جنرل عبدالوحید کاکڑ واحد آرمی چیف ہیں جنہوں نے مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش ٹھکرادی۔وزیراعظم بینظیر بھٹو نے انہیں ایکسٹینشن دینے کی بات کی مگر انہوں نے معذرت کرلی اور ریٹائرمنٹ کے بعد گوشہ نشینی کی زندگی بسر کی،کبھی کسی تقریب میں دکھائی نہیں دیئے،کوئی انٹرویو نہیں دیا
اب حسن ایوب کے ناقدین کیا کہیں گے کہ کتنے پیسے لیکر سرکاری بیانیہ پھیلاتا ہے؟ اگر مالی مفاد کی بات ہوتی تو سب سے محفوظ اور معزز طریقہ یہ تھا کہ آبپارے والوں کو کہہ کہ اپنی تنخواہ بڑھوا لیتا، یہ جہالت ہے کہ جو بھی آپ سے اختلاف رکھے اس پر سیدھا پیسوں کا الزام لگائیں، ہر موضوع پر دو رائے ہو سکتی ہیں بلکہ دو سے زیادہ بھی ہو سکتی ہیں لیکن چونکہ مخالف رائے کو مسترد کرنے کا سب سے آسان طریقہ پیسوں کا الزام لگانا ہے (بجائے دلیل سے جواب دینے کے) تو یہ حربہ رائج الوقت ہے حسن ایوب کے طریقہ صحافت سے اختلاف ہو سکتا ہے اس صورت میں اس طریقے پر اعتراض کریں بدقسمتی سے دانشوری کا روپ دھارنے والوں کی اکثریت کا دانش سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، اہل صحافت ہر وقت دوسروں کے بارے پریشان رہتے ہیں اگر یہ اپنی اصلاح کیلئے وقت نکالیں اور اپنے کوئی اصول وضع کریں (جو یہ آج تک نہیں کر سکے) تو اسکے اثرات پورے معاشرے پر آئینگے وگرنہ بدتمیز، دروغ گو اور نوسرباز ہی صحافی تصور کئے جائینگے
پاکستان میں بین الاقوامی معاہدے کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے، اس لیے یہاں طریقۂ کار ترکیہ سے مختلف ہے، ترکیہ میں معاہدے کے لیے پارلیمان کی منظوری درکار ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 90 کے تحت وفاق کے انتظامی اختیارات وزیراعظم اور وفاقی وزرا پر مشتمل وفاقی حکومت استعمال کرتی ہے۔ آرٹیکل 97 کے مطابق یہ اختیارات اُن امور تک پھیلے ہوئے ہیں جن پر پارلیمان قانون سازی کر سکتی ہے۔ چونکہ آئین کے چوتھے شیڈول کی وفاقی قانون ساز فہرست ( federal legislative list ) میں دفاع، خارجہ امور اور معاہدوں پر عمل درآمد شامل ہیں، اس لیے ان معاملات میں معاہدہ کرنا وفاقی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ البتہ کسی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ملکی قانون میں تبدیلی ضروری ہو تو اس مقصد کے لیے متعلقہ قانون سازی درکار ہوگی۔ چونکہ یہ امور وفاقی قانون ساز فہرست میں شامل ہیں، اس لیے معاہدے کی توثیق کے لیے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی منظوری کافی ہے۔
مولانا فضل الرحمن صاحب نے مشکل ترین حالات میں ن لیگ کا ساتھ دیا ، جب کوئی ساتھ چلنے کیلئے تیار نہیں تھا جبکہ اس وقت پوری ن لیگ مولانا کی مخالفت میں بیان پر بیان داغ رہی ہے ۔ واقعتا کہتے ہیں کہ ن لیگ ایک احسان فراموش پارٹی ہے ۔
ماں بیٹی سے کہتی ہے تم نےحمل روکنے والی گولی رکھ لی ہے اور فلاں کلاس فیلو تمھارے لیے بہتر ہے اس کے ساتھ جاو ڈیٹ مارو ۔۔
یہ بات اگر کوی میڈیا والا پوڈ کاسٹر یاصحافی کرتا تو میں یہ سمجھتا کہ شاید یہ ویوز اور ریٹنگ کا چکر میں کوی کہانی سنا رہا ہے ۔۔
یہ الفاظ ہیں ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کے ہیں جو پاکستان کے معروف روحانی معالج اور سکالر ہیں جو قرآنی آیات اور دعاؤں کے ذریعے روحانی امراض کا علاج کرتے ہیں۔
اور مکمل حالات سنیے اس وقت ہمارے معاشرے میں کیا چل رہا ہے اور بہن بیٹوں اور خواتین کیلے انتہای خوبصورت مشورہ دیا ہے ۔۔ کہ وہ کس طرح سے اس معاشرے میں خود کو مظبوط اور محفوظ بنا سکتی ہیں ۔۔
یہ آرٹی فیشل انٹیلی جینس کے ذریعہ بنی جعلی ویڈیوز کا دور ہے لیکن نواز شریف کی طرف سے شفیع نقی جامی صاحب کو BBC کے لئے دئیے گئے انٹرویو کی یہ ویڈیو اصلی ہے جس میں نوازشریف صاحب سے پوچھا جا رہا ہے کہ ANP اور PPP پر حملے ہوتے ہیں PML-N اور PTI پر حملے کیوں نہیں ہوتے جواب میں نواز شریف صاحب کہتے ہیں زرداری حکومت نے طالبان سے مذاکرات کیوں نہیں کئے؟
56 کھرب روپے کہاں گئے؟
2010 سے 2026 تک صوبوں کو تقریباً Rs56 trillion ملے۔
یہ ہر پاکستانی گھرانے کے حساب سے تقریباً Rs14 لاکھ بنتے ہیں۔
سوال رقم کا نہیں۔ سوال یہ ہے: عوام کو بدلے میں کیا ملا؟
ویڈیو دیکھیے۔ حساب مانگیے۔
@digdebate
گھٹیا انسان پہلے بات کرنے کا سلیقہ سیکھو،غلیظ ذہنیت،چمچہ،یہ کیا اندازگفتگو ہے؟
اگر زرداری صاحب اتنے بڑے چیمپئن ہیں جمہوریت کے تو نہ کریں دستخط۔۔۔چیئرمین سینیٹ،صدارت اور دیگر آئینی عہدے چھوڑ دے پیپلزپارٹی۔گورنر خیبرپختونخوا استعفیٰ دے دیں۔ شریک اقتدار ہیں تو اچھے برے کی ذمہ داری بھی لیں۔اور میں نے ٹویٹ میں کب کہا کہ سمری منظور ہوگئی؟ لکھا کہ وفاقی کابینہ نے منظوری دیدی
جو بھی بلوچستان میں سرداری نظام کو چیلنج کرے گا عوامی حقوق کی بات کرے گا امن و امان یا اسے پاکستان سے رشتہ مضبوط کرنے کی بات کرے گا ایسے عناصرحرکت میں آئیں گےجماعت اسلامی اس وقت بلوچستان میں ملکی یکجہتی بنیاد پر اپنا امیج بحال کر چکی ہے @SirajOfficial کواسی پرنشانہ بنایاگیا ہے
جمہوریت کی دعویدار تینوں بڑی پارٹیوں نے @MHidayatRehman بارے کوئی جمہوری آواز نہ اٹھائی۔ عمران خان کے لیے @SirajOfficial بولے۔ مجال ہے عمران خان ہدایت الرحمن یا کراچی الیکشن پر ایک لفظ بھی بولا ۔ اب مقامات عمل کا خود شکار ہے
قوم یوتھ کوابھی بھی کوئی امیدہے باقی؟
@SaleemKhanSafi
عمران خان نے سیاست کو کھیل سمجھ کر کھیلا اپنی تقاریر میں خود کے کھیل کی مثالیں دیتے رہے اس کھیل میں بڑے بلنڈر مارے جس کا پی ڈی ایم نےبھرپور فائدہ اٹھایا مردہ زندہ ہوا۔ خان کےپاس اب ماتم کے سوا کچھ نہیں بچا۔
قوم یوتھ کو اب یہ جان کرجینا ہوگا سیاست اور کھیل دو الگ الگ میدان ہیں
ہم نے @MHidayatRehman کو اپنی سپیسز میں بلایا حق دو تحریک کو آئینی جمہوری حقوق کی تحریک قرار دیا ان سےدرخواست کی کہ اب وقت آ گیاہے آپ اسٹیبلشمنٹ اور سیاست میں چھپے عناصر کو حق دو تحریک کو دیوار سے لگانےکا موقع فراہم نہیں کرنا۔وکلاء کی ٹیم کے ساتھ آئنی قانونی جنگ بھی جاری رکھیں
اس وقت ترکی الیکشن میں اصل جیت مرحوم استاد نجم الدین اربکان کی ہوئی ہے
جس کی فکر سے متاثر لوگ ترک پارلیمنٹ میں بیک وقت اپوزیشن اور حکومتی اتحاد کی طرف سے پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل کر چکے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے ترک معاشرہ آہستہ آہستہ بدل رہا ہے
یہ تحریک انصاف کی ایم این اے عالیہ حمزہ کا تحریری خط ہے جو انہوں نے سپیکر اور قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چئیرمین کو لکھا اور مطالبہ کیا کہ فوج پر تنقید کرنے کے جرم میں حامد میر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے میرا جرم صرف یہ تھا کہ میں نے صحافیوں پر حملوں کی مذمت کی یہ دستاویز ثابت کرتی ہے کہ عمران خان کی حکومت میں آزادئ صحافت پر حملوں میں تحریک انصاف باجوہ اور فیض کے ساتھ شریک جرم تھی آج عالیہ حمزہ خود فوج پر حملے کرا رہی ہے