🚩🚩🚩سیدہ فاطمۃ الزاہرا رضی اللہ عنہا🚩🚩🚩
بنتِ رسول اللہ ﷺ کی موت کا معمہ !
اُمت محمدیہ ﷺ کی بہن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا
صحت مند تھیں ،بالکل ٹھیک تھیں نا بیمار تھیںنا کوئی مسئلہ تھا ،بالکل چھوٹی عمر کی تھیں تو اچانک کیسے بسترِ مرگ پر آگئیں؟ کسی بیماری کی کوئی تشخیص نہیں نا کسی طبی امداد
کا ذکر ہے روایات میں ،نا حسنؓ و حسین ؓواُم کلثومؓ و زینب ؓنے کبھی اپنی اماں جان کی بیماری کاذکر کیا کسی روایت میں،اور نا ہی ان بچوں نے کبھی یہ ذکر کیا کہ ہماری اماں جان کو سید نا عمر فاروق ؓ یا کسی اور صحابیؓ نے شہید کیا ، تو بات صاف ہے ،،،،،،،،
اگر سیدہ فاطمہ ؓ قتل ہوئیں بقول شیعہ : تو (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ قتل سید نا علی ؓ) نے خود کیا،اور رات کو ہی دفنا دیا اور جنازہ بھی مخفی رکھا،،یہ گانٹھیں تو شیعہ رافضی اب خود ہی
کھولیں گے ،یا اِن الزامات یا بکواسات سے توبہ کریں کہ سید نا عمر ؓ نے سیدہ ؓ کے پیٹ پر لات ماری حمل ضائع ہوا ،دروازہ سیدہؓ پر گرایا،اور ،،یا یہ بات علیؓ سے ثابت کریں کہ سید نا عمر ؓنے سیدہ فاطمہؓ کو شہید کیا !!!!!!!!!وگرنہ سید نا علی ؓ کو سیدھاسیدھا
سیدہ فاطمہؓ بنتِ رسول اللہ ﷺ کا قاتل مانیں
اور کوئی چارہ نہیں۔۔۔۔۔
اگر پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے وعدے پر یقین کر لیتی ہے تو اس سے بڑا بلنڈر کوئی نہیں ہوگا، اسٹیبلشمنٹ 28ویں ترمیم پاس کروا رہی ہے اس کا مطلب ہے وہ اپنے گرینڈ پلان سے پیچھے نہیں ہٹے جس میں پی ٹی آئی کے لیے کوئی جگہ بنتی ہی نہیں، اسٹیبلشمنٹ جس قومی حکومت کا منصوبہ بنا چکی ہے وہ محمود اچکزئی والی قومی حکومت نہیں ہوگی۔ اسٹیبلشمنٹ کو گرینڈ پلان یہ ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو ساتھ ملا کے عمران خان اور پی ٹی ائی کو سیاست سے ہمیشہ کے لیے باہر کریں اور اگر ستمبر تک اسٹیبلشمنٹ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے بھی جان چھڑانے کا فیصلہ کر چکی ہے تو اس کا سادہ مطلب یہی ہے کہ مستقبل کی قومی حکومت میں پی ٹی آئی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی تینوں جماعتیں نہیں ہوں گی بلکہ ان جماعتوں سے لوگ توڑے جائیں گے جو اسٹیبلشمنٹ کی آئیڈیل قومی حکومت کا حصہ بنیں گے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے اپنے شعبے کے ماہر تصور کیا جاتے ہیں۔ وہ قومی حکومت ایک طرح سے ٹیکنوکریٹس کی حکومت ہو گی۔ اتنے دھوکے کھانے کے بعد تو کوئی احمق بھی یقین نہ کرے پی ٹی آئی والے پھر یقین کر رہے ہیں تو پھر انہیں فوجی بوٹ کا ٹُھڈا پسند آ گیا ہے
جب باپ ساوتھ انڈین/ایشین اور بیٹی امریکن ہو تو یہی پڑھائی ہوتی ہے۔ یہ کیوٹ پیاری بیٹی صرف اپنے باپ کی انگریزی کا تلفظ یا لہجہ ٹھیک نہیں کررہی بلکہ ہمارے ہمارے جیسے ٹاٹ سکول سے پڑھنے والے دیہاتیوں کی بھی کررہی ہے جو ساری عمر چائے کے Cup کپ کو سپ Sup (سانپ) پڑھتے رہے کیونکہ استاد محترم نے ہمیں سپ ہی پڑھایا تھا.🤓😎
دشمنوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے پہلے صرف پی ڈی ایم اور ففتھیئے تھے اور اب قبر پرست بھی شامل ہو گئے ہیں۔
کہتے ہیں کہ جب سارے مل کر ایک بندے/ بندی کی طرف تیر برسانا شروع کر دیں تو مطلب ہے کہ وہ سچ بول رہا/ رہی ہے۔
میرے اکاؤنٹ کی ریچ ختم کر دی گئی ہے اور آپ کا ایک ری پوسٹ اور کمنٹ میرے لیے بہت بڑی مدد ہو گی۔
عمران خان زندہ باد
سب تو پہلے شک ہی اوس بندے تے کرو جنو عمران خان نے نامزد کیتا ہوئے۔
چاھے مروت ہوئے چاھے گنڈاپور چاھے سہیل آفریدی ،
اگر فوجی ٹھلے انی تنقید برداشت کرن والے ہندے فیر نا ارشد مردا نا عمران خان اندر ہندا۔
From ‘Finger Lickin’ Good’ to ‘Finger Lickin’ Disgusting’: Mosharraf Zaidi’s Saliva Diplomacy on Sky News! 🤮
تُھوک والا ترجمان
Watching Zaidi’s interview with Yalda Hakim @SkyYaldaHakim , I was shocked – he repeatedly licked his fingers, spreading saliva, then used those wet fingers to flip through papers right in front of him on live international TV!
Basic hygiene & mannerism fail! No etiquette to appear polished on global stage. As PM’s spokesperson representing Pakistan’s government, this is embarrassing.
Hope at the end, he didn’t shake hands with Yalda Hakim – she’d probably feel like vomiting if those saliva-covered fingers touched her after that gross display!
Pakistan deserves better representation. #SalivaDiplomacy #MosharrafZaidi #YaldaHakim”
آپ سب کا شکریہ 🙏
بہت ساری محبتیں اور دعائیں آپ کے لیے۔
الحمدللہ، دوسرا حملہ بھی ناکام گیا۔ تیسرے حملے کی امید اب کم ہے۔ اور اس میں بڑا کردار آپ لوگوں نے ادا کیا۔
سچ کہوں تو مجھے امید نہیں تھی کہ 20 یا 25 سے زیادہ کمنٹس ا جائیں گے۔ لیکن سو سے اوپر ہو چکے ہیں نیچے والی پوسٹ پر۔
میں اکاؤنٹ کو ڈی ایکٹیویٹ کر کے کوئی ڈرامہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ دو چار دن خاموش رہ کے اپ کی ہمدردیاں نہیں سمیٹنا چاہتا تھا۔ صورتحال جو تھی، اپ کو بتائی، اور اللہ پہ چھوڑ دیا۔
تو میں اپ سب کو شکریہ ہی کہہ سکتا ہوں۔ ہم ایک دوسرے کو جانتے نہیں، لیکن پھر بھی ساتھ ساتھ ہیں۔ کوئی کسی انداز سے سپورٹ کر جاتا ہے اور کوئی کسی اور انداز سے۔
یہ والی پوسٹ کمنٹ لینے کا بہانہ نہیں۔ صرف شکریہ کہنا ہے مجھے۔ اپ بے شک کمنٹ نہ کریں۔ ری پوسٹ کی تو ضرورت ہی نہیں ہے۔ آپ نے اگر پڑھ لیا، یہی کافی ہے۔
اللہ تعالی آپ سب کو خوش رکھے۔ آمین 🙏
صبح سے پرانا سفر شروع، انشاء اللہ
رہے نام اللہ کا 🙏
میں قتل کیا جاؤں کا !
یہ جملہ کسی جذباتی نعرے کا حصہ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے آج پاکستان میں شاید ہی کوئی اختلاف رکھتا ہو۔ عمران خان کے خاتمے کا منصوبہ روزِ اول سے کمپنی کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ لندن پلان کی ابتدا بھی اسی شرط سے ہوئی تھی اور اس کی آخری لائن بھی اسی مطالبے پر ختم ہوتی تھی کہ عمران خان کو راستے سے ہٹایا جائے۔
مریم نواز نے صاف کہا تھا کہ ہمارا پہلا اور آخری مطالبہ عمران خان کی خاتمے کی صورت میں تسلی ہے۔ شریف خاندان وہی غصہ آج خان پر نکالنا چاہتا ہے جو کبھی ارشد شریف کے خون سے ٹھنڈا گیا تھا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان اب تک زندہ کیوں ہے؟ اسکی ایک ہی وجہ تھی : عوامی ردِعمل۔ مگر یہ بھی کیسا ردِعمل؟ ہر بار صرف جذباتی ردِعمل دیا گیا۔شور، نعرے، دھمکیاں،مگر عملی نتیجہ کبھی نہیں نکلا۔ جب عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی سے ہٹایا گیا تو جذبات بھڑکے، انجام صفر۔ گرفتاری پر دھواں اٹھا مگر آگ نہ لگی۔ اور آج جب قتل کی بات ہو رہی ہے تو پھر وہی پرانا نعرہ، وہی بازگشت ہے۔
مگر عملی طور پر قوم کا جو طرزِعمل ہمیشہ رہا ہے، وہی اب بھی ہے،صرف غصہ، صرف نفرت، صرف جذبات… لیکن نتیجہ صفر۔
کمپنی یہ سب باتیں جانتی ہے،وہ پاکستانی قوم کی نفسیات کے اندر اتر چکی ہے۔ اور یہ بات بھی سمجھ لیں کہ کمپنی کسی ایک جنرل کا نام نہیں؛ نہ کوئی ایک تخت پر بیٹھا شخص ہے۔ یہ پوری بااثر مشینری ہے۔فوجی دماغ، سیاسی دماغ، خفیہ دماغ، ریاستی دماغ،اور سب کی مشترکہ خواہش عمران خان کا خاتمہ ہے۔
خان کو بار بار بتایا گیا کہ آپ کو قتل کر دیا جائے گا، اور اس کا جواب ہمیشہ ایک ہی رہا:
“او قتل کرو میرا”
جہاں تک دلیل کا سوال ہے، میں خود بھی اس بات پر بار بار دہراتا ہوں کہ عمران خان کو آج تک ایک بھی ڈیل آفر نہیں ہوئی، نہ جیل سے نکالنے کی کوئی خفیہ کوشش کی گئی۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سوچا سمجھا منصوبہ ہے، کمپوزڈ حکمتِ عملی ہے، اور قوم کو اس میں صرف تماشائی بنایا گیا ہے۔
قوم کے لیے اب وقت سوچنے کا نہیں، عمل کا ہے۔ اگر آج بھی قوم صرف جذباتی ردِعمل پر اکتفا کرتی رہی، اگر صرف چیخیں، نعرے اور پوسٹس ہی رہیں، تو انجام وہی ہوگا جو وہ چاہتے ہیں۔
اب بھی صرف جذباتی نعروں تک رہے تو پھر سن لیں یہ ملک پہلے بھی برباد تھا،اب بھی برباد ہے،اور آپکی خاموشی اس بربادی کو آئندہ ندیوں تک پختہ کر دے گی ۔
عمران خان کی زندگی قوم کے امتحان کی آخری لیکر ہے ۔اگر اس لیکر کو بھی مٹا دیا گیا تو پھر اس سر زمین پر امید کی کرن ختم ہو جائے گی ۔
(منقول )
موقعے پر چوکا مارنے والا کھلاڑی ہی سکندر کہلاتا ہے، تو اب وقت ہےکہ موقعے پر چوکا مارا جائے، ان آوازوں کے ساتھ آواز ملائیں گونج زیادہ سنائی دے گی۔
قانونی راستے سارے اختیار کئے جا چکے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ خود کوئی قانونی عمل نہیں کر رہے۔
آگے بڑھیں اور "بسمہ اللہ" کریں یہ قوم آپکے ساتھ کھڑی ہے۔
@SohailAfridiISF
While all Pakistani generals are cowardly and shameless, this one, the incompetent General Sahir Shamshad, who retired three days ago, was perhaps the most shameless, spineless and disgraced general in Pakistan’s recent history. His biggest claim was that “I am an orphan, and in the documents, instead of family, I have written the word ‘Army’.
The spineless and shameless general was Chairman of the Joint Chiefs of Staff Committee. He had the authority and the means to block Asim Munir’s destructive path, to stop the army from committing crimes against Pakistan, its people, and its constitution and law, to save the Pakistani army from complete destruction, but this shameless coward supported Asim Munir and his crimes at every step, in every crime. Whether it was election rigging, mass killings, violating the honor of Pakistani mothers, sisters, and daughters, subjecting Imran Khan and his family to fascism, servitude to America and Israel, or any other crime.
For forty years this disgraced public servant took his salary from people's tax money, enjoyed perks, and will keep taking pension until he rots in his grave. The Pakistani army truly is a burden on this unfortunate nation, and soon the people will have to drop it off shoulders and place it beneath their feet.
From this shameless man’s crimes, it should be clear to Imran Khan, PTI, and everyone else that the problem lies not only with Asim Munir, nor is he merely a mental patient. The problem is within the army’s system, within every general and soldier. Removing only Asim Munir will not fix everything. A complete reform of the entire army is essential for Pakistan’s survival.
سِکّے کا تِیسرا رُخ
یہ سِکّہ میرے بیٹے اسفند کے پاس تھا، اسے سِکّے جمع کرنے کا شوق ہے۔ میرا بیٹا اپنے دادا یعنی میرے والد کی مدد سے سکے جمع کرتا ہے، اکثر کباڑیوں کی دکانوں پر اپنے دادا کے ساتھ جاتا ہے، یا جہاں اسے کوئی سکہ نظر آئے وہ اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ میرا بیٹا یہ سکہ ہمارے پڑوسی چوہدری منیر مغل کی کباڑ کی دکان سے ویڈیو گیم کا ٹوکن سمجھ کر لایا اور مجھے تھما دیا کہ "پاپا اسے صاف کر دو میں نے بالکل کھوٹے قدرے ملائم سکے پر توجہ نہ دی مگر بیٹا بَضِد تھا کہ اسے صاف کر کے دو، میں نے سکہ صاف کرنے کے لیے مختلف کیمکلز کا احتیاط سے استعمال کیا اور سِکہ صاف کر کے بغیر دیکھے بیٹے کو تھما دیا۔۔۔ میرے بیٹے نے ہمیشہ کی طرح مجھ سے سکے کا مُلک، اجراء کا سال اور ویلیو پوچھی کہ اس سے کیا کچھ ملتا تھا؟؟؟؟ مَیں نے نہ چاہتے ہوئے سکہ دوبارہ پکڑا اور جیسے جیسے مَیں سکے کو دیکھتا گیا مُجھے حیرت کے جھٹکے لگنے شروع ہوگئے۔۔۔
سِکے پر غور سے دیکھا تو پتہ چلا یہ سن 1858 میں جاری ہوا، سِکّے پر بنے دو شیر درمیان میں یونین جَیک تاجِ برطانیہ یعنی متحدہ سکاٹ لینڈ، برطانیہ، ویلز کی ریاستیں اور جزیرے جنہیں گریٹ بریٹین کہا جاتا تھا کو ظاہر کر رہے تھے سکے کے دوسرے رُخ پر ملکہِ برطانیہ 'الیگزینڈر وکٹوریہ' کا نام کندہ ہے۔۔۔
سکے سے متعلق اگلا سوال یہ تھا کہ یہ سکہ 1858 میں ہی کیوں جاری ہوا جب تحقیق کی تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔۔۔ یہ سال برِصغیر کے باسیوں پر تاجِ برطانیہ کی غلامی کا باقاعدہ پہلا سال تھا، ملکہ وکٹوریہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے پورے ہندوستان کو گریٹ بریٹین کی چھاؤں تلے لے لیا تھا، یہ سکہ انگریزوں کی شاندار فتح اور ہماری بدترین شکست کا گواہ ہے۔ یہ سکہ تاجِ برطانیہ نے تب جاری کیا، جب آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو ٹھڈے مار کر دہلی سے رنگون بھیج دیا گیا تھا، جب رائے احمد خاں کھرل جیسا مجاہد شہید ہوچکا تھا، جھانسی کی رانی لکشمی بائی تاریخ رقم کر چکی تھی، ہرنام سنگھ، راجہ رائے سنگھ ، سردار چیت سنگھ، سردار جواہر سنگھ، سردار بھگت سنگھ، پران سُکھ یادیو، مراد بلوچ، تُلا رام، مہاراجہ دلیپ سنگھ، راجہ دینا ناتھ، منگل پانڈے، مراد خان بلوچ، آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے شہید ہونے والے نامور مزاحمت کاروں میں سے کوئی باقی نہ بچا تھا۔۔۔
1858 میں ملکہ نے برصغیر کو طاقت و جبر کے ذریعے چلانے کی پالیسی اپناتے ہوئے لارڈ کَیننگ کو پہلا وائسرائے مقرر کیا۔۔۔
1858 کے بعد کا ہندوستان بڑی تیزی سے بدلا، لارڈ کیننگ بَلا کا شاطر اور ذہین انسان تھا، یہ ہی وہ شخص تھا جس نے 1861 میں برصغیر میں پولیس کا باقاعدہ محکمہ بنایا، پولیس کا محکمہ بنانے والے اسی شاطر دماغ نے برِصغیر میں کمشنری نظام کو نئے سرے سے ترتیب دیا۔ پولیس محکمہ بنانے کا مقصد ہر گز ہر گز عوام کے جان و مال کا تحفظ نہ تھا بلکہ پولیس کا کام فقط تاجِ برطانیہ کی رِٹ کو ہر صورت قائم رکھنا تھا، کیونکہ 1857 میں انگریز برصغیر میں جتنا خون بہا چکے تھے اس کے بعد لوگوں میں بدلے کی آگ اور بغاوت کا جذبہ کسی وقت بھی اُمڈ سکتا تھا، لارڈ کیننگ نے پولیس کو مضبوط کرنے کےلیے مخبر سسٹم ترتیب دیا اور مقامی لوگوں میں وطن فروش ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان سے مزاحمت کاروں کی خبر گیری حاصل کرنے کا رواج ڈالا اور بدلے میں انعام و نوازشات کے لالچ کا ٹوکرا رکھ دیا۔۔۔ وائسرائے لارڈ کیننگ کے نئے بنے محکمہ پولیس کو جہاں کہیں مخبر خبر دیتے تو پولیس اہلکار پورے پورے گاؤں بستیاں گوٹھ جلا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیتے کہ "یہاں مزاحمت کاروں کو پناہ دی گئی ہے" لارڈ کیننگ پانچ چھ سال بعد دفع ہو گیا مگر اس کی بنائی پولیس کا طرزِ طریق آج 167 سال گزرنے بعد بھی وہی ہے۔۔۔ تھانہ تلمبہ کی بنیاد 1876 میں اک چوکی کی صورت میں لارڈ ایڈورڈ لیٹن کے دَور میں رکھ دی گئی تھی۔۔۔ یہاں تلمبہ میں چار کرسی نشین تھے، جن کے نام بہ امرِ مجبوری نہیں لکھ سکتا کیونکہ ایک سال میں تیسرا پرچہ برداشت کرنا نہیں چاہتا۔۔۔۔۔ لارڈکیننگ نے ملکہ کی خواہش پر برِصغیر کا سسٹم آقا غلام والے انداز میں چلایا اس سسٹم کو برقرار رکھنے میں پولیس اس وقت بھی ایک پاور ٹُول تھا، آج بھی پاور ٹُول ہے۔۔ جو کام 1858 میں لارڈ کیننگ پولیس سے لے رہا تھا، وہ ہی کام آج ہمارے جاگیرداری نظام کے علمبردار سیاستدان حکمران لے رہے ہیں. پولیس کا نظام اتنا پیچیدہ ہے کہ مظلوم کےلیے کہیں کوئی آسانی نہیں، جبکہ ظالم فاسق جھوٹے کےلیے یہ نظام جنت سے کم نہیں ہے۔۔۔ آخر میں سکے سے متعلق میرے بیٹے نے مجھ سے پوچھا کہ اس سکے سے کیا کچھ خریدا جا سکتا تھا؟
تو!!! میں نے کہا " اس سکے سے ضمیر خریدے جاتے تھے، باغیوں کی سانسوں کے سودے اس سکے کے عوض ہوتے تھے"
#منقول