🔴 عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی:
"45 برس تک یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ ایران خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، اور اسی جواز پر خلیجی خطے کو غیر معمولی حد تک عسکری بنا دیا گیا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج سب سے بڑا خطرہ تہران سے نہیں بلکہ تل ابیب سے آ رہا ہے۔ موجودہ حالات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اور ماضی کی غلطیوں میں الجھنے کے بجائے مستقبل کی جانب دیکھنا چاہیے۔"
میرے دوست! مضبوط رہو۔ تم نے ان لوگوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر کے، جنہوں نے تمہیں جیل میں ڈالا، جو کام کیا ہے وہ ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ دانشور اور مصنف طارق علی کا عمران خان کے نام پیغام۔
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan#ImranKhan
”علیمہ خانم نہ تحریک انصاف کی چیئرمین بنی ہیں اور نہ وہ وزارت اعظمی کی امیدوار ہیں۔ وہ پارٹی میں کسی جانشینی کی دعویدار نہیں ہیں بلکہ صرف اپنے بھائی عمران خان کی رہائی کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ علیمہ خانم کا عمران خان کے جائز حقوق کیلئے آواز اٹھانا، ہرگز موروثی سیاست نہیں کہا جا سکتا۔“ علینہ شگری
@alinashigri
بریکنگ نیوز 🚨مولانا فضل الرحمان کا فوج کے خلاف آگ لگا دینے والا خطاب۔ ہر طرف ہل چل مچ گئی۔ ٹاؤٹ چھوڑ دیے گئے، مولانا سے معافی کا مطالبہ۔ اس سارے معاملے کی اصل حقیقت کیا ہے؟ آخر ملانا نے یہ بیان اس موقع پر کیوں دیا؟ شہزاد اکبر صاحب نے حقیقت بیان کر کے اس ٹوپی ڈرامے کو واڑ کر رکھ دیا 🔥🔥
میں آپ کو بتاؤں عمران خان صاحب کے پاس جو پلان لے کے گئے تھے، میں ساتھ تھا اس میں۔ عمران خان صاحب نے اس سے پہلے کہ یہ لوگ، پانچ چھ لوگ تھے ہم۔ سلمان اکرم راجہ صاحب تھے، علی امین گنڈاپور صاحب تھے، صاحبزادہ حامد رضا میرا بھائی جو بے گناہ جیل میں ہے، تو خان صاحب نے بیٹھتے ہی کہا، "میں نے، پہلے میری بات سنو، میں نے بنی گالا نہیں جانا ہے۔"
"میں نے کوئی کمپرومائز نہیں کرنا ہے۔ میرے ساتھ والے لوگ جو ایک جملہ لکھ کے دے دیتے باہر آ جاتے۔ وہ جیل میں رہیں اور میں جنابِ والا ڈیل کر کے تو جا کے ادھر بیٹھ جاؤں؟ میں نہیں جاؤں گا۔ اور یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔" "میں پہلے وقت نہیں ہوتا تھا، قرآن پڑھتا ہوں تو پہلے ایک ترجمہ ابھی میرے پاس کئی ترجمے ہیں یا تفسیریں ہیں، مجھے اب صحیح یاد نہیں ہے۔" چار پانچ کی انہوں نے بات کی تھی۔ "دعا کرتا ہوں، پہلے نماز جلدی جلدی پڑھتا تھا، اب اطمینان سے نماز پڑھتا ہوں۔ کتابیں پڑھتا ہوں۔ یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔
قائد حزب اختلاف سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس
حکومت کو اعلان کرنا چاہیے کہ ہم ڈیفالٹ کر چکے ہیں کیونکہ ڈیفالٹ کی ساری نشانیاں پوری ہو چکی ہیں اگر آپ کا قرضہ جی ڈی پی کا 50 فیصد ہو جائے تو یہ ڈیفالٹ کی علامت ہے جبکہ ہمارا قرضہ جی ڈی پی کا 70 فیصد ہو چکا ہے ! حسن ظفر ۔۔
ہمیں روکا جا رہا ہے کہ دھرنے میں نہ جائیں، ایکشن کمیٹی نے ایسا کیا غلط کیا ہے؟ وہ تو ہمارے عوام کے حق کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں۔ رینجرز کہہ رہے ہیں جو بچے دھرنے میں گئے ان کے 'ب فارم' نہیں مانے جائیں گے، ہمیں آپ کے 'ب فارمز' کی ضرورت نہیں ہے، پاکستانی عوام سے گزارش ہے ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔ ایکشن کمیٹی کے دھرنے میں شریک طالبہ کی جذباتی گفتگو، 'ب فارم' بھی پھاڑ دیا
شاہ لطیف بھٹائی نے کہا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ جب کسی سے ناراض ہوتا ہے تو اسے ہتھیار سے نہیں مارتا بلکہ اس سے اسکی عقل چھین لیتا ہے پھر وہ انسان ایسے فیصلے کرتا ہے جو اسے تباہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں دُعا کریں کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو وہ عقل دے جو ان سے درست فیصلے کرائے
مولانا فضل الرحمن صاحب سے معافی کا مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن ان کی جماعت نے ایک اور بیان پوسٹ کردیا ، اب تک یہی نظر آرہا ہے کہ وہ اس لڑائی کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں ، آگے آگے دیکھیے ، ہوتا ہے کیا
مولانا نے اصولی طور پر بالکل درست کہا آج فیلڈ مارشل کہہ رہے ہیں کہ سیاست گولیوں کی بوچھاڑ میں کریں یہ نہیں ہوگا قائداعظم نے بھی کہا تھا کہ وردی والوں کا کام سیاست کرنا نہیں ہے👇🏽👇🏽👇🏽👇🏽👇🏽
"میں ہر نماز میں شہادت کی دعا مانگتا ہوں" -
جناب طاہر اشرفی
شہادت کی موت مانگنا بھی اچھی بات ہے اور دنیا کی زندگی بھی حق کے راستے پر گزارنے کی دعا مانگنی چاہئے، اشرفی صاحب۔
**انسانیت کی خوبصورت مثال ❤️**
کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے المناک واقعے میں اپنی بیٹی کو کھونے والے ایک والد نے خاتون ٹیچر کے خلاف کارروائی سے انکار کر دیا۔
ان کا کہنا ہے:
*"میری بیٹی کی جتنی زندگی لکھی تھی، اتنی ہی تھی۔ یہ اللہ کا فیصلہ تھا۔ اگر عمارت میں غفلت ہوئی ہے تو ذمہ داروں کا تعین کیا جائے،
مگر ایک غریب خاتون ٹیچر کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ وہ بچوں سے بے حد محبت کرتی تھیں، ان کے اپنے بچے بھی اسی حادثے میں ملبے تلے دب گئے۔"*
انہوں نے دیگر والدین سے بھی اپیل کی کہ اصل غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے، جبکہ خاتون ٹیچر کو مزید آزمائش میں نہ ڈالا جائے۔
اللہ تعالیٰ حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام بچوں کی مغفرت فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا ملے۔ آمین۔
نماز پڑھتے ہوئے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم
تیسری یا چوتھی رکعت میں یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم تیسی رکعت میں تھے یا چوتھی میں
تو اس سچویشن میں ہم کیا کریں ؟
دیکھتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز پر شکہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعات نماز پڑھیں ہے تین یا چار تو وہ شک کو چھوڑ دے
اور جتنی رکعات پر یقین ہو پر ہی بنیاد رکھیں
اگر تین پر یقین ہے تو اسے چوتھی پڑھنی چاہیے
پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرلےاور اگر اس نے پانچ رکعاتیں پڑھ لی ہے تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت یعنی چھ رکعات کر دیں گے اور اگر اس نے چار پورے کر لیے تو یہ سجدے شیطان کو ذلت اور رسوائی کا باعث بنیں گے
اس طریقے سے وہ اپنی نماز مکمل کر لے
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں:
"میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک حضرت جویریہ بنت حارث بن ابی ضرارؓ آئیں۔"
حضرت جویریہؓ نہایت خوبصورت تھیں۔ جو بھی انہیں دیکھتا، ان کے حسن سے متاثر ہو جاتا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب میں نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر کھڑے دیکھا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ کچھ خاص ہونے والا ہے، اس لیے میرے دل میں ایک کیفیت پیدا ہوئی۔
حضرت جویریہؓ اس وقت اسلام قبول کر چکی تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ وہ بنو مصطلق کی جنگ میں قیدی بن گئی ہیں، اور چونکہ وہ اپنے قبیلے کے سردار کی بیٹی ہیں، اس لیے اپنی آزادی کے لیے مکاتبت (آزادی کے بدلے رقم ادا کرنے کا معاہدہ) کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے درخواست کی کہ آپ ﷺ ان کی مالی مدد فرمائیں یا کوئی اور حل نکالیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے جویریہ! کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں؟"
انہوں نے عرض کیا: "وہ کیا ہے، یا رسول اللہ؟"
آپ ﷺ نے فرمایا: "میں تمہاری مکاتبت کی رقم ادا کر دیتا ہوں، یا پھر تم سے نکاح کر لیتا ہوں۔"
حضرت جویریہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے نکاح کو اختیار کیا، اور اس طرح وہ امہات المؤمنین میں شامل ہو گئیں۔
اس نکاح کا ایک عظیم فائدہ سامنے آیا۔ جب صحابۂ کرامؓ کو معلوم ہوا کہ بنو مصطلق کے قیدی اب رسول اللہ ﷺ کے سسرالی رشتہ دار بن گئے ہیں تو انہوں نے کہا:
"یہ تو رسول اللہ ﷺ کے رشتہ دار ہیں، ہم انہیں قید میں نہیں رکھ سکتے۔"
چنانچہ تقریباً سو قیدی آزاد کر دیے گئے۔ اس حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر بنو مصطلق کے بہت سے لوگ اسلام لے آئے، اور بعد میں پورا قبیلہ اسلام میں داخل ہو گیا۔
حضرت عائشہؓ فرمایا کرتی تھیں:
> "میں نے جویریہؓ سے زیادہ اپنی قوم کے لیے بابرکت کوئی عورت نہیں دیکھی۔"
کیونکہ ان کے نکاح کی برکت سے ان کی پوری قوم کو آزادی ملی اور بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔
مزید یہ کہ حضرت جویریہؓ کے والد حارث بن ابی ضرار اپنی بیٹی کا فدیہ لے کر مدینہ آئے۔ روایت میں آتا ہے کہ راستے میں انہوں نے دو اونٹ چھپا دیے تھے تاکہ وہ فدیے میں نہ دینے پڑیں۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"اے حارث! وہ دو اونٹ کہاں ہیں جو تم نے وادی میں چھپا دیے تھے؟"
یہ سن کر وہ حیران رہ گئے، کیونکہ اس بات کا علم بظاہر کسی کو نہیں تھا۔ انہوں نے کہا:
"میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اس راز کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔"
اسی کے بعد وہ بھی مسلمان ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں رسول اللہ ﷺ کی محبت پیدا فرمائے، آپ ﷺ کی سنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور قیامت کے دن آپ ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین۔
وضاحت: اس بیان میں کئی باتیں مستند احادیث پر مبنی ہیں، جیسے حضرت جویریہؓ کا نکاح اور اس کے نتیجے میں قیدیوں کی رہائی (جس کا ذکر سنن ابی داود وغیرہ میں ملتا ہے)۔