Effect of Private Sins
It is reported from Sayyidunā Abū al-Dardāʾ رضي الله تعالى عنه that he said:
"A person should beware lest the hearts of the believers come to hate him without him realizing it."
Then he said: "Do you know what that means?"
I replied: "No."
He said:
Rasūlullah ﷺ was granted the strength of 40 people of Paradise,
Each inhabitant of Paradise possesses the strength equal to a 100 men,
So the Prophet ﷺ possessed the strength of 4000 men
(mathematical inference by Ibn hajar al-Asqalānī, in his fath-al-bārī)
There is a lot of podcast content out there, but this may be the most significant Muslim podcast series that has come out for a long time. Dr. Hamza al-Bakri on the Dala'il podcast on key issues related to Islamic theology, its emergence, and how it handles the challenges of our age
علم الكلام: نشأته ومشروعيته ومنهجه | مع الدكتور حمزة البكري
https://t.co/DrzinD8Lz1
*BE PART OF HISTORY - AN ENDURING SADAQAH JARIYAH PROJECT - HELP TEAM BRADFORD GET TO ITS TARGET*
Never been done before. Unlikely to be done again.
One man. One lifetime. Roughly 6,800 rulings across some 22,000 pages, answering everything from purity and prayer to trade
@pakistanwalli تمھاری جاہلیت بھی کوئی کم نہیں، مفتی تقی عثمانی سے مجھے کوئی خاص ہمدردی نہیں لیکن bitcoin کا وجود نہیں ہے، اسلامی بیع کے مسائل تو سیخلو پھر بات کرو۔
Remember to cover your ʿawrah, brother!
In the picture, you can see the Senegalese football player Idrissa Gana Gueye. He does something that perhaps only one player at the level he plays at does: he covers his ʿawrah from the navel to the knees.
In Islām, it is not only sisters who are required to cover themselves; men are required to do so as well. Of course, there are different Islamic opinions regarding the exact extent of a man’s ʿawrah and whether the knees themselves are included or not. However, if one holds the view that the knees must be covered, then it is obligatory to do so.
Many young brothers play football and participate in other sports while forgetting that they must dress in a way that properly covers their ʿawrah. It is not an excuse that it is hot or that wearing longer shorts is inconvenient. We would not accept that excuse from sisters who choose not to wear ḥijāb either. Ḥarām remains ḥarām for brothers as well when they do not cover themselves properly.
Idrissa Gana Gueye has shown that it is entirely possible to play while properly covered during the world’s biggest football tournament (the World Cup) and in the best football league (the Premier League). So, what is your excuse?
جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی جنوبی کی کورٹ میں 295 بی اور سی کے مقدمے کے سلسلے میں مفتی وسیم اختر کا فتویٰ بیان کے طور پر ریکارڈ کرلیاگیا۔مقدمے کے مطابق ایک کادیانی وکیل نے اپنے نام میں سید لگاکر کورٹ میں کاغذات بھی جمع کرائے اور خود کو مسلمان ہونے کا کئی افراد کے سامنے اقرار بھی کیا۔کادیانی وکیل کی طرف سے شعائر اسلام کو استعمال کرنا تعزیرات پاکستان کے مطابق سنگین جرم ہے۔
ریکارڈ کے مطابق وکیل محمد اظہر خان ایڈووکیٹ کی مدعیت میں تھانہ سٹی کورٹ میں مقدمہ الزام نمبر 54/2023 درج کیا گیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق مدعی نے شکایت درج کراتے ہوئے بتایا کہ 27 اپریل 2023 کو میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں کیس نمبر 32/2023 میں پیش ہوا تھا تو وہاں پر ملزم صباحت کی جانب سے ایک وکیل صبح 9 بجکر 40 منٹ پر پیش ہوا اور وکالت نامہ جمع کرایا جس میں اس نے اپنا نام سید علی احمد طارق تحریر کیا ہوا تھا جبکہ یہ وکیل کادیانی ہے، اس نے کورٹ میں جان بوجھ کر خود کو سید ظاہر کیا، جب میں نے کورٹ کے باہر اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں ایک سچا مسلمان ہوں اور سید ہوں، یہ الفاظ وہاں پر موجود وکلا جن میں غلام اکبر جتوئی، اعجاز احمد سومرو و دیگر وکلا نے سنے، لہذا میں درخواست کرتا ہوں کہ ملزم علی احمد طارق کے خلاف زیر دفعہ 298 بی اور سی کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔
اس مقدمہ میں جامعہ فیضانِ شریعت سے تعلق رکھنے والے مفتی وسیم اختر نے کادیانیوں یا غیر مسلموں کو خود کو اہل بیت اور سید ظاہر نہ کر سکنے کے حوالے سے دیئے جانے والے حوالہ جات و فتویٰ پیش کیا۔اسکے علاوہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم اور فتوے کی نقول بھی عدالت میں جمع کرا ئی گئیں۔ کادیانی کے وکیل کو آئندہ سماعت پر جرح کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ملزم کادیانی وکیل علی احمد طارق کورٹ میں پیش ہوا، مدعی مقدمہ محمد اظہر ایڈووکیٹ اور گواہ مفتی وسیم اختر بھی کورٹ میں پیش ہوئے۔مفتی وسیم اختر نے کورٹ کو بتایا کہ 7 جون 2023 کو مدعی مقدمہ محمد اظہر نے مجھ سے مذہبی معاملے کے لئے رجوع کیا تھا اور معلوم کرنا چاہا تھا کہ اہل بیت کون ہیں اور سید کا لفظ کون استعمال کر سکتا ہے ۔ یہ سوالات سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ملزم کی درخواست ضمانت کے معاملے پر بھی اٹھائے گئے تھے، اس حوالے سے اپنی تحقیق اور معلومات کے مطابق میں نے 7 صفحات پر مشتمل فتویٰ تیار کیا تھا۔ مفتی وسیم اختر نے کہا کہ یہ فتویٰ قرآن و سنت کی روشنی میں لکھا گیا ہے ، کوئی بھی کادیانی یا غیر مسلم خود کو اہل بیت اور سید ظاہر نہیں کر سکتا، اگر ایسا کرتا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہے جبکہ ملزم علی احمد طارق احمدی ہے جو کہ خود کو اہل بیت اور سید ظاہر نہیں کر سکتا۔
#shaoorfeed #CityCourtKarachi #JudicialProceedings #PakistanJudiciary #ShaoorNews