر اپنی دکان چمکانے سے گریز کریں ۔۔
امید ہے اتنا کافی رہے گا ۔۔۔🙏🙏
@AzazSyed
@RShahzaddk
خدیجہ چترالی وہ پہلی خاتون تھیں جنہیں چترال جیسے دورافتادہ علاقے سے عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی نشست پر ٹکٹ ملا۔ وہ ہار گئیں، مگر ANP نے اُنہیں نظرانداز نہ کیا بلکہ مخصوص نشست دے کر ثابت کیا کہ باچاخان کی تحریک آج بھی پسماندہ طبقات، خواتین، اور میڈل کلاس کے ساتھ کھڑی ہے۔
جب میں بلوچستان کے پشتون علاقے سے سینیٹر منتخب ہوا، تو تنقید اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن علی امین گنڈاپور نے پی ڈی ایم کی حمایت کی، پنجاب سے سینیٹرز بنوائے کوئی سوال نہیں اٹھا!مراد سعید کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے،لیکن اس کی نشست پر مکمل خاموشی؟آخر پشتونوں کے لیے اصول اور معیار الگ کیوں؟
مرکزی صدر اے این پی، سینیٹر ایمل ولی خان
#AimalWaliKhan #ANP #MediaTalk
آٹھ سال پہلے فیصل جاوید، فیصل جاوید رانا ہوا کرتے تھے۔ پھر یوتھیوں نے اسکی قومیت بدل کر پختون بنا دیا۔ بس ایک پشتو بھی سکھا دیتے تو کام پکا ہو جاتا۔ 😅😂
صرف کوہستان میں 40 ارب کی کرپشن ہوئی، نیب نے اعظم سواتی کو نوٹس دیا۔ پی ٹی آئی کہتی ہے وہ ملوث نہیں۔ کارکنوں نے عمران خان کی رہائی کیلئے ووٹ دیا، لیکن قیادت جیبیں بھرنے میں مصروف ہے۔
خیبر پختونخواکرپشن کی بہتی گنگا میں ایک معمولی کلرک کی کہانی
اگر ایک کلرک 40 ارب روپے کی چوری کرکے پیٹیاں بھر سکتا ہے تو اندازہ کر لیںں کہ ڈپٹی کمشنر، کمشنر، سیکرٹری اور چیف سیکرٹری سمیت دیگر اعلی حکام کتنے کا ہاتھ مار سکتے ہیں
��وجودہ حکومت شاید مزید دس سال بھی چل جائے، بہترین خادم ملے ہوئے ہیں، اور اُنہیں اور کیا چاہیے؟ بدنامی بھی انہی کی، اور واہ واہ بھی انہی کی! ہماری سیاست اس وقت جوتے صاف کرنے تک محدود ہو چکی ہے، اور جوتے صاف کرنے کا مقابلہ لگا ہوا ہے۔
جنرل حمید گل کی آشیر باد سے پارٹی بنائی۔
جنرل مشرف کو پانچ سال کے لیے ووٹ دیا۔
جنرل ظہیر اور جنرل راحیل(امپائر) کی انگلی کے پیچھے لگے رہے۔
جنرل فیض اور جنرل باجوہ کی مدد سے اقتدار میں آئے اور حکومت کی۔
انصافی کہتے ہیں اُن سے ایک غل��ی ہوئی۔ میں کہتا ہوں خان صاحب عادی مجرم ہیں۔