سنن ابی داؤد، حدیث 4916
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"ہر پیر اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں، اور ہر اس بندے کی مغفرت کی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا، سوائے اس شخص کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان دشمنی اور بغض ہو۔ پھر کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دو، یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں۔"
راوی: حضرت ابو ہریرہؓ
کتاب: کتاب الآداب، باب: مسلمان بھائی سے قطع تعلق کرنے کا بیان
حکم: صحیح (البانیؒ)
مختصر مفہوم: مسلمانوں کے درمیان باہمی بغض، ناراضی اور قطع تعلق مغفرت کے حصول میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، اس لیے حتی الامکان صلح کرلینی چاہیے۔ البتہ ابو داؤدؒ نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی سے دوری اللہ کی خاطر ہو تو وہ اس وعید میں شامل نہیں۔