@Viglnthindutva Are you such a chutiya that you don’t even watch the video before posting? She literally says, “I’m the first wife.” First means first, not fourth. Chauthi fail.
And she’s Muslim. Their case is already in court, so stop spreading nonsense without knowing the facts.
"All citizens are being made slaves of Indian Government. They cannot stage protests, they cannot agitate-What is all this? Now so many papers have been leaked. If people protest, you will slap cases... What is this? It is the right of the citizens to protest.
The petitioner has just raised slogans like 'BJP Government Murdabad', 'Amit Shah Murdabad'... Why citizens can't raise such slogans? Why externment orders for such slogans?" - Bombay High Court Judge Justice Madhav Jamdar asks.
Yahi Sahi samay hai k Mamta utre ab ground pe aur nikale really spcly sonarpur mai Logon k dikhaye k wo ab bhi sadak par utar sakti hai Bina Kisi se dare, warna Abhishek k Baad party ka manobal puri tarha se tut jaega.
@kochtribe@sayani06 Hindu samajh ki ab “aastha ahat” nahi horahai hai ek Hindu mahila ki apman ki jarahi hai wo bhi bindi k sath jise maa durga ko ko lagaya jata hai??
افسوس صرف بڑھتی عمر کا نہیں ہوتا کبھی افسوس ان خوابوں کا بھی ہوتا ہے جو وقت کی دھول میں دب جاتے ہیں زندگی بھر ذمہ داریوں حالات مجبوریوں اور دوسروں کے حصے پورے کرتے کرتے انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اُس نے خود کے لیے بھی کچھ چاہا تھا پھر ایک وقت آتا ہے جب سب کچھ ہاتھ میں ہوتا ہے مگر ہاتھوں میں وہ طاقت نہیں رہتی
آنکھوں میں وہ چمک نہیں رہتی اور دل میں وہ ہمت نہیں بچتی کہ ان خوابوں کو جیا جا سکے جو کبھی جینے کی وجہ ہوا کرتے تھے
انسان تب سمجھتا ہے کہ زندگی صرف گزارنے کا نام نہیں تھی کچھ لمحے اپنے لیے جینا بھی ضروری تھا
مگر افسوس
بعض خواہشیں وقت مانگتی ہیں اور وقت واپس نہیں آتا۔
تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
شکیب جلالی
tu ne kaha na tha ki main kashti pe bojh hoon
aankhon ko ab na dhaanp mujhe doobte bhi dekh
Shakeb Jalali
میں آڑھے تِرچھے، خیال سوچُوں
کہ بے اِرادہ کتاب لکھوں
کوئی شناسا سی غزل تراشوں
کہ اجنبی سا اِنتساب لکھوں
گنوادوں ایک عُمر کے زمانے
کہ ایک ایک پل کا حساب لِکھوں
یہ میری طبعیت پر منحصر ہے
میں جس طرح کا نصاب لکھوں
عذاب سوچوں ، ثَواب لِکھوں
طویل تر ہے سفر، مگر تمہیں کیا
میں جی رہا ہوں، مگر تمہیں کیا
تمہیں کیا، کہ تم تو کب سے
میرے اِرادے، گنوا چکی ہو
جلا کر سارے حُروف اپنے
میری دُعائیں جَلا چُکی ہو
میں رات اوڑھوں، کہ صُبح پہنوں
تم اپنی رَسمیں، اُٹھا چُکی ہو
سُنا ہے سب کچھ، بُھلا چکی ہو
تو اَب اِس دِل پہ، جَبر کیسا
یہ دِل تو، حَد سے گذر چکا ہے
گذر چکا ہے، مگر تمہیں کیا
کہ اِس میں خزاں کا موسم ٹہر چکا ہے
مگر تمہیں کیا، کہ اِس خزاں میں
میں جس طرح کے بھی, خُواب لِکھوں
محسن نقوی