پاکستان کے ارباب اختیار ، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور آئی ایس آئی ، ایم آئی کے چیف تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرائیں ۔ خدا کے واسطے برسوں سے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے کرب کا احساس کریں ۔
مکمل وڈیو بیان دیکھئے 👇
https://t.co/p5qcHW0HhM
Sir Cyril Radcliffe arrived India on 8th of July 1947 & was given only 5 weeks to determine a borderline between the two nations, moving capital from #Karachi to #Islamabad changed Jinnah's Pakistan to Punjabistan.
��ار گلہ کی پہاڑیوں میں پاکستان کا دارالحکومت بنانے کا فیصلہ قائداعظم نے 1944 میں کر لیا تھا یہ وہ جگہ ہے جہاں پر کھڑے ہو کر بانئ پاکستان نے کشمیری لیڈر چودھری غلام عباس کو بتا یا کہ پاکستان کا کیپیٹل یہاں بنے گا
اوورسیز میں رہنے والے پاکستانیوں سے دردمندانہ اپیل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لندن: 2 جولائی2023
میں آج اپنے اس ٹوئٹ کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ایک اہم مسئلے پر روشنی ڈال رہا ہوں اور اس حوالے سےبیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مفاد میں ان سے ایک دردمندانہ اپیل بھی کرناچاہتاہوں۔
آپ سب اس امرسے بخوبی واقف ہیں کہ اوورسیز میں رہنے والے پاکستانی اپنے وطن اور گھربار سے دور دیارغیر میں محنت ومشقت کرتے ہیں ، ملازمت کے عمومی دورانیے یعنی 8گھنٹوں سے زائد اوورٹائم اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اپنا اوراپنے بال بچوں کا بہتراور پائیدار مستقبل بناسکیں اور ان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں رہنے والے اپنے خاندان والوں کی بھی بہتر سے بہتر معاونت کرسکیں۔
میرے ذاتی مشاہدے میں یہ افسوسناک باتیں بھی آتی رہی ہیں اور بیرون ملک رہنے والے چند افراد نے بھی مجھے بتایا ہے کہ” ہم تباہ ہوگئے، بربادہوگئے “
جب میں نے ان کی تباہی وبربادی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ فلاں فلاں حکمرانوں نے ، کنسٹرکشن کاکام کرنے والی کمپنیوں کے وفود نے ، سرمایہ کاری کرنے والی انجمنوں کے وفود نے جب اس اوورسیزملک کا دورہ کیاجہاں ہم ملازمت کی غرض سے قیام پذیرہیں تو انہوں نے ہمیں سب سے پہلا درس یہ دیا کہ اگر آپ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے تو یہ نہ صرف آپ کی پاکستان کیلئے بڑی خدمت ہوگی بلکہ آپ کی سرمایہ کاری کے عمل سے پاکستان کی معیشت بھی بہترہوگی۔ دوسری بات یہ بتائی گئی کہ اگرآج آپ پاکستان میں کوئی پلاٹ خریدلیں یا کسی بننے والی بلڈنگ میں کوئی فلیٹ خرید لیں یا پاکستان کے فلاں فلاں شہر میں ایک نئی رہائشی اسکیم آئی ہے جہاں کی زمین آج آپ حضرات کو جس قیمت پر دی جارہی ہے اس زمین کی قیمت آئندہ دو سے پانچ سالوں میں کئی گنا زیادہ بڑھ جائے گی اورآپ کو آپکی لگائی گئی رقم کاکئی گنازیادہ منافع ملے گا۔ یاپھر فلاں فلاں بنک نے ڈالراکاؤنٹ یا فارن کرنسی اکاؤنٹ میں انویسٹمنٹ کا پروگرام نکالا ہے اس میں ڈالرز جمع کرانے والوں کو دس سے پندرہ فیصد منافع ملے گا وغیرہ وغیرہ۔ بیرون ملک رہنے والے افراد یہ چکنی چپڑی باتیں سن کراپنی زندگی بھر کی کمائی پاکستان میں ان اسکیموں میں لگا ڈالتے ہیں اور جب وہ سرمایہ کاری کیلئے خریدی گئی زمین ، فلیٹ یا ڈالراکاؤنٹ اسکیم سے متعلق دستاویزات بمعہ تمام اسٹیمپ شدہ دستاویزی ثبوت لیکر پاکستان ��ہنچتے ہیں اور اپنی خریدی ہوئی زمین یا مکان یا بنک میں جمع کرائی گئی رقم (ڈالرز کی شکل میں) کے حساب کتا ب کو دیکھنے جاتے ہیں تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ ان کی خریدی ہوئی زمین پر قبضہ کرکے کسی اور نے اپنا مکان تعمیر کرلیا ہے یا کسی بلڈنگ میں خریدے گئے فلیٹ پر کسی اور نے قبضہ کرلیا ہے یا جس بنک میں ڈالرز اکاؤنٹ کی شکل میں رقم جمع کرائی تھی وہ بنک ڈیفالٹ کرگیا ہے یا اس بنک نے ڈالرز اکاؤنٹ ہی بند کردیا ہے ۔ اسی طرح انہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جن جن سرمایہ کار انجمنوں یا کمپنیوں) Investement companies or agencies ( میں یا ڈالر اکاؤنٹس میں بھاری سرمایہ کاری کی تھی ان سرمایہ کار کمپنیوں ��ے مالکان وعملے کے بڑے بڑے عہدیداران تو کمپنی بند کرکے پاکستان سے فرار ہوچکے ہیں اور جن بینکوں میں انہوں نے ڈالراکاؤنٹس کھولے تھے وہ بینک اکاؤنٹس ہی منجمد (Ceased) کردیے گئے ہیں تو انکے پاس سوائے پچھتانے ، افسوس کرنے یا رونے دھونے کے اورکچھ باقی نہیں بچتا۔ اس طرح کے واقعات آئے دن دیکھنے میں آتے رہتے ہیں۔
میں اوورسیزپاکستانیوں کودرپیش اس سنگین مسئلے اوران کے کرب کواچھی طرح سمجھ سکتاہوں کیونکہ 80ء اور 90ء کی دہائی میں پاکستان کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ کراچی کے بھی سینکڑوں خاندانوں نے تھوڑے سے مالی فائدے کے لئے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی حتیٰ کہ اپنی بیٹیوں کازیور اورمکانات کے کاغذات تک مختلف انویسٹمنٹ کمپنیوں میں لگا دیے تھے لیکن وہ سرمایہ کارکمپنیاں ان کاپیسہ لیکررفوچکر ہوگئیں اوران کے فراڈ کاشکار سینکڑوں خاندانوں کے پاس رونے دھونے اورافسوس کرنے کے سواکچھ نہ بچاتھا۔ انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض مولوی حضرات کی تشکیل کردہ سرمایہ کار کمپنی غالباً الائنس انویسٹمنٹ کمپنی تھی جن کے عہدیداروں کی لمبی لمبی داڑھیاں تھیں، وہ پانچ وقت کے نمازی تھے اور انکے ماتھوں پر سجدے کے نشان بھی تھے ، ایسے لوگوں نے بھی معصوم اور سادہ لوح عوام کو سود سے پاک شرعی منافع کا لالچ دیکر لوٹ لیا اور شہریوں کے اربوں روپے لوٹ کر فرارہوگئے۔ 1/2
یکم جولائی 2023ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم جناب جنرل عاصم منیر صاحب!
چیف آف آرمی اسٹاف پاکستان!
السلام علیکم وآداب عرض
عیدالاضحی کی دلی مبارکباد قبول کریں۔ اب میں آپ کی خدمت میں چند اہم گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
1۔ میں عیدکے دن سے لیکر آج مورخہ یکم جولائی2023ء کے دن تک پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر فوج کے شہداء کے اہل خانہ ��ے بیانات دیکھ رہا ہوں ، شہداء کے لواحقین کے جذبات واحساسات غورسے دیکھ رہا ہوں۔ میں خود شہداء کے لواحقین میں شامل ہوں اور اپنی تحریک کے ہزاروں کارکنان کی شہادت کاصدمہ سہہ چکا ہوں لہٰذا میں ان شہیدوں کے لواحقین کے دکھ ، درد اورجذبات واحساسات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ اسی لئے یہ کہنے کی جسارت کررہا ہوں کہ ملک کی سالمیت اور تحفظ کیلئے شہداء نے جوقربانیاں دی ہیں اس پر ان کے لواحقین کے بیانات میں اپنے پیاروں کی شہادت پر جس طرح فخر کااظہارکیا جارہاہے اور ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کے بچھڑ جانے کا جو دکھ وکرب بیان کیاجارہا ہے اس پر مجھ سمیت پوری قوم کوشہداء کی شہادت پر فخرہے اور ان کے اہل خانہ کے اپنے پیاروں سے بچھڑ جانے کے دکھ پر صدمہ بھی ہے۔
2۔ اب میں ان ماں باپ، بچوں ،بچیوں اورسہاگنوں کے دکھ وکرب کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کے پیاروں کوفوج، ISI اور ملک کے دیگر سیکوریٹی اداروں کے اہلکاروں نےان کے گھروالوں کےسامنے گرفتارکرلیاتھااورپھر انہیں لاپتہ کردیاگیا۔ بہت سے لاپتہ کیے جانےوالےافراد کو لاپتہ کئے 15سے 20 سال سے زائدکا عرصہ بیت چکاہے،ان لاپتہ افراد میں وہ بھی شامل ہیں جنہیں 14 سال پہلے لاپتہ کیاگیاہے۔ ��روع شروع کے دنوں اور آنے والی ہرعید کے موقع پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ اپنے پیارےمعصوم بچوں کویہ کہہ کہہ کرتسلیاں دے دیتے تھے کہ '' تمہارے ابو بیرون ملک گئے ہوئے ہیں اور وہ چھٹی نہ ملنےکےسبب اس عید پر گھرنہیں آسکے''۔
اسی طرح کے دلاسے دیتے دیتے آج ان کےمعصوم بچے باشعور، تعلیم یافتہ اورجوان ہوچکے ہیں ،ان کی مائیں اپنے بچوں کوجوکہ اب جوان ہوچکےہیں کیاجواب دیں؟ مزید ک��اتسلیاں دیں ؟
ان لاپتہ افراد کےاہل خانہ کیلئےتو ہرآنےوالی نئی عید ،ان کے دکھی اورزخمی دلوں کواورزیادہ دکھی اوران کےزخموں کومزید تازہ کرنے کاسبب بنتی ہے ۔
3۔ چیف آف آرمی اسٹاف جناب جنرل عاصم منیرصاحب!
کوئی ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ بالخصوص معصوم بچوں کے دکھ اور کرب کی حالت کو دیکھے یا نہ دیکھے مگر اللہ تبارک وتعالیٰ تو ضروردیکھ رہا ہے ۔ ملک کے ہرچھوٹے بڑے سیاستدان نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کرکے وعدے وعید کئے حتیٰ کہ قسمیں تک کھائیں کہ ہم اپوزیشن میں رہ کر ان کی بخیریت گھرواپسی کیلئے بھرپورانداز میں آواز احتجاج بلند کرتےرہیں گے لیکن ا ن سیاستدانوں نےاپنے وعدے ذرہ برابربھی پورے نہ کیے ۔ اسی طرح ان سیاستدانوں نے لاپتہ افراد کےاہل خانہ سے قسمیں کھاکھاکر یہ وعدے بھی کیے کہ اگرہم اقتدار میں آگئے تولاپتہ افراد کو فوری بازیاب کرانا ہماری دیگر ترجیحات میں اولین ترجیح ہوگا مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان کےوعدے وعید اورقسمیں ہمیشہ کی طرح اقتدار کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئیں اورانہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کی اولین ترجیح کےاپنے وعدے کوسردخانےمیں ڈال دیا۔
محترم جنرل عاصم منیر صاحب!
میری آپ سےمؤدبانہ درخواست ہےاورآپ کواپنےحافظ قرآن ہونے کاواسطہ بھی ہےکہ ان تمام لاپتہ افراد کو فی الفور بازیاب کرانےکیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں ،اگر ان لاپتہ افراد پر کوئی الزام یا الزامات ہیں تو انہیں فوری طورپر عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کریں اور اگر لاپتہ کیے گئے افراد میں سے جوافراد چل بسے یامارے جاچکے ہیں تو کم ازکم ان کے پریشان حال اہل خانہ کو اس بارے میں آگاہ کرنے کے احکامات جاری کریں یاپھر الیکٹرانک میڈیاپر لاپتہ کیےجانےوالےافراد کے اہل خانہ کو لاکر انہیں بھی اپنی دکھ بھری داستانیں سنانے کاموقع فراہم کریں ۔اس طرح کم ازکم وہ اپنی اپنی دکھ بھری داس��انیں سنا کرہی اپنے دکھوں کا بوجھ ہلکااور اپنے اپنے غموں کا کچھ تو مداوا کرسکیں گے ۔
شکریہ
والسلام
احقر
الطاف حسین (لندن) یکم جولائی 2023ء
عیدالاضحی کاپیغام
میں تمام پاکستانی عوام کو دل کی گہرائیوں سے عیدالاضحی کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ عیدالاضحی کامبارک دن ہمیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی پیش کرنے کادرس دیتا ہے ۔ عیدالاضحی پرمالی استطاعت رکھنے والے بیشتر افراد سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہم اس سنت ِ ابراہیمی کے اصل مقصد کونہیں سمجھتے ۔ ہم بس اتناسمجھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو اللہ کے پیغمبر تھے، جانوروں کی قربانی ان کی سنت پوری کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ ہم جانور کی قربانی کرکے اپنا فرض توضرور ادا کردیتے ہیں مگر ہم قربانی کے اصل مقصد کوسمجھے بغیر ہی سنت پوری کردیتے ہیں۔ سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی دینے کااصل مقصد یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں، اس کے بتائ�� ہوئے پیغام پر عمل کرنےکے لئے تمہاری راہ میں جو جو بڑی بڑی مشکلات ، کٹھن حالات اوررکاوٹیں کیوں نہ آئیں، اس مقصد کے حصول کے لئے تمہیں اپنی بڑی سے بڑی قیمتی چیز یااپنے بڑے سے بڑے قریبی عزیز یااپنی ہی جان کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے ،تم اس قربانی دینے میں زرا سا بھی خوف محسوس نہ کرنا اوراللہ کے مظلوم و محکوم بندوں، غریبوں، ضرورت مندوں، محتاجوں کی مدد اور فلاح وبہ��ود کےلئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کرنا۔ اگر تمہیں غریب ومظلوم اور محکوم
بندوں کی بقا اور آزادی کےلئے بڑے سے بڑے ظالم وسفاک اور طاقتوربادشاہوں یاحکمرانوں کے خلاف عملی جدوجہد بھی کرنا پڑے تو تم اس راہ میں اپنی اور اپنے خاندان والوں تک کی قربانی دینے سے گریز نہ کرنا۔قربانی میں اگر وقت کی، مال کی ،نفس کی ، خواہشات وتمناؤں کی قربانی سمیت ہرقسم کی قربانی دینے کی ضرورت پیش آئے تواس کے لئے تمہیں نہ صرف تیار رہنا چاہیے بلکہ قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کرناچاہیے۔
میرے تحریکی ساتھیو!
آج عیدالاضحی کے اس مبارک موقع پرہم اگراپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں اوراپنے اپنے ظرف وضمیر کی آواز کوسچائی کے ساتھ سننے کی کوشش کریں کہ ہم جس تحریک سے وابستہ ہیں اس میں 25 ہزار سے زیادہ ہمارے تحریکی ساتھیوں کی جان کی قربانیاں، لاپتہ کئےجانے والے اور اسیروں اوران کے اہل خانہ کی قربانیاں شامل ہیں۔ ہم اپنے آپ سے سوال کریں کہ ہم تحریک کے ان شہیدوں کے لواحقین کی کتنی خبرگیری کرتے ہیں، ان کی کتنی مدد کرتے ہیں۔ ہم ان باتوں کاجائزہ لیں تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ ہم نے اپنااپنا کتنا فرض پورا کیا ہے ۔ لہٰذا آج ہمیں یہ عہد کرناچاہیے کہ ہم تحریک کی خاطرقربانیاں دینے والے ساتھیوں اوران کی قربانیوں کو ہرگز فراموش نہیں کریں گے اوران کے اہل خانہ کی ہرطرح سے دیکھ بھال کریں گے۔ ہم عیدالاضحی کے تینوں دن خود بھی اوردوسروں سے بھی درخواست کریں گے کہ قربانی کے جانوروں کی کھالوں کوفروخت کرکے اس سے حاصل ہونے والی رقم کو تحریک کے لئے قربانیاں دینے والے شہیدوں کے لواحقین، لاپتہ اوراسیر ساتھیوں کے اہل خانہ کی مدد کیلئے عید کے تینوں دن کام کریں گے اورزیادہ سے زیادہ قربانی کی کھالیں جمع کرکے اس سے حاصل ہونے والی رقم کواوپربتائے ہوئے طریقہ پرعمل کرتے ہوئے خدمت خلق کے فرائض ادا کرنے میں کوئی کثرنہ اٹھارکھیں گے۔
اس دعاکے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کوقبول کرتے ہوئے ہماری تحریک کوکامیابی سے ہمکنار کرے۔ آمین ، ثمہ آمین۔
ایم کیوایم اوورسیز کے ساتھیو ! سلام وآداب
آپ سب کوبھی عیدالاضحی کی دلی مبارکباد قبول ہو۔ اورآپ کے اہل خانہ اوردوست احباب کوبھی بہت بہت دلی عیدمبارک۔
عیدکاپیغام آپ سب ساتھیوں کےلئے بھی وہی ہے جو میں نے پاکستان کے عوام اوروہاں کے ساتھیوں کے لئے لکھاہے۔
والسلام
آپ کااپنا
الطاف حسین
27جون 2023ء
#EidMubarak
#عيد_الاضحى
#عيد_اضحى_مبارك
اگر ۹ مئی فوجی تنصیبات پرحملے تحریک انصاف عمران خان کے بجائے کوئی دوسری سیاسی جماعت ملوث ہوتی تو یہ متعصب صحافی کیا ایسی ہی ٹوئیٹس کر رہا ہوتا؟ بغیرمقدمات کے الطاف بھائی کے کارکنوں کو دہشتگرد قرار دینے والا متعصب صحافی آج ملک پر حملہ آوروں کے حق میں فوج پر تنقید کر رہا ہے
تازہ خبر۔
روس میں ھونے والی فوجی بغاوت کی ایف آئی آر تھانہ سرور روڈ لاھور میں عمران خان کے خلاف درج کر لی گئ۔
مقدمہ پا کستان کی فوجی عدالت میں چلے گا۔ ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ عمران خان نے پچھلے سال اپنے دورہ روس کے درمیان ایک خفیہ ملاقات میں شرپسندوں کو بغاوت پر اکسایا ۔ اقبالی بیان حاصل کر لیا گیا۔
2/2
انہوں نے دونوں میں سے کون ساعمل کیاہے ؟اگر ملک کو خون خرابے سے بچانے کاعمل کرکے فوج نے ''بڑی حکمت''کامظاہرہ کیا ہے تو پھر اسے ''غفلت'' کاعمل کیونکرقراردیاجارہا ہے؟ یعنی دواعمال میں سے کوئی ایک ہی عمل ہوسکتا ہے ، یاتو خون خرابے سے بچانے کا عمل ہوسکتاہے یا پھر''غفلت'' کاعمل ہوسکتا ہے ۔ دونوں عمل ہرگز ہرگز ایک ساتھ نہیں ہوسکتے ۔ لگتا ہے کہ تفتیش کرنے والی ٹیم خود کنفیوژن کا شکارتھی جنہوں نے ایک ہی مسئلہ پر دومتضاد فیصلے دیے۔ اگر یہ دونوں متضاد فیصلے درست ہیں توپھر میری جناب احمد شریف صاحب سے بصد ادب درخو��ست ہے کہ وہ سانحہ 9،مئی کے بارے میں دوبارہ پریس کانفرنس کرکے ��وم کو بتائیں کہ فوج کے کن کن عناصر نے غفلت کامظاہرہ کیاہے اور کن کن عناصر نے ملک کو خون خرابے سے بچانے کاعمل کیاہے ۔
آخر میں ، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر فوج کے اعلیٰ حکام ،سویلین سے زیادہ علم ودانش ، فہم وفراست اورصلاحیت رکھتے ہیں اور وہی ہرمسئلہ کوحل کرنے کیلئے سویلین سے زیادہ بہتر طورپر خدمت انجام دے سکتے ہیں تو پھر ملک کی موجودہ تباہ کن صورتحال خصوصاً معاشی صورتحال سمیت دیگر ملکی مسائل ومعاملات اوردرپیش بحرانوں سے ملک کو نکالنے کی غرض سے فوج کو ملک کا مکمل نظام حکومت سنبھال لینا چاہیے کیونکہ ''فل مارشل لاء'' ،''سوفٹ مارشل لاء'' کے عمل سے کہیں زیادہ بہتر ہے لیکن '' آدھا تیتر ، آدھا بٹیر ''کے مصداق ملک کو چلانے کا عمل ملک کو مزید تباہی کی جانب لے جاسکتا ہے ۔
الطاف حسین
26،جون 2023ء (لندن)
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف صاحب سے چند سوالات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج مورخہ 26 ،جون 2023ءکو ڈی جی آئی ایس پی آر جناب میجر جنرل احمد شریف @OfficialDGISPR کی پریس کانفرنس سننے کا موقع ملا۔اگرہم ان کی جملہ پریس کانفرنس کا مختصر تجزیہ یعنی اس پریس کانفرنس کی "Gist" یا "Essence" یا "Spirit" یا "Soul" کو دیکھیں اورغور کریں تو ہرذی شعور پڑھا لکھا شخص اس نتیجے پر پہنچے گا کہ 9، مئی 2023ء کے واقعات کے ذمہ دار صرف وہ سویلین اور ان کے سربراہان یا ذمہ داران ہیں جو 9، مئی 2023ء کے افسوسناک واقعات میں ملوث ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں تشریف فرما صحافی حضرات کے سوالات اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے جوابات کے بعد جو تاثر مجھے ملا وہ یہ ہے کہ فوج اور ISPRکے ادارے کے حکام ،ملک کے امن وامان ، معیشت اور دیگر مسائل کے حل کے بارے میں اس پریس کانفرنس کے شرکاء سے زیادہ علم ودانش رکھتے ہیں اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق وہ جو کچھ بیان کررہے ہیں وہی درست ہے باقی پریس کانفرنس میں شریک صحافی حضرات، علم ودانش اور فہم وفراست میں ان سے کم ہیں۔
مزید برآں جناب میجر جنرل احمد شریف صاحب! کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ اور فوج کے دیگر اعلیٰ حکام ، سویلین طبقے سے تعلق رک��نے والے افراد سے زیادہ فہم وفراست اور دانش رکھتے ہیں جبکہ آپ کے مقابلے میں سویلین صحافی حضرات یاتو علم ودانش اورفہم وفراست سے فارغ ہیں یا پھر کم علم رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے میجر جنرل احمد شریف صاحب اپنی پریس کانفرنس میں صحافیوں کو باربار یہ درس دیتے نظر آتے ہیں کہ وہ Fake اطلاعات کے بجائے حقائق پر مبنی صحافت کیا کریں یا صحافی حضرات کو اصل حقائق کے مطابق صحافت کرنی چاہیے ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر،صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے یہ فرماتے ہیں کہ فوج کے اہم مراکز بڑے مقدس ہوتے ہیں ، اس پر میں ان سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا سویلین کے مقامات ، ان کے گھروں اور اہل خانہ بشمول خواتین کا کوئی تقدس نہیں ہوتا؟ جس طرح فوج کسی بھی مطلوبہ شخص کی تلاش میں چادر وچہاردیواری کا تقدس پامال کرتی ہے کیا وہ عمل ہرگز قابل افسوس، مذموم ، قابل مذمت یا قابل گرفت عمل نہیں ہے ؟ جن سویلین کے گھروں اور گھروالوں کی عزت وحرمت اور تقدس کو پامال کیاگیا ہو ، وہ کہاں ، کس جگہ یا کس عدالت میں اس تقدس کو پامال کرنے والے فوجی افسران وحکام کے خلاف کارروائی کی اپیل کریں؟
یہاں میرا ایک سوال ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل احمد شریف صاحب سے یہ بھی ہے کہ آپ باربار یہ کہتے رہے کہ سانحہ 9 مئی کے ذمہ دارعناصر اور ان کے سربراہان عرصہ دراز ��ے عوام کو فوج کے خلاف مستقل اشتعال دلارہے تھے ، یہی عناصر اورانکے رہنماء سانحہ 9، مئی کے ذمہ دار ہیں لیکن جب پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے اس سوال پر کہ 9، مئی کے دلسوز واقعات میں ملوث جوافراد جائے وقوع پر موجود بھی تھے اور انہیں سانحہ 9، مئی میں ملوث ہونے پر گرفتاربھی کرلیاگیا تھا مگر جب انہوں نے پریس کانفرنس کرکے PTI سے علیحدگی اختیارکرنے کا اعلان کیا توانہیں رہا کرکے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی اس سے یہ تاثر عام پایاگیا کہ اس عمل میں اسٹیبلشمنٹ ملوث ہے ، اس پر آپ کیا تبصرہ کریں گے تو ڈی جی آئی ایس پی آر جناب احمد شریف صاحب ان سوالات کا سیدھا جوا�� دینے کے بجائے دائیں بائیں جانے لگے اور انہوں نے پوچھے جانے والے سوال کے بارے میں ذرہ برابر بھی لب کشائی نہیں کی۔
یہاں یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ PTI کے جن رہنماؤں کو سانحہ 9، مئی میں گرفتارکیاگیا تھا جب انہوں نے پریس کانفرنس کرکے پاکستان تحریک انصاف سے علیحدگی اختیارکرلی تو انکے جرائم کیوں اور کیسے معاف کردیے گئے ؟ انہیں ڈرائی کلین کرکے سانحہ 9، مئی کے الزامات سے کیونکر بری کردیاگیا ؟ اور ملٹری کورٹس میں ان کامقدمہ کیوں نہیں چلایاگیا؟
میرا ایک اور سوال DG ISPR جناب احمد شریف صاحب سے یہ ہے کہ فوج کےاہم مراکز بشمول کورکمان��ر ہاؤس یعنی جناح ہاؤس سمیت دیگر فوجی مراکز وتنصیبات کی حفاظت کی ذمہ داری کیافوج کے بجائے سول انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے؟
ایک اور سوال یہ ہے کہ DG ISPR نے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ کہاکہ جو فوجی اعلیٰ حکام اور فوجی عملے کے اراکین غفلت کے مرتکب پائے گئے ان کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہوئے انہیں ان کی ملازمتوں بشمول عہدوں سے فارغ کردیاگیا ہے جن میں ایک لیفٹننٹ جنرل ، 3 میجرجنرل اور 7 بریگیڈیئرز سمیت 15 فوجی افسران شامل ہیں تو کیا غفلت کاارتکاب کرنے کے عمل پر صرف ان کی ملازمتوں سے برطرفی کی سزا کافی ہے؟
میں مزید وضاحت کیلئے ڈی جی آئی ایس پی آر جناب احمد شریف صاحب سے یہ سوال ک��تا ہوں کہ 9،مئی کے سانحے پر فوج کے اعلیٰ حکام نے کیا ''غفلت'' کا عمل کیاہے یا ملک کوخون خرابے سے بچانے کاعمل کیاہے ؟
1/2
عمران خان مھینوں لیڈران و کارکنوں کو اپنی گرفتاری کی صورت میں فوجی تنصیبات پر حملہ آور ہونے کی ترغیب کرتے رہے زمان پارک پر ٹریننگ کے بعد تربیت یافتہ دہشتگردوں ۹ مئی پاکستانی ریاست پر حملہ آور ہوئے افسوس کے دہشتگردوں کا سرغنہ عمران خان آج بھی آزاد گھوم رہا ہے
بارش کاایک اورقطرہ
مہاجروں کی قربانیوں کااعتراف
مہاجروں کے ساتھ
تعصب اور کوٹہ سسٹم کا مسلسل عمل
بانی وقائد @AltafHussain_90 کی جدوجہد
پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی نسل پرستی
اور
مہاجروں کےخلاف نفرت کاپردہ چاک 👇
‘جبری گمشدگی’ نے ارسلان خان کی زندگی تلپٹ کر دی via @nayadaurpk_urdu https://t.co/XBKiiTSoYQ
یہ ایک ارسلان کی کہانی نہیں ہے، نجانے کتنے ہی ارسلان ہیں جو اس اذیت کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے ہیں اور کسی کو انکی کوئی خبر بھی نہیں ہے—— اس صرف پڑھیں نہیں، محسوس کریں۔
Feudalism & military rule plagued #Pakistan for far too long, stifling progress & undermining democratic values, now we need to break the chains build a future based on equality, justice, and civilian supremacy, like @AltafHussain_90 envisioned decades ago.
''دعوت ِ فکر''
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کے طلباء وطالبات اور نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والے لڑکے اور لڑکیاں خصوصاًشعبہ تاریخ کے طالب علمو!!!
اگر آپ کو پاکستان کی بقاء وسلامتی سے واقعتا محبت وعقیدت ہے تو آپ کو میری بیان کردہ چند باتوں پر ضرور غورو فکر اور تحقیق کر��ی چاہیے ۔ پاکستان کو قائم ہوئے 75 برس گزر چکے ہیں لیکن 20 ویں صدی میں پہلی جنگ ع��یم (1914 - 1918) اور دوسری جنگ عظیم(1939 - 1945)کے بعد دنیا کے نقشے میں نئے نئے ممالک وجود میں آئے جس میں (Undivided India) غیرمنقسم ہندوستان میں بھی تقسیم کا عمل ہوا جس کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان علیحدہ علیحدہ وطن کی شکل میں دنیا کے نقشے پر ابھرکرسامنے آئے۔
75 برسوں میں یعنی آزادی کے بعد دونوں ممالک میں غربت، بے روزگاری ، مہنگائی اور کرپشن موجود ہے لیکن اس کے باوجود تعلیم ، ٹیکنالوجی ، صنعت وتجارت کے شعبہ جات میں بھارت کی شرح تناسب ، پاکستان کے مقابلے میں بہت زیادہ آگے ہے ۔
اُس کی پہلی اور بنیادی وجہ ،بھارت کے علیحدہ ملک کی حیثیت اختیار کرنے کے بعد وہاں سے جاگیرداری اور نوابیت کامکمل خاتمہ تھی جوکہ آج بھی ہمارے ملک پاکستان میں رائج ہے ۔دوسرے نمبر پر بھارت میں تسلسل کے ساتھ جمہوری عمل کا جاری رہنا ہے ۔ تیسرے نمبر پر ''فوج'' کا سیاست میں ذرہ برابربھی مداخلت کامکمل خاتمہ ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ بھارت میں کبھی فوج نے مارشل لاء نہیں لگایا۔ چوتھے نمبر پر آزاد وخودمختار خارجہ پالیسی پر عملداری کا ہونا ہے جبکہ پاکستان آج تک آزادوخودمختارخارجہ پالیسی بنانے اور اس پر عملداری قائم رکھنے میں مکمل طورپر ناکام رہا ہے ۔ پاکستان آج بھی امریکہ ،برطانیہ اور اس کے ساتھ ساتھ چائنا اور خلیجی ممالک کے مکمل زیراثر ہے اورامریکہ ،برطانیہ، چائنا اور خلیجی ممالک کے مفادات کے تحت اپنی خارجہ پالیسی بنانے پر آج تک قائم ہے ۔پانچویں نمبرپر بھارت میں تعلیم کی شرح کہیں 100 فیصد ہے تو کہیں 40 سے 90 فیصد ہے ۔ چھٹے نمبر پربھارت صنعت وتجارت اور ٹیکنالوجی کی شرح میں پاکستان کے مقابلے میں 80 فیصد کی شرح سے آگے ہے ۔
اگرہم ان چھ بنیادی نکات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں تو پورے پاکستان میں ہمیں فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ اور
سردارانہ نظام اور چند خاندانوں کی حکمرانی کاعمل ،پاکستان کے قیام کے دن سے لیکر آج تک بھرپورانداز میں جاری وساری نظرآئے گاجس میں موروثی سیاست یعنی چند خاندانوں کی 1947ء سے لیکرآج کے دن تک سیاست میں اجارہ داری قائم ہے جوملک کو دیمک کی طرح تباہ وبرباد کررہی ہے ۔ اس کے علاوہ زندگی کے ہرشعبے میں کرپشن کی بیماری ،کینسر کی شکل اختیار کرچکی ہے ۔
ہمارے ہاں اصل جمہوریت (True democracy) نظرنہیں آتی بلکہ یاتو Stratocracy نظرآتی ہے یاپھر ایسی جمہوریت جس میں بلواسطہ یا بلاواسطہ فوج کاعمل دخل ہوتا ہے جسے میں "Militarocracy" کانام دیتاہوں یعنی
When you see a military man talking more than a ruling President or Prime Minister or when you see a military's interference or intervention in all the affairs of the ruling government including events, activities, politics, foreign affairs and economies
“then it is said to be a “Militarocracy
میرے اٹھائے گئے نکات پر اگر طلباء وطالبات اور نوجوان نسل کے لڑکے اور لڑکیاں خصوصاً شعبہ تاریخ کے طالب علم براہ کرم غوروفکر کریں اور ملک سے موروثی سیاست ، فرسودہ جاگیردارانہ اورسرمایہ دارانہ نظام کے ��اتمے کی جدوجہد اور اصل جمہوریت (True democracy) کے قیام کیلئے سائنسی بنیادوں پر حکمت عملیاں ترتیب دیں تو ملک کو تباہ حال معیشت ، بے روزگاری کی لعنت، اقرباء پروری کی عفریت، آزادانہ خارجہ پالیسی کے فقدان اور کرپشن کی دلدل سے نکالاجاسکتا ہے ورنہ دیگر صورت میں ��اکستان کے عوام کو پاکستان کی مزید بدسے بدترین صورتحا ل کا سامنا کرنے کیلئے تیاررہنا چاہیے۔
الطاف حسین
23، جون2023ء (لندن)
@AltafHussain_90 Feudalism & military rule plagued #Pakistan for far too long, stifling progress & undermining democratic values, now we need to break the chains build a future based on equality, justice, and civilian supremacy, like @AltafHussain_90 envisioned decades ago.
چیئرمین @PPP_Org بلاول زرداری فرماتےہیں کہ لیاری سے ہماراتین نسلوں کارشتہ ہے
اگرPPPواقعتاًلیاری کےعوام سےمخلص ہے
تو پھر وہ
لیاری کےعوام کوہی
پانی،بجلی،گیس،تعلیم، صحت اورٹرانسپورٹ کی سہولت
فراہم کردے
تاکہ
لیاری کی مائیں،بہنیں،بزرگ اورنوجوان PPPکو
کوسنےکےبجائےدعائیں دے سکیں
پی ڈی ایم کی حکومت ملکی اور بین الاقوامی معاملات کو کنٹرول کرنے میں مکمل طورپر ناکام ہوتی نظر آرہی ہے ۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ م��نگائی نے تمام پرانے ریکارڈ توڑڈالے ہیں ۔ عوام مہنگائی سے تنگ آکر یا ��و خودکشی کرنے کاعمل کررہے ہیں یا پھر روزگار کی تلاش میں جائز وناجائز ذرائع سے ملک سے باہرجانے کا عمل کرنے پر مجبور ہیں ۔ IMF سے تاحال معاہدہ نہ ہونے کے سبب حکمرانوں کے اعصاب شل ہوچکے ہیں ۔ وزیراعظم سے لیکر وفاقی وزراء تک ان حالات میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور وہ اس کیفیت میں عجیب وغریب قسم کی حرکات کاارتکاب کررہے ہیں جن کی وجہ سے ملک کی بدنامی میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔
مسئلہ کا واحد حل 1789ء کے انقلاب فرانس جیسے انقلاب کی ضرورت ہے اور ملک کے تمام فرسودہ نظاموں کا مکمل خاتمہ ہی ہرانقلابی عمل کو کامیاب بناسکتا ہے ۔
The absence of the real #MQM and @AltafHussain_90's influence has created a void in the political scenario of Karachi. Their supporters, who were once actively engaged in the democratic process, now feel alienated and unrepresented. #PoliticalVoid#KarachiOnlyVotes4Altaf
The government of #Pakistan led by a consortium of 13 different political, secular and religious parties named as #PDM has drastically failed to meet the expectations of the Pakistani citizens in the country and the international community abroad. The PDM-led failed government lacked the expertise and the required technical and diplomatic skills to meet the standards and criteria for the domestic and international affairs. This flopped PDM-led incumbent government of Pakistan has failed to curb the inflation which is skyrocketing and making new trends every day. The overall devastation has constrained the people either to commit a suicide or gather necessary funds from sale of personal assets for paying out to human traffickers so that they might reach Europe for a better life. The absence of an agreement with the IMF has crushed the already withered nerves of the ruling elite of failed PDM-led incumbent government of Pakistan. From the Prime Minister @PakPMO to the entire Cabinet Ministers have lost their senses and hence their day to day foolish statements and baseless actions are a manifest of their anguish. Such statements and actions have pushed the country further into the humiliation in nook and cranny of the world.
The only way forward to get rid of this situation and these opportunists lies in the form of a revolution similar to that of the #French Revolution of 1789 and the complete elimination of the decayed systems which could make every revolutionary process successful.