جنرل ندیم انجم کی #بلوچستان میں تقریر کا یہ چند سیکنڈ کا کلپ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ بلوچستان کے عوام آخر جنرل ندیم انجم سے کیوں محبت کرتے ہیں اور کیوں آج بھی جنرل ندیم انجم کا دور بلوچستان کی حالیہ تاریخ کے کامیاب ترین ادوار میں شمار کیا جاتا ہے۔ جنرل ندیم انجم نے بلوچستان کو محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں سمجھا بلکہ اس کی تاریخ، بلوچ روایات، قبائلی اقدار، ثقافت اور سب سے بڑھ کر بلوچ نوجوانوں کے جذبۂ حب الوطنی کو سمجھا اور اس پر اعتماد کیا۔ جنرل ندیم انجم نے ہر تقریب اور ہر تقریر میں بلوچ نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ بلوچستان پاکستان کا مضبوط بازو ہے اور بلوچ نوجوان اس ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، جنہیں دشمن کے پروپیگنڈے سے نہیں بلکہ اعتماد، عزت اور مواقع فراہم کرکے قومی دھارے میں مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
#NadeemAnjum
#بلوچستان کے شہر مستونگ میں سیشن جج عبدل حکیم کاکڑ پر دہشت گردوں کا بزدلانہ حملہ انسانیت اور بلوچ روایت پر کھلا حملہ ہے۔ بے گناہ شہریوں، عدلیہ کے نمائندوں، مزدوروں، قبائلی عمائدین اور ریاستی اہلکاروں کو نشانہ بنانا اس حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ دہشت گرد بلوچ جدوجہد کے نام پر صرف خونریزی، خوف، انتشار اور بدامنی پھیلانا چاہتے ہ��ں۔ آج بلوچستان میں دہشت گردی اس خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں کوئی بھی محفوظ نہیں۔ دہشت گرد ہر اُس آواز کو خاموش کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان، امن، ترقی اور ریاستی رٹ کے ساتھ کھڑی ہو، مگر یاد رہے کسی بھی قوم کے عزم کو گولیوں سے کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔
آئ جی کشمیر کیپٹن لیاقت نے صحافی کو چاروں شانے چِت کر دیا👏
آپکے بھائ کو کوئ قتل کردے سینہ چاک کر کے زندہ بھائ کی انتڑیاں نکال کر اسکے اوپر کھڑے ہو کر ناچیں تو میں آپکو بولوں بھائی کے قاتلوں سے مذاکرات کر لو تو کیا آپ بیٹھ کر بات چیت کر لیں گے؟
اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔
ان کی عقل چیک کریں!
ایک ایسا انٹرویو جو آج تک کہیں پوسٹ نہیں ہوا - خود اس کے کلپ کو کاٹ چھانٹ کر اپنے ہی ٹاؤٹوں سے پوسٹ کروایا، الیکٹرانک میڈیا پر چلوایا - اور اب خود نوٹس میں لکھ رہے ہیں کہ “سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد پھیلایا ہ��”
یاد رہے کہ جس گفتگو سے یہ کلپ ایڈٹ / کٹ کر کے چلایا گیا وہ مئی میں “کالے آزاد چینل” کے ذیلی چینل “آواز پاکستان” نے ریکارڈ کی تھی - لیکن میں نے اس گفتگو کو چلانے سے منع کیا تھا - اور رپورٹر نے بھی اپنے چینل کو اسے ڈیلیٹ کرنے کا کہ دیا تھا
یہ کلپ ابھی جا کر کالے چینل نے کانٹ چھانٹ کر کے اپنے مالکوں کے ٹاؤٹوں کو بھیج کر پوسٹ کروایا
اس کلپ پر میڈیا کمپین بنانے کا مقصد اصل میں عمران خان سے ملاقات اور ان کی علاج سے توجہ ہٹانے کے لئے کر رہے ہیں !
آج جب #بلوچستان ایک مرتبہ پھر دہشت گردی اور بدامنی جیسے پیچیدہ چیلنجز سے نبرد آزما ہے، ایسے میں ماضی کے کامیاب تجربات اور مؤثر حکمتِ عملیوں سے رہنمائی حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر آج ہم ماضی کی کامیاب حکمت عملی پر نظر ڈالے تو ہمیں ندیم انجم کا دور نظر آتا ہے۔ 2018 ہو یا 2024 ندیم انجم نے ہر دور میں دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ دہشت گردوں کو معاشرے میں الگ کرنا انھیں نفسیاتی طور پر تنہا کرنا اور انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے سے بھی زیادہ مشکل کام ہے جو ندیم انجم نے ہر دور میں کرکے دکھایا
بحیثیت فرزند بلوچستان میں سمجھتا ہوں کہ اگر ماضی کےکامیاب تجربات کو موجودہ حکمتِ عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے تو بلوچستان میں دیرپا امن، استحکام اور ترقی کے سفر کو کوئی بھی دشمن سبوتاژ نہیں کر سکے گا۔ ان شاء اللہ ایک پُرامن، خوشحال اور مضبوط بلوچستان نہ صرف پاکستان کی سلامتی کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کی نئی داستان بھی رقم کرے گا۔
#NadeemAnjum
نورین نیازی کا یہ بیان سیاسی اختلاف نہیں بلکہ قومی مفادات پر حملہ اور دشمن کے پروپیگنڈے کو تقویت دینے کی کوشش ہے۔ جب ذاتی مفاد قومی مفاد پر غالب آ جائے تو پھر حقائق نہیں الزامات بولتے ہیں۔ ایسے بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات صرف سیاسی دیوالیہ پن اور شدید غیر سنجیدگی کا اظہار ہیں۔👇👇
اللہ نے دوبارہ سانس عطا کر دی!
ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے ریسکیو 1122 کے میڈیکل ٹیکنیشن کامران خان اپنے گاؤں جا رہے تھے کہ راستے میں نہر کے کنارے ایک دردناک منظر دیکھا۔ تین سالہ معصوم بچہ نہر میں ڈوب چکا تھا اور اہلِ خانہ اسے مردہ سمجھ کر غم سے نڈھال تھے۔
اسی لمحے کامران نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے بچے کو سی پی آر دینا شروع کر دی اور چند لمحوں کے بعد بچے کی سانس بحال ہو گئی