My article on conditions and challenges faced by small farmers, as well as their contribution to address #malnutrition in #sindh.
https://t.co/U94r2ZvqfN
California-based Omar Khan has been obsessed with the Indus Valley civilization since he was a teenager. He has been running an excellent resource - https://t.co/Nv7JAHRftO, and now he has produced a captivating short documentary on Mohenjo daro. Do watch it. Amazing work.
Mohenjo daro: Unsealing an Ancient Indus City https://t.co/Z9CicNtreR via @YouTube
The world knows @Malala . It should also know Iqbal Masih. Sold into slavery at four. Escaped at ten. Freed 3,000 children by twelve. Murdered at twelve. His story inspired a global movement. His own country forgot his name. This is your Sunday read. 14 minutes. Bring tissues.
بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی نویں جماعت کی انگریزی کی کتاب میں، کیچ سے تعلق رکھنے والے نوجوان سائنس دان ڈاکٹر یار جان عبدالصمد کی جدوجہد اور سائنسی خدمات پر ایک مضمون شامل کیا گیا ہے۔ یہ وہی یار جان عبدالصمد ہے، جس کی ٹوٹی پھوٹی انگریزی سن کر کراچی کی انگلش میڈیم سکول کی میڈم نے طنزاً کہا تھا کہ تم گاؤں جا کر کھیتی باڑی کرو، یہ تعلیم تمہارے بس کا کام نہیں۔
اس بچے نے یہ فقرہ اور یہ لہجہ گرہ میں باندھ لیا۔ پھر وہ ایسا پڑھا، ایسا پڑھا، ایسا پڑھا کہ کراچی سے سیدھا یورپ جا پہنچا اور آج وہ دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں اسپیس سائنس پڑھاتا ہے۔ قوموں کا حقیقی فخر ایسے لوگ ہوا کرتے ہیں۔
اس جوان پر یہ مضمون شامل کر کے، ٹیکسٹ بک بورڈ نے، اس کتاب کے مصنفین نے اپنے قد میں اضافہ کیا ہے۔ اس میں مصنفین تو قابلِ تحسین ہیں ہی، ایک کریڈٹ ان لوگوں کو بھی ملنا چاہیے جو ایسے متن کو شامل کرنے سے لے کر سراہنے اور چھاپنے تک کے عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ اس میں چیئرمین ٹیکسٹ بک بورڈ کا یقیناً اہم کردار ہے، ساتھ ہی متعلقہ مضمون کے سبجیکٹ اسپیشلسٹ کا بھی جو ایسے مضامین کی اہمیت سمجھتے ہیں۔ بورڈ میں انگریزی کے ماہر مضمون فرید بزدار ہیں۔ یہ ہمارے کالج کے کولیگ رہے ہیں۔ اس نیک کام میں ان کی حصہ داری کو بھی سراہنا بنتا ہے۔ یہ لوگ چوں کہ اکثر پسِ پردہ کام کر رہے ہوتے ہیں، اس لیے ان کا کام تو نظر آتا ہے، نام نہیں۔
یہ کتاب اب بلوچستان بھر میں پڑھائی جا رہی ہے۔ یقیناً یار جان عبدالصمد کے گاؤں میں بھی پہنچے گی، جہاں اس نے اولین جماعتیں پڑھیں۔ یہ وہاں کے بچوں کے لیے فخر کے ساتھ ساتھ کس قدر موٹیویشن کا ذریعہ بنے گی۔ کیا پتہ اسی سے حوصلہ پا کر پھر کوئی یار جان پیدا ہو، جس کے علم و ہنر کی روشنی اپنے وطن کے تاریک گوشوں کو بھی منور کر سکے۔
عابد میر
We are told that security in the Middle East requires defeating Iran, security in East Asia requires defeating China, and security in Europe requires defeating Russia. We never discuss security in terms of how to learn to live together by harmonising interests and managing competition. This is by design. This is hegemonic peace, in which security depends on defeating rivals rather than managing a balance of power.
Subsequently, security relies solely on deterrence rather than reassurance; diplomacy is dismissed as appeasement; peace agreements are temporary and deceptive; and war is peace. Our rivals do not have legitimate security concerns, as their policies are allegedly always motivated by aggressive, irrational, or expansionist behaviour.
We have convinced ourselves that our liberal hegemony is a force for good, and that our opponents oppose our dominance because they reject our benign values of freedom. Discussing the security concerns of adversaries is believed to “legitimise” their policies, which is treasonous. The world is divided into good guys (liberal democracies) and bad guys (autocracies). We should not ask how defeating Russia, as the world's largest nuclear power, is a rational security strategy, or why our governments refuse to even speak with Moscow to discuss the European security architecture and end the war. Our governments have relabelled nuclear deterrence as nuclear blackmail to signal that there can be no more constraints.
All empires can become irrational during decline. Leaders take greater risks to avoid decline, legitimacy crises at home must be distracted with enemies abroad, outdated strategies from a bygone era of strength are still embraced, and there is a tendency to double down on narratives of being indispensable, representing universal values, and dismissing all opposition as illegitimate and dangerous. Are we the fanatics?
صوابی پختونخوا
عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں جب مشال خان کو مار دیا گیا اور اسکی لاش کو اسکے گاؤں لایا گیا تو مساجد سے اعلانات ہوئے کہ مشال خان کا جنازہ کوئی نہیں پڑھائے گا نا ہی کوئی اس میں شرکت کرے گا کیونکہ وہ کا*فر ہے، مرتد ہے ۔ خوف اور ڈر کا ایک ماحول تھا ۔ لوگ خوف کے مارے گھروں میں دبکے ہوئے تھے اور مشال کی تدفین اور جنازے کیلئے چند ایک مٹھی بھر افراد ہی حاضر ہوسکے ۔ شنید تھی کہ مشتعل ہجوم مشال کے گھر پر حملہ کرکے اسکی مسخ شدہ لاش کو اور مسخ کرے گا ۔
ایسے میں جب شیرین یار یوسفزئی کو پتہ چلا تو کئی کلومیٹر دور واقع اپنے گاؤں سے وہ اپنی AK-47 بندوق سر عام کندھے پر رکھ کر مشال کے گاؤں آیا اور اسکے گھر والوں کو تسلی دی کہ آپکو کچھ نہیں ہونے دونگا، مشال خان کی نماز جنازہ بھی ہوگی اور باعزت تدفین بھی کی جائے گی ۔
پھر وہیں کھڑے ہوکر انہوں نے کچھ لڑکوں کو مشال کے گھر کے پہرے پر کھڑا کیا کہ کہیں کوئی گھر کی طرف آ نا جائے اور خود اپنی بندوق سمیت کھڑے ہوکر مشال خان کی نماز جنازہ اپنی نگرانی میں پڑھوائی ۔ ان صاحب کو بھی سلام ہے جنہوں نے ایسے ماحول میں آگے بڑھ کر مشال کی نماز جنازہ کی امامت کا رسک لیا ۔ تبلیغی جماعت سے وابستہ کوئی صاحب تھے، جنکا نام ابھی یاد نہیں آرہا ۔
شیرین یار یوسفزئی سے بعد میں پوچھا گیا کہ آپکا تعلق تو خدائی خدمت گاروں کی تحریک سے ہے جو عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں، آپ کو اپنے نظریات کے خلاف جاکر ا*سلحہ کیوں اٹھانا پڑا ۔ شیرین یار لالا بولے کہ جو خوف، ڈر اور وحشت کا ماحول بنا دیا گیا تھا اسکا مقابلہ میں قلم اور کتاب سے نہیں کرسکتا تھا، اُس دن اگر مشال کو نماز جنازہ کے بغیر دفنا دیا جاتا تو انسانیت کا جنازہ نکل جاتا اور انسانیت کا جنازہ نا نکلے اس لئے مجھے اس دن ا*سلحہ اٹھانا پڑا ۔
شیرین یار یوسفزئی پرسوں گزر گئے ۔
خدا مغفرت کرے پختون غیرت کے اس سچے استعارے کی❤️
کاپیڈ فرام فیس بک
A Turkish proverb says, “If a father bathes his children, both will laugh, and if a son bathes his father, both will cry.” Such is the painful beauty of life, where love comes full circle with time.
اگر اپ لوگ ان پڑھ ہیں لکھنا نہیں جانتے
اپ کمنٹ نہیں کر سکتے تو کوئی بات نہیں
یہ ویڈیو دیکھ تو سکتے ہیں اللہ اپ کی بنائی سلامت رکھے
(شاہزیب خانزادہ) نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا
اس سے بہترین تبصرہ ہو نہیں سکتا؟؟
Pakistan officially reports 84,000 HIV cases, but global agencies warn the real number could be 350,000, with most unaware of their status. A silent health crisis is growing fast, now affecting women, children, and the wider population.
@NuktaPakistan
Savail Hussain writes on school closing. “On pretexts as diverse as fog, smog, floods, temperature (hot & cold), political rallies & cricket matches, Punjab had fewer than 135 school days in 2025. The global average was 186. India had 200 days, B’desh 179. https://t.co/oo9ZFGhiPr