آج چند لوگوں کی سوشل میڈیا پر رائے نظر سے گزری جس میں مشورہ دیا جارہا تھا کہ تحریکِ انصاف اگر حکمتِ عملی کے تحت لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھا دے تو جعلی حکومت اور اُنکے ہینڈلرز تھک جائیں گے
میں نے تھوڑی ری سرچ کی اس متعلق، اور مجھے یہ مشورہ بڑا پسند آیا
تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کیلئے لاکھوں کنٹینرز لگائے گئے ہیں
صرف اسلام آباد کے اندر اس وقت 1 ہزار کنٹینر کھڑا ہے
ایک کنٹینر کو یومیہ 20 ہزار روپے دیئے جارہے ہیں
یعنی روزانہ 2 کروڑ روپے صرف اسلام آباد میں کھڑے کنٹینرز کو دیئے جارہے ہیں
اسلام آباد کے علاوہ اٹک پل، جہلم پل اور مختلف شاہراہوں پر کھڑے کنٹینرز بھی ہیں جن کا استعمال راستے بند کرنے کیلئے کیاگیا ہے
تو ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 25 سے 30 کروڑ روپے یومیہ کے حساب سے جعلی حکومت اور اُنکے ہینڈلرز کو نقصان ہو رہا ہے
انکے پاس اس وقت لے دیکر سعودیـہ کی جانب سے دی گئی بھیـک ہی ہے، باقی معیشت تو چل نہیں رہی، امپورٹ ایکسپورٹ صفر ہے، تو یہ زیادہ دن ایسے برداشت بھی نہیں کرپائیں گے
تحریکِ انصاف کو مارچ کی تاریخ ایک ہفتہ آگے کر دینی چاہئے، اسی طرح تھکا تھکا کر اِن کی منجھی ٹھوکنی چاہئے 💀
بشکریہ ڈاکٹر حمنہ
ذرائع کے مطابق عمران خان صاحب سے بیرسٹر گوہر کی 2 ملاقاتیں ہوئی ہیں ملاقات میں عمران خان کو منانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ماحول تھوڑا بہتر کرنا ہے آپ کے سخت رویہ کی وجہ سے بشریٰ بی بی جیل میں ہیں اب تو علیمہ خان بھی آ گئی ہیں اس پر عمران خان نے صاف جواب بھی دیا ہے اور ٹکا کر کلاس بھی لی ہے
شہزاد اکبر
عمران خان کو ختم شد ختم شد کرتے کرتے آرمی اسٹیبلشمنٹ اور اس کے حواری عمران خان کو تو ختم شد نہیں کر سکے مگر اس ختم شد کے چکر میں چار سالوں میں عدلیہ ختم، میڈیا ختم، اسمبلیاں ختم، تجارت ختم، معشیت ختم، زراعت ختم، کرکٹ ختم، ہاکی ختم، نوکریاں ختم، آزادی ختم، کاروبار ختم، روزگار ختم، ٹیکسٹائل انڈسٹری ختم، بیرونی سرمایہ کاری ختم، امن و امان ختم، چادر و چار دیواری کی حرمت ختم، ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزت ختم، فوج کا وقار ختم، فوج کی عزت ختم، فوج کا بھرم ختم اور سب سے بڑھ کر عوام کا پیار اور اعتبار ختم شد کر دیا، پاکستان تحریکِ انصاف بدترین فسطائیت تو برداشت کر رہی ہے لیکن اتنی قربانیوں کے باوجود فسطائی ریاست کو چیلنج دیتی ہے، یہ جعلی اور کھوکھلا نظام اچھی طرح جانتا ہے کہ عوام صرف عمران خان کے ساتھ ہے۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
فوج جو کچھ پاکستانیوں کیساتھ کررہی ہے، اس حساب سے ہمیں بھی حق ہے کہ قانون کے اندر رہتے ہوئے وہ سب کریں جس سے ان کو وہی درد ہو جو پاکستانی عوام محسوس کرتی ہے۔ تیار رہیں
FC اہلکار آصف عزیز آج کوئٹہ CMH میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوۓ جان بحق ہو گیا
اب محسن نقوی اس اہلکار کے جنازے میں شرکت کی شکایت نہیں کرے گا کیونکہ بلوچستان میں مرنے والے فوجی اچھوت ہیں ان کو چھپایا جا رہا ہے، آج اس کے علاوہ بھی 16 فوجی بلوچستان میں ہلاک ہوۓ ہیں
لیڈر ہو تو ایسا! فیلڈ مارشل ڈرامے کے اختتام پر خود اسٹیج پر آگئے اور"ہمیشہ زندہ باد" کا نعرہ لگا دیا - آئی ایس پی آر
فیلڈ مارشل کی 27 ستمبر کے احتجاج سے پھٹی پڑی ہے کہ کہیں نوجوان باہر نہ نکل آئیں، انڈیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا کی طرح۔
ڈر تو لگا رہتا ہے نہ چاہے جنتی مرضی طاقت اور استثنی ہو۔
ڈر تو آخر ڈر ہے۔ دونوں جانب ہے۔ جس دن ایک کا ڈر ٹوٹ گیا اس دن۔۔۔۔۔
کیا فوج ملک کے لیے لڑتی ہے؟
کیا فوج اور ملک کے مفادات اس وقت ایک ہیں؟
کیا فوج عوام کی رائے کا احترام کرتی ہے؟
کیا فوج نے اس ملک کے وسائل پر قبضہ نہیں کررکھا؟
کیا فوج بدترین اور گھناونے جرائم میں ملوث نہیں ہے؟
کیا ہمارے دیکھتے ہوئے فوج نے یہ ملک برباد نہیں کیا؟
پھر یہ فوج اس ملک کی فوج کیسے ہے؟