"دو دو میگزین کے ساتھ ان کو بھیجا گیا۔ اس وقت بھی، جو لوگ اب بھی زندہ ہیں، ان میں سے بعض سپاہیوں اور بعض لوگوں نے انکار کیا تھا کہ 'ہم کہاں جا رہے ہیں، کدھر جا رہے ہیں؟ اور ایک یا دو میگزین سے ہم نے وہاں جا کر کرنا کیا ہے؟' وہاں انہیں بھیجا گیا تو ان پر حملہ ہو گیا۔ یہ حملہ کس نے کیا اور کہاں سے ہوا؟ یہ بالکل صبح سویرے کا وقت تھا۔
بارہ بجے تک ان کے پاس جو کچھ کارتوس تھے—کسی کے پاس تیس، کسی کے پاس ساٹھ اور کسی کے پاس سو—وہ سب ختم ہو گئے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ وہ بارہ بجے تک اپنے متعلقہ افسران کو ٹیلی فون کرتے رہے کہ 'بھائی، ہم پر حملہ ہو رہا ہے اور لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ دن دیہاڑے یہ سب ہو رہا ہے اور یہ جگہ کوئٹہ چھاؤنی سے بالکل ادھے گھنٹے کے فاصلے پر بھی نہیں ہے۔ ہمیں امداد پہنچائی جائے، ری انفورسمنٹ (کمک) لائی جائے یا ہمارے پاس اسلحہ پہنچایا جائے۔'
بارہ بجے جب وہ مایوس ہو گئے، تو انہوں نے اپنے گھروں پر ٹیلی فون کیے کہ 'ہماری زندگیوں کو خطرہ ہے۔ ہم نہتے ہو چکے ہیں، اگرچہ ہتھیار ہمارے ہاتھوں میں ہیں لیکن ان میں چلانے کو کچھ نہیں ہے۔ اب ہمارے لیے کچھ کریں۔'
بہر حال، شام پانچ بجے تک کچھ نہ ہوا اور پھر جو کچھ ہوا (وہ سب کے سامنے ہے)؛ کتنے ہی لوگ شہید ہوئے، کتنے ہی لوگوں کو زندہ لے جایا گیا اور پھر وہاں سے ان کی لاشیں لائی گئیں۔
مگر کسی بھی ذمہ دار شخص نے اس کوتاہی پر نہ تو استعفیٰ دیا، اور نہ ہی حکومت کے فیصلہ کرنے والے لوگوں نے کسی ڈی سی، کسی کمشنر، کسی آئی جی یا کسی بریگیڈیئر کو معطل کیا، اور نہ ہی کسی سے بازپرس کی گئی۔ انسانی خون کی اتنی ارزانی ہے!
دنیا میں کہیں ٹرین کا ایکسیڈنٹ بھی ہو جائے تو وہاں کا منسٹر استعفیٰ دے دیتا ہے۔ میں بار بار ٹرمپ کے واقعے کا ذکر کرتا ہوں؛ ٹرمپ پر گولی چلائی گئی جو ان کے کان کو چھو کر گزری، تو محض بارہ گھنٹے کے اندر اندر وہ خاتون جو انٹیلیجنس کی ذمہ دار تھی، اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئی کہ 'یہ میری غیر ذمہ داری تھی کہ میں نے یا میرے ادارے نے ایسا فول پروف بندوبست کیوں نہیں کیا تھا کہ ایک سابق صدر پر قاتلانہ حملہ ہو گیا۔'
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
کشمیر میں بڑے آپریشن کی تیاری:
کشمیر میں الیکشن ملتوی اور اسی ہفتے بڑا و خوفناک آپریشن متوقع۔۔اسمیں کافی نقصان بھی ہو سکتا ہے
(یااللہ رحم فرما🤲)
میرے ذرائع کےمطابق اس آپریشن میں ہر طرح کا سامان استعمال کیا جائیگا پورے وسائل لگا کر اسے One For All کیا جائیگا
عمران ریاض
بلوچستان سے ہولناک کہانی سنیں!!
سرگودھا سے ایجنسی کے اہلکار کو اغواء کیا گیا تھا, والد کو بتایا تک نہیں اور 3 دن بعد والد کو بتایا, آپکا بیٹا شہید ہؤا ہے!!
دہشت گردوں سے لاشیں بھی وہاں کے مقامی لوگ لائے ہیں, سیکورٹی فورسز کی ہمت نہیں تھی کہ لاشوں کو وصول کرسکے!!
منگل کو جیو اور سے آر وائی کے کسی ایک بھی پروگرام میں رضا ڈار کیس کا ذکر نہیں تھا یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ٹی وی چینلز سے ذکر ختم کروا دیا جائے تو معاملہ دب جاتا ہے
صدیق جان
یہ کرپٹ حکومت تین سالوں میں ایک دھیلا کی سرمایہ کاری نہیں لا سکی اپنی عیاشی پوری کرنے کے لیے بس عوام کی چمڑی ادھیڑی جا رہی ہے موٹروے ٹول ٹیکس میں ہوشرباء اضافہ
بلوچستان چاروں صوبوں میں سے سب سے بڑا صوبہ ہے رقبے کے لحاظ سے
اب سوچیں ملک کا سب سے بڑا صوبہ باقی تینوں صوبوں کے لوگوں کے لئے نو گو ایریا بن جائے تو کیا یہ سیکیورٹی ناکامی ہے یا نہیں؟
جب پولیس والوں پاس اسلحہ ختم ہوا انہوں نے سی ٹی ڈی اور فوجی اہلکاروں سے رابط کیا وہاں سے کوئ جواب نہ مل سکا آخر کار انہوں نے قبائلی لوگوں سے رابطے کیا
بقول عینی شاہد
کہ ھم نے اسلحہ اٹھا کر وہاں جانے کی کوشش کی ھمیں فوجیوں نے روکا اور کہا کہ اوپر سے نہ جانے کا آرڈر ہے۔
ناحق قتل کرکے سٹامپ بھی لکھواتے ہیں تمہارے بیٹے کو قتل کر دیا لیکن لکھ کر دو وہ دہشتگرد تھا
پھر لاش دیں گے۔۔😢
غیرت مند واقعی اپنے بوڑھے باپ کو وردی والوں سے ایسی تذلیل برداشت نہیں کر پائے گا۔
اسی لیے کہتا ہوں کاش ہماری بھی کوئی فوج ہوتی۔
ویسےیہ بابا بھی چول ہے ہمیشہ پیٹھ دکھائی
بلکل ڈی جی صاحب بلکل دشمنوں کو بلوچستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی اور دوسری طرف DHA سہی ہضم ہو رہا ادھر دشمن منہ نہیں کرتا ، کنٹونمنٹ بورڈ سمیت تمام عسکری کاروبار ، عسکری عدالتیں عسکری اسمبلیاں سب دشمن کو ہضم ہو رہی ہیں بس بلوچستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی ۔۔
واہ سیانے دشمن 👏👏👏
عالیہ حمزہ کا مریم نواز کے جھوٹ پر۔۔جیل سے جواب
مریم نواز کی جیل: علیحدہ کمرہ، اٹیچ باتھ روم، واک کیلیے جگہ اور اوپر شیڈ موجود تھا۔۔!
عالیہ حمزہ کی جیل:ہم ۱۲۰ خواتین کی بیرک میں ۲ باتھ روم کیساتھ گزارہ کر رہے ہیں پانی ہو تو قسمت، باتھ روم کے استعمال کیلیے قطار میں لگنا پڑتاہے۔۔!
اس ملک کا وزیر اعظم رہ چکا انسان کہتا ہے کہ اگر میرے اثاثے آمدنی سے زیادہ ہیں تو کسی کو کیا؟
وہ نہیں کہتا بلکہ پٹواری کہتے ہیں کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے،
ہم بد کردار ترین لوگ ہیں ڈی پورٹ کر دیے جاتے ہیں، حسن نثار
ایک ایمرجنسی ایکٹ پاس کر کے فوری طور پر تمام بلو پاسپورٹ ختم کر دینے چاہیئے ، صرف ان لوگوں کے پاسپورٹ ہونے چاہیئے جو اس وقت کسی اسمبلی یا سینیٹ کے ممبر ہیں ، بیوی اور بچوں کا کوئی جواز نہیں بنتا کہ وہ بلو پاسپورٹ انجوائے کریں۔ ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹریز کے بھی کینسل ہونے چاہیئے جو چلا گیا اُس کا کیا جواز ہے بلو پاسپورٹ کے لیئے۔
ریوڑیوں کی طرح پاسپورٹ بانٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔
بلوچستان کے شہداء کے والدین
جوان بیٹے مارے گئے ہیں
کہیں سات بہنوں کا اکلوتا بھائی مارا گیا ہے
پاکستانی میڈیائی چکلوں پر لعنت جو اس بربریت پر بول نہیں سکتا
یہ کیسی ریاستی پالیسی ہے کہ خبر نہ نکلے
ساری زندگی وسیم بادامی جیسے اسٹبلشمنٹ کے گماشتے قوم کو پاٹ پڑھاتے رہے کے اگر امریکہ نے پابندیاں لگا دی تو پاکستان تباہ ہو جائے گا کچھ نہیں بچے گا اب وہی وسیم بادامی ایران جا کر ویڈیو بنا بنا کر بتا رہا کے ایران پر 40 سال سے زائد امریکہ اور عالمی دنیا کی پابندیوں کے باوجود ایران کے ریلوے ٹریک ، ائیر لائنز ، روڈز، انفراسٹرکچر کیسے ترقی یافتہ اور بہترین ہے شرم مگر نہیں آتی ایران اگر آج ترقی یافتہ ہے اور ہم سے ہزار گناہ بہتر حالات میں ہے تو وہ توکل ہے جو اس نے اپنے اللہ پر کیا اور غلامی قبول نہیں کی ہے
اگر یہ سورس سچی ہے ہے تو یہ بات اب پتھر پہ لکیر بن چکی ہےکہ عاصم منیر واقعی ایک انتہائی خطرناک ذہنی مریض ہے جس کا ٹھکانہ صرف اور صرف ذہنی مریضوں کا ہسپتال ہے!
ملک کی معیشت، امن، آئین، انسانی حقوق اور نظام انصاف کو دفن کیا اس نے، اور خطرہ عمران خان ہے 🤷🏽♂️
#خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان
جب ثالثی ہورہی تھی تو حیران کن طور پہ دہشتگردی نہیں ہو رہی تھی۔ ثالثی ختم ہوئی، ٹرمپ کے ایران کے ساتھ معاملات مزید بگڑ گئے تو ثالثی کے دعویداروں کی مصنوعی عزت خاک میں مل گئی لہذا فوراً دہشتگردی لوٹ آئی۔ فتنہ الہندوستان دوبارہ سرگرم ہوگیا۔ بلوچستان میں اتنی ترقی ہو رہی تھی کہ دشمنوں کو ہضم نہ ہوئی اور دشمنوں نے افغانستان، بلوچستان اور کشمیر کے راستے دہشتگردی شروع کر دی۔ فتنہ الہندوستان کتنا سیانا ہے کہ جب فتنہ الفوج پہ برا وقت آتا ہے تو فوراً دہشتگردی کر دیتا یے۔