شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدل دے۔ یقیناً ہم اپنے رب ہی سے امید رکھتے ہیں۔
Perhaps our Lord will replace it with something better. Indeed, we only hope in our Lord.
ان شاءاللہ
Happy New Year 2026💕
27 ستمبر کو پشاور جلسہ جمہوریت کی بحالی اور قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے امن اور انسانی حقوق کی تکریم بحال کروانے کے لیے ہو گا۔
میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے جھیل رہا ہوں تاکہ میری قوم کو حقیقی آزادی مل سکے۔ ملک بھر سے شہری ہفتے کے دن پشاور جلسے میں شرکت کریں اور ظلم کے خلاف اعلان بغاوت کریں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(25 ستمبر، 2025)
“لوگوں کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے خوف میں مبتلا ہیں۔ اسی خوف کے باعث ہم پر ظلم بڑھایا جا رہا ہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ہمیں صرف اس امید کے ساتھ ذہنی اذیت دی جا رہی ہے کہ میں ٹوٹ جاؤں اور اپنے نظرئیے سے پیچھے ہٹ جاؤں۔ مجھے توڑنے کی کوشش کا مقصد عوام کی آواز دبانا ہے۔
یہ وہی طرز عمل ہے جو سقوط ڈھاکہ کے وقت یحیٰی خان کا تھا۔ اس نے بھی صرف اپنے اقتدار کی طوالت کی کوشش میں اندھا ہو کر عوامی آواز کو دبانے کے لیے ہر قسم کی فسطائیت بپا کی اور بالآخر ملک کو توڑ دیا۔ یہ ساری تفصیلات حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں موجود ہیں۔ عاصم منیر بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ملک میں ظلم کر رہا ہے اور ملک کو کمزور کر رہا ہے۔
1971 اور موجودہ دور میں بہرحال فرق صرف یہ ہے کہ آج عوام باشعور ہے۔ سوشل میڈیا نے تمام حقائق عوام پر واضح کر دئیے ہیں اور عوام ظلم کے خلاف اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا سیکھ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے یہ ظلم کا نظام جلد ختم ہو کر رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے۔
ملک میں سیلاب کی وجہ سے ہر جانب تباہی ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی تباہ حال ہے اب سیلاب کی وجہ سے لوگوں کی فصلیں، مال مویشی سب ڈوب گئے ہیں۔ جس سے زرعی معیشت مکمل تباہ ہو گئی ہے اور اس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا۔ ایسے میں اہم ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کی امداد کے لیے بلا تفریق سب اپنا کردار ادا کریں۔ اگر میں جیل سے باہر ہوتا تو اس مقصد کے لیے ضرور ٹیلی تھون اور فنڈ ریزنگ کرتا۔ محض حکومتی ادارے اتنی بڑی آفت کا مقابلہ نہیں کر سکتے بلکہ ہر ایک شخص کو اپنا حصہ ڈال کر من حیث القوم اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاری سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ شجر کاری کرنا ہو گی۔
بلوچستان میں اختر مینگل کے والد کی برسی پر حملے کی شدید مذمت اور اختر مینگل سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ وہاں پر عوامی نمائندگان کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ 8 ستمبر کو محمود اچکزئی کی ہڑتال کی کال پر تحریک انصاف بھر پور شرکت کرے۔ بلوچستان کی عوام کو دہشتگردی اور ہائبرڈ ماحول سے نجات ملنی چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے وہاں آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے جسے خیبرپختونخوا حکومت کو فوری طور پر بند کروانا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور کو خصوصی ہدایت کرتا ہوں کہ صوبے کی عوام پہلے ہی سیلاب کی وجہ سے متاثر ہیں لہٰذا اس آپریشن کے خلاف بھرپور مزاحمت کر کے اسے رکوائیں۔ قبائلی اضلاع میں ہونے والے ڈرون حملے بند کروانا خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔
افغانستان میں زلزلے پر میرا دل بہت رنجیدہ ہے اور مجھے دکھ ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو زبردستی ملک سے باہر نکال رہے ہیں جبکہ مشکل کی اس گھڑی میں ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو بھی اپنے افغان بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (5 ستمبر، 2025)
شہباز شریف چینی ایکسپورٹ کی اجازت نہیں دینا چاہتے تھے لیکن انہیں لاہور میں ایک خاندانی میٹنگ میں بلایا گیا اور دھمکی دی گئی کہ اگر آپ یہ کام بھی نہیں کر سکتے تو پھر وزارت عظمی چھوڑ دیں ! محمد مالک ۔۔۔
نواز شریف سیاست سے مائنس ہو چکا ہے الیکشن سے پہلے انہوں نے کہا تھا مجھے دو تہائی اکثریت دو ! فروا وحید
کس نے دینی تھی دو تہائی اکثریت ؟ ثاقب کھرل
فوج نے ! فروا وحید
وہ تو کہتے ہیں ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ؟
سیاست سے فوج کا تعلق نہیں ہے مگر سیٹوں سے ہے ! فروا وحید 🤣🤣🤣
آج پھر چین ہی چین ہے
ہمارے محلے میں ایک لڑکا وارد ہوا۔عمر یہی کوئی اٹھارہ بیس بائیس ہوگی۔ وہ شوقین اور رنگین تھا۔ آنکھوں میں سرمہ لگا کررکھتا تھا۔ رومال کو تہہ کرکے قیمض کے کالر پر چڑھا لیتا۔ خوشبودار پان کھایا کرتا۔ اسکے والدین کا کچھ اتا پتہ نہ تھا۔ نہ کوئی اس کا آگے تھا نہ پیچھے۔ ایک مارکیٹ کے اوپر ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا جو اس نے کرائے پر لے لیا تھا۔ نہ کوئی کام کاج کرتا تھا۔ نہ کہیں جاتا آتا تھا۔ وہیں پڑا رہتا۔ تین چار سال پہلے آیا تھا۔ اسی معاشرے کا حصہ بن گیا۔
ہم اس وقت چھوٹے تھے۔ بہت زیادہ باتیں نہیں سمجھتے تھے۔ کچھ ہمیں سمجھنے ہی نہیں دی جاتی تھیں۔ اسی مارکیٹ کے سامنے ایک چھوٹا سا پارک تھا جہاں ہم بچے کھیل کود کیا کرتے تھے۔ اس لڑکے کے کبھی کبھار کچھ عجیب واہیات شکلوں والے مہمان آتے تھے۔ گھنٹہ دو رکتے اور پھر چلے جاتے۔ ہماری جانے بلا کہ اسکے سبھی مہمان واہیات شکلوں والے کیوں ہیں اور جب بھی آتے ہیں گھنٹہ بھر ہی کیوں رکتے ہیں۔
خیر جب وہ مہمان چلے جاتے تو وہ کچھ دیر بعد اپنے فلیٹ کی سیڑھیاں اترتا۔ کبھی کبھار نارمل انداز سے ہی اترا کرتا کبھی زرا سنبھل کر بھی اترا کرتا۔ جب نیچے آتا تو دوکاندار اس کو مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھتے۔ وہ بھی تھوڑا مسکراتا۔ للجاتا آنکھیں مٹکاتا۔ اس کے جیب میں کچھ نوٹ لشک رہے ہوتے۔وہ دوکانداروں کا ادھار چکاتا۔ ادھر ادھر کی چیزیں خریدتا۔ معلوم ہوجاتا کہ اس کے پاس آج کافی پیسے ہیں۔ مہمانوں کے آنے کی ایسی ہی کسی کیفیت کو کسی شرارتی نے چین ہی چین کا نام دے دیا۔
اب ہوتا یوں کہ جب وہ فلیٹ کی سیڑھیاں اترتا تو کوئی دوکاندار اسے آواز لگاتا ہاں جی آج پھر چین ہی چین لکھ رہے ہو۔ اب جس روز تو اسکی جیب میں نوٹ لشک رہے ہوتے اور اسکے واہیات شکلوں والے مہمان بھی ہوکر گئے ہوتے اس روز وہ کہتا ہاں جی آج چین ہی چین لکھ رہا ہوں۔ جس روز مہمان نہ آتے اسکی جیب بھی خالی ہوتی اسکی آنکھوں میں اداسی بھی ہوتی اور اس دن اسکی چال بھی کسی قسم کی تکلیف سے پاک ہوتی۔ اس دن اسے کوئی آواز لگاتا ہاں جی چین ہی چین ہے؟ وہ خاموش رہتا۔ کوئی جواب نہ دیتا۔
بچپن کی یہ یاد دماغ سے چپک گئی تھی۔ کوئی ربط سمجھ نہیں آتا ہے۔ لیکن سوچا آپ کو کہانی سنا دوں شاید آپ کچھ سمجھ جائیں۔
نوٹ ؛ سنا ہے آج راوی پھر چین ہی چین لکھ رہا ہے۔
ہمارے شہیدوں کو شہیدسمجھوں گے تو اپ کے شہیدوں کو شہید سمجھوں گا میرے درد کا احساس ہوگا تواپ کے درد کا احساس کروگا۔ میرے لئے بے حس ہوگے تو آئندہ اپنے لیے بے حس پاوگے، مجھ سے نفرت کروگے تو نفرت پاو گے۔
عمران خان کا جس کیس میں جسمانی ریمانڈ دیا ہوا ہے اس کا تفشیشی افسر انسپکٹر راشد کیانی عدالت کے وکیلوں کی ملاقات کروانے کے حوالے سے آرڈز ملنے کے باوجود کونسی میڈم سے ہدایات لے رہا ہے؟
It’s deplorable to hear of the direct shooting and violence on the peaceful demonstrations in Pakistan, killing at least 15 civilians.
The Australian government needs to take action like the US Congress and impose visa bans and asset freezes on General Asim Munir and others involved in corruption and human rights abuses.
بتی چوک پر پولیس کی عمرہ ادائیگی سے واپس آنے والی خواتین کو پی ٹی آئی کارکنان سمجھ کرحراست میں لینے کی کوشش۔خواتین اپنا پاسپورٹ،بورڈنگ پاس،ٹکٹ دکھاتی رہیں۔لیکن پولیس ماننے کو تیار نہیں تھی،خواتین کی جانب سے مزاحمت کے بعد مرد افسر نے پاسپورٹ چیکنگ کے بعد جانے کی اجازت دی۔