بحیثیت مسلمان قادیانی کو کافر کہنا میرا مزہبی حق ہے
بحیثیت پاکستانی قادیانی کو کافر کہنا میر آئینی حق ہے
اور یہ دونوں حق مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا
قادیانی دنیا کا بدترین غلیظ ترین کافر ہے
متفق لوگ ری ٹویٹ لازمی کریں
سوچ رہا ہوں ارشد شریف کی سالگرہ کی شام عمران ریاض خان کو ایک مرتبہ پھر اغوا کرکے کیا پیغام دینا مقصد تھا؟ ایک کیک اُس کی موت (شہادت) والی شام بھی کٹا تھا۔۔ ایک کٹنے کی تیاری آج بھی تھی۔ ہر کیک کٹنے کے لیے ایک گردن کٹنا بھی لازمی ہے کیا؟
جو آج اُس نے عدالت میں کہا اُس پر بھی غور کررہا ہوں اور یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ کیا ایک ارشد شریف کو مار کے، ایک عمران ریاض کی زبان کھینچ کے اِن کی رگوں میں گونجتی سنسناہٹیں چُپ ہوجائیں گی؟ چند گردنیں کٹ گئیں تو کیا پیروں تلے تھرتھراتی زمیں ساکت ہوجائیگی؟
اس ووڈیو میں وہ ماں ہے جو خواجہ آصف کے سامنے کھڑی ہوئیں ۔جب یہ ماں ریحانہ ڈار صاحبہ ہال میں داخل ہوئیں تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا ۔سلمان اکرم راجہ بھی اس ووڈیو میں رؤف حسن کے ساتھ اہم گفتگو کررہے ہیں ۔
گذشتہ دنوں میں نے مقتدرہ کی طرف سے ایک ملاقات میں رکھی گئی شرائط کا ذکر کیا تھا، جنہیں جھٹلانے کی صورت میں دو دھمکیاں دی گئی تھیں کہ جن کا الیکشن سے پہلے کے ماحول میں تذکرہ مناسب نہیں ہوتا۔
ایک کا نقطۂ آغاز وہ کردار کُشی کی مہم تھی جو بشری بی بی کے خلاف چلائی گئی تاکہ اُن پر پریشر ڈالا جاسکے اور وہ خان صاحب کو ڈیل پر آمادہ کریں اور اُس کے لیے دباؤ اُن کی ذات تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اُن کے بچوں تک کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ وہی سلسلہ ہم زیر حراست ان پر ذہنی تشدد اور اُن کو جسمانی طور ہر کمزور کرنے کے لیے روا رکھے گئے سلوک کی صورت دیکھ رہے ہیں۔ مقصد ان کو توڑنا اور انہیں تکلیف دے کر خان صاحب کو مجبور کرنا ہے۔
اُس وقت شرائط پر آمادہ نہ ہونے کی صورت میں خان صاحب، اُن سے وابستہ افراد اور پارٹی پر سختیاں بڑھانے کا عندیہ بھی دیا گیا تھا۔ جس کے بعد ہی کاغذاتِ نامزدگی چھیننے، مسترد کرنے، پارٹی سے انتخابی نشان لینے اور امیدواروں کو جبراً انتخابات سے دستبردار کرنے جیسی کاروائیں کی گئیں۔
دوسری دھمکی (معدے کی خرابی کے حوالے سےاُن دنوں چلنے والی خبروں کا حوالہ دے کر دی گئی) کہ طبیعت تو اُن کی (خان صاحب کی) ویسے بھی ناساز رہتی ہے۔ مزید طبی مسائل بھی ہوسکتے ہیں۔ بعد ازاں یہ مستند معلومات موصول ہوئیں کہ اگر عمران خان ڈیل پر آمادہ نہیں ہوتے تو اُن کا مصر طرز پر کوئ بندوبست کیا جائے۔ صاحبِ علم یہ اشارہ باآسانی سمجھ سکتے ہیں۔
بشری بی بی کی جانب سے تب اسلام آباد ہائیکورٹ میں خان صاحب کی صحت اور تحفظ کے حوالے سے پٹیشن دائر کی گئی (جسے تقریباً دو ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق سماعت کے لیے نہیں مقرر ہونے دے رہے)۔
انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی سے ہواس باختہ قوتیں جہاں دیگر سازشیں اور چالیں چل رہی ہیں وہاں بشری بی بی کے ساتھ حراست میں روا رکھا گیا سلوک, ان کے حوالے سے موصول ہونے والی خبریں اور ڈیل نہ کرنے کی صورت میں ان کو دی گئی دھمکی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اُن کے وکلاء سے استداء کرتا ہوں کہ اُن کی زندگی کو لاحق خطرات اور اُن سے روا رکھے گئے غیر انسانی سلوک سے فوراً عدالت کو آگاہ کریں۔
میں نہایت اخلاص اور تحمل سے مقتدرہ کو بھی متنبی کردوں کہ اپنی انا کی جنگ اور طاقت کے نشے میں خدانخواستہ کوئ قدم ایسا نہ اٹھالیں کو جو ناقابلَ تلافی ہو کیونکہ نا یہ مصر ہے اور نا عمران خان محمد مُرسی! آپ کی ہر دھمکی اور ہر چال سے آگہی ہے۔
بہتر ہوگا کہ آگ سے کھیلنے سے اجتناب کریں۔
میں عمران خان سمیت تحریک انصاف کی تمام لیڈر شپ اور پنجاب کی قیادت کا شکرگزار ہوں جنھوں نے وزرات اعلی کےاہم ترین منصب کے لیے مجھ پر اعتماد کیا اور نام تجویز کیا
پاکستان میں جمہوریت کی سر بلندی کے لیے عوام نے ہمیں صوبے میں بھاری مینڈیٹ دے کر کامیاب کروایا ہے عوام کے اس اعتماد کی پوری قدر کریں گے اور اس صوبے کو چوروں اور لوٹوں کی گرفت میں نہیں جانے دینگے
انشااللہ
میرے پاکستانیو!
لامعنی بحثوں میں اُلجھ کر اپنے مقصد سے نظر نہیں ہٹائیں نہ کسی کو آپ کی توجہ بٹانے دیں۔ کون وزیر اعلی بنے گا، کون سپیکر۔ کس کو اپوزیشن لیڈر بنانا چاہئے، کون کونسی وزارت کیسے چلائیگا۔ ان پر بحث اور میمز ہم تب بنا لیں گے جب عمران خان انہیں دیکھ کر اور آپ کی رائے کو مدنظر رکھ کر یہ فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ فی الحال قوم نے مینڈیٹ عمران خان کو دیا ہے اور اس بھروسے دیا ہے کہ وہ جیل میں ہوتے ہوئے بھی جو بھی فیصلہ کریگا ہماری بہتری کے لیے کریگا۔ اِس وقت افواہوں کا بازار گرم ہے، کئی ساتھی نیک نیتی میں ہی سہی، مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ یاد رکھیں عمران خان کی ٹیم آپ ہیں۔ آپ کا فوکس آپ کے مینڈیٹ پر رہنا ضروری ہے۔ آپ کی دو دن کی بے توجہی کا فائدہ اٹھا کر جو ورداتیں ڈالی گئی ہیں اُن کی سنگینی کا اندازہ آپ کو آنے والے دنوں میں ہوگا۔
ہم نے ان انتخابات میں دیکھ لیا ہے کہ کیسے پاکستانی قوم نے ذات، زبان، برادری، طبقات سے بالاتر ہو کر عمران خان کے نام پر ووٹ دیاہے۔ کوئ ایک نشان نہ ہونے کے باوجود شہروں سے لے کر دیہاتوں تک ہر بچے، بوڑھے، جوان نے سینکڑوں نشان ازبر کر کے ان کو کامیاب کرایا ہے۔ ہم کہتے تھے کہ عمران خان پاکستان کی بقا کاضامن ہے قوم نے ثابت کیا ہے کہ وہ واقعی پاکستانیت کا علمبردار ہے۔ آج اسی خوف سے وہ تمام قوتیں جنہوں نے پاکستان کو تقسیم کرکے اپنی سیاست چمکائ۔ جنہوں نے پاکستان کی عوام کو اُن کے حقوق سے محروم رکھ کر اپنی دولتیں بڑھائیں۔ جنہوں نے پاکستانی قوم کی زندگیوں کا سودا کرکے اپنی ناجائز طاقت کو دوام دیا وہ سب مل کر اگر ایک عمران خان کو جھکانے کے لیے ہر حد تک جا رہی ہیں تو کسی کو کوئ گمان نہیں رہ جانا چاہئیے کہ عمران خان پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ استقامات سے، تحمل سے اپنی نظر منزل پر رکھیں۔ اپنا مینڈیٹ واپس لینا۔ اپنے لیڈر کو آزاد کرانا اِس وقت ہماری بقا کے لیے لازم ہے۔ آر او دفاتر کے باہر اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں۔ دنیا کے توجہ اِس وقت پاکستان پر مرکوز ہے سوشل میڈیا کے ذریعے اُن کو آگاہ کریں کہ آپ کے مستقبل کے ساتھ کس قدر گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ کے پی اور پنجاب کی عوام جیسے ڈٹ کر اپنی لیڈرشپ کے ساتھ کھڑی ہے، میں سندھ اور بلوچستان میں تحریک انصاف کی مقبولیت خود دیکھ کر آیا ہوں۔ وہاں کے لوگوں کی اگرچہ مین سٹریم میڈیا تک اس قدر رسائ نہیں ہے تو ہماری لیڈرشپ اور شہری علاقوں کے عوام پر دُگنا ذمہ داری ہے کہ جو ڈاکہ اُن کے مینڈیٹ پر ڈالا گیا ہے وہ اُس کا حساب لیں۔ بیرون ملک پاکستانی ہزاروں کی تعداد میں اپنے خرچ پر پاکستان ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ آپ مہذب معاشروں کا نظام دیکھ چکے ہیں آپ جانتے ہیں اس وقت آپ کے ملک کے ساتھ جو کیا جارہا ہے دنیا کا کوئ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ پر لازم ہے کہ آپ اس بدترین دھاندلی اور ڈاکہ زنی کے خلاف متحرک ہوں یہ ملک آپ کی پہچان ہے آپ کی جڑیں گڑی ہیں یہاں۔
یاد رکھیں آج جس مقام پر ہم کھڑے ہیں یہاں تک دوبارہ پہنچنے میں ہمیں اگلی بار ۷۵ سال نہیں لگیں گے۔ ایک مرتبہ ہم نے غلامی تسلیم کرلی تو کوئ گمان نہ رکھیں اگلی بار یہ سفرہمیں ۱۹۴۷ سے دو سو سال پیچھے جاکر شروع کرنا پڑے گا۔
یاسمین راشد نے نواز شریف کے خلاف فارم 45 کے مطابق 30 ہزار سے زائد ووٹوں سے الیکشن جیت لیا، تمام فارم 45 جماعت اسلامی کے امیدوار نے فہد شہباز کو پبلک نیوز پر دکھائے دیے #ووٹ_پر_ڈاکہ_نامنظور
دو سال کا عرصہ تحریک انصاف اور میرے لئے مشکل ترین وقت تھا اور گزشتہ ایک سال میں جیل میں قید و بند کی صوبعتیں بھی برداشت کیں لیکن چوروں کے ہاتھ پر بیت نہیں کی اور ایک کٹھن راستے سے گزرنا پڑا ۔
مشکلات کے باوجود میں کل بھی تحریک انصاف کا حصہ تھی اور آج بھی ہوں میں اپنی قیادت ، کارکنان اور تمام ان لوگوں کی شکر گزار ہوں جنھوں نے مشکل وقت میں ساتھ دیا اور حوصلہ نہیں ٹوٹنے دیا ۔
تحریک انصاف میرا گھر ہے ، نظریہ ہے ، شناخت اور جدوجہد ہے میں کل بھی تحریک انصاف کا حصہ تھی اور ہمیشہ رہوں گی
میں ایک محب وطن پاکستانی ہوں کل بھی اس پاک سر زمین کی خدمت کا جذبہ تھا آج بھی ہے کل بھی - کل بھی لیڈر ایک ہی عمران خان تھا آج بھی وہی ایک ۔
سب عہد وفا کے نام کیا ۔
پاکستان زندہ باد
بانی چیئرمین عمران خان کا جیل سے اپنے اہلِ خانہ کے ذریعے بھجوایا گیا پیغام:
پاکستان تحریک انصاف کو بالکل واضح اور دوٹوک انداز میں دو تہائی اکثریت سونپنے پر میں پاکستان کے عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ عوام کا کثیر تعداد میں انتخابی عمل میں شرکت کیلئے نکلنا نہایت حوصلہ افزاء تھا۔ عوام نے جس طرح خواتین اور بچوں سمیت اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ نکل کر اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا ہے اس سے صحیح معنوں میں جمہوریت کی روح زندہ ہوئی ہے۔
اس پورے مرحلے کے دوران ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے جس محنت اور جانفشانی سے ہمارے سوشل میڈیا نے کام کیا ہے اس کی میں بطورِ خاص تحسین کرنا چاہتا ہوں۔
میں مزاحمت کی سکت اور صلاحیت سے لیس ان پولنگ ایجنٹس کی خدمات کو بھی سراہتا ہوں جنہوں نے دھونس اور دھمکیوں کے ناروا سلسلے کے باوجود ڈٹ کر اپنے فرائض سرانجام دیے اور فارم 45 کا حصول یقینی بنایا۔
چونکہ پاکستان کے عوام نہایت واضح اور دوٹوک انداز میں اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں چنانچہ اب پاکستان کو شفاف انتخابات اور جمہوریت کی اشد ضرورت ہے۔ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر حکومتوں میں گھُس بیٹھنے والوں کو میں خبردار کرتا ہوں کہ اس
”مِس ایڈونچر“ سے گریز کریں۔ عوام کے ووٹ پر دن دیہاڑے ایسے ڈاکے سے شہریوں کی توہین ہی نہیں ہوگی بلکہ ملکی معیشت تباہی کے گھڑے میں مزید گہرائیوں میں جا پڑے گی۔
پاکستان تحریک انصاف عوام کی منشا پر کسی طور سمجھوتہ نہیں کرے گی اور میں نے اپنی جماعت کو واضح طور پر ہدایات دی ہیں کہ پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز اور متحدہ قومی موومنٹ سمیت کسی بھی ایسی سیاسی جماعت سے معاملہ سازی ممکن نہیں جس کے دامن پر عوام کا مینڈیٹ چُرانے کے داغ ہوں۔
Founding Chairman Imran Khan's Message from jail through his family:
I express my heartfelt gratitude to the people of Pakistan for entrusting PTI with a resounding 2/3rd majority. It was heartening to see the massive turnout. The families voting together, including women and children—truly exemplified the essence of democracy.
I would like to especially commend our Social Media for its relentless efforts to stay ahead of the curve.
I also appreciate the role of the resilient polling agents who secured form 45 in the face of harassment and threats.
As the people of Pakistan have clearly pronounced their verdict, there is a dire need for democracy and fairness in Pakistan's elections. I warn against the misadventure of forming a government with stolen votes. Such daylight robbery will not only be a disrespect to the citizens, but will also push the country’s economy further into a downward spiral.
PTI will never compromise on people’s will, and I have categorically instructed my party against engaging with any political party that has robbed people's mandate, including PPP, PMLN & MQM.
The lack of a clear majority for any party, combined with credible allegations of widespread rigging, will make it difficult for any government to enjoy legitimacy once post-election haggling concludes https://t.co/pmIlUwMur2 👇