Strong Condemnation of Israeli Attack in Doha
———————————————-
I strongly and unequivocally condemn the heinous attack in #Doha, #Qatar. This cowardly strike on the #Hamas leadership, gathered for peace negotiations, is a calculated attempt to sabotage the peace process aimed at ending the war in #Gaza.
#dohaattack
Israel’s actions once again expose its blatant disregard for international law and diplomatic efforts, and make clear its refusal to resolve this conflict through peaceful means. Instead, it continues a campaign of destruction against the people of Gaza.
The international community must not remain silent. This unprovoked aggression demands an immediate and firm response. Urgent, collective measures are essential to prevent further atrocities and to protect future peace initiatives from being destroyed.
Altaf Hussain
سابق رہنماؤں نے الطاف حسین کے ساتھ نہ صرف غداری کی بلکہ پارٹی نظریے، کارکنوں اور عوام کے ساتھ بھی دھوکہ کیا الطاف حسین نے مقام دیا لیکن موقع ملتے اپنے ہی قائد اور پارٹی کے بنیادی اصولوں کو پیٹھ پیچھے سے وار کر کے تاریخ کے صفحات پر اپنا نام غدار کے طور پر ثبت کر دیا۔
#AltafHussain
رحمت اللعالمین حضرت محمدمصطفی ﷺ
کا یوم ِ ولادت مبارک ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جشن عیدمیلاد النبی (ص)کے موقع پرپاکستان سمیت دنیا بھرکے مسلمانوں اورتمام انسانوں کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے '' ورفعنالک ذکرک'' یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سرکاردوعالم (ص) کا ذکر بلند کردیا ہے اور دنیا کی کوئی بھی طاقت نبی کریم (ص) کا ذکرپست نہیں کرسکتی ۔
سرکارِ دوعالم نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی (ص) وجہ تخلیق کائنات ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ (ص) کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بناکر بھیجا ہے ۔ حضوراکرم (ص) کی رحمتوں کی بارش اور سیرت طیبہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ پوری دنیاکے تمام انسانوں کے لئے ہے، حضوراکرم (ص) کاخطبہ حجة الوداع تمام عالم کیلئے ضابطہ حیات اور مشعل ِ راہ ہے جس میں انسانوں کے درمیان ہرقسم کی تفریق کی نفی کی گئی ہے۔
نبی کریم (ص) نے معاشرے میں انصاف کے نظام کے قیام، ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے ،حقوق العبادکی ادائیگی ، خلق خدا کی خدمت ، انسانوں کے درمیان رنگ ، نسل ، ذات پات ،زبان اور مذہب سمیت ہرقسم کی تفریق کے خاتمے ، والدین ، بزرگوں اور خواتین کے احترام ،حصول ِ علم ، سچ بولنے اور امانت میں خیانت نہ کرنے کا درس دیا ہے ۔
رحمت اللعالمین حضرت محمدمصطفی (ص)سے سچی عقیدت ومحبت کاتقاضا ہے کہ آپ (ص) کی تعلیمات اوراسوہء حسنہ پر عمل کیاجائے اور مذہب کی بنیادپر دوسرے انسانوں سے نفرت کے بجائےاحترام ِانسانیت کی سوچ کوفروغ دیا جائے ۔
الطاف حسین
ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نے تحریک کے سینئر رکن اور MQM کی لیگل ایڈ کمیٹی کے رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ کی فون پر خیریت دریافت کی ۔ ادریس علوی ایڈوکیٹ چند روز سے علیل ہیں۔ جناب الطاف حسین نے ادریس علوی ایڈوکیٹ کی صحتیابی کے لئے دعا کی اور ان سے کہا کہ وہ ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق باقاعدگی سے دوائیں لیں اور اپنی صحت کا بھرپور خیال رکھیں۔
الطاف بھائی کا احتجاجی کیمپ انسانی حقوق کی آواز تھا، ایجنسیز کے ظلم و جبر کے خلاف۔لوگ مسنگ کیوں؟ جرم کیا؟ کوئی عدالت؟2016 سے سینکڑوں لاپتہ،کئی شہید۔صحافت سوال کیوں نہیں پوچھتی؟۸۲۶ لوگ کس کے پاس تھے کس قانون کے تحت؟ بھائی تو آرہے ہیں آپ کی شکل بتا رہی 😂 تیاری کرلو
#AltafHussain
اگر رینجرز سچی تھی تو ہزاروں لوگوں کا قاتل جسکے حکم پر کراچی میں لسانی بنیادوں پر لوگوں کا قتل عام ہوا انیس قائمخانی وہ آزاد کیوں گھوم رہا ہے؟ اور اگر جھوٹی تھی تو لعنت اللہ علی الکاذبین
پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ فیوڈوکریسی کاراج ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کوقائم ہوئے 78برس گزرچکے ہیں لیکن آج بھی ہر شہری کے ذہن میں ایک ہی سوال ہے کہ کیا پاکستان ایک آزاد ملک ہے؟ہم اپنی پالیسیاں بنانے میں آزاد اورخودمختار ہیں؟ انڈیااور پاکستان ایک ساتھ ہی آزاد ہوئے تھے لیکن اگرہم دونوں ملکوں کاموازنہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انڈیاحقیقی معنوں میں ایک آزاداورخودمختارملک کی حیثیت سے وجودرکھتاہے جوکسی بھی بیرونی طاقت سے ڈکٹیشن نہیں لیتا۔اگرحالیہ دنوں کی ہی مثال لی جائے تو امریکہ کی جانب سے انڈیا پر روس سے تیل نہ خریدنے کے تمام تردباؤ اور دھمکیوں کے باوجود انڈیااپنی پالیسی میں تبدیلی کرنے اور امریکہ سے کسی قسم کی ڈکٹیشن لینے کے لئے تیارنہیں ہے۔ دوسری جانب اس بات سے کوئی انکارنہیں کرسکتا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی بنانے میں آزاد نہیں ہے، ہماری خارجہ پالیسی بیرونی قوتوں کی مرضی ومنشاکے مطابق بنائی جاتی ہے اوراس میں بیرونی قوتوں کے مفادات کا خیال رکھاجاتا ہے۔ اس صورتحال کا سبب پاکستان میں رائج فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور2 فیصد مراعات یافتہ اشرافیہ کاتسلط ہے۔
انڈیا نے آزادی کے فوری بعد جاگیردارانہ نظام کاخاتمہ کردیا تھا لیکن پاکستان میں آج 78برس کے باوجود یہ جاگیردارانہ نظام رائج ہے، پاکستان پر جاگیرداروں، وڈیروں اور سرداروں کے چند خاندانوں کی اجارہ داری ہے جن کا ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ ہے۔ پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ فیوڈوکریسی کاراج ہے۔جنرل ایوب خان کے مارشل لاء دورمیں مراعات یافتہ طبقہ کے 22 خاندانوں کی اجارہ داری تھی، آج یہ 22 ہزار خاندان بن چکے ہیں۔ یہ2فیصد رولنگ ایلیٹ اسمبلیوں میں آکر ملک کے 98 فیصد غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کے مفادات کے بجائے اپنے مفادات کیلئے قانون سازی کرتی ہے۔ اس اقتدارمافیا میں جاگیردار، وڈیرے ، سردار اورسرمایہ داروں کے ساتھ ساتھ کرپٹ جرنیل اورکرپٹ ججز بھی شامل ہیں۔ یہ مافیا باہمی مفادات کے لئے کام کرتی ہے۔ اسمبلیاں اس مافیا کے مفاد کے قانون بناتی ہیں اورکرپٹ ججزان قوانین کاتحفظ کرتے ہیں اوراسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے تحفظ کے لئے رات 12بجے بھی عدالت لگالیتے ہیں۔ ملک کی مذہبی جماعتیں اورملّا بھی اس مافیا کاحصہ ہیں جواپنے فتووں کے ذریعے اس اقتدارمافیا کوسپورٹ کرتے ہیں۔ یہ مافیابرسوں سے ملک کولوٹ رہی ہے۔ اسی اقتدار مافیاکی لوٹ مار کی وجہ سے پاکستان معاشی طورپرتباہ ہوا۔ ملک کے تمام ادارے تباہی سےدوچار ہیں، پاکستان معیشت کی زبوں حالی کے ساتھ ساتھ ہر میدان میں زوال اورانحطاط کاشکار ہے۔ پورے ملک میں امن وامان کی صورتحال خراب ہے اورغریب ومتوسط طبقہ کے عوام اس صورتحال میں اپنے حقوق سے محروم اور بے یارومددگار ہیں۔
ملک کے ان حالات میں عوام کابھی قصور ہے کہ وہ جمہوریت کےنام پر بڑے بڑے جاگیرداروں ، وڈیروں اورموروثی سیاست کرنے والے خاندانوں کے پیچھے چلتے ہیں۔ پاکستان میں ذوالفقارعلی بھٹو نے سوشلزم ہماری معیشت اورروٹی ،کپڑا، مکان کانعرہ لگاکرعوام کوبیوقوف بنایا، پیپلزپارٹی کے بانیان میں ڈاکٹرمبشرحسن، ملک معراج خالد، جے اے رحیم اورمعراج محمدخان جیسے سوشلسٹ دانشور شامل تھے لیکن بھٹونے اقتدارمیں آنے کے بعد ان تمام دانشوروں کوPPP سے نکال باہر کردیا، عوام نے بھی جمہوریت اورسوشلزم کے نام پر بھٹو کاساتھ دیالیکن وہ یہ بھول گئے کہ سوشلزم کی بات کرنے والا خود ایک بہت بڑا وڈیرہ او رجاگیردارتھا۔ نوازشریف کی شکل میں فوج کوایک صنعتکارملاجواقتدارمیں آنے کے بعد ایک بڑا جاگیردار بن گیااوراس نے اپنے خاندان کوبھی جاگیردارانہ سوسائٹی میں شامل کردیا۔ ملک کے چاروں صوبوں سے وڈیرے جاگیردار ہی اقتدارکے ایوانوں میں پہنچے۔لہٰذا اس فیوڈل کلچر کوکوئی بھی ختم نہیں کرسکا،آج بھی ملک کا کنٹرول ان جاگیرداروں کے پاس ہے اورملک کی دولت چند خاندانوں کےہاتھ میں ہے۔ 1/2
22 اگست 2016ء کومیرے اور MQM کےخلاف اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سازش کی گئی، یہ سازش پہلی بارنہیں ہوئی تھی اس سےپہلےبھی اسٹیبلشمنٹ نےMQM کو کمزور کرنےکےلئے MQM کےنام سےکئی جعلی تنظیمیں بنائیں۔ چاہےجتنی بھی جعلی MQM بنالی جائیں، دنیاجانتی ہےکہ MQM کابانی الطاف حسین ہے۔
#YoumeAzmeWafa22Aug
22 اگست 2016ء کی رات فوج نے MQM کے خلاف جواقدامات اٹھائے، اس پرآج بھی اسی طرح عمل درآمد جاری ہے۔فوج نے 22 اگست 2016ء کو MQM کےخلاف جوآپریشن کیااس کی تیاریاں پہلےسے کی جارہی تھیں، MQM کے کئی رہنماؤں، اراکین رابطہ کمیٹی اورارکان اسمبلی کو مختلف مفادات کا لالچ دیکرپہلے ہی خریدا جاچکا تھا۔23اگست 2016ء کی صبح انہوں نےپریس کانفرنس کرکے تحریک کے بانی و قائد سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔انہوں نے اپنےظرف وضمیر کاسودا کرلیامگر کارکنان ثابت قدم رہے ۔جوکارکنان اپنی وفاداری کا سودا کرنے کیلئے تیار نہ ہوئے انہیں غداروں نے مخبریاں کرکے جبری لاپتہ کروایا جن میں سے بیشتر کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کرکےان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینک دی گئیں۔ میں وفاپرست کارکنان کووصیت کرتا ہوں کہ قوم کے غداروں سےان شہید کارکنان کے لہو کا حساب ضرور لینا۔ 22، اگست 2016ء کو میری رہائش گاہ ''نائن زیرو''، خورشید بیگم میموریل سیکریٹریٹ سمیت کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ بھرکےتمام زونل، سیکٹراور یونٹ آفسز seal کردیئے گئے جوآج تک وفاپرست کارکنان کو واپس نہیں ملے۔ تحریک کے خلاف یہ سب کچھ اس شخص کی موجودگی میں ہواجسے میں نے اعتماد کرتے ہوئے سندھ کا گورنر بنایا تھا اورجس نےمیری پیٹھ میں چھرا گھونپنے کاعمل کیا اور تحریک اورقوم کے مفادات کےلئےکام کرنےکے بجائے ان کےخلاف کام کیا۔
تمام تر پابندیوں کے باوجود پاکستان اور اوورسیز میں تحریک کا ایک ایک کارکن یوم ِ عزم ِ وفامنا رہا ہے۔گھٹن زدہ ماحول میں بھی تحریک کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں شہداء کےایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کے اجتماعات منعقد کرتی رہیں اور اپنے الطاف بھائی سے عہدِ وفا نبھاتی رہیں۔میں رابطہ کمیٹی کےکنوینر، ڈپٹی کنوینر، سابقہ اراکین، انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کےمعاونین، میرے گھرپر ڈیوٹیاں دینے والےساتھیوں ، پاکستان اور اوورسیز یونٹوں میں موجود ایک ایک کارکن اورذمہ دار کو دل کی گہرائی سے شاباش اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
22 اگست کوجوسازش الطاف حسین اور اس کی MQM کے خلاف کی گئی وہی سازشی عمل آج 9برس بعد عمران خان کے خلاف دہرایاجارہاہے۔ الطاف حسین ، اس کی تحریک اوراس کی فیملی کے خلاف یہ سازشی اورظالمانہ عمل برسوں سےکیاجارہا ہے1979ء میں الطاف حسین کوگرفتارکرکےجنرل ضیاء الحق کی سمری ملٹری کورٹ نے 9ماہ قید اور پانچ کوڑوں کی سزا دی، پھر مزید 2مرتبہ جنرل ضیا کے دورمیں ہی الطاف حسین کوگرفتارکرکے ذہنی وجسمانی اذیتیں دی گئیں، مجھ پر قاتلانہ حملےکئے گئے، میری پارٹی کے خلاف فوجی آپریشن کئے گئے، میرے ہزاروں کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کیاگیا، لیکن کسی نے اس ظلم کےخلاف آواز نہیں اٹھائی، جب ان مظالم سے مجھے نہیں جھکایا جاسکا تومجھے توڑنےکےلئے 1995ء میں میر ے بڑے بھائی ناصرحسین اور بھتیجے عارف حسین کوگرفتارکرکے تین روز تک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد کراچی میں گڈاپ کے علاقے میں لیجا کر گولیاں مار کر شہید کردیا، میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کوگھرسےگرفتارکرکے اڈیالہ جیل میں اذیتیں دی گئیں اورادھ مرا کرکے پھینک دیا گیا،بعد میں وہ بھی شہید ہوگئے۔میرے باقی بہن بھائیوں کو بھی مسلسل چھاپوں کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کر بیرون ملک جاناپڑا۔یہ ظلم میرے خاندان کے ساتھ ہوتارہا لیکن سب خاموش رہے،کاش اس وقت عمران خان اوردیگرسیاسی ومذہبی رہنماان مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے۔
ستمبر 2015ء میں اسٹیبلشمنٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے ذریعےمیری تقریراوربیانات کی نشرواشاعت پر پابندی لگادی، اس غیرآئینی وغیرقانونی پابندی کے خلاف بھی سب خاموش رہے، 2018ء میں عمران خان وزیراعظم بنے،انہوں نے بھی یہ پابندی ختم نہیں کرائی۔ عمران خان کو اقتدارسے باہرکرنےکےبعد ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، وہ بچ گئے توگرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا، پھر بھی عمران خان نہ ٹوٹاتوان کا اعصاب توڑنےکے لئے ان کی فیملی کونشانہ بنایا جارہا ہے۔کل جب عمران خان کی سپریم کورٹ سے ضمانت منظورہوئی اورتحریک انصاف کےرہنما اور کارکنان اس پر خوشیاں منارہے تھےکہ دوسری طرف عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر پرچھاپہ مار کران کےبھانجے شاہ ریز کو گرفتارکیا گیا اوردوسرے دن عدالت سے واپسی پر عمران خان کےدوسرے بھانجے شیرشاہ کوبھی گرفتارکرلیاگیا۔
کاش کہ جب الطاف حسین کی فیملی کو ریاستی مظالم کانشانہ بنایاجارہاتھا، اس وقت اگر عمران خان اور دیگرسیاسی ومذہبی رہنما اس ظلم کےخلاف آواز اٹھاتے تو آج عمران خان کی فیملی کونشانہ نہ بنایاجارہا ہوتا۔ 1/2
2/2
#YoumeAzmeWafa22Aug
دوسری طرف الطاف حسین کاعمل یہ ہے کہ جب عمران خان، پر قاتلانہ حملہ ہوا، انہیں گرفتارکیا گیا اوران کی پارٹی کوریاستی مظالم کانشانہ بنایا گیا تو پورے ملک میں واحد الطاف حسین تھا جس نے اس ظلم کے خلاف کھل کرآواز بلند کی اور آج تک آوازاٹھارہا ہے۔ اسی طرح جب نوازشریف اوران کی صاحبزادی مریم نواز پرظلم ہواتو میں نے ان کیلئے بھی آواز اٹھائی۔
جہاں جہاں جس جس پر ظلم ہوا الطاف حسین نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ جب تک میرے جسم میں سانس ہے میں ہر ظلم کے خلاف آواز احتجاج بلند کرتا رہوں گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرا دل ایسا بنایا ہے کہ مجھ سے کسی پرظلم دیکھا نہیں جاتا۔ میں عمران خان کی ہمشیرہ محترمہ علیمہ خان کے صاحبزادوں کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اوران کی رہائی کامطالبہ کرتاہوں۔
پی ٹی آئی کے کارکنان اپنے رہنماؤں کے بجائےمحترمہ علیمہ خان پر اعتماد کرتے ہیں، وہ اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ ان کے لیڈران دوسال سے وزارت اعلیٰ اور اسمبلیوں کی رکنیت کےمزے لے رہے ہیں، مراعات وصول کررہے ہیں جبکہ کارکنان کو 10، 10 سال قید کی سزائیں دی جارہی ہیں مگر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ خاموش ہے، علیمہ خان صاحبہ کےگھر پر چھاپے اوران کے بیٹوں کی گرفتاری پر PTI کی لیڈرشپ کو احتجاجی مظاہرے یا احتجاجی دھرنے کا اعلان کرنا چاہیے تھا مگر یہ لیڈرشپ خاموش ہے۔ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ وہ مصلحت پسندی کا شکارلیڈروں کی طرف نہ دیکھیں بلکہ تحریک کو اپنے ہاتھوں میں لےلیں۔
بلوچوں کو غدار کہاجارہا ہےجبکہ بلوچ غدار نہیں بلکہ اپنے جائز حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں،انہیں غدار کہنے والے اوربلوچوں کوظلم کانشانہ بناکر انہیں دیوار سے لگانے والے فوجی جرنیل خود ملک کے غدار ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 304 ویں فکری نشست سے خطاب
22، اگست2025
( مکمل فکری نشست دیکھئے 👇)
https://t.co/zKAb5kqyPk
2/2
پاکستانی فوج کا ہرافسر آئین پاکستان کے احترام کاحلف اٹھاتا ہے اور اللہ کو گواہ بناکر عہد کرتا ہے کہ وہ کبھی آئین کے خلاف کسی بھی ایسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا جو سیاست میں حصہ لینے کے مترادف ہو۔
یہ مسلمہ امر ہے کہ فوج کے وجود سے انکارکرنا سراسر حماقت ہے ، ہرملک کوفوج کے وجود کی ضرورت ہوتی ہے لیکن فوج کا یہ مطلب ہرگزنہیں ہوتا کہ وہ سیاست میں مداخلت کرے ۔پاکستان کا ہرذی شعور شہری اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ فوج قیام پاکستان کے بعد سے ہی سیاست میں مداخلت کرتی چلی آرہی ہے اور وہ سیاست میں مداخلت کے جو جواز پیش کرتی ہے اس میں فوج کے کرنل سے لیکر لیفٹننٹ جنرل تک سب شریک ہوتے ہیں ۔پھرجلاوطن اینکرز صرف ایک آدمی پر الزام کیوں لگارہے ہیں ؟ اگر غیرآئینی اقدامات فیلڈ مارشل کررہے ہیں تو باقی جرنیل کیوں خاموش ہیں؟ اگر وہ آئین کے منافی اقدامات اورعوام پر ظلم کے عمل میں شریک نہیں ہوتے تو اپنے عہدوں سے استعفیٰ کیوں نہیں دیتے؟فارم 47کے تحت جعلی حکومت بنانے کیلئے کیافیلڈ مارشل عاصم منیر اکیلئے ملک بھرکے ہرپولنگ اسٹیشن پر گئے تھے ؟کیا انتخابی نتائج تبدیل کرانے والے فوجی افسران اس گناہ میں برابرکے شریک نہیں تھے؟
میں متعدد بار بتا چکا ہوں کہ اگربلوچ عوام اپنی آزادی کیلئے مزاحمت کررہے ہیں تو وہ کون سا غیرقانونی عمل
کررہے ہیں؟یہ تاریخی حقیقت ہے کہ 1947ء سے ہی پاکستانی فوج نے بلوچستان پر مستقلاً فوج کشی کاعمل جاری رکھا اور بالآخر 1948ء میں بلوچستان کو زبردستی پاکستان میں شامل کرلیا۔یعنی اس کا مطلب واضح ہے کہ 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت بلوچستان ، پاکستان کا حصہ نہیں تھا۔جسے فوجی آپریشنوں کے ذریعے زبردستی پاکستان میں نہ صرف شامل کیاگیا بلکہ بلوچستان کے تمام تر معدنی وسائل ، تیل ، گیس اور سونے کے ذخائرپربھی قبضہ کرلیاگیا۔قدرتی گیس بلوچستان سےنکلتی ہےاور پورے ملک کوفراہم کی جارہی ہے لیکن بلوچستان کےعوام کوہی بندوق کی نوک پر برسہابرس تک سوئی گیس کی سہولت سے محروم رکھا گیا، ظلم وستم اوراحساس محرومی کے اسی مسلسل عمل نے بلوچ عوام کو مزاحمت کاراستہ اختیار کرنے پرمجبور کردیا ۔
بیرون ملک جلاوطنی کاٹنے والے معروف یوٹیوبر شہباز گل صاحب نے میری گزشتہ فکری نشست کے اہم نکات کا خلاصہ اپنے 17، اگست کے وڈیولاگ میں بیان کیا ہے جس پر میں ان کاشکریہ ادا کرتا ہوں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 301ویں فکری نشست سے خطاب
17،اگست2025ء
(مکمل فکری نشست سننے کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کیجئے )
https://t.co/rJqkyTo7Xm
9، مئی کوعمران خان کی جائے وقوعہ پر عدم موجودگی کے باوجود انہیں سزا کیوں دی گئی ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان صاحب کو9،مئی 2023ء کے واقعات کا ذمہ دار قراردیا گیا کہ وہ جی ایچ کیو،کورکمانڈرہاؤس لاہور پر حملے اوردیگر فوجی تنصیبات پر حملوں کے ذمہ دار ہیں اور انہیں سزا دیکرجیل میں قید کردیاگیا۔
مجھے تعجب ہوتاہے کہ بانی پی ٹی آئی نے نامور وکلاء ، بیرسٹرز،قانون دانوں، معیشت ، فارن افیئرز کے نامی گرامی ماہرین کو نہ صرف اپنی پارٹی میں عہدے دیئے بلکہ انہیں پارلیمنٹ کا رکن بھی بنایالیکن جب عمران خان کو عدالت سے سزا دیکر پارٹی قیادت سے محروم کیاگیا تو ان رہنماؤں کی جانب سے اُس اہم قانونی نکتے کو نظرانداز کردیا گیا جو میں یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں۔
میں اس اہم قانونی نکتہ کی جانب پاکستان کے اصل حکمرانوں،سیاستدانوں،ججوں،ماہرقانون ، دانشوروں، صحافیوں،کالم نگاروں،اینکرپرسنز،سیاسی تجزیہ نگاروں اورپی ٹی آئی کے کارکنان سمیت ملک کے ایک ایک شہری کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔
گزشتہ دنوں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے لاہور ، سرگودھا اور فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف9، مئی 2023ء کے مقدمات کی سماعت کی تو @PTIofficial کےمتعددرہنماؤں اور کارکنوں کو 10,10 سال قید کی سزائیں سنائیں اور ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم بھی دیا لیکن ان عدالتوں نے شاہ محمود قریشی اور ان کے صاحبزادے زین قریشی سمیت پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں کو ان مقدمات میں بری کردیا ۔ان اراکین کی بریت کیلئے یہ قانونی نکتہ بیان کیاگیا کہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر رہنماء 9، مئی کو جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے ۔
اگر اس بنیاد پرپی ٹی آئی کے ان رہنماؤں کو بری کیاجاسکتا ہے تو پھر قوم کوبتایاجائے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو دی گئی سزاؤں کا کیاقانونی جواز باقی رہ جاتا ہے؟ کیاعمران خان 9، مئی 2023ء کے واقعات کے دوران لاہور، اسلام آباد سمیت کسی بھی جگہ موجود تھے؟ جائے وقوعہ پرعمران خان کی عدم موجودگی کے باوجود انہیں سزا کیوں دی گئی ؟پی ٹی آئی کے قانونی ماہرین اوروکلاء کے ذہن میں یہ اہم قانونی نکتہ کیوں نہیں آیا؟
مئی 2025ء میں پاکستان اوربھارت کے درمیان چارروزہ جنگ ہوئی تو پی ٹی آئی کے لیڈروں حتیٰ کہ بیرون ملک جلاوطنی کاٹنے والے اینکرپرسنز اوریوٹیوبرز میں بھی اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ عوام کوصحیح بات سے آگاہ کریں۔
یہ اینکرز پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر جشن فتح منانے کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان نے بھارت کے پانچ طیارے تباہ کرکے اُسے دھول چٹادی لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ بھارت نے پاکستان میں دہشت گردوں کے کتنے ٹھکانے تباہ کیے ، کتنے ہوائی اڈے تباہ کیے اوربھارتی حملوں میں کتنے لوگ مارے گئے ۔ بھارت کی جانب سے پاکستان میں تباہ کیے گئے ٹارگٹ کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کی گئیں جبکہ پاکستان نے اپنی کامیابی کے دعوؤں کے ثبوت کے طورپر کوئی سیٹلائٹ تصاویر جاری نہیں کیں۔
جوجلاوطن اینکرزیہ کہہ رہے ہیں کہ وہ فوج کے نہیں بلکہ چند جرنیلوں کے خلاف ہیں تو وہ بتائیں کہ سیاسی کارکنوں کے گھروں پرڈالے لیکرآنے والے نقاب پوش لوگ کون ہوتے ہیں؟وہ کون لوگ ہیں جوسیاسی کارکنوں کے گھروں پر غیرقانونی چھاپے مارتے ہیں ، گھروں کی خواتین کی بے حرمتی کرتے ہیں اور َمردوں کو اٹھاکر لاپتہ کردیتے ہیں ، کیا یہ زیادتیاں کرنے والے فوج کےجرنیل ہوتے ہیں یا فوج کے نچلے درجے کے افسران اور اہلکار ہوتے ہیں ؟کیانچلے درجے کے یہ افسران اور اہلکار فوج کا حصہ نہیں ہوتے؟
سپرطاقتیں کہتی ہیں کہ وہ انسانی حقوق کے احترام اورحقیقی جمہوریت پر یقین رکھتی ہیں،اور جب ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں بھی حقیقی جمہوریت ہونی چاہیے اور انسانی حقوق کااحترام کیاجانا چاہیے تو اس پر یہ سپر طاقتیں کیوں خاموش تماشائی بنی رہتی ہیں؟
عوام سوچیں کہ پاکستان میں 1947ء سے جمہوریت کے نام پر کیاکھیل کھیلا جارہا ہے ؟تاریخی حقائق یہ ہیں کہ 1947ء سے 1958ء تک کی محض 11 سال کی مدت کے دوران پاکستان میں 7 وزیراعظم بنائے اورہٹائے گئے، کسی وزیراعظم کو اس کی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی اور یہ سب کچھ فوجی اسٹیبلشمنٹ کرتی رہی ہے اوران غیرجمہوری اقدامات پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کو جمہوریت کےعلمبرداربااثراورطاقتور ممالک کی حمایت حاصل رہی ہے ۔
امریکہ ، کینیڈا اوربرطانیہ میں بغیر سرچ وارنٹ کسی گھرکی تلاشی نہیں لی جاسکتی اور نہ ہی گرفتاری کے وارنٹ کے بغیرکسی شہری کو گرفتارکیاجاسکتا ہے ، ان ممالک نے اپنے اپنے شہریوں کیلئے قوانین بنارکھے ہیں ہم بھی پاکستان میں شہریوں کیلئے وہی قوانین مانگ رہے ہیں تو پھر امریکہ ، کینیڈا ،برطانیہ اوردیگر مغربی ممالک عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے والے پاکستانی آمروں کا ساتھ کیوں دیتے ہیں؟
1/2
قومی اسمبلی میں کالا قانون پاس کرنےوالےقومی مجرم ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایم کیوایم اورالطاف حسین کومہاجروں سمیت ملک بھرکے کروڑوں مظلوموں کی حمایت حاصل ہےلیکن طاقت کے زورپرایم کیوایم کی سیاسی وفلاحی سرگرمیوں پرغیراعلانیہ پابندی ہےکیونکہ الطاف حسین ملک وقوم کی بقاء وسلامتی کی خاطر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی غلط پالیسیوں اورناجائز اقدامات پرتنقید کرتاہے،میں آج بھی کہتاہوں کہ فوج اپنی آئینی حدود میں رہ کر سرحدوں کادفاع کرےاورسیاست میں مداخلت نہ کرے۔آج آمرانہ طریقےاستعمال کرکےقانون سازی کرائیجارہی ہےاور آمریت کومضبوط کیاجارہاہےیہ فوج کاکام نہیں ہے،اسی طرح فارم 47کےتحت انتخابات میں عوام کےمسترد کردہ عناصرکو جتوانااورعوامی مینڈیٹ رکھنےوالوں کوہروانابھی فوج کا کام نہیں ہے،یہ نہ صرف کالادھنداہےبلکہ حرام اورناجائز عمل بھی ہے، جس ملک کاسربراہ اس گناہ کاارتکاب کرتاہےاس کاعذاب پوری قوم کوبھگتنا پڑتاہے۔
کالے قانون کی منظوری:
13،اگست2025ءکوقومی اسمبلی میں انسداد دہشت گردی (ترمیمی)بل 2024ء کی منظوری دیدی گئی جسکےتحت مسلح افواج یاآرمڈ فورسزکوجن میں فوج،آئی ایس آئی،ایم آئی،آئی بی، رینجرز،پولیس ،سی آئی اےاور دیگر قانون نافذ کرنےوالے ادارےشامل ہیں انہیں محض شک کی بنیاد پرکسی بھی فرد کو گرفتارکرنےاور عدالت میں پیش کیے بغیرتین ماہ تک حراست (Custody) میں رکھنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔
دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں ایسا نہیں ہوتا اور اگرکسی گرفتارحراست میں رکھناہوتو بھی اسے24 گھنٹےکےاندرمجسٹریٹ کے سامنے پیش کیاجاتاہے۔
125 ارکان پارلیمنٹ نےاس بل کی حمایت توکردی ہے لیکن کل قدرت کامکافات عمل ہواتو یہی سیاہ قانون ان کے خلاف بھی استعمال کیاجاسکتا ہے،جن لوگوں نے بھی اس کالے قانون کو منظور کیاہے وہ سب کے سب قومی مجرم ہیں اور انسانی حقوق کے قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا کےمستحق ہیں ۔
مہاجربستیوں کا محاصرہ:
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کسی تقریب میں طلباء کے سوال کاجواب دیتے ہوئے کہاہے کہ ایک شخص کی دہشت گردی کی سزا پورے علاقے کےعوام کونہیں دی جاسکتی ۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف کیے جانے والے فوجی آپریشن کے دوران کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں کسی بھی کارکن کی گرفتاری کیلئے پوری مہاجرآبادی کامحاصرہ کیاجاتارہا ہے، گھرگھر چھاپے مارکرنوجوانوں اوربزرگوں کو پکڑ جاتا، ان کی قمیضیں اتارکر آنکھوں پر باندھی جاتیں اور کھلے میدان میںگھنٹوں گھنٹوں بٹھا کران کے ساتھ جنگی قیدیوں جیسا سلوک کیاجاتارہا ہے ۔ اسی طرح کا غیرانسانی سلوک صوبہ بلوچستان اورخیبرپختونخوا کے مظلوم عوام کے ساتھ بھی روا رکھاجاتارہا ہے۔
معافی نہ مانگنے والا شیطان ہے:
گزشتہ روز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایک معروف صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے قرآنی آیت کاحوالہ دیا اور کہاکہ جو معافی مانگ لے وہ فرشتہ ہوتا ہے اور جو معافی نہ مانگے وہ شیطان بن جاتا ہے ۔ فیلڈ مارشل نے نام نہیں لیا لیکن ان کا اشارہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب ہی ہے اور ان کا یہ بیان انتہائی غیرمناسب ہےجس سے پی ٹی آئی کے کارکنان سمیت انسانیت اور اخلاقیات کے اصولوں پر یقین رکھنے والے ہرفرد میں شدید غم وغصہ پایاجاتاہے ۔
1937ء کے صوبائی انتخابات :
صوبہ پنجاب کے عوام کی اکثریت پاکستان کے قیام کی سخت مخالف تھی جس کاثبوت یہ ہے کہ جب غیرمنقسم ہندوستان میں 1937ء میں صوبائی انتخابات ہوئے تو صوبہ پنجاب کی کُل175 نشستوں میں سے انگریزوں کی تشکیل کردہ یونینسٹ پارٹی نے 98 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ قیام پاکستان کی جدوجہد کرنے والی آل انڈیا مسلم لیگ کوصوبہ پنجاب سے صرف 2 نشستیں ملی تھیں۔
(1937ءکےانتخابی نتائج کاچارٹ منسلک ہے)
برطانوی سلطنت نے صوبہ پنجاب میں یونینسٹ پارٹی کی سپورٹ کی تھی اوراس پارٹی کوسر فضل حسین،سر چھوٹورام اور سر سکندرحیات نے1923ء میں قائم کیاتھا۔
صوبہ پنجاب کےطلباوطالبات 1937ء کےصوبائی انتخابات کے نتائج کا بغورمطالعہ کریں اورمیرے بیان کردہ حقائق کی اپنے طورپرتحقیق کریں تاکہ انہیں سچ اورجھوٹ کا اندازہ ہوسکے۔
الطاف حسین پنجابیوں کےخلاف نہیں ہےصرف انہیں تاریخی حقائق سےآگاہ کرناچاہتاہے۔سچ ہمیشہ کڑوا ہوتاہے ،پنجاب کے عوام سچائی بیان کرنے پربے شک مجھےبرابھلا کہیں لیکن خدارا پاکستان کی حقیقی آزادی کیلئےجدوجہد کرنےوالےعمران خان کو اکیلا مت چھوڑیں اوران کی رہائی کیلئےعملی اقدامات کریں کیونکہ عمران خان اورملک کوحقیقی آزادی کی ضرورت ہے۔ اہل ِپنجاب کواب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ آمریت کےساتھ جانا چاہتے ہیں یاحقیقی آزادی کیلئےعمران خان کاساتھ دینا چاہتے ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 300ویں فکری نشست سے خطاب
16، اگست2025ء
(مکمل فکری نشست سننے کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کیجئے )
https://t.co/LRbWJTjmC0
خیبرپختونخوا میں سیلاب کی تباہی کے مناظر دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو رورہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صوبہ خیبرپختونخوا اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیرمیں بادل پھٹنے اور سیلاب کے باعث سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں اور سیلابی ریلے میں بہہ کرسینکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کے واقعات انتہائی دلخراش ہیں ۔
میں جاں بحق افراد کے سوگوارلواحقین سے دلی تعزیت کااظہار کرتا ہوں اور سیلابی ریلے میں بہہ کرلاپتہ ہونے والے افراد کی باحفاظت بازیابی کیلئے دعا گو ہوں۔
اگر محکمہ موسمیات کی جانب سے قدرتی آفات کی بروقت نشاندہی کردی جاتی اور شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے ٹھوس اقدامات بروئے کارلائے جاتے توسینکڑوں قیمتی جانوں کو بچایاجاسکتا تھا، مگر افسوس کہ محکمہ موسمیات، رویت ہلال کمیٹی ، عدلیہ، پرنٹ والیکٹرانک میڈیا، پارلیمنٹ اوردیگر ادارے جی ایچ کیو اور آبپارہ کے حکم کے بغیر نہ تو مفاد عامہ میں کوئی اعلان کرتے ہیں ، نہ عدلیہ، انصاف پر مبنی فیصلے کرتی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں کوئی مثبت قانون سازی کی جاتی ہے ۔
خیبرپختونخوا میں سیلاب کی تباہی کے مناظر دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو رورہا ہے ، اگر ایم کیوایم کی سیاسی وفلاحی سرگرمیوں پر پابندی نہ لگائی جاتی، ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو کو seal نہ کیاجاتا، پھراسے آگ لگاکر بلڈوز نہ کیاجاتا تو آج بھی ایم کیوایم کے کارکنان اورخدمت خلق فاؤنڈیشن رضاکاراپنے پشتون بھائیوں کی داد رسی کیلئے اُسی طرح امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جس طرح 2005ء میں ایم کیوایم @OfficialMQM اورخدمت خلق فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کراسلام آباد ، صوبہ خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں اور کشمیرمیں آنے والے قیامت خیز زلزلے کے متاثرین کیلئے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیاتھا۔
میں اس مشکل اور آزمائش کی گھڑی میں سیلاب سے متاثرہ پشتون عوام کے ساتھ ہوں اور ان کےغم میں برابر کا شریک ہوں-
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 300ویں فکری نشست سے خطاب
16،اگست2025ء
(مکمل فکری نشست سننے کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کیجئے )
https://t.co/LRbWJTjmC0