عمران خان کو جیل میں اس لیے بھی رکھا گیا کہ اُس نے القادر یونیورسٹی بنائی، جہاں آج بھی نبی ﷺ کی سیرت اور تعلیمات پڑھائی جا رہی ہیں۔
وزیرِ مذہبی امور ڈاکٹر عدنان قادری
#ReleaseImranKhan
@ShabbirDar5 سر مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہے جو کچھ کشمیر پر انڈیا نے قبضہ کر لیا کچھ پر پاکستان نے اور کچھ پر چین نے ۔۔۔
کشمیریوں کو ہر طرف سے چھتر پڑ رہے ہیں ۔
رضا ڈار گینگ کا شکار ہونیوالی غیر ملکی خواتین پر پولیس 1 گھنٹہ سے زیادہ تک مریم نواز کے حق میں ویڈیو بنانے کے لیے شدید دباؤ ڈالتی رہی جبکہ پولیس نے دونوں خواتین سے سادے کاغذوں پر پریشر ڈال کر دستخط بھی کروائے۔
نصرت جاوید نے شکوہ کیا ہے میری 35 سال کی صحافت کے بعد مجھے سراہا نہیں گیا جس پر ن لیگ کے صحافی ابصار عالم نے بھی شکوہ کیا کہ مجھے بھی صحافت کا صلہ نہیں ملا
ابصار عالم صاحب آپ کا شکوہ اس طوائف جیسا ہے جو ساری زندگی پیسے کے لیے اپنے گاہکوں کو خوش کرتی ہے اور 35 سال بعد کہتی ہے مجھے سچا پیار نہیں ملا اس طوائف کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس نے جو کچھ کیا تھا وہ پیسے کے لیے کیا تھا
ابصار عالم صاحب آپ نے بھی صحافت کی ہی نہیں تھی آپ نے شریف خاندان کے گھر کی نوکری کی تھی جس کے بدلے آپ کو عہدے، مراعات، بڑے چینلز میں نوکریاں ملیں
آپ نے ضمیر بیچا قلم بیچا غیرت بیچی آپ نے خاندانوں کے خاندان تباہ کیے، شریف خاندان کے مظالم کی پردہ پوشی کی ہر اس جرنیل کو والد گرامی جیسا درجہ دیا جس جرنیل سے آپ کے روحانی باپ نواز شریف کو فائدہ پہنچا
آپ کی حالت اس بازاری دلے جیسی ہے جو ساری زندگی دلا گیری کرتا رہا اور اب علاقے کے معززین سے شکوہ کر رہا ہے مجھے بھی اپنے ساتھ بٹھاؤ میں بھی آپ کا ہی علاقہ مکین ہوں
جرنیلوں تم آؤ گے
اپنی گودڑی اٹھاؤ گے اور چلے جاؤ گے۔ تمہاری نظر اسلام آباد کے ایک ایک سیکٹر پر ہے، تم مونال پر قبضہ چاہتے ہو، تم پورے پاکستان پر قابض ہو۔ مگر یاد رکھو، اقتدار ہمیشہ کے لیے کسی کے پاس نہیں رہتا۔ اس ملک کا اصل مالک عوام ہے، نہ کہ بندوق کے زور پر فیصلے کرنے والے جرنیل۔
تمہاری حکومت اتنی کمزور ہے کہ تم مولانا فضل الرحمٰن کو گرفتار نہیں کر سکتے، اور نہ اکیلے جاوید ہاشمی کو خاموش کرا سکتے ہو۔ مولانا کے لاکھوں پیروکار ہیں، مگر اصل طاقت عوام کی ہے۔
آج میں آپ کو دو کہانیاں سناتا ہوں، جو ہمارے جرنیلوں اور آج کے ملکی حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔
پہلی کہانی
آپ کو محمد شاہ رنگیلا اور سائرہ تو یاد ہوگی
ایک وقت تھا جب محمد شاہ رنگیلا دہلی پر حکومت کرتا تھا۔ اسے شراب و شباب سے فرصت نہ تھی۔ نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا، قتلِ عام کیا، شہر اجاڑ دیا۔ جب محمد شاہ کو بتایا جاتا کہ نادر شاہ دہلی میں داخل ہو چکا ہے تو وہ بے پروائی سے کہتا: “کوئی ایک آدھا شہر لے جائے گا تو کیا ہو جائے گا؟” اور پھر اپنی طوائف سائرہ کی طرف اشارہ کر کے کہتا: “سائراں دے، جھوٹا!” مطلب سائرہ جھولاجھلاتی رہو!
آخرکار نادر شاہ اس تک پہنچ گیا، مگر کہا: “میں تمہیں اپنا بھائی بناتا ہوں، حکومت نہیں لوں گا۔” محمد شاہ کوہِ نور اپنی پگڑی میں چھپا چکا تھا۔ نادر شاہ نے کہا: “ہمارا دستور ہے کہ بھائی بنتے وقت پگڑی بدلی جاتی ہے۔” پگڑی بدلی گئی، اور کوہِ نور بھی چلا گیا۔
دوسری کہانی
ایک ملک میں نیا بادشاہ بنانا تھا۔ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ صبح جو پہلا آدمی سامنے آئے گا، اسے بادشاہ بنا دیں گے۔ ایک شخص گودڑی اٹھائے آ رہا تھا، اسے بادشاہ بنا دیا گیا۔
وہ ہر مسئلے کا ایک ہی جواب دیتا: “پکاؤ حلوہ!”
ملک پر حملہ ہوا، تب بھی اس نے کہا: “پکاؤ حلوہ!” وہ کہتا تھا: “تم نہیں جانتے میری گودڑی میں کیا ہے۔” جب دشمن اس تک پہنچ گیا تو اس نے کہا: “میں تو حلوہ کھانے آیا تھا، لوگوں نے مجھے بادشاہ بنا دیا۔” اس نے حلوہ کھایا، اپنی گودڑی اٹھائی اور چلتا بنا۔
جب مشرقی پاکستان میں جنگ چھڑی تو یحییٰ خان کا طرزِ عمل بھی کچھ ایسا ہی تھا۔
آج بھی ہمارے جرنیل اسی ذہنیت کے اسیر دکھائی دیتے ہیں۔ اقتدار آتا ہے، وسائل پر قبضہ ہوتا ہے، حلوہ تقسیم ہوتا ہے، اور پھر گودڑی اٹھا کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ نقصان مگر پاکستان کا ہوتا ہے، قیمت عوام ادا کرتے ہیں، اور تاریخ نئے ناموں کے ساتھ پرانی غلطیاں دہراتی رہتی ہے۔ اپنا حلوہ کھاؤ گے اور بھاگ جاؤگے!
سہیل آفریدی کو مروت ، گنڈاپور سے زیادہ ٹائم ملا۔ سہیل آفریدی پر بوجھ بھی گنڈاپور اور مروت وغیرہ سے زیادہ آئے گا اور انجام بھی زیادہ بھیانک۔ جس ڈھٹائی اور بے شرمی کا مظاہرہ سہیل آفریدی اور اسکے گینگ نے کیا ہے کسی دوسرے نے نہیں کیا۔ تنقید ہوئی تو کنٹینر کا پھیرا لگا آیا۔ بجٹ سرپلس دینے کا موقع آیا تو اڈیالہ جانا شروع کردیا۔ بجٹ پاس ہوگیا تو اڈیالہ جانا بند کردیا۔ جلسے جلوسوں میں بڑھکیں شروع کردیں۔ لوگ زیادہ نکلنا شروع ہوگئے تو ریلیوں کا سلسلہ ختم کردیا۔ عمران خان کی آنکھ کے مسئلے پر احتجاج ہوا تو پختونخواہ ہاوس میں خود ساختہ محصوری اختیار کرلی۔
جمشید خان کو مولانا کا جواب نہ ملا۔ اب وہ F8 میں زرداری ہاؤس اور پھر رائیونڈ جاتی امرا کے باہر بھی جاکر سوال کریں گے کہ نواز شریف اور آصف زرداری کی رہائشگاہوں کا خرچہ، درجنوں گاڑیوں کی ملکیت، پیٹرول، ملازمین کی تنخواہوں اور کچن کا خرچہ کون چلاتا ہے؟
مولانا فضل الرحمن کا دادا افغانستان سے ہجرت کر کے آیا تھا یہ سارے افغانی ہے۔(فیاض الحسن چوہان سوشل میڈیا رپورٹ)
اگر افغانی نسبت آپ اور آپ کے آقا کےلئے باعث شرمندگی ہے تو پھر،، غوری میزائل ،، ابدالی میزائل۔ اور غزنوی میزائل کے نام بدل دیجئیے کیونکہ تینوں افغانی تھے۔
🚨🚨#BREAKING: @EUPakistan GSP+ monitoring mission in its report expressing concerns says “recent amendments to the Anti-Terrorism Act and related legislation in Balochistan and Punjab?' appear to authorise preventive, arbitrary detention without charge or trial and without meaningful judicial review or effective remedies. Together with other legislation such as the Actions (in Aid of Civil Power) Regulation, this risks blurring the line between legitimate law enforcement measures and enforced disappearances, and being used in a discriminatory or disproportionate manner against persons belonging to minority groups, political dissidents, human rights defenders, journalists, students and family members of victims?”
@miandawoodadv یہ اب بروتھل ہاؤس بن چکی ہیں 26 اور ستائیسویں ترمیم کے بعد۔
اگر آپ جیسا رجیم کا ٹاؤٹ رو رہا ہے تو سوچیں رجیم اپنے مخالفین کے خلاف ان بروتھل ہاؤسز کو کیسے استعمال کرتی ہو گی۔
اگر کوئ ٹاؤٹ لاشوں کے قریب کہیں بھنگڑے ڈالتا نظر آۓ تو بُرا نا منائیں، ٹاؤٹ اپنے بال بچوں کیلئے رزق کما رہا ہے۔اُس کے پاس کوئ اور فن نہیں جسے بیچ کر وہ اپنے بال بچوں کیلئے کمائ کر سکے۔
احساس کا تعلق ضمیر سے ہے، جس انسان کا دل دھڑکتا ہو، ضروری نہیں کہ اُس کا ضمیر بھی زندہ ہو۔
بریکنگ نیوز:
نیب ترمیم کیس میں حکومت نے اپنی کوتاہی تسلیم کر لی
"اللہ کا واسطہ ہے سپریم کورٹ مکمل طور پر اپنا اختیار سرنڈر نہ کرے" ایڈوکیٹ عباد الرحمان لودھی کی جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ھلالی اور جسٹس شاھد بلال کے بنچ کے سامنے دہائی۔
سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران ڈرامائی صورتِ حال، نیب کیس کے ایک ملزم کی ضمانت کی اپیل سپریم کورٹ سنے گی یا وفاقی آئینی عدالت؟
اٹارنی جنرل بیرسٹر منصور عثمان اعوان نے نیب کے ترمیمی قانون میں ضمانت کی اپیل کا ذکر نہ ہونے کی غلطی تسلیم کر لی۔ عدالت ترمیمی قانون کے الفاظ سے ہٹ کر یہ طے کرے کہ آیا ضمانت کا معاملہ مرکزی مقدمے سے جڑا ہوتا ہے یا کوئی الگ معاملہ ہوتا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے بعد میں اٹارنی جنرل سے بھی پوچھا کہ نیب ترمیمی قانون میں ضمانت کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا جس پر اٹارنی جنرل نے اس غلطی کااعتراف کیا، جسٹس مسرت ھلالی نے کہا کہ لگتا ہے کہ یہ سقم جان بوجھ کر چھوڑا گیا کہ بعد میں کسی کو فائدہ دینا بھی پڑ سکتا ہے۔
اس سوال پر جاری سماعت کے دوران نیب کے ایک ملزم کی ضمانت کے کیس میں دلائل دیتے ہوئے سابق جج لاہور ہائی کورٹ عباس الرحمان لودھی نے اچانک ہی دہائی دی کہ "اللہ کے واسطے سپریم کورٹ مکمل طور پر اپنا اختیار (آئینی عدالت کے سامنے) سرنڈر نہ کرے، کچھ تو اپنے پاس رہنے دیں خدا کے واسطے"
ایڈوکیٹ لودھی بار بار ترمیم قانون کے الفاظ میں ضمانت کے معاملات کا ذکر نہ ہونے کی طرف نشاندھی کراتے رہے مگر جسٹس محمود علی مظہر بار بار یہی کہتے رہے کہ ترمیم قانون میں نیب ملزمان کو دوسری اپیل کا جو حق دیا گیا ہے اسکا اطلاق ضمانت پر بھی ہوتا ہے جو آئینی عدالت میں سنی جائیگی کیونکہ سپریم کورٹ میں ویسے بھی نیب مقدمات میں براہ راست اپیل نہیں بلکہ اپیل کرنے کی اجازت مانگی جاتی ہے۔
نوٹ: امکان ہے کہ حکومت جلد ہی بدنیتی پر مبنی نیب ترمیم کو عمران خان کیخلاف موثر کرنے واسطے ترمیم میں مزید ترمیم کا آرڈیننس لائی گی جس پر صدر ذرداری کے دستخط بھی ہونگے۔
اس کی سات پشتوں کے پاس بھی ایک کروڑ نہیں تھا۔اس کی منی ٹریل لیں تو قائد بے انتہاء انقلاب کی طرح کبھی نہیں دے سکیں گے۔
اسی لئے تو آس بدترین کرپٹ حکومت کو جانا چاہیے کہ اربوں کی کرپشن کررہے ہیں اور کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
مولانا کی باتوں سے اتفاق یا اختلاف صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب آپ کو لگتا ہو کہ وہ کوئی نظریے کے لیے لڑ رہے ہوں-
فوکس صرف عمران خان کے علاج اور رہائی پر رکھیں
عسکری ٹاؤٹس کی نورا کشتی کو اگنور کریں! یہ وہی بندہ ہے جس نے ۲۶ ویں ترمیم میں حکومت کی مدد کی تھی
#ReleaseImranKhan
محمد مالک نے اپنے پروگرام میں سورہ ال عمران کی آیت 140 کی تلاوت سنائی آیت کا آخری حصہ یہ ہے ، وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ ، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ،
بے شک اللہ ان ظالموں کو پسند نہیں کرتا جو عوامی رائے پر ڈاکہ ڈالتے ہیں جو اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں جو نہتے لوگوں پر گولیاں چلاتے ہیں جو لوگوں کو گھروں سے اٹھاتے ہیں اور واپس ان کی لاشیں بھی نہیں ملتیں