شہزاد صاحب ایک پڑھے لکھے انسان ہیں لیکن کُچھ عرصہ سے بلاوجہ چومُکھی لڑنے کا بھوت سوار کیے ہوۓ ہیں ۔۔۔
ُایک ماہر نفسیات کو نفسیاتی مریض بنتے دیکھنا بھی ایک نیا تجربہ ہے ۔۔
پی ٹی آئی سپورٹرز جیسے جہلا میں نے اپنی ساری زندگی نہیں دیکھے،یہ لوگ کس قدر جاھل ھوسکتے ھیں ذرا اس کے کچھ واقعات آپ لوگوں کی نذر۔
اھلیہ کا چھوٹا بھائی سپیریئر کیپٹن انکلیو میں پڑھتا تھا وھاں کا ذیادہ تر اسٹاف یوتھیوں پرمشتمل تھا۔اس بچے کا ایک ٹیچر طلبا کو کہتا کہ حقیقت ٹی وی دیکھا کرو ،اس سے آپ لوگوں کا علم بڑھے گا۔
اس ھی کالج کا ایک ٹیچر طلبا کو بتاتا کہ چکن کی پراڈکٹ بنانے والی کمپنی کے اینڈ این دراصل کلثوم بی بی اور نواز شریف کی ھے(KnN)
ھمارے ایک رشتے دار جو فارماسیوٹیکل کمپنی چلارھے ھیں ،ایک جنازے پر فرماتے کہ پاکستان نے اسرائیل کے تحفظ کے لئے فوج بھجوادی ھے۔یہ موصوف پانچ وقتی نمازی اور ان کی اھلیہ عالمہ ھیں لیکن سارا دن فیس بک پر جھوٹ شیئر کرتے ھیں۔
پھر ایک اور صاحب،خان صاحب کے وڈے دیوانے،دبئی سے آئے اور ایئر پورٹ پر اترتے ھی موصوف کہتے کہ پی ٹی اے کا ٹیکس کیسے ختم کروائیں کوئی جگاڑ ھے؟یہ ٹیکس چورتبدیلی لائینگے۔
پھر ایک بہاولنگر کا یوتھیوں کا گروپ،عمران خان نے جس دن حلف اٹھانا تھا،ھمارا ایک عزیز مجھے اپنے پانچ دوستوں سے ملوانے لے گیا،سارے رستے تین یوتھئے خان صاحب کی تقریر کے آرگیزم کا شکار ھوتے رھے،جب مقررہ جگہ پہنچے تو سلام کے بعد جو عزیز مجھے ان نمونوں سے ملوانے لےکر گیا تھا اسکے علاوہ پانچ کے پانچ لوگ غائب ھوگئے،کچھ دیر بعد میں نے اپنے عزیز سے دریافت کیا کہ یہ صاحبان کہاں گئے تو جواب ملا کہ وہ دراصل آج خان صاحب نے حلف اٹھایا ھے تو خوشی میں چرس پینے گئے ھیں،ان میں سے ایک پولیس میں تھا جو چرس لیکر آیا تھا۔اس ھی طرح ھمارے ایک ماموں ھیں جو کسی دور میں مشرفی تھے،آج کل یوتھئے ھیں،ایسی ایسی جھوٹی خبریں گروپس میں شیئر کرتے ھیں کہ اللہ کی پناہ،ایسے کئی واقعات یوتھیوں کی جہالت کے میں جانتا ھوں،یہ عقل و شعور والے دن پیدا ھی نہیں ھوئے۔
زوال بلا وجہ نہیں آتے،
جب کمزور کو تو سزا دی جائے اور طاقتوروں کو چھوڑ دیا جائے
تو سماج اپنی موت مرنا شروع ہوجاتے ہیں،
اگر اِن مولوی صاحبان کو بھی اُن 450 بچوں اور جوانوں کی طرح توہین کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا تو شاید اس ملک میں توہین کے مبینہ مقدمات کا سلسلہ بند ہوجاتا، لیکن ملک جو مولویوں سے لبالب بھرا ہوا ہے ایک بھی ایسی توانا آواز نہیں اُٹھی کہ وہ انصاف کرو جو اسلام کی منشاء ہے ناکہ منافقت کا مظاہرہ کرو۔
مردان شہر خیبر پختونخوا میں گردوارے کے اندر فائرنگ کر کے سکھ برادری کے میاں بیوی کو گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا گیا
اس واقع کی جتنی بهی مذمت کی جائے کم ہے
اس واقع کو سیکورٹی اہلکاروں کی کوتاہی سمجھ کر بند نہیں کر دینا چاہئے
بلکہ اس واقع کی مکمل انکوائری ہونی چاہئے کہ ایسا واقع گردوارے کے اندر کیوں پیش آیا