🚨🚨
Even the London police found conduct of her was not a conduct of journalist and questioned her, everybody know she is not a journalist and pathetic character but here in #Pakistan she was “made” to sit on national media current affairs shows as “senior journalist”.
مقبول بٹ شہید کو بھارت نے پاکستان کا ایجنٹ قرار دیا پاکستان نے انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دیکر تشدد کا نشانہ بنایا ان پر مقدمہ بھی چلایا گیا لیکن ان پر کوئی الزام ثابت نہ ہوا وہ واپس مقبوضہ کشمیر چلے گئے جہاں بھارت نے انہیں گرفتار کر کے پھانسی پر لٹکا دیا یہی کشمیر کا اصل المیہ ہے
𝗣𝗹𝗲𝗮𝘀𝗲 𝗮𝘀𝗸 𝘆𝗼𝘂𝗿 𝗠𝗣 𝘁𝗼 𝘀𝘂𝗽𝗽𝗼𝗿𝘁 𝘁𝗵𝗶𝘀 𝗶𝗺𝗽𝗼𝗿𝘁𝗮𝗻𝘁 𝗣𝗮𝗿𝗹𝗶𝗮𝗺𝗲𝗻𝘁𝗮𝗿𝘆 𝗘𝗮𝗿𝗹𝘆 𝗗𝗮𝘆 𝗠𝗼𝘁𝗶𝗼𝗻.
Following the support of over 50 Parliamentarians for our letter to the Foreign Secretary, I along with colleagues have now tabled this motion on the deeply concerning situation in Azad Jammu and Kashmir.
دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ راولاکوٹ کے حالات نے ہر کشمیری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ لوگ پہلے ہی ایک شہید کی لاش کے ساتھ انصاف کے مطالبے کے لیے بیٹھے ہوئے تھے، مگر پھر حالات مزید خراب ہو گئے۔ گولیاں چلیں، لوگ زخمی ہوئے، کئی خاندانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔
لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ان کا قصور کیا ہے؟ اگر کوئی اپنے حق، انصاف اور بہتر زندگی کی بات کرے تو کیا اس کا جواب گولی ہے؟ کیا اپنی آواز بلند کرنا جرم ہے؟
آخر کب تک عام لوگ اس کشمکش اور بے چینی کا شکار رہیں گے؟ کب تک ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی؟ کب تک بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی رہیں گی؟ اور کب تک عوام کے درد کو نظر انداز کیا جاتا رہے گا؟
ایسا ظلم جس کی مثال شاید دنیا کے بدترین خطوں میں بھی نہ ملے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غزہ میں اپنوں اور بیگانوں نے مظالم کی داستانیں رقم کیں، لیکن آج یہاں اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ کلمہ گو، مسلمان کہلانے والے ہی آج مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں؟
۔ قانون اور فورسز، جن کا کام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا تھا، آج انہی کے خلاف صف آراء دکھائی دیتے ہیں۔ دل یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے کہ آخر ان فورسز کو اپنے ہی لوگوں کا خون بہانے کا حکم کون دے رہا ہے؟ وہ کون سے چہرے ہیں جو پردے کے پیچھے بیٹھ کر اس ظلم کی ڈوریاں ہلا رہے ہیں؟
یہاں سب سے بڑا جرم سچ بولنا بن چکا ہے۔ جو کوئی بھی مظلوم کے حق میں، سچائی اور انصاف کے لیے آواز اٹھاتا ہے، اسے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ حق کی آواز اٹھانے والے کا مقدر یا تو گمنام سلاخیں بنتی ہیں، یا پھر اس کی لاش بھی اپنوں کو نصیب نہیں ہوتی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی رات جتنی بھی لمبی ہو، کبھی دائمی نہیں ہوتی، اور ناحق بہنے والے خون کا ایک ایک قطرہ ایک دن حساب ضرور مانگتا ہے۔
آج عوام جس بے حسی، ظلم اور پروپیگنڈے کا سامنا کر رہے ہیں، اس نے ہر ذی شعور انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ صورتحال اس قدر بھیانک اور غیر متوقع ہو چکی ہے کہ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ عام شہریوں پر یہ وحشیانہ تشدد کرنے والے آخر ہیں کون؟ کیا یہ اپنے ہیں یا کہیں باہر (اسرائیل یا بھارت) سے بھیجی گئی کوئی بیرونی قوتیں ہیں جنہیں عوام پر مسلط کر دیا گیا ہے؟ کیونکہ کوئی بھی اپنوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتا۔
اس پورے بحران میں سب سے زیادہ افسوسناک کردار حکمرانوں اور میڈیا کا ہے۔ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کے بجائے حکمران کہیں منظرِ عام سے غائب ہیں، اور میڈیا حقائق دکھانے کے بجائے دن رات جھوٹی رپورٹنگ اور پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔ سچ کو چھپایا جا رہا ہے اور مظلوم کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں۔
سب سے بڑا دھچکا اور المیہ یہ ہے کہ وہ قیادت اور فورسز، جن کا تذکرہ کچھ دن پہلے تک دنیا بھر میں امن قائم کرنے اور بڑی جنگیں رکوانے کے حوالے سے فخر سے کیا جا رہا تھا، آج وہی طاقتیں اپنوں اور خاص طور پر کشمیریوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔ فورسز بھیج کر مظلوموں کا سرِعام قتلِ عام کروایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نفرتوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ پالیسیاں ملک کو مضبوط کرنے کے بجائے مزید کمزور کر رہی ہیں۔
آج انصاف کے ترازو الٹے ہو چکے ہیں۔ وہ عام عوام جو صرف اپنے بنیادی حقوق، روٹی، کپڑے، مکان اور امن کی بات کرتی ہے، اسے پلک جھپکتے میں "دہشت گرد" اور "غدار" قرار دے دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف، جو لوگ سرِعام قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، گولیوں کی بوچھاڑ کر رہے ہیں اور معصوموں کا خون بہا رہے ہیں، انہیں "محافظ" کا لقب دیا جاتا ہے۔
عوام کے دلوں سے آج یہ سوال چیخ چیخ کر نکل رہا ہے: کیا ایسے ہوتے ہیں محافظ؟ کیا محافظوں کا کام اپنے ہی لوگوں کے خون سے ہولی کھیلنا ہوتا ہے؟ جب محافظ ہی جارح بن جائیں، تو پھر عوام کس سے انصاف کی امید رکھیں؟
ہم تمام شہداء کے لیے مغفرت، زخمیوں کے لیے جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کشمیر پر اپنا رحم فرمائے، امن و سکون عطا کرے اور حق و انصاف کی راہیں آسان فرمائے_آمین 🤲🏻
@audaciousM__ You could have questioned if this was the actual result.
Pakistan army “Election Engineering Corps” consists of FA Pass third-divisioners.
After a whole night of “hard work,” they could only manage a slim PPP victory.
یہ ایک فارمولہ ان کے ہاتھ لگا ہے کہ جو صحافی بات نا مانے اس پر مقدمے ڈال کر بینک اکاوئنٹ بھی بند کر دو تا کہ وہ مجبور ہو جائے - رضی بھائی ہمت رکھیئے انشاء اللہ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں.
🚨 BREAKING |
Reports claim that around 150 people have been killed and hundreds more injured in Rawalakot, Kashmir, after Pakistani military forces opened fire.
It is worth noting that protests advocating separation from Pakistan and independence have reportedly been taking place in Kashmir for several days and continue with intensity.
In your opinion, is Kashmir witnessing a scenario similar to what unfolded in Bangladesh?