پی ٹی آئی کو بار بار تنقید کا نشانہ بنانا کہاں کا انصاف ہے؟ آخر انہوں نے بھی تو بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے ہیں! تیرہ سال میں دہشت گردوں کو واپس پاکستان میں جگہ دی، انتشار پھیلایا، پولرائزیشن کی سیاست کو فروغ دیا اور دھرنوں پر دھرنے دیے۔ اب اتنے سارے کارنامے کوئی اور سیاسی جماعت کر سکتی ہے بھلا؟ 😏
سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی ہمایوں خان کی زیر صدارت گوجرانوالہ اور ساہیوال ڈویژن کے عہدیداروں کا اجلاس
پیپلز سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں ہونیوالے اجلاس میں جنرل سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی حسن مرتضی،سینئر نائب صدر رانا فاروق سعید،سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ شریک
PPP to Contest All Union Councils in Lahore Local Government Polls: Humayun Khan**
LAHORE: The Pakistan Peoples Party (PPP) will field candidates in every union council of Lahore in the upcoming local government elections, party leaders announced on Tuesday, as the party steps up efforts to rebuild its organisation in Punjab's capital.
PPP Central General Secretary Humayun Khan said the party would work hard to achieve positive results under the leadership of PPP Lahore President Faisal Mir. Describing Lahore as the heart of Pakistan, he said he was impressed by the efforts of Mir and PPP Lahore General Secretary Dr Ayesha Shaukat to organise and strengthen the party in the city.
He was speaking at a meeting of prospective local government candidates held at the PPP Lahore office.
Among those present were Convener of the PPP Lahore Organising Committee Majeed Ghauri, former MPA Ayesha Chaudhry, Shahida Jabeen, Azain Gulzar, Aamir, Naseer Butt, Ahmed Ghuman, Hassan Abbas, Taqi Shah, Shakeel Mir Channi and Atif Khokhar, along with other party leaders and workers.
Faisal Mir said the perception that the PPP lacks a significant vote bank in Punjab and Lahore was being challenged. He said the party was strengthening its organisational structure and expanding its political presence. The Lahore chapter, he added, is also preparing for the party's foundation day gathering at Minar-e-Pakistan on November 30.
Recalling the party's earlier plan for a public gathering at Minar-e-Pakistan on July 25, Mir said the Lahore chapter showed resistance when the Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) government refused permission for the venue. PPP Central Punjab President Raja Pervaiz Ashraf then decided to hold the event at Governor's House, where a large number of party workers took part, he said.
Dr Ayesha Shaukat said the party respects all segments of society without discrimination. She said the participation of people from different walks of life in PPP activities showed that the party remains present in the hearts of the people of Lahore and Punjab.
@faisalmirppp@SurgeonAyesha
بہاولپور ریاست کا شوشہ چھوڑ کر سرائیکی وسیب کیلئے چلائی گئی تحریک کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے.
ممبر قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی
#SeraikiSOOBA@KasimGillani
@BushraA15458612 لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ٹھیکا تھا وہ عمران صاحب کے بھانجے کے پاس تھا مالیات کا ٹیکا اس نے کروڑوں روپے کیوں عوام کو گمراہ کر جھوٹ بولو پاکستان کی دشمن بند کر بیٹھے ہو پاکستان میں ا کر
پی ٹی آئی کی اصل مقبولیت کا اندازہ سوشل میڈیا کے نعروں سے نہیں بلکہ میدان میں عوام کی موجودگی سے ہوتا ہے۔ اگر اپنے مبینہ مضبوط گڑھ میں بھی ایمرجنسی کے خلاف عوام کو سڑکوں پر نہیں نکال سکے تو قیادت کو اپنی سیاسی حکمت عملی پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ سیاست صرف دھمکیوں اور دعوؤں کا نام نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور عملی جدوجہد کا نام ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ، پیپلز پارٹی پنجاب کا نیا تنظیمی کلچر
21 ستمبر کا دن پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے حوالے سے رانا ریزورٹ میں ایک یادگار دن بن گیا۔ اس موقع کی خاص بات صرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ منانا نہیں تھی بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی تنظیمی قیادت کا ایک جگہ اکٹھا ہونا بھی تھا۔
پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے تمام ڈویژنز اور اضلاع سے عہدیداران اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضیٰ اور شہزاد سعید چیمہ کی قیادت میں ہونے والا یہ طویل اجلاس تقریباً دس گھنٹے جاری رہا۔ اس اجلاس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہر ڈویژن اور ہر ضلع کو سنا گیا۔ عہدیداران کو اپنی بات رکھنے، اپنے مسائل بیان کرنے اور تنظیمی معاملات پر رائے دینے کا مکمل موقع دیا گیا۔
کافی عرصے بعد پنجاب میں اس نوعیت کا ایک تفصیلی تنظیمی اجلاس دیکھنے کو ملا جس میں مختلف اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، تنظیم کو مکمل کرنے کے معاملات پر بات ہوئی، بعض اضلاع کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی جبکہ اچھی کارکردگی دکھانے والی تنظیموں کو سراہا بھی گیا۔
لیکن میرے نزدیک اس اجلاس کی سب سے خوبصورت بات اس کا تنظیمی پہلو تھا۔
پنجاب کے مختلف اضلاع اور ڈویژنز سے آنے والے عہدیداران کو ایک دوسرے سے ملنے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی رابطہ بڑھانے کا موقع ملا۔ یہی کسی بھی سیاسی جماعت کی تنظیمی طاقت ہوتی ہے کہ اس کے کارکن صرف اپنی حدود تک محدود نہ رہیں بلکہ پورے صوبے کی تنظیم کے ساتھ جڑے رہیں۔
پیپلز پارٹی پنجاب کی جانب سے اجلاسوں کے لیے مختلف مقامات کا انتخاب بھی ایک مثبت روایت بنتی نظر آ رہی ہے۔ اس سلسلے کا آغاز گوجرانوالہ ڈویژن سے ہوا اور اب یہ سلسلہ لاہور تک پہنچا ہے۔ آئندہ بھی اگر پنجاب کے مختلف شہروں میں ایسے اجلاس منعقد ہوتے رہیں تو مختلف اضلاع اور ڈویژنز کے کارکن ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اور تنظیم کے اندر رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔
اس پورے پروگرام کی میزبانی اور انتظامات کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔
مرحوم رانا شوکت کی صاحبزادی ڈاکٹر عائشہ شوکت اور ان کے شوہر ڈاکٹر فرید نے جس خوبصورتی سے اس بڑے پروگرام کی میزبانی کی، وہ قابلِ تحسین ہے۔ چار سو سے زائد عہدیداران کی میزبانی، ان کے بیٹھنے، کھانے اور دیگر ضروری انتظامات کا اس انداز میں اہتمام کرنا کہ کسی کو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو، یقیناً ایک بڑی ذمہ داری تھی۔
خاص طور پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے لیے ڈاکٹر عائشہ شوکت کی جانب سے کیے گئے انتظامات میں ایک ذاتی وابستگی اور محبت محسوس ہوتی تھی۔ جس طرح ہم اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کی سالگرہ کے لیے کسی خوبصورت جگہ کا انتخاب کرتے ہیں، اسی طرح انہوں نے اپنے چیئرمین کی سالگرہ کے لیے اپنے ذاتی ریزورٹ کا انتخاب کیا اور اسے ایک یادگار تقریب میں تبدیل کر دیا۔
میرے خیال میں اس تقریب کا ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔
اگر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اسی طرح پنجاب کے مختلف مقامات پر آ کر دو تین روز قیام کریں، ہر ڈویژن اور ہر ضلع کے عہدیداران سے براہِ راست ملاقات کریں، ان کے مسائل سنیں اور کارکنوں کے ساتھ بیٹھیں تو اس سے پنجاب کی تنظیم کو مزید مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے دور میں کارکنوں کے درمیان جا کر طویل نشستیں کیا کرتی تھیں۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی کارکنوں اور عہدیداران کے ساتھ براہِ راست بیٹھ کر ان کی بات سنا کرتے تھے۔ کارکن کو وقت دینا اور اسے یہ احساس دلانا کہ قیادت اس کی بات سن رہی ہے، پیپلز پارٹی کی سیاسی روایت کا اہم حصہ رہا ہے۔
21 ستمبر کا یہ اجلاس اسی روایت کی ایک نئی شکل محسوس ہوا۔
ایک طرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ منائی گئی اور دوسری طرف پنجاب بھر کی تنظیم کو ایک جگہ اکٹھا کرکے سنا گیا۔ یہی وہ تنظیمی رابطہ ہے جو کسی بھی جماعت کو نچلی سطح تک مضبوط کرتا ہے۔
میرے نزدیک پیپلز پارٹی پنجاب میں مختلف مقامات پر اس طرح کے اجلاسوں کا انعقاد اور ہر ضلع و ڈویژن کو براہِ راست سننے کا یہ نیا کلچر تنظیمی مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اور اگر یہ سلسلہ اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو پنجاب کے کارکنوں کے درمیان رابطہ، اعتماد اور تنظیمی ہم آہنگی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
تحریر: احمد رحمان گھمن
@BBhuttoZardari@NadeemAfzalChan@faisalmirppp
👇
ڈیمانڈز ماننے سے انکار۔۔ نواز شریف کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ۔۔
صدر رزداری اور پیپلز پارٹی نواز شریف کے ساتھ
ہیڈ آف انویسٹی گیشن سیل اے آر وائی نیوز نعیم اشرف بٹ نے بڑی خبر دیدی
#ARYNews#SawalYehHai
سینیٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق واپڈا کے ڈیمز سے بجلی تقریباً 2.70 روپے فی یونٹ جبکہ نجی آئی پی پیز سے تقریباً 34 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں 34.5 ارب یونٹس بجلی کے بدلے واپڈا کو 186 ارب روپے جبکہ نجی آئی پی پیز کو 49.8 ارب یونٹس کے بدلے 1,040 ارب روپے ادا کیے گئے۔ اسی رپورٹ میں نجی آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں تقریباً 1,300 ارب روپے کی اضافی ادائیگی کا بھی ذکر ہے۔
یہ سوال عوام کا حق ہے کہ جب سستی بجلی موجود ہے تو مہنگی بجلی کے معاہدوں اور بھاری کیپیسٹی چارجز کا بوجھ عوام کیوں اٹھائیں؟
دوسری طرف پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے بیرون ملک سرکاری جہاز کے استعمال پر بھی عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس سفر کا سرکاری مقصد کیا تھا اور سرکاری وسائل کے استعمال کی مکمل تفصیلات کیا ہیں۔
اگر اربوں روپے سرکاری سفر اور آئی پی پیز کے بھاری چارجز کے لیے دستیاب ہیں تو پھر مہنگے پٹرول اور بجلی کے بلوں سے پسے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے لیے وسائل کیوں نہیں؟
عوام صرف یہ پوچھ رہی ہے
سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والا ہر روپیہ عوام کی سہولت پر کیوں نہیں لگایا جا سکتا؟
@BBhuttoZardari@NadeemAfzalChan@faisalmirppp
ایک طرف عوام مہنگی بجلی اور آئی پی پیز کے بوجھ سے نجات مانگ رہے ہیں دوسری طرف ڈان کی رپورٹ کے مطابق نیپرا نے 58 ارب ڈالر کے پاور پلان کی منظوری دے دی ہے
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ خود نیپرا کے بعض ارکان نے اس منصوبے پر اختلافی نوٹ لکھے ہیں
عوام پہلے ہی مہنگی بجلی اور بڑھتے ہوئے بلوں سے پریشان ہیں ایسے میں توانائی کے شعبے میں ایسے فیصلوں پر شفافیت اور عوامی مفاد کے حوالے سے سوالات اٹھنا فطری ہے
عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کے بجائے سستی بجلی اور مؤثر توانائی پالیسی وقت کی ضرورت ہے
احمد رحمان گھمن
ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری
پاکستان پیپلز پارٹی لاہور
@BBhuttoZardari@NadeemAfzalChan
👇