♦️ بریکس میں ایران کے نمائندے کا اماراتی وفد کو شرمسار کرنے والا جواب
خورسند (ایرانی مندوب) نے اماراتی وزیر کے بیانات کے جواب میں کہا:
🔹️ کوئی بھی ریاست جو کسی متجاوز (جارح) کی میزبانی کرے اور ایران کے خلاف کسی ممکنہ حملے کے لیے راہ ہموار یا زمینہ فراہم کرے، +
۱/پیش از مذاکرات تأکید کردم که ما حسن نیت و ارادهٔ لازم را داریم ولی به دلیل تجربیات دو جنگ قبلی، اعتمادی به طرف مقابل نداریم.
همکاران من در هیئت ایرانی میناب۱۶۸ ابتکارات رو به جلویی مطرح کردند ولی طرف مقابل در نهایت نتوانست در این دور از مذاکرات اعتماد هیئت ایرانی را جلب کند.
به مناسبت مراسم تشییع سلحشوران نیروی دریایی ارتش جمهوری اسلامی ایران: یاد آنان همواره در قلب ملت ایران خواهد بود و این شهادتها بنیان ارتش جمهوری اسلامی را برای سالها در ساختار نیروهای مسلح استوار مینماید. ازخداوند متعال علو درجات برای این شهدای عزیز خواستارم.
گزارش ہے کے ہماری بستی میں ٹرانسفارمر کے کھمبے میں بوسیدہ اور ٹوٹ چکے ہیں۔ یہ کھمبے کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سباب بن سکتے ہیں۔ برائے مہربانی ان کو تبدیل کیے جائیں۔
بستی سردار خان جسکانی ،تحصیل جامپور ،ضلع راجن پور ، پنجاب
@CMComplaintCell@MEPCOOFFICAL
🚨Explosion in Residential Building in Bandar Abbas Injures at Least 10
An explosion in a residential building in Bandar Abbas, southern Iran, has left at least 10 people injured, Iranian state media report.
The cause of the blast has not yet been determined.
Officials have dismissed rumors that the commander of the Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) Navy was targeted in the explosion, describing such claims as false and part of a psychological campaign by anti-Iranian groups.
Authorities are investigating the incident and have called for calm as details continue to emerge.
گزشتہ رات پاراچنار میں سفاک، انسانیت دشمن اور بے رحم دہشتگردوں نے دو افراد کے گلے کاٹ دیئے؛ جس سے علاقے میں خوف و وہراس اور دہشت کا عالم ہے۔ ضلع بھر میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ ان دو افراد کو پاراچنار کے راستے میں ذبح کیا گیا، صوبائی حکومت کے ترجمان نے دو روز قبل راستوں کی بندش پر بیان جاری کیا تھا اور دعوی کیا کہ وہ چند گھنٹوں میں راستہ کھول سکتے ہیں۔ حکومتی ترجمان جہاں عوام کے زخموں پر نمک پاشی کررہے ہیں وہیں خارجی دہشتگردوں نے عوام کا جینا محال کررکھا ہے۔ راستے بدستور بند ہیں۔ صوبائی و وفاقی حکومت کی بے حسی اور غفلت بھی واضح ہے۔ سیکیورٹی ادارے اور متعلقہ ایجنسیاں بھی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں۔ میں ایک مرتبہ پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ پاراچنار کے شہریوں کو پاکستان کا شہری تسلیم کیجئے۔ ظلم و ستم اور جبر کے اس سلسلے کو ہمیشہ کیلئے بند کرنے کیلئے مضبوط اور دو ٹوک پالیسی بنائی جائے جو وہاں کی عوام کی امنگوں کے مطابق ہو اور امن و امان کی بحالی کی نوید لے کر آئے۔ میں پاراچنار کی عوام کے ساتھ اظہار تعزیت کرتا ہوں اور مشکل کی اس گھڑی میں ان کے شانہ بشانہ ہوں۔