خان صاحب نے زندگی میں اور خاص کر پانچ سال میں اتنے سارے جھوٹ نہ بولے ہوتے تو یقیناً ہم خان صاحب کے تازہ الزامات پر بھروسہ کرلیتے ۔
الزامات سنگین ہیں ۔ لیکن الزامات لگانے والے کی اپنی کریڈیبلیٹی بھی دیکھنا ہوگی۔
۳۵ پنکچر۔
۱۰ ارب رشوت ۔
امریکی سازش۔
وغیرہ وغیرہ
کیا پچھلے ظلم پر آپ نے کہا تھا
بس کرو بس
ظلم مت کرو
نہیں کہا تھا نا!
تو اب جو ظلم پر آہ بکا ہے آپ کی
وہ دراصل آپ کی انا چیخ رہی ہے
انا کی چیخ و پکار پانی پر بلبلہ ہے
اور کچھ بھی نہیں
تکبر خدائی صفت ہے کسی انسان کی اوقات نہیں کہ بڑے بول بولے، اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ باقیوں کو بھی یہ دن دکھائے جو خدائی لہجے میں بات کرتے تھے/ہیں دوسروں کا تمسخر اڑاتے تھے/ہیں اور یہ دن دکھاتا رہے جب تک وہ سیکھتے نہیں
تمہیں یاد ہو نہ یاد ہو!
یہی پاکستان تھا جب PMLN کے لیڈروں کا 13-14 دن سے کم جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جاتا تھا مگر شیر عدالت میں پیش ہوتے تو گرجتے تھے۔
PTI کے لیڈروں کے لئے 2 دن کا جسمانی ریمانڈ ہے مگر چیخیں پوری دنیا میں سنی جا رہی ہیں۔
پی ٹی آئی کارکن عمران ریاض کہتا ہے کہ ہمارے ساتھ کیا نہیں ھوا اور ہمارے حق میں کوئی عالمی صحافتی تنظیم کیوں نہیں بولی لیکن شائد اسے علم نہیں کہ اسکے ساتھ ابھی کچھ نہیں ھوا اور جہاں تک صحافتی تنظیموں کا تعلق ہے تو اگر تم لوگ نیازی کے دلال کی بجائے صحافی ھوتے تو وہ لازمی مذمت کرتے
خان صاحب کی تقریرہمارےمحلےکےایک پرچون والے نےسنی کہنےلگابھائی میرا پیغام خان صاحب تک پہنچادو۔
اگرآپ اتنےہی بےاختیارتھے تو آکرمیری پرچون کی دکان چلالیتےاور مجھےوزیراعظم بنادیتے۔
یہ باتیں تب کیوں نہ بولیں جب پروٹوکول میں گھومتے رہے۔ آج کہہ رہےہیں بے اختیار تھا۔ کرسی چھوڑدیتے۔