اسرائیلی فرعون فلسطینی خاتون کو ٹارچر سیل میں تشدد اور زیادتی کر رہے ہیں !!
آئیے اسے ریٹویٹ کر کے پوری دنیا میں وائرل کریں !!
تاکہ دنیا کو اسرائیلوں کے کرتوتوں کا پتہ چل سکے !!
سوچیے اگر یہی منظر کسی مغربی ملک کی خواتین کے ساتھ پیش آتا اور انہیں مسلمان فوجی اس طرح گھسیٹ کر لے جا رہے ہوتے، تو عالمی میڈیا کئی دن تک شور مچاتا، انسانی حقوق کی تنظیمیں ہنگامی ا��لاس بلاتیں اور ہر اخبار کی سرخی یہی تصویر بنتی۔ مگر چونکہ یہ فلسطین کی مظلوم بیٹیاں ہیں، اس لیے دنیا کی اکثریت خاموش ہے۔سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ صرف بیرونی طاقتیں ہی نہیں بلکہ مسلم دنیا کے اندر بھی کچھ عناصر ایسے ہیں جو خاموشی، مفادات یا تعاون کے ذریعے ان مظلوموں کے دشمنوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ تصویر میں قابض اسرائیلی فوج فلسطینی خواتین کو حراست میں لے جاتی دکھائی دے رہی ہے۔
مریم نواز اور اُنکے پالتو جانوروں سے سوال ہے کیا تم میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو اس یہودی ایجنٹ کی طلاق یافتہ بیوی کی طرح امریکا اور اسرائیل سے سوال کر دے ہم اور عمران خان اور اُسکی تو یہودی ایجنٹ ہیں تم لوگ مسلم ہو نا؟؟ فضلوں ڈیزل تیرا کیا خیال ہے؟؟
جنّت کے ٹکٹ بانٹنے اور امریکا کی آزادی منانے والے دین فروش کیا خیال ہے اب چپ کیوں ہو ؟؟؟
ایک وہ نون لیگ کےخواجہ سرا نے کیا تھا ٹویٹ اسرائیل کے ڈر سے ڈیلیٹ کر دیا لعنت ہو تم جیسے غلاموں پر عمران خان نے صحیح کہا تھا امریکا کو عادت پڑی ہوئی ہے ان شریفوں کی ان زرداریوں کی اور ان ڈیزلیوں کی ۔
عمران خان زنداباد 💯💝🇧🇫🇵🇰
🚨🇮🇱 BREAKING: Ben Gvir just ran over a Palestinian boy with his car belonging to Israeli National Security Ministry in Hebron.
He did this on purpose. Arrest him now.
فلسطینی قیدیوں کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان کے لیے چھانسیاء دینے کا قانون پاس ہو چکا ہے، لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کم از کم عوام کو بولنا اور احتجاج کرنا چاہیے تاکہ ان مظلوم قیدیوں کی حالت بہتر ہو سک��۔
🇵🇸
🚨بریکنگ نیوز::دل دہلا دینے والا واقعہ نیتن یاہو نے "صحافی رپورٹر کہنا" کہ اسرائیل نے10 بچوں کے گلے کاٹ کر سڑک کے کنارے رکھ دیے ہیں، ان تمام بچوں کی عمریں پانچ سال سے کم تھیں۔
’’میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا، میں اس بات کا گواہ ہوں۔رپورٹر ‘‘
🔴 سوڈان میں بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔ سوڈان اس وقت دنیا کے سب سے بڑے اور تیزی سے بڑھتے ہوئے مہاجر بحران کا سامنا کر رہا ہے: 90 لاکھ سے زیادہ داخلی طور پر بے گھر افراد، کل 1 کروڑ 40 لاکھ بے گھر انسان اور پورے 2 کروڑ 90 لاکھ لوگ بھوک سے نبرد آزما ہیں۔
یہ ایک انسانی المیہ ہے۔
سرخ لباس ان قیدیوں کو پہنایا جاتا ہے جنہیں پھانسی دینی ہوتی ہے۔
اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت کا لباس پہنانا شروع کر دیا ہے ۔
یاد رہے سزا کا جو طریقہ کار متعین کیا گیا ہے وہ الیکٹرک شاکس (کرنٹ) لگا کر مارنے کا ہے ۔
گھریلو کم وولٹیج بجلی کے ایک سیکنڈ کے کرنٹ سے انسان ہل کر رہ جاتا ہے ایک صحیح سلامت انسان کو اس وقت تک آہنی کرسی پر باندھ کر ہائی وولٹیج کا مسلسل کرنٹ دینا جب تک اس کے جسم کا سارا خون جل کر ختم نہ ہو جائے اور اس کی روح پرواز نہ کر جائے اس اندوہناک تکلیف کی سوچ بھی اگر امت کو نہیں جگا رہی توایسی زندگی سے موت بہتر ہے۔
یہ سزا کسی ایک دو افراد کو نہیں بلکہ دس ہزار سے زیادہ ان لوگوں کو دی جائے گی جو اس وقت پوری دنیا میں کامل دین اور قرآنی تعلیمات پرقائم ہی نہیں بلکہ دین اسلام، جہاد اور قبلہ اول پر اپنی 100٪ دنیا قربان کر چکے ہیں۔
ان کے تماشے دیکھنے والے اپنی نماز، روزے، حج، زکوۃ پر مطمئن ہیں۔
کل وہ بھی اسی حوض پہ ہوں گے جس کی امید ہم سب تماش بین لگائے بیٹھے ہیں ۔
اگرا نہیں منہ دکھانے کے قابل بننا ہے تو کچھ ایسا کر جائیں تاکہ لائن سے اچک نہ لیے جائیں ۔