بالی ووڈ کے معروف اداکار نانا پاٹیکر نے کسی بھی قسم کی پرواہ کیے بغیر کھلے عام اسلام اور اذان سے اپنی محبت کا اظہار کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، اپنے نواسے کی پیدائش پر نانا پاٹیکر نے روایتی ہندو نام رسموں کے بجائے مہاراشٹر کے ایک مدرسے کے استاد کو بلا کر بچے کے کان میں اذان دلوائی۔ یہی نہیں، بلکہ انہوں نے مدرسے کے 120 سے زائد بچوں کے لیے نئے کپڑوں کا تحفہ بھیجا، ان کے لیے بہترین کھانے کا اہتمام کیا اور خود ان بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھایا۔
نانا پاٹیکر کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اذان کا ترجمہ سمجھا، تو ان کے دل کو عجیب سا سکون ملا، اسی لیے انہوں نے اپنے نواسے کو بھی زندگی کی شروعات میں اس پاک کلام کا تحفہ دیا۔
اس عمل پر ہندو متشدد حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی تو نانا پاٹیکر نے بغیر کسی خوف کے دبنگ انداز میں سب کا منہ بند کراتے ہوئے کہا کہ "میں اپنے دم پر کماتا اور جیتا ہوں، مجھے کسی کی پروا نہیں۔"
سچی بات تو یہ ہے کہ جب کوئی انسان تعصب کی پٹی اتار کر حق اور سکون کی تلاش میں نکلتا ہے، تو دنیا کی کوئی تنقید اس کی سوچ پر اثر انداز نہیں ہو سکتی
“پی ٹی آئی ایک ایسی دیوار بن چکی ہے جسے عطا تارڑر جیسے عطائی یاجوج ماجوج کی طرح ساری رات لمبی لمبی زبانوں سے چاٹتے رہتے ہیں پھر یہ سوچ کر سو جاتے ہیں کہ دیوار پتلی ہو گئی ہے صبح اٹھ کر دیکھتے ہیں تو دیوار پہلے سے بھی مظبوظ کھڑی ہوتی ہے”(حسن نثار )🤣🔥
استاد بات تو تمہاری ٹھیک ہے لیکن جو کچھ تم اور تمارے "پے" نے کیا ہے وہ کیسے قابل قبول ہے؟ وہ کیسے جائز ہے؟
یمن کے خلاف جارحیت، پونے چار لاکھ یمنیوں کا قتل، جس میں 85 ہزار بچے تجے جو بھوک اور بیماریوں سے مر گئے، وہ کیسے جائز تھا؟
ایران کی ساری قیادت اس وقت شہید کر دی جب ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھا تھا۔ انڈسٹری اور انفراسٹرکچر پر بمباری کی، اسکول، سپورٹ سنٹرز، شادی سینٹر اور پلوں پر بمباری کی، وہ کیسے قابل قبول ہے؟ کیسے جائز ہے؟
کیا تم نے اپنی حکومت اور امریکہ کی اس دہشتگردی کی مذمت کی؟
ظاہر ہے جن کے خلاف جارحیت ہوئی ہے انہوں نے کچھ تو بند کرنا ہے تا کہ تم آئیندہ ایسی جسارت نہ کر سکو۔ انہیں تمہارا ٹیٹوا ملا انہوں دبا دیا۔ ان رو کیوں رہے ہو؟ مرد بنو لڑو۔ جنگ ہے۔
میں کوئی نَن نہیں ، نہ ہی میں کنواری ہوں،لوگوں سے ملتی ہوں،سیکس بھی کرتی ہوں ؛گیتا ماں
بالی وڈ کی معروف کوریوگرافر گیتا کپور، جنہیں شائقین محبت سے ’گیتا ماں‘ کہتے ہیں، نے اپنی نجی زندگی، جذبات اور قربت سے متعلق اپنے سابقہ بیان پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض ’گیتا ماں‘ کا لقب مل جانے سے ان کی ذاتی زندگی ختم نہیں ہوجاتی۔ جنوری 2026 میں ان کے بیان پر بحث کے بعد انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے الفاظ پر آج بھی قائم ہیں۔
گیتا کپور نے کہا کہ وہ ایک عام انسان ہیں اور ان کے بھی جذبات اور ذاتی خواہشات ہیں۔ ان کے مطابق لوگوں نے انہیں ایک ایسا درجہ دے دیا ہے جس کے بعد وہ یہ تصور کرنے لگتے ہیں کہ ان کی زندگی میں عام انسانوں جیسے جذبات یا تعلقات نہیں ہوسکتے۔
اپنے پہلے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے گیتا نے کہا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ خود کیا کرتی ہیں، بلکہ سوال یہ تھا کہ لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کرتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی نجی زندگی میں قربت یا جسمانی تعلق رکھتا بھی ہے تو اس میں آخر برائی کیا ہے۔
یادرہے انھوں نے اسی سال کی ابتدا میں اک انٹرویو کے دوران کہا تھا “میں کوئی نَن نہیں ہوں، میں لوگوں سے ملتی ہوں، ڈیٹ کرتی ہوں اور انٹیمیٹ بھی ہوتی ہوں۔”
گیتا نے کہا کہ وہ اپنی سیکس لائف اور ذاتی زندگی سے مطمئن ہیں اور اپنے بیان پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’گیتا ماں‘ کا لقب ان کے شاگردوں اور مداحوں نے محبت سے دیا ہے، لیکن اس لقب کی وجہ سے انہیں ایک ایسے کردار میں محدود نہیں کیا جاسکتا جس میں انسانی جذبات کی گنجائش نہ ہو
وقت کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے پیچھے صرف یادیں رہ جاتی ہیں
عینک والا جن کی سب سے کم عمر اداکارہ معطر بخاری عاصم بخاری مرحوم کی صاحبزادی ہیں 5 سال کی عمر میں "عینک والا جن" سے اداکاری کا اغاز کیا اور پھر متعدد ڈراموں میں کام کیا اچانک والدہ کے منع کرنے پر اداکاری چھوڑی اور تمام توجہ اپنی تعلیم پر مرکوز کر لی پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا اور شوکت خانم ٹرسٹ کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرتی رہیں پھر چند سال بعد شادی کی اور انگلینڈ چلی گئی
آج کل اپنے بچوں اور شوہر کے ساتھ انتہائی خوشگوار زندگی بسر کررہی ہیں
عاصم منیر کی گردن پھنس چکی ہے۔ دھرنے کو مؤخر کرنے کی اسٹریٹجی نے عاصم منیر کی گردن کو پھنسا لیا ہے۔ اس کے اپنے تیار کردہ ہاتھیوں نے اس کے لشکر کو کچل دیا ہے۔
جو ہتھیار منگوائے گئے ہیں، نیٹ کیچر وغیرہ، وہ اسے پہلے صرف اسرائیل نے فلسطینیوں پر استعمال کرتے ہوئے دیکھے ہیں۔ تم خود کو CDF کہتے ہو اور خواہش تمہاری IDF بننے کی ہے۔
روزانہ فورسز میرے گھر کو گرانے اور چھاپہ مارنے آ جاتی ہیں، بزدلو! مجھے گرفتار کرنا ہے تو کرو، میری نیند کیوں خراب کرتے ہو!
آپ کا انجام ابراہا اور ٹیرکوٹا فوج کا ہوگا۔ پورا ملک، پختون، سندھی، بلوچ اور پنجابی، تمہارے خلاف کھڑا ہے۔
پھر مشورہ ہے اڈیالہ جاؤ! عمران خان کے آگے سرینڈر کرو!
پہلے وہ ملحد تھا حال ہی میں اس نے اسلام قبول کیا تھا اور اپنا نام عمر فاروق رکھا تھا اپنا نام اس نے اسلام کا مطالعہ کرنے اور اسلام کے ابتدائی دور میں لوگوں کے اسلام لانے کے متعلق پڑھنے کے بعد رکھا تھا اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے پوری توجہ سے اسلام کو سیکھنا شروع کر دیا تھا
👇
فرج میں ایک انڈا اور گھر میں پانچ لاشیں…
کراچی کے احسن آباد میں ایک فلیٹ سے ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تین کمسن بیٹیوں کی لاشیں ملیں۔
پولیس کے مطابق لاشیں کئی روز پرانی تھیں اور فلیٹ اندر سے بند تھا۔ ڈاکٹر عمر جگر کے کینسر میں مبتلا تھے، گھر کے مالی حالات بھی خراب بتائے گئے اور وہ اپنی ملازمت چھوڑ چکے تھے۔ موت کی حتمی وجہ کا تعین تحقیقات اور طبی رپورٹس کے ذریعے ہونا تھا۔
لیکن اس خبر نے ایک اور سوال ہمارے سامنے رکھ دیا ہے:
ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کو واقعی کتنا جانتے ہیں؟
ممکن ہے ہمارے پڑوس میں کوئی ایسا شخص ہو جو بیماری، بے روزگاری یا مالی پریشانی سے لڑ رہا ہو مگر کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلا رہا ہو۔
سفید پوش انسان کی سب سے بڑی تکلیف یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ بھوکا رہ سکتا ہے، مگر اپنی ضرورت بتانے سے شرما سکتا ہے۔
اسی لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ:
"اگر ضرورت تھی تو مانگ لیتے۔"
کبھی ضرورت مند مانگتا نہیں…
وہ خاموش ہوجاتا ہے۔
کبھی اس کے گھر کی خاموشی، اس کی مدد کی آخری پکار ہوتی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں الزام لگانے سے پہلے اپنے گھروں اور اپنے محلوں کی طرف دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔
کیا ہمارے پڑوس میں کوئی بیمار ہے؟
کیا کسی کے گھر میں کئی دن سے راشن نہیں آیا؟
کیا کوئی باپ بچوں کی فیس، دوا یا دو وقت کی روٹی کے درمیان پھنس گیا ہے؟
کیا کوئی ماں اپنی ضرورت چھپا کر بچوں کو یہ کہہ رہی ہے:
"بیٹا، آج یہی کھا لو… کل کچھ اچھا بنائیں گے۔"
ہم ہر سانحے کا ذمہ دار فوراً کسی ایک فریق کو قرار دے دیتے ہیں۔
مگر بعض اوقات اصل سوال اس سے پہلے آتا ہے:
کیا ہم نے اپنے آس پاس کے لوگوں کی خاموش چیخیں سننے کی کوشش کی؟
اپنے پڑوسی کو دیکھیں۔
اپنے رشتہ دار کو دیکھیں۔
اپنے ساتھ کام کرنے والے کو دیکھیں۔
کسی کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر اس کی مدد کریں۔
کیونکہ ہوسکتا ہے آپ کے لیے ایک راشن کا تھیلا، ایک دوا، ایک کھانے کا پیکٹ یا چند ہزار روپے معمولی ہوں…
مگر کسی دوسرے گھر کے لیے وہی چیز ایک خاندان کو سنبھالنے کا آخری سہارا ہو۔
مدد اس وقت کریں جب کوئی مانگے نہیں…
کیونکہ بعض لوگ ضرورت میں بھی "مجھے مدد چاہیے" نہیں کہہ پاتے۔
پنجاب پولیس کے ایک افسر نے مجھے چند تصویریں بھیجی میری فورس پر بہت ظلم ہو رہا ہے اس نے تصویریں بھیجی پنجاب پولیس والوں کو زمینوں پر سلایا جارہا ہے روٹی اچھی نہیں مل رہی تو بھائی ایسے میں اگر اچھی دال آپ نہیں کھائیں گے ککڑ نہیں کھائیں گے تو ہماری ماؤں بہنوں کا دوپٹہ کیسے چھینو گے یہ میں افسر صاحب سے مخاطب ہوں میں جو بھی ہو رہا ہے اچھا ہو رہا ہے
عدیل راجہ
اسرائیل کا رقبہ 22 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ تہران شہر کا 19 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔
تہران کی آبادی ایک کروڑ سے زیادہ ہے۔ اسرائیل کی ایک کروڑ سے کم ہے۔
یہ ہے اسرائیل جو سات ممالک سے جنگیں لڑ رہا ہے اور عرب ممالک کے بیشتر حصوں کو کاٹ کر سعودی عرب جتنا بڑا ملک بننے کا منصوبہ بنا چکا ہے۔
جانتے ہیں کیسے؟ کیونکہ دنیا بھر کی صہیونی گروہ اس کے ساتھ ہیں۔ امریکہ میں کانگریس سے لے کر پینٹاگون تک ان کا کنٹرول ہے۔
برطانیہ میں صہیونی لابی کی طاقت کق یہ حال ہے کہ جرمی کوربن جو لیبر پارٹی کا لیڈر تھا، برطانیہ کا اگلا وزیراعظم تھا، اسے اس کی اپنی پارٹی سے نکلوا دیا کیونکہ وہ فلسطین کا سپورٹر ہے۔
🚨🚨ایسی بوڑھی روحیں ہمیشہ مسلمانوں کی بدنامی اور نقصان کا باعث بنی ہیں ۔ترکی ما مہان ایکٹر کبھی نہیں چاہے گا عمران خان باہر ائے اور ان یہودی دستوں کو للکارے ۔ان کی حکومتیں اس لیے قائم ہے کیونکہ کوئی بھی اسلامی دنیا کا لیڈر سرے عام ان کی منافقتوں کو بے نقاب نہیں کرتا ۔اگر خان باہر ہوتا کیا وہ غزہ پر خاموش رہتا کیا وہ ان منافقوں سے سوال نہ کرتا ؟ لیکن سارے منافقین چاہتے ہی نہیں عمران باہر ائے ۔ورنہ ان کی عوام نے ان کے خلاف ہو جانا ہے ۔
پنجابی کی ایک ضرب المثل کا اردو میں ترجمہ ہے
“جولاہے کی خرمستیاں اپنی ماں بہن کے ساتھ”۔
کچھ لگتا ہے کہ پنجاب پولیس نے چند ایک کے علاوہ سارے ہی جولاہے جمع کر کے ان کو وردیاں پہنا دی ہیں۔ لیکن ان کو یہ بھی یاد رکھنا پڑے گا کہ چند روز پہلے ایک ایس ایچ او کے ساتھ، ایک نوجوان لڑکے نے غیر قانونی طور پر گھر میں گھسنے پہ کیا سلوک کیا تھا وہ بھی سڑک پر دن دہاڑے اور سب کے سامنے۔
عوام کے صبر کی حد سے زیادہ ازمائش کسی کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہو گی۔ باقی، سارے خود سمجھدار ہیں۔
🚨🚨سعودی اور اماراتی حکمرانوں نے آمریکا کی ایران کے خلاف فوجی اور اقتصادی جارحیت دونوں میں مکمل ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران کا محاصرہ جاری ریے گا۔ اقتصادی دہشتگردی میں شدت آئے گی۔ اور 3 نومبر کے انتخابات کے بعد امریکا جب all-out war شروع کرے گا تو دونوں عرب ملک اس میں بھی شامل ہوں گے۔ دونوں کے پاس طاقتور ائر فورسز ہیں۔ پائلٹس دوسرے ملکوں سے لے لیں گے۔
مطلب یہ کہ ایران کو امریکہ اور خلیجی کے عرب ممالک کی مکمل جارحیت کا سامنا ہوگا۔
جارحیت کے جواب میں ایران اپنے دفاع کے لئے وہ سب کچھ کرے گا جو لازمی ہے۔
جو ذرائع مذاکرات اور برف پگھلنے کی خبریں دے ریے ہیں وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ جنگ کی تیاری کریں۔ یہ ایسی جنگ ہوگی جو پہلے آپ نے اپنی زندگیوں میں نہيں دیکھی ہوگی۔