گیارہ ارب روپے کا جہاز خریدا ہے بھئی۔
کروڑوں روپے کی تنخواہ پر غیر ملكی پائلٹ بھرتی کیے ہیں بھئی۔
جہاز چلے، نہ چلے، کروڑوں روپے کا خرچہ عوام سے زبردستی کروانا ہے بھئی۔
عوام نے ووٹ نہیں دیا لیکن ہم جعلی فارم 47 سے عوام کے سر پر مسلط ہو گئے ہیں بھئی۔
عمران خان کو بےقصور ہونے کے باوجود جیل میں بےشرمی سے قید کیا ہے تو کیا ہے بھئی۔
میڈیا کی غیرت چھین کر اس کی ساکھ صفر کر دی ہ�� تو کر دی ہے بھئی۔
غلط LNG اور IPPs کے معاہدے کر کے عوام کی زندگی عذاب کر دی تو کر دی بھئی۔
یورپ میں گرمی کی لہر آئی تو گورے مرنے شروع ہوگئے۔ صرف سپین میں دو سو سے زائد لوگ مرے ہیں۔ لوگ گھر چھوڑ کر مہنگے ہوٹلوں میں پناہ لے رہے ہیں۔
اور یہ گرمی ویسی نہيں ہے جیسی پاکستان میں ہے۔ پاکستان میں ان مہینوں میں سورج آگ برساتا یے۔ جب آسمان دے آگ برس رہی ہے اور زمین کوئلے کی طرح دھک رہی ہے تو یہ بےگناہ انسان، پاکستان کا سابق وزیراعظم، قومی ہیرو، دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان، ایک تندور نما کوٹھڑی میں قید ہے۔ یہ تیسری گرمیاں ہیں جو اس نے یہاں گذاری ہیں۔
جس ملک میں اتنا ظلم ہو۔ ایسا جبر ہو۔ کبھی اس ملک میں برکت آسکتی ہے؟
دعا کریں ہم پر آللہ کا قہر نازل نہ ہو۔ ہم نے جبر کے سامنے کمزوری اور بزدلی کی انتہا کر دی ہے۔ خاص کر ہماری پڑھے لکھے طبقے نے۔ 😢
سپیکر صاحب اس نے سوال کیا کہ جہاز کیوں خریدا تو جواب ہے.... خریدا ہے بھئی خریدا ہے..... اور پھر یہ تیسری تصویر والا مغرور مکھڑا دکھایا، یہ اسمبلی میں اللّٰه کے 99 ناموں کے نیچے کھڑی اس فارم 47 کی نشست پر بیٹھی چوری کے ووٹ سے منتخب مشیر کا 25 کروڑ عوام کو جواب ہے، گویا 12 ارب کا جہاز اس قوم کی ہڈیوں سے پیسہ نکال کر خریدا ہے تو خریدا ہے پٹ لو جو پٹنا ہے والا attitude ہے، تو یاد رہے مریم اورنگزیب، یہاں جنرل رانی کا بھی اب صر�� کتابوں میں ہی قصہ ہے یہاں یحییٰ خان کو بھی آج کوئی نہیں جانتا یہاں ایوب خان مشرف راحیل کیانی باجوہ بھی دھندلا چکے اور رہنا نام اس موجودہ طاقتور کا بھی نہیں پھر کیا کرو گے؟ کوئی اور جرنیل پٹاؤ گے؟ جرنیلوں کے سر پر پھر حکومت لو گے؟ تو ذرا جواب دو جس دن کوئی مشرف سلیوٹ مار کر ملک بدر کرے گا جس دن کوئی باجوہ حکومت گرا کر جیل میں ڈالے گا اس دن کس کے پاس جاؤ گے؟اس قوم کے پاس؟ کس منہ سے؟ اس غرور بھرے منہ سے کہ ہاں خریدا ہے جہاز کر لو جو کرنا ہے؟
اسٹبلیشمنٹ کے پالتو منیب فاروق کا شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں تہلکہ خیز انکشافات !!
خان کے خلاف کیسے پروپیگنڈہ کیا گیا سب کھل کر بتا دیا🔥
عمران خان کی حکومت کو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا تھا کہ مجھے، غریدہ فاروقی، سلیم صافی، سہیل وڑائچ، منصور علی خان، ابصار عالم اور ہمارے دیگر صحافی دوستوں کو باقاعدہ بلا کر ہدایت جاری کی گئیں کہ تم لوگوں نے خان کے خلاف کھل کر پروپیگنڈہ کرنا ہے۔ چوبیس گھنٹے چینل پر یہی بیٹھ کر کہنا ہے کہ خان نالائق ہے، مہنگائی کر رہا ہے۔ اس بیانیہ پر عوض ہمیں لاکھوں کروڑوں روپے دیے گئے۔
اس کھلی گفتگو کے پیچھے چھی کوئی کہانی ہے۔
سائنس کی نظر میں
تدفین کے ایک دن بعد یعنی ٹھیک 24 گھنٹے بعد انسان کی آنتوں میں ایسے کیڑوں کا گروہ سرگرم عمل ہو جاتا ہے جو مردے کے پاخانہ کے راستے سے نکلنا شروع ہو جاتا ہے،
ساتھ نا قابل برداشت بدبو پھیلنا شروع کرتا ہے،
جوکہ در اصل اپنے ہم پیشہ کیڑوں کو دعوت دیتے ہیں۔
یہ اعلان ہوتے ہی بچھو اور تمام کیڑے مکوڑے انسان کے جسم کی طرف حرکت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور انسان کا گوشت کھانا شرو ع کر دیتے ہیں۔
تدفین کے 3 دن بعد سب سے پہلے ناک کی حالت تبدیل ہونا شرو ع ہو جاتی ہے۔
6 دن بعد ناخن گرنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
9 دن کے بعد بال گرنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
انسان کے جسم پر کوئی بال نہیں رہتا اور پیٹ پھولنا شروع ہو جاتا ہے۔
17 دن بعد پیٹ پھٹ جاتا ہے اور دیگر اجزاء باہر آنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
60 دن بعد مردے کے جسم سے سارا گوشت ختم ہو جاتا ہے۔ انسان کے جسم پر بوٹی کا ایک ٹکڑا باقی نہیں رہتا۔
90 دن بعد تمام ہڈیاں ایک دوسرے سے جدا ہونا شرو ع ہو جاتی ہیں۔
ایک سال بعد ہڈیاں بوسیدہ ہو جاتی ہیں،
اور بالآخر جس انسان کو دفنایا گیا تھا اس کا وجود ختم ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔
۔
تو میرے دوستوں غرور، تکبر، حرص، لالچ، گھمنڈ، دشمنی، حسد، بغض، جلن، عزت، وقار، نام، عہدہ، بادشاہی،
یہ سب کہاں جاتا ہے؟
سب کچھ خاک میں مل جاتا ہے
انسان کی حیثیت ہی کیا ہے؟
مٹی سے بنا ہے، مٹی میں دفن ہو کر مٹی ہو جاتا ہے۔
پانچ یا چھ فٹ کا انسان قبر میں جا کر بے نام و نشان ہو جاتا ہے۔۔۔
دنیا میں اکڑ کر چلنے والا،
اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا
دوسروں کو حقیر سمجھنے والا
دنیا پر حکومت کرنے والا
قبر میں آتے ہی اس کی حیثیت، صرف "مٹی" رہ جاتی ہے
لہٰذا انسان کو اپنی ابدی اور ہمیشہ کی زندگی کو خوبصورت اور پرسکون بنانے کے لئے ہرلمحہ فکر کرنی چاہیئے،
اللہ کو یاد کرنا چاہیئے،
ہر نیک عمل اور عبادت میں اخلاص پیدا ��رنا چاہیئے
اور
خاتمہ بالخیر کی دعا کرنی چاہیئے۔۔۔!
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین
لیڈرشپ کا فرق
آیت اللہ خامینائ شہید کے 47 سال تک اقتدار کے بعد بیرون ملک کوئ جائیداد، بینک اکاؤنٹ یا ملک کے اندر کوئ اثاثے نہیں، فرنیچر اور گھر کی چیزیں جو ایک منی ٹرک میں آ جائیں
ہمارے دو سیاسی خاندان اوردوسری لیڈرشپ 50 سال سے اقتدار میں ہیں، دبئی، پانامہ اور سوئس لیکس کے سپر سٹار ہیں، لندن، نیو یارک، دبئی، سوئزرلینڈ، فرانس، بلجیم، آسٹریلیا، سپین، ملائشیا میں جائیدادیں اور اکاؤنٹس ہیں
لیڈرشپ کرپٹ ہو تو قومیں تباہ ہو جاتی ہیں، ملک زوال پذیر ہو جاتے ہیں
کرپٹ لیڈرشپ کو اپنا پیسہ بچانا ہوتا ہے، پیسے اور ملک میں سے ایک ہی بچ سکتا ہے
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned on True Leadership
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
*وہ پانی کا نظام ٹھیک کر کے زراعت میں جدت لا کر آپ کا معیار زندگی بہتر بنا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔*
*وہ ڈیم بنا کر، نہروں پر ٹربائن لگا کر سستی بجلی پیدا کرکے آپکو دے سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں دیتے۔*
*وہ ایران سے سستا تیل و گیس لے کر آپکی مشکلات کم کر سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں کرتے۔*
*وہ لا اینڈ آرڈر ٹھیک کر کے آپ کو پرسکون زندگی دے سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ کر کے نہیں دیتے۔*
*وہ ٹوورزم کو بہتر بنا کر اور امن و امان قائم کر کے فی کس آمدنی بڑھا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں بڑھاتے۔*
*وہ بہتر اور معیاری نظام تعلیم لا کر قوم کا شمار مہذب قوموں میں کرا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔*
*وہ غربت اور جہالت کا خاتمہ کر کے ریاست کو* *خوشحال بنا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں بناتے۔*
*وہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟*
*وہ ایسا اس لئے نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کا مقصد ہی نہیں ھے۔*
*��ن کا مقصد صرف اور صرف دولت سمیٹنا ھے،*
*جس کے لیے ضروری ھے کہ عوام کو نان نفقہ کا محتاج رکھا جائے،*
*جس میں فی الحال وہ کامیاب ہیں۔*
*انہوں نے ہر قیمت پر تمہیں غلام ہی رکھنا ہے۔*
*اس طرح ہم سب قید میں ہیں۔*
*عوام کو ریلیف کیوں نہیں ملتا؟*
*عوام کی زندگی کیوں نہیں بدلتی؟*
*کیونکہ غلام کے اتنے ہی حقوق ہوتے ہیں جتنے ہمیں مل رہے ہیں۔*
*اس سے زیادہ سہولتیں آزاد قوموں کیلئے ہوتی ہیں۔*
*آپ محنت کرکے اپنا رہن سہن بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو پچھلی پوزیشن پر پہنچا دیتے ہیں۔*
*آپ مزید محنت کرتے ہیں وہ مزید ٹیکس لگاتے ہیں۔*
*آپ کو وہ مصیبتوں ��ے نکلنے نہیں دیتے بلکہ آئے روز مزید پریشانیاں آپ کی منتظر ہوتی ہیں۔*
*ان سب نکات کو آپ کسی سیاسی جماعت کا سپورٹر بن کر نہیں*
*بلکہ ایک پاکستانی بن کرسوچیں!*
*آپ کو سب کچھ واضع نظر آئے گا*
*یہاں تک کہ غلامی کا وہ طوق بھی جو آپ کے گلے میں ہے مگر آپ کو نظر نہیں آتا۔*
اور اس "وہ" میں وہ سارے شامل ہیں جو ہمارے اوپر حکمرانی کرتے ہیں ۔۔
گزشتہ 3 سال میں پاکستان کے لیے ون ڈے میں سب سے زیادہ رنز:
1571 رنز — محمد رضوان (اوسط 49.09)
1412 رنز — بابر اعظم (اوسط 40.35)
اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ رضوان مسلسل پاکستان کے لیے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں میں شامل رہے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں ون ڈے اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا، جو شائقین کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
رضوان کی مستقل مزاجی، فٹنس اور پرفارمنس نے انہیں ون ڈے فارمیٹ میں پاکستان کے اہم ترین کھلاڑیوں میں شامل رکھا ہے۔
کیا پرفارمنس کافی نہیں، یا کچھ اور فیصلوں پر اثر انداز ہو رہا ہے؟
#PakvsAus #cricket #BabarAzam
جرنیل کہتا ہے یہ جنگ سانجھی ہے، میری حمایت کرو
اگر جنگ واقعی سانجھی ہے تو اس کے غم اور خوشیاں بھی سانجھی کیوں نہیں؟
اس جنگ کے بدلے آنے والے ڈالر تیرے، مگر دہشتگردی میں گرنے والی لاشیں میری
دھاک تیری، مگر بوڑھے کندھوں پر جوان بیٹوں کے جنازے اٹھانے والے باپ میرے
DHA کی رونقیں تیری، مگر کچے گھ��وں پر گرنے والے ڈرون کے ملبے تلے دبنے والے بچے میرے
حکمرانی تیری، مگر گرتے وطن کی چیخیں میری
بیانات تیرے، جنازے میرے
خوشیاں تیری، صدمے میرے
ڈی چوک میں تیری فوجی پریڈ کی قطاریں، اور اسی ڈی چوک میں گرنے والی لاشیں میری
جب ہر قیمت میں میرا خون شامل ہے، تو پھر یہ جنگ صرف سانجھی نعروں میں کیوں ہے، انجام میں کیوں نہیں؟
تو کہانی کچھ یوں ہے کہ۔۔۔
دونوں چند سال پہلے ملے۔
دوستی ہوئی"گرل فرینڈ بوائے فرینڈ تعلقات بنے"
مرضی سے تحائف لیے دئیے گئے
گھر،گاڑی،،شاپنگ،غیر ملکی اکٹھے دورے کیے۔
پیار کا اظہار دوطرفہ تھا ثاقب پہلی بیوی نہیں چھوڑ رہا تھا۔
مومنہ آگے بڑھ گئی۔ثاقب پہلے ت��لے پھر دھمکیاں ایک عاشق کی طرح دینے لگا،
پھر اپنے"رقیب"کے پیچھے پڑ گیا تو
مومنہ کو یہ مسئلہ میڈیا کے سامنے لانا پڑا۔
ردعمل میں ثاقب کو نا چاہتے۔۔تحائف سمیت پیسوں کی باتیں میڈیا کے سامنے اور اپنے دفاع میں کرنا پڑیں۔
جب میاں بیوی کی طرح رہ رہے تھے تو خرچے اٹھانا اس کی زمہ داری بھی تھی اور وہ خود اٹھا بھی رہا تھا۔
اب نا ان تحائف کا زکر کرنا بنتا ہے اور
نا دھمکیاں دینے کا۔۔
آگے بڑھ گئی تو۔۔۔جانے دو
کیوں ایک دوسرے کی باقی عزت بھی نیلام کرتے ہو
تعلق رکھنے اور ختم کرنے
میں کوئی"گریس"برقرار رہنی چاہیے۔
(اسد آر چوہدری)
ایک چرواہا اپنا ریوڑ لے کر جا رہا تھا کہ راستے میں ایک پڑھا لکھا آدمی آ نکلا۔
وہ بڑے اعتماد سے بولا:
“اگر میں تمہیں بغیر گنے بتا دوں کہ یہاں کتنی بھیڑیں ہیں… تو کیا ان میں سے ایک بھیڑ میری ہو گی؟”
چرواہے نے مسکرا کر کہا:
“چلو مان لیا!”
وہ آدمی چند لمحے غور سے دیکھتا رہا، پھر فوراً بولا:
“یہاں کل 381 بھیڑیں ہیں!”
چرواہا حیران رہ گیا۔
اتنے میں وہ آدمی جلدی سے ایک جانور اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ کر چلنے لگا۔
چرواہا بولا:
“اگر میں تمہارا اصل پیشہ بتا دوں… تو کیا تم میری چیز واپس کر دو گے؟”
وہ آدمی ہنس کر بولا:
“ضرور، بتاؤ!”
چرواہے نے سکون سے جواب دیا:
“تم فلسفی ہو!”
وہ آدمی چونک گیا۔
“واہ! تم نے کیسے پہچانا؟”
چرواہا مسکرایا اور بولا:
“پہلے میرا کتا نیچے رکھو… پھر بتاتا ہوں!”
قمر زمان قائرہ نے آج پبلک TV پر اٹھارہ سال کے نوجوانوں سے ووٹ کا حق چھیننے کی حمایت کرتے ہوۓ کہا ہے کہ 18 سال کے بچے میں گھر کے معاملات سمجھنے کی اہلیت نہیں اس لیے اسے ووٹ دینے کا بالکل حق نہیں ہونا چاہیے
یہ کہنے کے بعد وہ اپنے مستقبل کے لیڈران سے ملنے چلے گئے جو اپنے نانا کیساتھ کھیل میں مصروف تھے
دُھند میں بھٹکا ہوا کُتا اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے کبھی آگے دوڑتا ہے، کبھی پیچھے، کبھی دائیں اور کبھی بائیں مگر اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا آخرکار وہ بوکھلا کر ہر طرف باگھم بھاگ شروع کر دیتا ہے
عاصم منیر کی حالت بھی آج اسی دُھند والے کُتے جیسی ہو چکی ہے عمران خان کا خوف اس کے حواس پر اس طرح سوار ہے کہ کبھی استثنیٰ کی ڈھال ڈھونڈتا ہے، کبھی ایکسٹینشن کا سہارا لیتا ہے، اور کبھی عمران خان کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے ووٹر کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 کرنے جیسے مضحکہ خیز خیال تراشتا ہے
یہ دُھند والا کُتا منزل تک پہنچنا چاہتا ہے، مگر راستہ نظر نہیں آ رہا، اسی لیے کبھی قانون کے پیچھے چھپتا ہے، کبھی آئین کو مروڑتا ہے، اور کبھی عوام کے حقِ ووٹ پر حملہ آور ہوتا ہے، خوف اتنا گہرا ہے کہ طاقت ہاتھ میں ہے، مگر سم�� گم ہو چکی ہے۔
ایک گھر کے چوکیدار کو چوروں نے خط لکھا کہ: “رات کو ہم چوری کرنے آئیں گے، دروازہ کھلا رکھنا۔”
مگر خط غلطی سے چوکیدار کے بجائے گھر کے مالک کے ہاتھ لگ گیا۔ مالک نے فوراً پولیس کو بلایا اور کہا: “یہ دیکھیں! چوروں اور چوکیدار کی ملی بھگت کا ثبوت!”
پولیس نے چور پکڑنے کے بجائے مالک کو ہی گرفتار کر لیا اور کہا: “تم نے بغیر اجازت کسی کا خط کیوں پڑھا؟”
بس یہی “سائفر” کی پوری کہانی ہے۔
مکمل 'خفیہ دستاویز' کا سائفر لیک ہونے سے عاصم منیر کو بہت غصہ آئے گا۔
بہت بہت غ��ہ۔
کیونکہ اس سائفر نے ایک فائل کو دوبارہ کھول دیا ہے جسے راولپنڈی ہمیشہ کے لیے دفن کرنا چاہتا تھا: عمران خان کی برطرفی، بائیڈن انتظامیہ کا دباؤ، پاکستان کی آئی ایس آئی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ، اور "سب کو معاف کیا جائے گا" لائن جس نے اسلام آباد کو پریشان کرنا کبھی نہیں روکا۔
نئے جاری ہونے والے تین صفحات پر مشتمل "سیکریٹ/نو سرکولیشن" سائفر میں مبینہ طور پر امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو اور پاکستانی سفیر کے درمیان ہونے والی ملاقات کو ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں واشنگٹن نے عمران خان کے ماسکو کے دورے پر اس دن برہمی کا اظہار کیا تھا جس دن روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا، اور خبردار کیا تھا کہ اگر خان اقتدار میں رہا تو تعلقات مشکل ہو جائیں گے۔
ہفتوں بعد، خان نے ایک عوامی ریلی میں ایک دستاویز اٹھائی اور اپنی حکومت کے خلاف غیر ملکی سازش کا الزام لگایا۔ اپریل 2022 میں، انہیں منیر اور اپوزیشن کی حمایت یافتہ وزیر اعظم کے خلاف پاکستان کے پہلے کامیاب عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ہٹا دیا گیا۔
2022 سے پاکستان کے جرنیلوں نے دنیا کو کہانی بیچ رہے ہیں۔
کہ عمران ملکی سیاست کی وجہ سے فارغ ہو گیا۔
کہ کوئی بیرونی دباؤ نہیں تھا۔
کہ فوج کا جمہوریت کے خاتمے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
کہ پاکستان بس آگے بڑھ رہا ہے۔
اب مکمل سائفر عوام کی نظر میں ہے، اور اچانک پورا اسکرپٹ دوبارہ نازک نظر آتا ہے۔
یہ یونیفارم، خوف اور منظم بیانیے کے ذریعے ملک چلانے کا مسئلہ ہے۔ دستاویزات زندہ ہیں۔ ٹائم لائنز زندہ رہتی ہیں۔ خیانت بچ جاتی ہے۔
عاصم منیر اپنے آپ کو واشنگٹن کے مفید آدمی، خلیج کے سیکورٹی بروکر، ایران کے ثالث اور پاکستان کے سپریم پاور سینٹر کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن یہ ریلیز سب کو یاد دلاتی ہے کہ پاکستان کا اصل بحران بھارت ، امریکہ یا عمران خان نہیں۔
پاکستان کا اصل بحران اس کی فوج کا جمہوریت کو "کرائے کی جائیداد" سمجھنا ہے۔
اگر پاکستان اب اپنا چہرہ بچانا چاہتا ہے تو اس کے پاس صرف ایک ہی آپشن ہے:
عمران خان کو رہا کرو۔
کیونکہ اس کے بعد اسے جیل میں رکھنے سے راولپنڈی پہلے سے زیادہ مجرم، کمزور اور ایک آدمی سے زیادہ خوف زدہ نظر آتا ہے۔
Translated from @JethmalaniM
@DropSiteNews
#سائفر_ایک_حقیقت