بھارتی زیرِ قبضہ جموں کشمیر میں چند افراد کے احتجاجوں کے حوالے سے واضح کرنا ضروری ہے کہ ان سرگرمیوں کے پسِ پردہ بعض ایسے عناصر کارفرما ہیں جن پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں، اور ہمارے نزدیک ان کی سرگرمیوں کا مقصد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی عوامی تحریک کو پاکستانی عوام اور اداروں کی نظر میں مشکوک بنانا ہے۔
یہ ایک سچی حقیقت ہے کہ بھارتی زیرِ قبضہ جموں کشمیر میں عوامی اجتماعات، آزادیِ اظہار اور صحافتی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ عالمی پریس کا داخلہ بند ہے اور انسانی حقوق کے علمبردار تمام ادارے اس خطے میں نہیں جاسکتے ۔
خود میرے ذاتی کئی صحافی دوست گزشتہ برسوں سے لاپتہ ہیں، اور بعض کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ انہیں جیلوں میں رکھا گیا ہے جبکہ ان کے مقدمات اور قانونی کارروائیوں کے بارے میں سنگین سوالات موجود ہیں۔
انھیں کوئی قانونی امداد نہیں پہنچائی جاسکتی۔
ایسے حالات میں سری نگر کی سڑکوں پر ہونے والے بعض احتجاجوں کے پسِ منظر پر سوال اٹھتا ہے ۔ اور یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہماری اصل جدوجہد عوام کے بنیادی حقوق، معاشی مسائل اور ضروریات کے لیے ہے۔ یہ تحریک نہ پاکستانی عوام کے خلاف ہے اور نہ پاکستان کے ساتھ کسی محاذ آرائی کا اعلان۔
ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی حقوق کی تحریک کو اس کے حقیقی مقاصد کے مطابق آگے بڑھایا جانا چاہیے اور ہر قسم کی سیاسی چالوں اور سازشوں کو عوامی شعور کے ذریعے ناکام بنانا چاہیے۔
#کاشر_سوچ
#RightsMovementAJK
#AzadKashmir
---
It is necessary to clearly state regarding the protests by a few individuals in Indian occupied Jammu Kashmir that certain elements are operating behind these activities in whom we have no trust. In our view, their objective is to cast suspicion on the Joint Public Action Committee’s popular movement in the eyes of the Pakistani public and state institutions.
It is a bitter reality that in Indian occupied Jammu Kashmir, strict restrictions are imposed on public gatherings, freedom of expression, and journalistic activities. Access for international media is limited, and many international human rights organizations are not allowed to operate freely in the region.
Several of my journalist friends have been missing for years, while there are reports that some of them are being held in prisons, and there are serious questions regarding their trials and legal proceedings. They also do not have access to effective legal assistance.
In such circumstances, questions naturally arise regarding the background of some of the protests taking place on the streets of Srinagar. However, it must be made clear that our struggle is for the fundamental rights, economic issues, and daily needs of the people. This movement is neither against the Pakistani public nor does it represent any declaration of hostility with Pakistan.
We believe that this public rights movement should be advanced in accordance with its true objectives, and that all forms of political manipulation and conspiracies should be countered through public awareness, unity, and consciousness.
#RightsMovementAJK
#AzadKashmir
کشمیر کے حوالے سے صحافی فرحان علی خان کی حیران کن تحقیقاتی رپورٹ:
مالی سال 2024-25 میں آزاد کشمیر نے تقریباً 71 ارب روپے ٹیکس ریونیو جمع کیا۔ اگر اس میں نان ٹیکس آمدن بھی شامل کر لی جائے تو مجموعی مقامی آمدن تقریباً 119 ارب روپے تک پہنچتی ہے۔
اگر پاکستان کے کسی ایک صوبے کے اعداد و شمار کے ساتھ اس کا موازنہ کریں تو صورتحال بڑی دلچسپ رہتی ہے۔
مثلا اسی سال خیبر پختونخوا کی اپنی صوبائی آمدن تقریباً 83 ارب روپے کے قریب رہی۔ جب آزاد کشمیر اور کے پی کے دونوں کا تقابلی جائزہ آبادی کے ساتھ کیا جائے تو فرق اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی آبادی تقریباً 4 کروڑ 85 لاکھ ہے جبکہ آزاد کشمیر کی آبادی تقریباً 45 لاکھ کے قریب ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو آزاد کشمیر کا فی کس ٹیکس بوجھ پاکستان کے کسی بھی انتظامی یونٹ سے زیادہ ہے۔
مالی سال 2024-25 میں آزاد کشمیر کا مجموعی بجٹ 224 ارب روپے تھا جس میں وفاقی ویری ایبل گرانٹ 105 ارب روپے شامل تھی۔ یہی وہ رقم ہے جسے اکثر سبسڈی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن یہ کسی غیر رسمی امداد کا حصہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ مالیاتی ڈھانچے کے تحت دی جاتی ہے۔ 2018 میں اسلام آباد اور آزاد کشمیر کے درمیان ایک مالیاتی معاہدہ ہوا جس پر دونوں طرف کے اعلیٰ مالیاتی حکام کے دستخط موجود ہیں۔ اس معاہدے کے مطابق وفاقی ٹیکس پول سے آزاد کشمیر کو 3.64 فیصد حصہ دینے کا اصول طے کیا گیا۔ یہ ٹیکس پول فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی مجموعی وصولیوں سے بنتا ہے جو 11,740 ارب روپے تک رپورٹ کی گئی ہیں۔
اس فارمولے کے مطابق آزاد کشمیر کا حصہ 427 ارب روپے بنتا ہے۔ لیکن عملی طور پر اسی مد میں تقریباً 105 ارب روپے دیے گئے۔ اس فرق کو 322 ارب روپے کے قریب شمار کیا جاتا ہے۔
آزاد کشمیر میں نیلم جہلم و منگلا سمیت متعدد منصوبے موجود ہیں جن سے تقریباً 2400 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوتی ہے۔
اس کے بدلے میں خطے کو رائلٹی کے بجائے صرف واٹر یوز چارجز کی صورت میں تقریباً 1 ارب روپے دیے جاتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں دیگر پن بجلی منصوبوں، خاص طور پر پنجاب میں غازی بروتھا جیسے منصوبے پر تقریباً 82 ارب روپے سالانہ رائلٹی دی جاتی ہے۔ اگر اسی حساب کو بنیاد بنایا جائے تو آزاد کشمیر کا ممکنہ رائلٹی حق تقریباً 130 ارب روپے سالانہ کے قریب بنتا ہے۔
بیرون ملک ترسیلات زر بھی اس تصویر کا اہم حصہ ہیں۔ اندازاً 1.5 ملین کشمیری بیرون ملک مقیم ہیں جو سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں (پاکستان کو آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم دو ارب ڈالر ہے) ۔ یہ رقم ملک کی مجموعی ترسیلات زر کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستانی بینکاری نظام میں کشمیری شہریوں کے تقریباً 670 ارب روپے کے ڈپازٹس موجود ہیں جو مالیاتی نظام کی گردش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر 3.64 فیصد NFC فارمولے کے مطابق 427 ارب روپے اور پن بجلی رائلٹی کے تقریباً 130 ارب روپے شامل کر لیے جائیں توآزاد کیشمیر کا مجموعی مالیاتی حجم موجودہ 224 ارب روپے کے بجٹ سے بڑھ کر تقریباً 650 ارب روپے تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ اعداد س شمار بتاتے ہیں کہ کشمیر ایک autonomous economy ہے
#RightsMovementAJK
JKJAAC did not emerge demanding power or political office. It raised issues of affordable electricity, public services, healthcare, infrastructure, compensation, and accountability. These are basic rights, not political privileges.
#RightsMovementAJK
The Israeli government has displaced a total of 6 million people from their homes. (3 million Iran, 2 million Gaza, 1 million Lebanon).
6 million people.
The equivalent of the entire population of Maryland displaced from their homes.
By one government.
Israel has killed tens of thousands of Palestinian women and girls in its genocidal war on Gaza.
On International Women's Day, we look at the number of women and girls Israel killed in Gaza in 2025.
#Infograph
The world, Europe, and Spain have faced this critical moment before. In 2003, a few irresponsible leaders dragged us into an illegal war in the Middle East that brought nothing but insecurity and pain.
Our response then must be our response now:
NO to violations of international law.
NO to the illusion that we can solve the world’s problems with bombs.
NO to repeating the mistakes of the past.
NO TO WAR.
https://t.co/KpRjBfwY4B
Video shows children in Gaza desperately trying to sweep floodwater away from their makeshift tents. Storm Byron has flooded camps where hundreds of thousands of displaced Palestinians live.
Israel continues to ban the entry of temporary homes and shelter materials into Gaza.
When someone says: "I don't know how to help"?
But all I'm asking is for people share and leave a dot.
3 replies — even dots — can save my children 💔
To donate 👇👇
https://t.co/1DQVZlUyUR
🚨BREAKING: The already worn tents sheltering thousands of displaced people in Gaza are now flooding under heavy rain, turning their suffering into a new disaster.
Israel continues to block proper housing and aid, leaving families in catastrophic conditions.