سرکاری دفاتر میں سائل کو سزا کے طور پر کھڑا کردیا
اوپر سے ڈھٹائی دیکھو ہنس رہا ہے
کیا سرکاری دفاتر عوام کو سزائیں دینے کے لئیے بنائے گئے ہیں جہاں عوام کے حال پر ہنسا جائے
لاہور کے تھانہ شاہدرہ ٹاؤن پولیس کا ایک اور افسوسناک اور شرمناک کارنامہ سامنے آ گیا۔۔۔
تیس سالہ خاتون سائرہ کے اغوا کا مقدمہ اُس وقت درج کیا گیا جب اسے بے دردی سے ق۔ت۔ل کر دیا گیا۔۔۔
مقتولہ سائرہ چار بچوں کی ماں تھی اور اپنے خاوند کے ق۔ت۔ل کے کیس میں ملزمہ تھی، جو دو ماہ قبل ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہا ہوئی تھی۔
دو روز قبل وہ فیروزوالہ کچہری میں پیشی پر آئی، جہاں سے مبینہ طور پر سسرال والوں نے اسے اغوا کر لیا۔۔۔
مقتولہ کی بوڑھی والدہ اپنی بیٹی کی تلاش میں دربدر ہوتی رہی۔۔۔
وہ پہلے تھانہ فیروزوالہ گئی، جہاں پولیس نے بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ “تیری بیٹی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی، خود ہی واپس آ جائے گی” اور اسے ٹال دیا۔۔۔
مایوس ماں اپنے متعلقہ تھانے سبزار گئی، مگر وہاں بھی کسی نے اس کی فریاد نہ سنی۔۔۔
آخر کار اس نے 15 پر کال کی، جس کے بعد اسے تھانہ شاہدرہ ٹاؤن بلایا گیا۔۔۔
مگر وہاں بھی انصاف نہ ملا۔۔۔
پولیس نے اپنی مرضی کی درخواست لکھ کر، بغیر کوئی کارروائی کیے، بوڑھی ماں کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ “صبح آنا”۔۔۔
وہ ماں اپنی بیٹی کی زندگی بچانے کے لیے تھانوں کے چکر لگاتی رہی۔۔۔ مگر کسی نے ذمہ داری نہ لی۔۔۔
اگلے روز جب وہ دوبارہ تھانے پہنچی تو ابھی مقدمہ بھی درج نہ ہو سکا تھا کہ ایک فون کال نے اس کی دنیا اجاڑ دی۔۔۔
سائرہ کو مریدکے کے علاقے ننگل ساداں میں بے دردی سے ق۔ت۔ل کر دیا گیا۔۔۔
اس پر انسانیت سوز تشدد کیا گیا۔۔۔ جسم کو جلایا گیا، ہونٹ اور کان کاٹے گئے، نازک حصوں پر سگریٹ سے جلایا گیا اور آخر میں 6 گولیاں مار کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔۔۔
یہ ظلم یہاں ختم نہیں ہوا۔۔۔
تھانہ صدر مریدکے پولیس نے بھی بے حسی کی انتہا کرتے ہوئے سائرہ کی لاش کو کوڑا اٹھانے والی ٹرالی میں ڈال کر ہسپتال منتقل کیا۔۔۔
جب ق۔ت۔ل کی خبر سامنے آئی تو تھانہ شاہدرہ ٹاؤن پولیس نے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے فوری اغوا کا مقدمہ درج کر لیا۔۔۔
مقتولہ کی ماں آج بھی انصاف کے لیے رو رہی ہے۔۔۔
اور سی سی ڈی کے انچارج سہیل ظفر چٹھہ اور وزیر اعلیٰ مریم نواز سے اپیل کی کہ اس کی بیٹی کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔۔۔
یہ واقعہ صرف ایک قتل نہیں، بلکہ نظام کی بے حسی، پولیس کی نااہلی اور انسانیت کے زوال کی دردناک مثال ہے۔۔۔
آخر کب تک غریب ماں باپ اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے
ایم پی اے پی پی 277 نادیہ فاروق کھر کہ شوہر معین کھر نے اپنے کزن کی ملازمہ کے ساتھ ظلم کی انتہا کر دی بیچاری لڑکی یتیم ہے چھوٹی سی بات پر اس پر قہر برسا دیا یہ لوگ سیاست کے نشے میں ا کر انسان کو انسان نہیں سمجھتے یہ فرعون بن چکے ہیں یتیم لڑکی نے سائیکل دینے سے منع کیا اور معین کھر جو نادیہ فاروق کھر کا شوہر ہے اس نے یتیم لڑکی کی ایک بھی نہ سنی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کتنا ظلم ہوا ھم پر ضور مذمت کرتے ہیں۔ اعلئ حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل
عمران خان صاحب کی بہن کے نام سے منصوب یہ اکاؤنٹ فیک ہے 👇
@noreen_khanum
اس اکاؤنٹ سے کئے گئے ایک ٹویٹ کو بنیاد بنا کر ڈان نے لکھ دیا کہ عمران خان کی بہن کے مطابق ان کی آنکھ بہتر ہو رہی ہے
اس اکاؤنٹ کو رپورٹ کیا جانا چاہیے
شوکت خانم کینسر اسپتال کراچی کو دسمبر 2026 تک آپریشنل کرنے کے لئے 9 ارب روپے کی ضرورت ہے لاہور و پشاور کے بعد کراچی کا اسپتال بھی آپ کے عطیات کا منتظر ہے اس رمضان میں اپنی زکوٰۃ اور عطیات شوکت خانم اسپتال کو دیجئیے تفصیلات کے لئے
https://t.co/29R8bisgv1
https://t.co/ZYy4sxgJjp
نیتن یاہو اور ٹرمپ مل کر ایران میں رجیم چینج کا منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں نیتن یاہو نے ایرانی عوام کو مخاطب کیا اور فارسی کا لفظ آزادی استعمال کیا وہ ایرانیوں سے کہتے ہیں وہ اپنی آزادی کے لئے اُٹھ کھڑے ہوں حالانکہ انہوں نے خود اسرائیل میں آزادی اظہار پر بہت سی پابندیاں لگا رکھی ہیں
انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند، وینزویلا کے بعدٹرمپ کو ایران میں رجیم چینج چاہئیے، افغانستان کابگرام ائر بیس چاہیئے اور گرین لینڈ بھی چاہیئے اس صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ مودی اٹھانے کی کوشش کریگا وہ آزاد کشمیر پر حملہ کر سکتا ہے اس لئے پاکستان میں داخلی استحکام بہت ضروری ہے
دعویٰ یہ ہے کہ خان کو مائنس کر دیا جائے گا ۔ تاریخی یہ نہیں کہتی۔ عوامی تحریکیں کبھی نہیں مرتیں۔ مصالحت کرنا ہوگی ورنہ معیشت اور سول ادارے سب مکمل طور پہ برباد۔ عمران خاں کا کیا بگڑے گا؟ ۔
کب نکلتا ہے کوئی دل میں اتر جانے کے بعد
اس گلی میں دوسری جانب کوئی رستہ نہیں
یہ بچہ کراچی ایئرپورٹ سے افریقہ کے کسی ملک سمگل کیا جا رہا تھا لیکن یہ کوشش ناکام ہو گئی ھے۔
بچہ بہت چھوٹا ھے جو بول نہیں سکتا اور نہ والدین کا بتا سکتا ھے،
آپ سب سے گزارش ہے کہ اس ویڈیو کو شیئر کریں، تاکہ یہ معصوم اپنے والدین تک پہنچ جائے۔
اللہ اس بچے اور تمام معصوم بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھے آمین یارب العالمین 🤲
اتفاق سے عمران خاں کے ساتھ طویل عرصہ گزارا۔ کئی سفر کئے۔سینکڑوں شامیں ایک ساتھ گزاریں ۔کئی بار رات گئے 30 کلو میٹر دور وہ مجھے گھر چھوڑنے آ ئے۔ہر بات خان سے منوائی جا سکتی ہے مگر دباؤ سے ہرگز نہیں۔ دلیل اور محبت کے ساتھ۔ باقی آپ کی مرضی۔
عمران خان کے بہنوں پر تشدد۔۔۔دسمبر کے مہینے میں رات کے 2 بجے اڈیالہ جیل کے سامنے اپنے بھائی کی ملاقات کیلئے آئے نہتے بزرگ خواتین پر بدترین تشدد سے ثابت ہوگیا کہ یہ حکومت اور اس کے سرپرست ذہنی مریض ہیں،عمران خان کی بہنوں کا اپنے بھائی سے ملاقات کا مطالبہ ایک آئینی، قانونی انسانی حقوق پر مبنی مطالبہ ہے،عمران خان کی بہنوں ہر واٹر کینن سے حملہ کرنا،سڑک یر گرانا،پتھر پھینکنا اور تشدد کرنا بدترین فسطائیت اور حکومتی دہشتگردی ہے،بندوقوں والے نہتے خواتین سے ڈر رہے ہیں، ظلم اور جبر کیخلاف جدوجہد میں عمران خان اور ان کے خاندان کا ساتھ دیتا رہوں گا۔
#بریکنگ#نیوز
ایبٹ آباد سے اغواء ہونے والی لیڈی ڈاکٹر وردا مشتاق کا معمہ مزید گہرا
مرکزی ملزمان گرفتار اور اقرار جرم لیکن مغویہ کا ابھی تک سراغ نہ مل سکا
جس کے باعث خاندان اور عوام شدید بے چینی اور اضطراب کا شکار ہیں۔
پولیس نے اغواء کیس میں ملوث مرکزی ملزمہ ردا اس کے شوہر وحید بلا اور مبینہ طور پر اس گھناؤنے فعل میں شامل لڑی بنوٹہ ٹھنڈیانی کے خطرناک ڈکیت و منشیات فروش گروہ کے سہولت کار ندیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے اور اسکی نشاندہی پر اندرون شہر اور بیرون شہر متعدد مقامات پر پولیس کی چھاپہ مار ٹیمیں مغویہ کی برآمدگی اور گروہ کے سرغنہ کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اگر ڈاکٹر وردہ کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار کپڑے کے تاجر وحید اس کی اہلیہ ردا ، ڈکیت و منشیات فروش گروہ کا سرغنہ شمریز اور ندیم تو ہوں گے مگر انکے ساتھ اتنا ہی زمے دار تھانہ کینٹ کا ناتجربہ کار اور سفارشی ایس ایچ او بھی ہوگا جس نے بروقت کوئی کاروائی نہیں کی اور ڈاکٹر وردا کی سہیلی مرکزی ملزمہ ردا اور اس کے شوہر کو واپس گھر بھیج دیا اور اسکے لواحقین کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ،دو دن تک ڈی پی او ہارون الرشید کو اس کیس سے مکمل طور پر لاعلم رکھا ، جب ڈی پی او کے نوٹس میں یہ کیس آیا تو انھوں نے ملزمہ اور اس کے شوہر کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیا ، تفتشی ٹیم تشکیل دی جس نے ملزمہ سے سچ اگلوایا۔
ملزمہ کے مطابق ڈاکٹر وردا کو وہ اپنی گاڑی میں ڈی ایچ کیو ہسپتال سے جدون پلازہ والے گھر میں لے کر گئی گھر کے اندر ندیم نامی ڈکیت و منشیات فروش اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھا،ڈاکٹر کو ان کے حوالے کر کے ملزمہ وہاں سے اپنی گاڑی اور ڈرائیور کے ہمراہ نکل گئی ، ندیم اور گینگ کا سرغنہ شمعریز نامی شخص نے ڈاکٹر وردا کو وہاں سے سوزوکی کے ذریعے منتقل کیا ، ملزمہ کی نشاندہی پر نواں شہر پولیس نے بڑا آپریشن کر کے ندیم کو گرفتار کیا تو اس نے جو حقائق پولیس کو بتائے اس کے بعد پولیس نے ٹھنڈیانی کے جنگلات اور ندی نالوں میں ڈاکٹر وردا کی بازیابی اور تلاش کے لئے آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اور قریں قیاس یہ ہے کہ انہیں ق ت ل کر دیا گیا ہے۔
اہلِ خانہ خصوصاً ڈاکٹر کے والد انتہائی ذہنی اذیت اور صدمے کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔
آئندہ چند گھنٹوں میں پولیس کی جانب سے بڑے بریک تھرو کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، تاہم مختلف افواہوں نے عوام کے دلوں میں خوف، بے چینی اور افسردگی پیدا کر دی ہے۔
عوامی حلقے یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ایس ایچ او کینٹ اور ان کی ٹیم نے بروقت کارروائی کی ہوتی تو شاید آج ڈاکٹر وردا مشتاق بازیاب ہو چکی ہوتیں۔ دوسری جانب یہ خدشہ بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر زندہ بھی ہیں یا نہیں — اس میں کوئی مصدقہ اطلاع تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
دوسری جانب ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر معظم خان نے کہا ہے کہ چار دن گزر جانے کے باوجود ڈاکٹر وردہ کی بازیابی نہ ہونا اداروں کی سنگین نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا کھلا ثبوت ہے۔
اسی غفلت کے خلاف بطور احتجاج کل بروز سوموار بینظیر بھٹو شہید ہسپتال ایبٹ آباد میں تمام الیکٹو سروسز کا بھرپور اور مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔
ڈاکٹرز برادری واضح کرتی ہے کہ ڈاکٹر وردہ کی فوری اور محفوظ بازیابی کے سوا کوئی دوسری بات قابلِ قبول نہیں۔