@HammadHassan30 یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اُس دور کے بہت سے مشاہدات آج کے معیار کے مطابق سائنسی یا غیرجانبدار نہیں سمجھے جاتے۔ خاص طور پر قوموں کے بارے میں عمومی فیصلے اکثر مبالغہ، محدود تجربے یا اُس زمانے کے تعصبات پر مبنی ہوتے تھے۔
@HammadHassan30 اصل میں انسان کی “خوراک” صرف پیٹ کی نہیں ہوتی؛
جو چیزیں ہم روز ذہن کو کھلاتے ہیں — جیسے خوف، نفرت، محبت، علم، موسیقی، سوشل میڈیا، ذکر، یا غصہ — وہ بھی خصلت بناتی ہیں۔
@soulat_pasha غالب کا یہ جملہ کہ "لاش کو شہر سے باہر کتوں کے آگے پھینک دیا جائے (بشرطیکہ وہ اس کو کھانے پر آمادہ ہوں)" بظاہر انتہائی سخت اور تلخ لگتا ہے، لیکن اگر اس کی روح میں جھانکا جائے تو یہ اپنے وجود کی نفی اور خدا کے سامنے سراپا عجز بن جانے کی انتہا ہے۔
آرٹ گیلریوں میں عورت ننگے جسم کے ساتھ ملتی ہے، عورت خود بھی عورت کو اسی انداز میں پیش کررہی ہے۔
امرتا نے سوال کیا: آدمی کا عورت کے ساتھ تعلق اچھا یا پائیدار کیوں نہیں ہو رہا؟
میں نے جواب دیا آدمی نے ابھی تک عورت کے ساتھ صرف سو کر دیکھا ہے، اُس کے ساتھ جاگ کر کبھی نہیں دیکھا۔ اگر دیکھا ہوتا تو مرد اپنی زندگی حتیٰ کہ اپنی نسل ،سب کچھ بدل چکا ہوتا۔ ذہین عورت کے ساتھ آپ چائے تو پی سکتے ہیں باتیں بھی کر سکتے ہیں مگر اُسے جیون ساتھی بنانے کی ہمت نہیں کر سکتے کیوں کہ ذہین عورت کی موجودگی میں آپ کی سوچ کی چڑیا پر نہیں مار سکتی۔ میں نے اپنے سے کئی گنا ذہین عورت کے ساتھ رہنا شروع کیا اور پھر اس کی صحبت میں خود بھی میچور ہو گیا"
امریتا پریتم (شاعرہ) اور امروز اندرجیت سنگھ مصور/شاعر کا ایک مکالمہ
سالو تم ہو کیا، حیثیت کیا ہے، دنیا میں پچھلے تین سو سال میں تم نے اچیوؤ کیا کیا ہے اور اس عرصے میں ھونے والی ترقی میں تمہارا کنٹریبیوشن کیا ھے جو دنیا تمھارے خلاف سازش کرے گی۔۔۔۔ھیںِ۔۔۔۔۔؟