وفاق میں 👈 عمران خان
پنجاب میں 👈 عمران خان
بلوچستان میں 👈 عمران خان
کے پی کے میں 👈 عمران خان
گلگت بلتستان میں 👈 عمران خان
آزاد کشمیر میں 👈 عمران خان
سینٹ میں 👈 عمران خان
اب باری ہے سندھ کی۔۔۔۔۔ جلنا نہیں سڑنا بھی ہے.
وقت نے سکھایا کہ سب سے پہلے اپنا خیال رکھنا ضروری ہے۔۔۔اپنے دل ، اپنے سکون اور وقار کو کسی کے لیئے قربان مت کرو۔۔۔اچھے ضرور بنو
مگر کمزور نہیں اور محبت بانٹو مگر خود کو
کھو کر نہیں ۔۔۔
ہم سب پر یہ فرض ہے کہ عمران خان صاحب کی بہنوں کی عزت، احترام اور توقیر کا ہر موقع پر خیال رکھیں۔ ان کا غصہ اور سخت لہجہ اپنے بھائی کی وجہ سے ہے اور دنیا کی ہر بہن اپنے بھائی کے لیے ایسا ہی درد رکھتی ہے۔
سلمان اکرم راجہ صاحب بھی ایک نفیس انسان ہیں جن کا دل اور نیت صاف ہے۔ اسی طرح علامہ راجہ ناصر عباس صاحب اور محمود اچکزئی صاحب کو عمران خان صاحب نے چنا ہے۔ جن سے ہم عمران خان صاحب کی ہدایت پر مشورہ بھی لینگے اور ان کی رائے کی قدر بھی کرینگے۔ ان کا سیاسی تجربہ زیادہ ہے جس سے ہم نے فائدہ لینا ہے۔ ہم سیاسی فہم کے ساتھ ، عمران خان صاحب کی ہدایات کے مطابق آگے بڑھیں گے۔
یہ ایک حقیقیت ہے کہ پچھلے دو سال میں ہم بطور پارٹی نا مزاحمت میں اور نا مصلحت سے انصاف حاصل کر سکے ہیں- کیونکہ ہمارے سیاسی دشمن اخلاقی اور جمہوری پستی کے انتہائی نیچے درجے پر پہنچ چُکے ہیں اور کسی بھی آئین، قانون، عدالتوں کو یا اخلاقی و سیاسی اصولوں کو نہیں مانتے-
لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ منظم تنظیم کے بغیر کوئی بھی بڑی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ہم نے عمران خان کی پارٹی، جو پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، اُس پر صرف تنقید کی بجائے، باہمی صلاح مشورے اور اتحاد کے ساتھ اُس کو منظم کر کے آگے بڑھنا ہے۔
کوئی بھی معرکہ صرف جوش کی بجائے ہوش سے جیتا جاتا ہے۔ ہمارے سیاسی دشمن ہمیشہ ہمارے چھوٹی سی غلطی کے انتظار میں ہوتے ہیں اور اُس غلطی کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کر گولی بھی چلواتے ہیں، ہمارے کارکنوں کو شہید بھی کرتے ہیں، ہماری پارٹی کو بین کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، انتخابی نشان کے ساتھ دھاندلی سے اور عدالت سے ہماری سیٹیں بھی چھین لیتے ہیں اور عمران خان صاحب اور ان کے اہلیہ بشریٰ بی بی صاحبہ پر حد درجے کا ظلم بھی برپا کر دیتے ہیں۔ہم مُسلّح جتھے نہیں بلکہ سیاسی لوگ ہیں۔ عمران خان کی ہدایات کے مطابق ہم بندوق اور ڈنڈے کا مقابلہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر پُرامن طریقے سے کرتے رہیں گے۔
مردان کا جلسہ بھی عمران خان صاحب کی ہدایت پر ہو رہا ہے۔ یہ خیبر پختونخوا کی تاریخ کا بڑا جلسہ ہوگا انشاء اللّٰہ۔ تمام لوگوں کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہے!!
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
Please watch & share this interview my boys Sulaiman & Kasim did about their father, Imran Khan, who has been held in solitary confinement for almost 2 years despite the UN ruling that his detention is arbitrary & unlawful. Proud Amma.
گزشتہ روز خان صاحب نے مجھے بلایا اور آج میں نے ملاقات کے لئے جانا تھا مگر کل رات لیٹ جھنگ یہ وارنٹ گرفتاری موصول ہوۓ جس میں باقی دفعات کے ساتھ دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں ۔ یہ حسن ابدال میں درج کئے دو کیسز ہیں دہشت گردی گے -تو آج میں خان کی ملاقات سے محروم رہونگا اور ضمانت کروا کے اسی ہفتے ملوں گا
توشہ خانہ کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی۔۔۔جب تک آلقادر نیب کیس میں سزا نا ہو جائے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ نہیں دیں گے۔۔۔
قوم تیار رہے کیونکہ انصاف سڑکوں پر ہی ملنا ہے عدالتوں میں نہیں۔۔۔
#Adnanpti#ik#ImrankhanPTI
ہمیں جو سزا دی جارہی ہے وہ ڈیجیٹل میڈیا کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ ہم باطل کے خلاف حق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنے قائد کی رہائی کیلۓ لڑ رہے ہیں اس ساری لڑائی میں ڈیجیٹل میڈیا ہی ہماری آواز بن کے گونج رہا ہے اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہمارے معاملات کو اجاگر کر رہا ہے- یہ ملک دوست اور تحریک انصاف کی طاقت ہیں-خان صاحب کا پئغام کہ ہمارےاحتجاج کا ہدف کوئی ادارہ نہین ہے یہ بھی ہم تک ہمارے سوشل میڈیا نے پہنچایا- یہ volunteers ہی ہیں جو خان کی محبت میں اس کی رہائی کی خاطر ہمارے ساتھ ہمہ وقت کوشاں ہیں- الیکشنز میں جب ہمارے سب لیڈرز روپوش ہونے پر مجبور ہوۓ تو یہی سوشل میڈیا volunteers تھے جنہوں نے ہمارے پیغام اور نشان قوم تک پہنچاۓ-بحیثیت انفارمیشن سیکرٹری اور خان کے ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے میں دوستوں کو کہوں گا کہ سوشل میڈیا warriors کو ہماری طرف سے صرف پذیرائی ملنی چاہیے یہ ہم سے کچھ نہیں مانگتے -میں بھی اپنے آپ کو انکا حصہ سمجھتا ہوں اور ان کو اور ان کی خدمات اور وقت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں
القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ انے والا ہے امید ہے کہ عمران خان کے حق میں ہوگا اگر اس میں سزا ہوتی بھی ہے تو زیادہ سے زیادہ 15 دن لگیں گے سزا ختم ہو جائے گی بریسر سلیمان صفدر
عوامی مینڈیٹ کا احترام ریاست کی بقا و مضبوطی کیلئے ناگزیر ہے، اس کی بےحرمتی پر بضد عناصر ریاست کے دشمن ہیں،
عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ڈال کر اقتدار کو زبردستی مجرموں میں بانٹنے سے ریاست اور عوام میں خلیج بڑھے گی اور ریاست مزید کمزور ہوگی،
چوری شدہ مینڈیٹ کو عوام کے حقیقی نمائندوں اور حقداروں کو واپس لوٹایا جائے تو ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام دلوانے کیلئے سب کے ساتھ بات چیت ممکن ہے،
عوام خصوصاً نوجوان نسل نے بانی چیئرمین عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف ہی کو اپنی نمائندگی کا واضح اور دوٹوک انداز میں حق دیا ہے جسے نظرانداز کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہوگا،
سورج کو انگوٹھے سے چھپانا ممکن ہے نہ ہی عوام اپنے مسترد شدہ لوگوں کو اپنے سروں پر مسلّط کئے جانے کی اجازت دیں گے،
قوم نے اپنے ووٹ سے عمران خان کی قیادت پر واضح اور غیر متزلزل اظہار کیا ہے اور وہی عوامی تائید کی بنیاد پر پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،
نفرت، بغض، دشمنی اور تعصّب سے آزاد ہوکر بانی چیئرمین عمران خان کو فوراً رہا کیا جائے اور عوامی مینڈیٹ کے مطابق ملک کو سنگین معاشی و انتظامی بحرانوں سے نکالنے کا موقع دیا جائے، ترجمان تحریک انصاف