🚨⚠️بنوں کے حالات انتہائی گشدگی کی طرف بڑھ رہے ہیں فوج ہوش کے ناخن لے انکی حماقت خونی تصادم کا پیش خیمہ ہو گی ۔!
“ہم اسٹبلشمنٹ کی پالیسی سے تنگ آ چکےہیں، ہماری پولیس تباہ کردی گئی، چوکیاں حتم کردی گئی، کیونکہ یہ ان راستوں پر معدنیات اور دہشتگردی کا کاروبار کرتےہیں۔ ان چیزوں سے پیسا بہت کمالیا،آب اور کاروبار کرے لیکن خدارا ہمارےگھر والوں اور عوام پر رحم کرے” بنوں پولیس آمن کمیٹی‼️
“بنوں پولیس اور فوج کے درمیان ایک خونریز تصادم ہونے جا رہا ہے۔
پولیس کا الزام ہے کہ ہمارے پاس ویڈیو ثبوت ہے کہ فوج کالے شیشوں کے گاڑیوں میں دہشتگردوں کو بھر بھر کر کینٹ لا رہے ہیں۔ تمام پولیس اہلکاروں نے ڈیوٹی چھوڑ دی۔ احتجاج جاری۔”
یہ کیا خبر ہے ؟ اس میں کتنی صداقت ہے؟؟
اسلام آباد اب معاملات تعلیمی اداروں تک پہنچ گئے ؟؟
سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں فائرنگ، طلبہ کا احتجاج
اسلام آباد: سرحد یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس، روات میں فائرنگ کے واقعے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی اور طلبہ نے احتجاج شروع کردیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی اہلکار کی یونیفارم میں ملبوس ایک شخص کی طلبہ سے تکرار اور معمولی ہاتھا پائی ہوئی، جس کے بعد مبینہ طور پر اس شخص نے ہوائی فائرنگ کی۔
واقعے کے بعد اسلام آباد پولیس سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو قابو میں کر کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔
فائرنگ کے واقعے کے بعد طلبہ میں تشویش پائی جاتی ہے جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
@ICT_Police@dcislamabad@ccislamabad@MuhamadAfzalECP@iAmjadKhann@SaddiaMazhar@Rabbia223344@rabiatalks@Usman_Ch92@chsajjad844@Riazhaq@hecpkofficial
صدیق جان ، اسد اللہ خان ، رضوان غلزئی نے سرحد یونیورسٹی کے معاملے پر کوئی پوسٹ نہیں کی حالانکہ تینوں اسلام آباد ہوتے ہیں۔ آزاد چینل کے دو چار ملازمین نے اظہار افسوس کیا ہے۔ دو تین مزید صحافیوں نے بغیر واقعے کی نشاندہی کیے بس ہوا میں دو تیر چلا دیے ہیں۔ حامد میر والی کیٹگری ایک ہی سانس میں افسوس کا مطالبہ اور کاروائی کی امید والی مثبت رپورٹنگ کررہے ہیں۔
یہ لوگ مجبور ہیں ۔ انہیں احتیاط کرنی چاہیے۔ لیکن جب یہ کوئی خبر چلا رہے ہوں اور ہم کہیں کہ یہ فوج خبر کی مرضی سے چل رہی ہے درست یا غلط بعد کی بات ہے تو انہیں غصہ نہیں کرنا چاہیے۔
فوج کی مقبولیت کا جنازہ تو پہلے ہی نکل چکا ہے، مگر اس قسم کا رویہ انہیں گلیوں میں چلنے کے قابل بھی نہیں چھوڑے گا۔ سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں دیکھے جانے والے مناظر اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب وردی عزت نہیں بلکہ ذلت کا نشان بن چکی۔ ہم لوگ جو اسے اپنا فخر سمجھ کر پہنتے تھے، اور عوام کا پیار پاتے تھے، جو اب نفرت میں بدل چکا ہے، اس المیے کا قصوروار پاکستانی افواج کی موجودہ کمانڈ اور ان کی خود غرض اور لالچی پالیسیوں کو ٹھہراتے ہیں۔
طلباء کا شکوہ بلکل جائز ہے کہ ان کو ہراساں کرنے اور یونیورسٹی میں داخل ہو کر گولیاں چلا کر بدمعاشی کرنے والے کو سوال پوچھا جاۓ۔
یہ ہوتا ہے جب آپ کے ملک میں آئین اور قانون ختم ہو جاۓ اور عدالتی حکم بھی نہ مانا جاۓ۔
پھر ہر کوئی اپنے حصے کی بدمعاشی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
عمران خان کے میڈیکل ٹیسٹ کا اصل نچوڑ انکے جسمانی نظام میں نہیں
اصل ایشو کہاں ہے ؟
شدید قید تنہائی کا برا اثر پڑا ہے جس میں جیل عملہ کو بھی ان سے بات چیت کی اجازت نہیں یعنی 8 ماہ سے انہوں نے یا۔ ان سے کسی نے بات نہیں کی ۔ ذہن lock ہو رہا ہے
جیل میں چوتھے دن باں باں کرنے والے انکی قید اور قید تنہائی پر چٹکلے چھوڑتے ہیں ۔ حالانکہ خود ایسی غیر انسانی قید پر ان کی چوتھے دن بواسیر پھوٹ پڑتی۔ اور ڈنڈے کی طرح تنے ہوئے مرجھائی ہوئی بھنڈی کی طرح کہیں پڑے ہوتے
پی ٹی آئی قیادت کو اور نہ عوام کو احساس ہے کہ انہوں نے اپنے لیڈر کو کس عذاب میں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ وہ انہیں لوھے سے بنا کہہ کر خود موم کے پتلے ثابت ہوئے ہیں
جیل رولز کے مطابق 14 دن سے زیادہ قید تنہائی کی اجازت نہیں
جیسے جون کے مہینے میں بغیر ہیلمٹ اور چادر کے انسان موٹر سائیکل چلائے چلا جارہا ہو اور شدید پیاس لگی ہو پھر اچانک ایک سردائی والا نظر آجائے اور پھر آپ کو تھوڑی سی بھنگ بھی ملا دے۔ جیسے آپ کسی غیر ملکی ائیرپورٹ پر اکیلے بیٹھے ہوں ایک دعا لیپا ایسی خاتون آپ سے سامنے پڑی خالی کرسی کا پوچھ کر بیٹھ جائے اور گفتگو شروع ہوجائے۔ جیسے انسان اپنا فالودے کا پیالہ ختم کردے اور ساتھ بیٹھا دوست کہہ دے یار مجھ سے ختم نہیں ہورہا یہ لو تم لے لو۔ جیسے انسان سردیوں والی جیکٹ نکالے اسکی اندر والی جیب میں بیس بیس پاونڈ کے چار نوٹ نکل آئیں۔ جیسے آپ کسی کو کھانے کی دعوت پر شہر کے مہنگے ترین اسٹیک ہاوس لے جائیں اور بل مہمان زبردستی ادا کردے۔ جیسے آپ کو کنجوس دوست سے کریڈ تحفے میں مل جائے۔ جیسے اس حبس میں رات کے دو بجے آپ پسینے میں بھیگے ہوئے اٹھیں بجلی بند ہو اور پھر اچانک بجلی آجائے۔ جیسے بٹوے میں سے ایک سکہ نکل آئے جس پر کالا کالا سا کچھ چپکا ہو۔ جیسے سوموار کو دفتر سے چھٹی مل جائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے
توں نوں نوں نوں نوں نوں مم ہم ہم ام ہم مم
آج یوں موج در موج غم تھم گیااس طرح غمزدوں کو قرار آگیا
جیسے خوشبوئے زلف بہار آگئی جیسے پیغام دیدار یار آگیا
ہیلی کاپٹر میں گندہ فیول ڈالا
گولیاں مروائی گئیں
اسلام آباد ہائیکورٹ میں مارنے کا انتظام کیا گیا
نو مئی کو گرفتار کیا گیا
پانچ اگست کو دوبارہ گرفتار کیا گیا
آٹھ فروری کو علی الاعلان الیکشن چوری کر لیا گیا
صرف عمران خان کو روکنے کے لئے آئین کا بلاتکار کر دیا گیا
عدالتوں کو کینگرو کورٹس بنا دیا گیا
قید کو قید تنہائی میں بدل دیا گیا
آنکھ ضائع کروا دی گئی
اب بلڈ پریشر اور اس سے دل کے مسئلہ کا بتا رہے ہیں
کلاسک دلے ہیں کلاسک
اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کئے جا رہے ہیں صرف اپنی بادشاہت برقرار رکھنے کے لئے نقصان اس ملک کا اور عوام کا ہے انکا کیا جانا ہے
1/
TermMax is launching a Booster program on @BinanceWallet.
Complete five tasks or post on Binance Square to share 2,000,000 $TMX.
Aug 17 07:00 UTC to Aug 24 23:59 UTC
عمران خان پر اس قدر سختیوں کا مقصد ہی صرف ایک ہے کہ وہ دوسرے جغادری جمہوروں کی طرح ڈیل کر کے ملک چھوڑ جائے تاکہ انکی unchallenged بادشاہت سلامت رہے اور اسی پوسٹ کی ایک ویڈیو میں جو بچہ کہہ رہا ہے اس بیانیے کو ختم کیا جاسکے
"ہمیں پاکستان کے لیے عمران خان کی ضرورت ہے، ہم سب نے مل کر متحد ہو کر تحریک چلانی ہے۔ میں آپ کی ماں، آپ کی بہن ، آپ کے پاس آئی ہوں ، ہم بہنیں جتنا کر سکتی ہیں کریں گی، ہم نو ماہ سے ایک ہی مطالبہ کررہے کہ عمران خان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں ان کا علاج کروایا جائے"۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#خان_کے_لیے_متحد