زیادہ تر کی رائے تھی کہ ستمبر کی تاریخ دور ہے جلدی کی تاریخ دیتے لانگ مارچ یا صوبہ بند کرنے کی
چند (چھوٹی عقل رکھنے والے بظاہر سمجھدار) فنڈز کا رونا رونے لگ گئے
اب ایک کام کریں مراد سعید کو بھی پڑ جائیں کہ وہ جلدی کا کیوں کہہ رہا ہے۔
جو بھی بہت آرام ،تسلی، تیاری، فنڈ اور تاریخ کی فضیلت کا درس دے جان جائیں گے وہی عمران خان کے مرنے کے انتظار میں ہے، ورنہ اپنے گھر کا کوئی فروری سے بیمار ہو تو کون دیر کرتا ادھر؟
اللّٰہ عمران خان کی بشری بی بی کی حفاظت فرمائے اور عمران خان سے دغا کرنے والے ہر ہر انسان کو غارت کرے آمین ثم آمین
فوکس اڈیالہ جیل پر 🚨
ڈاکٹر عاصم کہہ رہا ہے کہ اگر عمران خان کی آنکھ کا سہی علاج نہ کیا گیا تو ان کی بینائی جا سکتی ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ریٹینا سپیشلسٹ عمران خان کا معائنہ کرے۔
سوشل میڈیا آج اس پر بھرپور آواز اُٹھائیں
عمران خان کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہوئی ہوئی ہے،انکا بلڈ پریشر بھی اب ہائی رہتا ہے،انکی بیٹوں سے مارچ کے بعد سے بات تک نہیں کروائی گئی،پچھلے سات مہینے سے انکی کسی سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔
علیمہ خان کی اپیل 🚨
ہمارا درد سمجھیں، جب آپ کے گھر میں آپ کا بھائی یا والدہ بیمار ہوتی ہیں تو آپ بتائیں سب سے پہلے آپ کی ترجیح کیا ہوگی؟
عمران خان کو علاج کے لئے فوری ہسپتال منتقل کر دیا جائے وہ بھی فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں
پیڈ عسکری کُتوں کو @OfficialDGISPR نے یہ سکرپٹ لکھ کر دیا ہے کہ اس معاہدے کو پٹواریوں کے سامنے یوں بیان کروں کہ انکو لگے انکا والد عاصم منیر بڑے جھنڈے گاڑ رہا ہے اور
حقیقت میں اس نے پاکستان کیساتھ وہ کیا جو کوئی دشمن ستر سال بھی نہی تھا کر سکتا ۔
یہ ہے اس ریاست کے احرام میں لپٹے ابلیسوں کی اصلیت ۔۔!
ایک اس ملک کاوزیراعظم ہے دوسرا اس ملک کی فوج کا حافظ قرآن سپہ سالار ہے لیکن یہ اپنے ملک میں اختلاف کرنے والوں کو نہ صرف لاپتہ ،اغواء کرنے کا حکم دیتا ہے بلکہ انھیں نماز بھی پڑھنے کی اجازت نہیں دیتاہے ۔
“عاصم منیر پاکستان کو تو لے ڈوبے گا ہی ساتھ ساتھ اپنے ادارے کو بھی لے ڈوبے گا اس لیے عاصم منیر کو کسی دن ادارے کے اندر سے ہی push آئے گی ! عائشہ صدیقہ ۔۔۔
ادارے کو سوچنا چاہیے کہ یہ شخص ملک اور ادارے کو کس طرف لے کر جا رہا ہے ایسا نہ ہو دیر ہو جائے اور نہ ملک رہے نہ ادارہ ۔۔۔”
عائشہ صدیقہ
میرے لئے دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ابتدا سے ہی جب خلیل زلمے زاد سمیت ہم جیسے بے شمار لوگ ان خدشات کا اظہار کرنا شروع تھے تو عائشہ صدیقہ ان خدشات کو سختی سے جھٹکا کرتی تھیں۔ مسلسل چار سال فوجی ادارے اور جنرل عاصم کے جرائم کی پردہ پوشی کرنے اور معتوب و محبوس اپوزیشن کا مذاق اڑاتے اڑاتے آخر عائشہ صدیقہ یکدم کیوں بدل گئیں ؟
انہین یکدم یہ خدشات کیوں ستانے لگ گئے ؟
یہاں ہمیں عایشہ صدیقہ کی وابستگی کو بھی نظرانداز نہ کرنا چائیے وہ ایک برطانوی دفاعی تھنک ٹینک سے وابستہ ریسرچر ہیں اور برطانیہ میں کوئی پرائیویٹ دفاعی تھنک ٹینک موجود نہیں سبھی برطانوی اسٹیبلشمنٹ کی فنڈنگ پہ چلتے ہین ، بی بی سی کی طرح جو برطانوی حکومتی چینل ہے۔
تو کیا بدلتے عالمی حالات میں برطانیہ اپنا رخُ بدلنے لگ گیا ؟ اور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اسلام آباد قتل عام پہ عائشہ صدیقہ بھی چپُ رہیں اور برطانوی سفیر تو باقاعدہ اس جرنیلی حکومت کی دیگر سفراء کو صفائیاں دیتا پھرا۔ نہ ہی ہمیں یہ بھولنا چاہیے کہ اگرچہ امریکہ کو خطے سے جانا پڑ رہا ہے لیکن برطانوی ، انڈین، اسرائیلی اماراتی اتحاد بدستور قائم ہے !
آواز اٹھائیں 🚨
سبین یونس جو ہر وقت اڈیالہ جیل کے باہر خان صاحب کی بہنوں کے ساتھ موجود ہوتی ہے اسے گھر سے اٹھا لیا گیا ہے، سوشل میڈیا سبین یونس کی رہائی کے لئے بھرپور آواز اٹھائیں
عمران خان کی صحت کے متعلق صحافیوں اور ذرائع سے خبروں کی تصدیق یا تردید کوئی نہیں کر سکتا ۔ مگر انہیں پھیلانے کا مقصد کسی خطرناک اطلاع کو قدرتی بنانے کیلئے گراؤنڈ تیار کرنا ہے
ایسے میں احتجاج کی تاریخ 2 ماہ دور کی دینا بھی اہم اور ناقابل معافی ہے۔ خان قاتل گروہ اور غدار ساتھیوں کے حصار میں اپنے اللہ کے ساتھ اکیلا ہے۔
پاکستان وی تماشائی ہے جو وقت گزرنے کے بعد واویلا کرے گا اور پھر مداری کے نئے بندروں کے ہاتھوں میں کھیلنے لگے گا
جب پہلی مرتبہ آئینی ترمیم کے شور کے پیچھے عمران خان کو دوہفتے کے لیے قید تنہائی میں ڈالا گیا تھا تو یہی خدشہ تھا کہ آہستہ آہستہ اسے نارملائز کردیا جائے گا۔ آج وہی ہوا ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے خود شادی نہیں کی اور ان کا کوئی بچہ بھی نہیں تھا اس لیے اسے دوسروں کے بچوں کی تکلیف نہیں تھی
اس نے سینکڑوں کے حساب سے بچوں کی زندگیوں کو تباہ کیا ہے، بلا چھیننے والا فیصلہ دے کر ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے،
ڈاکٹر شہباز گل