@sawaamije@QalaRasulullah تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کر
. تو، ہم یا کوئی بھی ہوتا کون ہے جو نبی کریم صل اللہ علیہ والیہ وسلم کی کسی بھی حدیث یا عمل پر سوال اٹھائے.
اپنے دل و دماغ کو شیطان سے بچاو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مصیبت زدہ و پریشان حال کے لیے یہ دعا ہے
*اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلاَ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ*
اے اللہ! میں تیری ہی رحمت چاہتا ہوں، تو مجھے ایک لمحہ بھی 👇
عبدالله بن مبارک ؒ نے اچھے اخلاق کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
هُوَ بَسْطُ الْوَجْهِ، وَبَذْلُ الْمَعْرُوفِ، وَكَفُّ الْأَذَى
اچھا اخلاق،
(1) چہرے کی کشادگی (مسکراہٹ)،
(2) بھلائی کا دینا، اور
(3) کسی کو تکلیف (اذیت) دینے سے باز رہنا ہے.
ترمذی 2005
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب بھی دونوں لکھنے والے (فرشتے) دن و رات کسی کے عمل کو لکھ کر اللہ کے پاس لے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ رجسٹر کے شروع اور اخیر میں خیر (نیک کام) لکھا ہوا پاتا ہے تو فرماتا ہے: میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے بندے کے سارے گناہ معاف 👇
یار حکیما!
کَدی کدی اے جی کردا اے
جان بُجھ کے گھر دا کوئی کم وگاڑاں
برتن توڑاں
یا نِکے دا کَن مروڑاں
ماں غُصے وِچ آوے تے میں
اگے چڑھ کے دوڑاں
کَنوں پَھڑ کے ماں گلی چوں
مینوں گھر لیاوے
رج کے پھینٹی لاوے
اک دو گھنٹے مگروں اپنے
سینے دے نال لاوے
صدقے واری جاوے
👇
یار حکیما!
کَدی کدی اے جی کردا اے
جان بُجھ کے گھر دا کوئی کم وگاڑاں
برتن توڑاں
یا نِکے دا کَن مروڑاں
ماں غُصے وِچ آوے تے میں
اگے چڑھ کے دوڑاں
کَنوں پَھڑ کے ماں گلی چوں
مینوں گھر لیاوے
رج کے پھینٹی لاوے
اک دو گھنٹے مگروں اپنے
سینے دے نال لاوے
صدقے واری جاوے
👇
پیارے آقا ﷺ نے فرمایا:
اگر تم لوگ اللہ پر توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ) کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق ملے گا جیسا کہ پرندوں کو ملتا ہے کہ صبح کو وہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ واپس آتے ہیں۔
(ترمذی شریف - 2344)
پیارےآقا ﷺ نےفرمایا
لوگو! اللہ سے ڈرو اور دنیا طلبی میں اعتدال کا راستہ اختیارکرو اس لیےکہ کوئی اسوقت تک نہیں مرےگا جبتک اپنی روزی پوری نہ کرلے گو اسمیں تاخیر ہو لہٰذا اللہ سے ڈرواور روزی کی طلب میں اعتدال کاراستہ اختیار کروصرف وہی لو جو حلال ہو
اور جو حرام چھوڑدو۔ابن ماجہ 2144
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
“ روزانہ پانچ وقت کی نماز اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوں“۔
(جامع ترمذی،۲۱۴)