قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف چلائی جانے والی حالیہ ٹرینڈ مہم کا جائزہ لینے کے لیے ہم نے تقریباً 300 اکاؤنٹس کا تجزیہ کیا۔ اس جائزے میں ایک بھی ایسا اکاؤنٹ سامنے نہیں آیا جو حقیقی اور فعال ذاتی (جینوئن) اکاؤنٹ معلوم ہوتا ہو۔
زیادہ تر اکاؤنٹس خواتین کے ناموں سے بنائے گئے تھے، جیسے نمل، ایمن، ڈاکٹر آمنہ وغیرہ۔ ان اکاؤنٹس کی پروفائل تصاویر، فالوورز، سرگرمی اور پوسٹنگ پیٹرن واضح طور پر غیر فطری دکھائی دیتے ہیں۔ اکثر اکاؤنٹس کے فالوورز چند درجن سے لے کر چند سو تک ہیں، مگر ان کی تمام سرگرمی ایک ہی نوعیت کے مواد کو آگے بڑھانے تک محدود ہے۔
مشاہدہ یہ بھی سامنے آیا کہ یہ اکاؤنٹس بظاہر واٹس ایپ گروپس یا کسی مرکزی نظام سے موصول ہونے والا ایک ہی مواد بیک وقت پوسٹ کرتے ہیں، تاکہ مصنوعی طور پر ایک مخصوص بیانیہ اور ٹرینڈ بنایا جا سکے۔ اس قسم کی سرگرمی کا مقصد عوامی رائے کی حقیقی ترجمانی نہیں بلکہ ایک منظم پروپیگنڈا مہم کے ذریعے یہ تاثر پیدا کرنا ہوتا ہے کہ جیسے یہ عوام کی وسیع رائے ہو۔
یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس نوعیت کی مہمات چند منظم ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے چلائی جاتی ہیں، جن کا ذکر پہلے بھی کیا جا چکا ہے۔ ان نیٹ ورکس کے مختلف منصوبوں کا بنیادی مقصد مصنوعی ٹرینڈز کھڑے کرنا، پروپیگنڈا پھیلانا اور مخصوص بیانیہ تشکیل دینا ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی عوامی رائے کی عکاسی کرنا۔
ہمارے جائزے کے مطابق، سینکڑوں اکاؤنٹس میں ایک بھی ایسا فعال اور حقیقی ذاتی اکاؤنٹ نظر نہیں آیا جو اس مہم میں قدرتی انداز سے شریک ہو۔ یہ حقیقت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایسی ٹرینڈ مہمات کو عوامی ردِعمل سمجھنے کے بجائے ان کی نوعیت، اکاؤنٹس کے پیٹرن اور ان کے باہمی تعلق کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے۔
#مولانا_سے_معافی_مانگو
#حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#سلیکشن_مافیا_نامنظور
#آئین_شکن_مقدس_گائے
#معافی_مائی_فٹ
#مولانا_شان_پاکستان
میں قوم کے سامنے اپنی بات دلائل سے پیش کرتا ہوں، تو میری بات آخر آپ قوم تک کیوں نہیں پہنچانے دیتے؟ اسمبلی بلڈنگ کے اندر چیمبرز میں ٹی وی لگے ہوتے ہیں، اور ان چیمبرز میں جو لوگ بیٹھے ہوتے ہیں، وہ جب میری تقریر سنتے تھے تو اس کو بھی بند کر دیا گیا۔ اب صرف ایوان کے اندر کے لوگ سن رہے ہیں۔ تو میں نے کہا کہ یہ تو میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ آپ ایک اِن کیمرا اجلاس تو بلائیں تاکہ ہم دیکھیں کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
ہندوستان کی سرحد بند ہے، افغانستان کی سرحد بند ہے، چین آپ کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
اور جب آپ نے درخواست دی، پرسوں یا ترسوں، کہ پاکستان میں آپ کی جو ایک سو ستر ارب ڈالر کی سرمایہ کاری تھی، اور جسے ہم پورا نہیں کر سکے، اس لیے آپ مہربانی کریں اور وہ ایک سو ستر ارب ڈالر ہمیں معاف کر دیں، تو چین نے آپ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا۔
تفتان کے علاقے، سندک میں ابتدا ہی سے چین کام کر رہا ہے۔ آج اس نے وہاں سے بستر اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تو یہ آپ کے چین کے ساتھ تعلقات ہیں۔ ایران آپ پر کتنا اعتماد کرتا ہے، لیکن خود برے حالات میں ہے،پاکستان کو محصور کردیا اپ نے یہ تمہاری پالیسیاں ہیں۔ آپ انڈیا سے لڑے، ہم نے سب سے پہلے آپ کو سپورٹ کیا۔ آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی بات کی، ہم نے اس کی بھی سپورٹ کی کہ ہم خطے میں امن کو ترجیح دیں۔
لیکن ہماری رضامندی کے باوجود آپ آ رہے ہیں، جا رہے ہیں، آ رہے ہیں، جا رہے ہیں، آ رہے ہیں، جا رہے ہیں۔ وہ گلہری کی طرح: "میری آنیاں جانیاں وے۔" اور آج بھی امریکہ ایران پر حملے کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جب امریکہ نے میرے سپہ سالار کو تھپکی دی کہ: "آپ ایک بہت اچھے آدمی ہیں، بہت اچھے آدمی ہیں۔" اس وقت تک اچھے آدمی تھے، جب ہمارے جھنڈوں کے نیچے ان کے جہازوں نے ہرمز کو عبور کیا۔ اور یہ فائدہ اٹھانے کے بعد، جب ہم گھر واپس آئے، تو ایران پر پھر دوبارہ حملے ہو رہے ہیں۔ اب آپ کچھ کارکردگی تو دکھائیے نا۔
چین ناراض، افغانستان کے ساتھ آپ کی سرحد بند، ملک محصور، اشیائے ضروریہ کی قلت ہو رہی ہے۔ اور اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے کہہ رہے ہیں، جگہ جگہ، کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب
#قائدانقلاب_مولانا
#سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ
#شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
پہلے معافی، پھر ویلکم!
سیاست میں دروازے بند نہیں ہوتے، مگر گزشتہ سات آٹھ دنوں میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور جمعیت علماء اسلام کے خلاف جو الزامات، کردارکشی اور منفی مہم چلائی گئی، اس پر معافی ضروری ہے۔
اختلاف اپنی جگہ، مگر بہتان اور نفرت انگیزی قابلِ قبول نہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن 2018ء سے آج تک آئین، جمہوریت اور پاکستان کے استحکام کے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی واپسی چاہتا ہے تو پہلے اپنی زبان اور رویے پر معذرت کرے، پھر خیرمقدم کی بات ہوگی۔
جمعیت علماء اسلام سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو، حامد میر کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو۔
#قائدانقلاب_مولانا
#سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ
#شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
جمعیت لائر فورم کے زیر اہتمام وکلاء کنونشن
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب
میرا دعویٰ ہے کہ تم نے انتخابات میں دھاندلی کی ہے ۔ کیا اس ملک میں ہمیشہ دھاندلی سے حکومتیں بنیں گی ۔ یہ میرے ساتھ رابطے میں تھے اور بلوچستان میں حکومت کی شمولیت کی دعوت دی ہم نے مسترد کر دی ۔ کے پی کے بارے میں بھی کہا، میں نےکہا تم لوٹوں سے میری حکومت بنانا چاہتے ہو؟
#LawyersStandWithMaulana
#مرد_آہن_مولانا
#پروپیگنڈہ_برگیڈ #چوکیدار_وڑگیا
مولانا صاحب سے عقیدت اور محبت کا ایسا رشتہ ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اب تک اس میں دراڑ نہیں ڈال سکی اور نا آئندہ کسی کی جرأت ہوسکتی ہے ۔ تا دم یہ عہد نبھانے کی ٹھان رکھی ہے ۔ ان شاء اللہ العزیز
#سلیکشن_مافیا_نامنظور#سلیکشن_مافیا_نامنظور#آئین_شکن_مقدس_گائے
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
#معافی_مائی_فٹ
#مولانا_شان_پاکستان