ثبوتوں کے ساتھ جوابات بہت ہیں، لیکن اگر کوئی شہزادوں کی استقامت، ان کے بیانات اور پھر بابا جان کے گھر تک بات کرے، تو اس کے لیے نرم بات کوئی نہیں ہے۔ اس کو اسی کی زبان میں جواب دیا جائے گا۔
منافقوں کی نظر سے اللہ محفوظ رکھے، آمین🤲🏻
اس ویڈیو کو اپنے ذہن کے دریچے کھول کر سن لیں۔👇
بنگلہ دیش کے ممتاز عالم دین خلیفہ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر سید ارشاد احمد البخاری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا قبلہ بابا جی امیر المجاھدین علیہ الرحمہ سے محبت کا اظہار💞
@ranausamazahid جس ملک میں حضور پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی ذات پر حملے ہوئے ہے ، اب اس ملک میں کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں رہے گی، اب سب بت ٹوٹیں گے
@ZafarItaly پھر ٹی ایل پی کے سوشل میڈیا پر پابندی لگانا کون سے آئین میں لکھا ہے چوکیداروں یہ بھی وضاحت کر دو؟
جھوٹ جھوٹ بس جھوٹ ، اس ملک میں جھوٹ ہی بولا جاتا ہے اور جھوٹ ہی بیچا جاتا ہے اور جھوٹ ہی خریدا جاتا ہے،
*لاہور ہائیکورٹ: رضوی برادران جبری گمشدگی کیس کی 50 دن کے تعطل کے بعد مقرر ہونے والی سماعت کو ایک دفعہ پھر ملتوی کردیا گیا*
جسٹس جواد ظفر رضوی برادران کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دن رخصت پر تھے
اس سے قبل، جسٹس جواد ظفر رضوی نے کیس کی سماعت کو اپنی چھٹیوں کی بنیاد پر 50 دن کے لیے ملتوی کر چکے ہیں
سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی ایک سال سے زائد عرصے، 368 دنوں سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں
رضوی برادران جبری گمشدگی کیس کی آئندہ سماعت اب 19 اکتوبر بروز پیر کے لیے مقرر کی گئی ہے
ٹی ایل پی قائدین کی بازیابی کے لیے دائر درخواست 6 دفعہ جج کی تبدیلی اور ایک سال گزر جانے کے باوجود مسلسل زیرِ التواء ہے
لاہور ہائیکورٹ: سعد رضوی اور انس رضوی کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ایک بار پھر ملتوی
لاہور (کورٹ رپورٹر): لاہور ہائیکورٹ میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت، 50 روزہ تعطل کے بعد مقرر ہونے کے باوجود، ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔
عدالتی ذرائع کے مطابق فاضل جج، جسٹس جواد ظفر کی عدم دستیابی کے باعث کیس کی باقاعدہ سماعت نہ ہو سکی۔ اس سے قبل بھی مذکورہ جج کی رخصت کے باعث درخواست پر کارروائی 50 روز تک معطل رہی تھی۔ اب عدالتِ عالیہ نے کیس کی آئندہ سماعت 19 اکتوبر، بروز پیر مقرر کر دی ہے۔
اہلِ خانہ اور پارٹی ذرائع کے مطابق دونوں بھائی گزشتہ 368 روز سے مبینہ طور پر لاپتا ہیں، جن کی باحفاظت بازیابی کے لیے قانونی چارہ جوئی کا سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ ایک سال سے زائد کا عرصہ گزرنے اور بینچ میں 6 مرتبہ جج کی تبدیلی کے باوجود یہ اہم آئینی درخواست تاحال حتمی فیصلے کی منتظر اور زیرِ التوا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ: رضوی برادران جبری گمشدگی کیس کی 50 دن کے تعطل کے بعد مقرر ہونے والی سماعت کو ایک دفعہ پھر ملتوی کردیا گیا
جسٹس جواد ظفر رضوی برادران کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دن چُھٹی پر چلے گئے
اس سے قبل، جسٹس جواد ظفر رضوی نے کیس کی سماعت کو اپنی چھٹیوں کی بنیاد پر 50 دن کے لیے ملتوی کر چکے ہیں
سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی ایک سال سے زائد عرصے، 368 دنوں سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں
رضوی برادران جبری گمشدگی کیس کی آئندہ سماعت اب 19 اکتوبر بروز پیر کے لیے مقرر کی گئی ہے
ٹی ایل پی قائدین کی بازیابی کے لیے دائر درخواست 6 دفعہ جج کی تبدیلی اور ایک سال گزر جانے کے باوجود مسلسل زیرِ التواء ہے
یہ وہ مرید کے کی سڑک ہے جس پر 13 اکتوبر تحریک لبیک کے کارکنان کا خون بہایا گیا قتل عام کیا گیا
یہ نوجوان اپنے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مریدکے کی سرزمین پر پھولوں کی پتیاں لے کر پہنچا ہے