لکھ کے دیتا ہوں تمہیں رد انا کا تعویذ
پھر کبھی ضد پہ وہ اڑ جاۓ تو پیسے واپس
میں نے کاٹا ہے میاں کئ برس کا چلہ
وہ تیرے پاؤں نہ پڑ جائے تو پیسے واپس
شب بخیر
اللہ کی امان ❤️
خوش رہیں آباد رہیں ایمان کی سلامتی کے ساتھ محبوب کی بانہوں کے محبت کے دعاؤں کے حصار میں
Either you surrender or fight for your freedom till death. What will we do? I ask myself this question, and my belief is "La ilaha illallah"—there is no God but Allah. We will fight.
Democratically elected Prime Minister of Pakistan Imran Khan, September 27, 2019.
آج متعدد ٹی وی چینلز کے ساتھ میرے ٹاک شوز شیڈول تھے، لیکن آخری لمحے پر بتایا گیا کہ "اوپر" بیٹھنے والوں کا فون آیا ہے اور آپ پر اور شاہد خٹک صاحب @ShahidkhattakSk پر میڈیا پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے
میڈیا پرپابندی عائدکرنا اور جمہوری آوازوں کا گلا گھونٹنا فسطائیت اور کھلی آمریت ہے،تم جتنی مرضی پابندیاں لگا لو، سچ کو بند کمروں کے فیصلوں سے نہیں دبایا جا سکتا
ہم نہ کل جھکے تھے، نہ آج پیچھے ہٹیں گے،ان فاشسٹ ہتھکنڈوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہیں گے.
شاباش کوہاٹ انتظامیہ اور کوہاٹ پولیس!
پنجاب پولیس جو خیبر پختونخواہ کی حدود کے اندر خوشحال گڑھ (عین دھرنے کے مقام پر) کھدائی کرنے گھسی تھی۔انہیں اپنی۔حدود میں واپس دھکیل دیا۔
شاباش نوید احمد، اسسٹنٹ کمشنر کوہاٹ ہیڈکوارٹر۔
پختونخواہ کی عوام اپنی پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ ہے
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔
خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی حفاظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔
میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ہے اور آپ نے رہنا ہے۔
کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
پشاور ریویٹالائزیشن پلان — دلازک چوک انڈر پاس
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی پشاور ریویٹالائزیشن پلان کے تحت مکمل ہونے والے دلازک چوک انڈر پاس کا افتتاح کرنے پہنچ گئے۔
افتتاحی تقریب عوامی جلسے کی شکل اختیار کر گئی، جہاں تحریک انصاف کے کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد نے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا شاندار استقبال کیا۔
بدل رہا ہے پشاور، ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے خیبرپختونخوا!
خیبرپختونخوا کابینہ نےپولیس ایکٹ ترمیمی بل/ڈرافٹ منظور کرلیا،ترمیمی ڈرافٹ کے مطابق اب IG صوبائی حکومت لگائےگی،IG تبدیل بھی کرسکےگی صوبائی حکومت،یہ سہیل آفریدی حکومت کا اچھا فیصلہ،یہ کیسےہوسکتا ہےکہ وفاق جو افسر صوبےمیں لگائے،وہ صوبائی حکومت کا نہ فیصلہ مانےاور نہ صوبائی حکومت کو جوابدہ ہو اور وفاق کی اپنےمن پسند افسروں کے ذریعےصوبےمیں من پسند سیاستیں اب بند ہونی چاہئیں،مجھےمعلوم ہے کہ اب شہبازحکومت سپریم کورٹ جائے گی،گورنر کنڈی بل مسودے پر دستخط کرنے میں تاخیر کرسکتے ہیں اور موجودہ IG وفاق کے زور پر کچھ اور بھی کرسکتے ہیں،مگر یہ اچھا فیصلہ سہیل آفریدی حکومت کا اور یہ کام انہیں پہلے کر لینا چاہیئے تھا۔۔
یہ نوجوان، جس کی تصویر آپ ملاحظہ کر رہے ہیں، اس وقت NCCIA لاہور کی حراست میں ہے۔ اسے گزشتہ روز سندر کے علاقے سے حراست میں لیا گیا۔ اس کا تعلق میانوالی سے ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ وہ ایک یونیورسٹی کا طالب علم ہے اور ممکنہ طور پر DIT کر رہا ہے۔
نوجوان کی عمر تقریباً 20 سال ہے۔ آج اسے NCCIA لاہور کی جانب سے جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو صاحب کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے اس کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔
اس نوجوان کا قصور کیا ہے؟ آپ خود اس کا ٹوئٹر اکاؤنٹ کھول کر دیکھ لیں۔ اس کی ٹوئٹر ٹائم لائن پر زیادہ تر عمران خان صاحب کے حق میں کیے گئے ٹوئٹس یا ری پوسٹس نظر آتے ہیں۔ اس کے ٹوئٹر پر کل فالوورز کی تعداد بھی صرف 52 ہے۔
اس وقت یہ نوجوان ہتھکڑیوں میں NCCIA کی حراست میں ہے۔
The Pakistani government has blocked highways to the capital Islamabad and set up container barriers in preparation for a protest by the PTI party, which seeks ex-PM Imran Khan’s release from jail.
Read here: https://t.co/Q2u9ThzrL8
بسم اللہ الرحمن الرحیم
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
میرے پاکستانیوں! 🇵🇰
اپنی تمام تر توجہ 27 ستمبر 2026 کے لانگ مارچ پر مرکوز رکھیں۔
یہ وقت افواہوں، منفی پروپیگنڈے اور انتشار کا شکار ہونے کے بجائے اتحاد، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھنے کا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف @PTIofficial کی قیادت متحد ہے۔ کسی بھی غیر مصدقہ خبر یا سوشل میڈیا کی افواہ پر کان نہ دھریں، صرف پارٹی کی باضابطہ ہدایات اور مستند ذرائع پر اعتماد کریں۔
پاکستان 🇵🇰 زندہ باد
عمران خان @ImranKhanPTI پائندہ باد
مراد سعید اور ان کے خاندان سے تعلق یا وابستگی رکھنے والے ساٹھ سے زائد گھروں پر چھاپے مارے گئے اور خاندان کے افراد کو ہراساں کیا گیا۔ اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ مراد سعید کی والدہ کو مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا۔
اس حد تک بزدل ہیں کہ ایک شخص کو پکڑنے کے لئے ساٹھ سے زائد گھروں پر چھاپہ مارا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج کے پیش نظر وسطی پنجاب کے اضلاع سے گزرنے والے دو دریاؤں کے پُلوں کے اِردگرد سڑک کے کناروں پر کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں جبکہ ان مقامات پر ریت اور مٹی کی بوریاں بھی لائی جا رہی ہیں۔
تفصیل: https://t.co/Xrz2u6shNR